بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 309
صفحہ 12 از 16
حدیث نمبر: 302 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا يَحْيَى ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ أَنْ تَهْلِكُوا عَنْ آيَةِ الرَّجْمِ"، وَأَنْ يَقُولَ قَائِلٌ: لَا نَجِدُ حَدَّيْنِ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آیت رجم کے حوالے سے اپنے آپ کو ہلاکت میں پڑنے سے بچانا، کہیں کوئی شخص یہ نہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ میں تو ہمیں دو سزاؤں کا تذکرہ نہیں ملتا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی رجم کی سزا جاری کرتے ہوئے دیکھا ہے اور خود ہم نے بھی یہ سزاجاری کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 302]
حکم دارالسلام
صحيح، سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر، خ: 2462، م :1691
الحكم: صحيح، سعيد بن المسيب لم يسمع من عمر، خ: 2462، م :1691
حدیث نمبر: 303 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْعَوَّامُ ، شَيْخٌ ، أَبَا صَالِحٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا الْعَوَّامُ ، حَدَّثَنِي شَيْخٌ كَانَ مُرَابِطًا بِالسَّاحِلِ، قَالَ: لَقِيتُ أَبَا صَالِحٍ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَقَالَ: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَيْسَ مِنْ لَيْلَةٍ إِلَّا وَالْبَحْرُ يُشْرِفُ فِيهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ عَلَى الْأَرْضِ، يَسْتَأْذِنُ اللَّهَ فِي أَنْ يَنْفَضِخَ عَلَيْهِمْ، فَيَكُفُّهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں سمندر تین مرتبہ زمین پر جھانک کر نہ دیکھتا ہو، وہ ہر مرتبہ اللہ سے یہی اجازت مانگتا ہے کہ زمین والوں کو ڈبو دے، لیکن اللہ اسے ایسا کرنے سے روک دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 303]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الشيخ الذى روى عنه العوام بن حوشب ، وأبو صالح مجهول أيضا
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الشيخ الذى روى عنه العوام بن حوشب ، وأبو صالح مجهول أيضا
حدیث نمبر: 304 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، لِابْنِ عُمَرَ ، لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ : حَدِّثْنِي عَنْ طَلَاقِكَ امْرَأَتَكَ، قَالَ: طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ، فَلْيُطَلِّقْهَا فِي طُهْرِهَا"، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: هَلْ اعْتَدَدْتَ بِالَّتِي طَلَّقْتَهَا وَهِيَ حَائِضٌ؟ قَالَ: فَمَا لِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ عَجَزْتُ وَاسْتَحْمَقْتُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
انس بن سیرین کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ اپنی زوجہ کو طلاق دینے کا واقعہ تو سنائیے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے اپنی بیوی کو ایام کی حالت میں طلاق دے دی اور یہ بات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بھی بتا دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا:اس سے کہو کہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے، جب وہ پاک ہو جائے تو ایام طہارت میں اسے طلاق دے دے، میں نے پوچھا: کہ کیا آپ نے وہ طلاق شمار کی تھی جو ایام کی حالت میں دی تھی؟ انہوں نے کہا کہ اسے شمار نہ کرنے کی کیا وجہ تھی؟ انہوں نے کہا: اگر میں ایسا کرتا تو لوگ مجھے بیوقوف سمجھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 304]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5252، م: 1471
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5252، م: 1471
حدیث نمبر: 305 مسند احمد
يَزِيدُ ، أَصْبَغُ ، أَبِي الْعَلَاءِ الشَّامِيِّ ، أَبُو أُمَامَةَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا أَصْبَغُ ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الشَّامِيِّ ، قَالَ: لَبِسَ أَبُو أُمَامَةَ ثَوْبًا جَدِيدًا، فَلَمَّا بَلَغَ تَرْقُوَتَهُ، قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اسْتَجَدَّ ثَوْبًا فَلَبِسَهُ، فَقَالَ حِينَ يَبْلُغُ تَرْقُوَتَهُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي كَسَانِي مَا أُوَارِي بِهِ عَوْرَتِي، وَأَتَجَمَّلُ بِهِ فِي حَيَاتِي، ثُمَّ عَمَدَ إِلَى الثَّوْبِ الَّذِي أَخْلَقَ، أَوْ قَالَ: أَلْقَى، فَتَصَدَّقَ بِهِ، كَانَ فِي ذِمَّةِ اللَّهِ تَعَالَى، وَفِي جِوَارِ اللَّهِ، وَفِي كَنَفِ اللَّهِ حَيًّا وَمَيِّتًا، حَيًّا وَمَيِّتًا، حَيًّا وَمَيِّتًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالعلاء شامی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے نیا لباس زیب تن کیا، جب وہ ان کی ہنسلی کی ہڈی تک پہنچا تو انہوں نے یہ دعا پڑھی کہ اس اللہ کا شکر جس نے مجھے لباس پہنایا جس کے ذریعے میں اپنا ستر چھپاتا ہوں اور اپنی زندگی میں اس سے زینت حاصل کرتا ہوں، پھر فرمایا کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص نیا کپڑا پہنے اور جب وہ اس کی ہنسلی کی ہڈی تک پہنچے تو یہ دعا پڑھے۔ اور پرانا کپڑاصدقہ کر دے، وہ زندگی میں بھی اور زندگی کے بعد بھی اللہ کی حفاظت میں، اللہ کے پڑوس میں اور اللہ کی نگہبانی میں رہے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 305]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى العلاء الشامي
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى العلاء الشامي
حدیث نمبر: 306 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَحَدُنَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ، كَيْفَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَغْتَسِلَ؟ قَالَ:" يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ، ثُمَّ يَنَامُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: اگر ہم میں سے کوئی شخص ناپاک ہو جائے اور وہ غسل کرنے سے پہلے سونا چاہے تو کیا کرے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نماز والا وضو کر کے سو جائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 306]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 307 مسند احمد
يَزِيدُ ، وَرْقَاءُ ، وَأَبُو النَّضْرِ ، وَرْقَاءُ ، عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا وَرْقَاءُ . وَأَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى الثَّعْلَبِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي الْبَقِيعِ يَنْظُرُ إِلَى الْهِلَالِ، فَأَقْبَلَ رَاكِبٌ، فَتَلَقَّاهُ عُمَرُ، فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ جِئْتَ؟ فَقَالَ: مِنَ المَغْرَبِ، قَالَ: أَهْلَلْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، إِنَّمَا يَكْفِي الْمُسْلِمِينَ الرَّجُلُ، ثُمَّ قَامَ عُمَرُ ، فَتَوَضَّأَ، فَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ صَلَّى الْمَغْرِبَ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ، قَالَ أَبُو النَّضْرِ: وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَخْرَجَ يَدَهُ مِنْ تَحْتِهَا وَمَسَحَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جنت البقیع میں چاند دیکھ رہے تھے کہ ایک سوار آدمی آیا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اس سے آمنا سامنا ہو گیا، انہوں نے اس سے پوچھا کہ تم کسی طرف سے آ رہے ہو؟ اس نے بتایا مغرب کی جانب سے، انہوں نے پوچھا: کیا تم نے چاند دیکھا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں! میں نے شوال کا چاند دیکھ لیا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: مسلمانوں کے لئے ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے، پھر خود کھڑے ہو کر ایک برتن سے جس میں پانی تھا، وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور مغرب کی نماز پڑھائی اور فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شامی جبہ پہن رکھا تھا جس کی آستینیں تنگ تھیں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال کر مسح کیا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 307]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي، وعبدالرحمن بن أبى ليلى لم يسمع من عمر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالأعلى الثعلبي، وعبدالرحمن بن أبى ليلى لم يسمع من عمر
حدیث نمبر: 308 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَرِيرٌ ، الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، أَبِي لَبِيدٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، أَنْبَأَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ الْخِرِّيتِ ، عَنْ أَبِي لَبِيدٍ ، قَالَ: خَرَجَ رَجُلٌ مِنْ طَاحِيَةَ مُهَاجِرًا، يُقَالُ لَهُ: بَيْرَحُ بْنُ أَسَدٍ، فَقَدِمَ الْمَدِينَةَ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَيَّامٍ، فَرَآهُ عُمَرُ ، فَعَلِمَ أَنَّهُ غَرِيبٌ، فَقَالَ لَهُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ عُمَانَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَأَخَذَ بِيَدِهِ، فَأَدْخَلَهُ عَلَى أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: هَذَا مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، الَّتِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ أَرْضًا يُقَالُ لَهَا: عُمَانُ، يَنْضَحُ بِنَاحِيَتِهَا الْبَحْرُ، بِهَا حَيٌّ مِنَ الْعَرَبِ، لَوْ أَتَاهُمْ رَسُولِي، مَا رَمَوْهُ بِسَهْمٍ وَلَا حَجَرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابولبید کہتے ہیں کہ ایک آدمی جس کا نام بیرح بن اسد تھا طاحیہ نامی جگہ سے ہجرت کے ارادے سے روانہ ہوا جب وہ مدینہ منورہ پہنچا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات ہوئے کئی دن گزر چکے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو وہ انہیں اجنبی محسوس ہوا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: آپ کون ہو؟ اس نے کہا: کہ میرا تعلق عمان سے ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اچھا کہا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ ان کا تعلق اس سرزمین سے ہے جس کے متعلق میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کا نام عمان ہے اس کے ایک کنارے سمندر بہتا ہے، وہاں عرب کا ایک قبیلہ بھی آباد ہے، اگر میرا قاصد ان کے پاس گیا ہے تو انہوں نے اسے کوئی تیر یا پتھر نہیں مارا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 308]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو لبيد لم يدرك عمر ولا أبا بكر، ويشهد للمرفوع منه حديث أبى برزة الأسلمي يأتي برقم: 19771
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو لبيد لم يدرك عمر ولا أبا بكر، ويشهد للمرفوع منه حديث أبى برزة الأسلمي يأتي برقم: 19771
حدیث نمبر: 309 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرَ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا رَفَعَهُ، قَالَ: يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى:" مَنْ تَوَاضَعَ لِي هَكَذَا، وَجَعَلَ يَزِيدُ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَأَدْنَاهَا إِلَى الْأَرْضِ، رَفَعْتُهُ هَكَذَا، وَجَعَلَ بَاطِنَ كَفِّهِ إِلَى السَّمَاءِ، وَرَفَعَهَا نَحْوَ السَّمَاءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث قدسی مروی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص میرے لئے اتنا سا جھکتا ہے، راوی نے زمین کے قریب اپنے ہاتھ کو لے جا کر کہا، تو میں اسے اتنا بلند کر دیتا ہوں، راوی نے آسمان کی طرف اپنا ہاتھ اٹھا کر دکھایا۔ (فائدہ: یعنی تواضع اختیار کرنے والے کو اللہ کی طرف سے رفعتیں اور عظمتیں عطاء ہوتی ہیں۔)
[مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 309]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 310 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَبْدِيُّ ، مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور وہ لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 310]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 311 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ ، مَالِكٌ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ ، مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ ، عُمَرُ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ . ح وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، أَخْبَرَنِي مَالِكٌ . قَالَ: أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: وحَدَّثَنَا مُصْعَبٌ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الْحَمِيدِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ الْجُهَنِيِّ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سُئِل عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ: وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ سورة الأعراف آية 172 الْآيَةَ، فَقَالَ عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ خَلَقَ آدَمَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ بِيَمِينِهِ، وَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلْجَنَّةِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ يَعْمَلُونَ، ثُمَّ مَسَحَ ظَهْرَهُ، فَاسْتَخْرَجَ مِنْهُ ذُرِّيَّةً، فَقَالَ: خَلَقْتُ هَؤُلَاءِ لِلنَّارِ، وَبِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ يَعْمَلُونَ"، فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَفِيمَ الْعَمَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ إِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلْجَنَّةِ، اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ الْجَنَّةَ، وَإِذَا خَلَقَ الْعَبْدَ لِلنَّارِ اسْتَعْمَلَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى يَمُوتَ عَلَى عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِ أَهْلِ النَّارِ، فَيُدْخِلَهُ بِهِ النَّارَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم بن یسار الجہنی کہتے ہیں کہ کسی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس آیت کا مطلب پوچھا: «واذ اخذ ربك من بني آدم من ظهورهم ذرياتهم» تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی اس نوعیت کا سوال کسی کو پوچھتے ہوئے سنا تھا، اس موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا جواب یہ ارشاد فرمایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم علیہ السلام کی جب تخلیق فرمائی تو کچھ عرصے بعد ان کی پشت پر اپنا دایاں ہاتھ پھیرا اور ان کی اولاد کو نکالا اور فرمایا کہ میں نے ان لوگوں کو جنت کے لئے اور اہل جنت کے اعمال کرنے کے لئے پیدا کیا ہے۔ اس کے بعد دوبارہ ہاتھ پھیر کر ان کی کچھ اور اولاد کو نکالا اور فرمایا: میں نے ان لوگوں کو جہنم کے لئے اور اہل جہنم کے اعمال کرنے کے لئے پیدا کیا ہے، ایک آدمی نے یہ سن کر عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر عمل کا کیا فائدہ؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جب کسی بندے کو جنت کے لئے پیدا کیا ہے تو اسے اہل جنت کے کاموں میں لگائے رکھے گا یہاں تک کہ وہ جنتیوں والے اعمال کرتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو جائے اور اس کی برکت سے جنت میں داخل ہو جائے اور اگر کسی بندے کو جہنم کے لئے پیدا کیا ہے تو وہ اسے اہل جہنم کے کاموں میں لگائے رکھے گا، یہاں تک کہ جہنمیوں کے اعمال کرتا ہوا وہ دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور ان کی نحوست سے جہنم میں داخل ہو جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 311]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مسلم بن يسار لم يسمع من عمر، ثم إنه فى عداد المجهولين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، مسلم بن يسار لم يسمع من عمر، ثم إنه فى عداد المجهولين
حدیث نمبر: 312 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَائِمٌ يَخْطُبُ، فَقَالَ عُمَرُ: أَيَّةُ سَاعَةٍ هَذِهِ؟ فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، انْقَلَبْتُ مِنَ السُّوقِ فَسَمِعْتُ النِّدَاءَ، فَمَا زِدْتُ عَلَى أَنْ تَوَضَّأْتُ، فَأَقْبَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : الْوُضُوءُ أَيْضًا! وَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُنَا بِالْغُسْلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دوران خطبہ ایک صاحب آئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا کہ یہ کون سا وقت ہے آنے کا؟ انہوں نے جواباً کہا کہ امیرالمومنین! میں بازار سے واپس آیا تھا، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اوپر سے وضو بھی؟ جبکہ آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کے لئے غسل کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 312]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 878، م: 845
الحكم: إسناده صحيح، خ: 878، م: 845
حدیث نمبر: 313 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، بَعْضِ بَنِي يَعْلَى ، يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ عَتِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَابَيْهِ ، عَنْ بَعْضِ بَنِي يَعْلَى ، عَنْ يَعْلَى بْنِ أُمَيَّةَ ، قَالَ: طُفْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَاسْتَلَمَ الرُّكْنَ، قَالَ يَعْلَى: فَكُنْتُ مِمَّا يَلِي الْبَيْتَ، فَلَمَّا بَلَغْتُ الرُّكْنَ الْغَرْبِيَّ الَّذِي يَلِي الْأَسْوَدَ، جَرَرْتُ بِيَدِهِ لِيَسْتَلِمَ، فَقَالَ:" مَا شَأْنُكَ؟ فَقُلْتُ: أَلَا تَسْتَلِمُ؟ قَالَ: أَلَمْ تَطُفْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتُ: بَلَى، فَقَالَ: أَفَرَأَيْتَهُ يَسْتَلِمُ هَذَيْنِ الرُّكْنَيْنِ الْغَرْبِيَّيْنِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ لَا، قَالَ: أَفَلَيْسَ لَكَ فِيهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ؟ قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَانْفُذْ عَنْكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ طواف کیا، انہوں نے حجر اسود کا استلام کیا، جب میں رکن یمانی پر پہنچا تو میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ لیا تاکہ وہ استلام کر لیں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا کیا آپ استلام نہیں کریں گے؟ انہوں نے فرمایا: کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کبھی طواف نہیں کیا؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں! فرمایا: تو کیا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کا استلام کرتے ہوئے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں! انہوں نے فرمایا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ موجود نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، انہوں نے فرمایا: پھر اسے چھوڑ دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 313]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وجهالة بعض بني يعلى لا تضر، فقد روي عبدالله بن بابيه هذا الحديث عن يعلى بن أمية دون واسطة
الحكم: حديث صحيح، وجهالة بعض بني يعلى لا تضر، فقد روي عبدالله بن بابيه هذا الحديث عن يعلى بن أمية دون واسطة
حدیث نمبر: 314 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، وَأَبُو عَامِرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ ، قَالَ: جِئْتُ بِدَنَانِيرَ لِي، فَأَرَدْتُ أَنْ أَصْرِفَهَا، فَلَقِيَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَاصْطَرَفَهَا وَأَخَذَهَا، فَقَالَ: حَتَّى يَجِيءَ سَلْمٌ خَازِنِي، قَالَ أَبُو عَامِرٍ: مِنَ الْغَابَةِ، وَقَالَ فِيهَا كُلِّهَا: هَاءَ وَهَاءَ، قَالَ: فَسَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الذَّهَبُ بِالْوَرِقِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا، إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا مالک بن اوس بن الحدثان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سونے کے بدلے چاندی حاصل کرنے کے لئے اپنے کچھ دینار لے کر آیا، راستے میں سیدنا طلحۃ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہو گئی، انہوں نے مجھ سے سونے کے بدلے چاندی کا معاملہ طے کر لیا اور میرے دینار پکڑ لئے اور کہنے لگے کہ ذرا رکیے ہمارا خازن غابہ سے آتا ہی ہو گا، میں نے سیدنا رضی اللہ عنہ سے اس کا حکم پوچھا تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سونے کی چاندی کے بدلے خریدوفروخت سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہو، اسی طرح کھجور کے بدلے کھجور کی بیع سود ہے الاّ یہ کہ معاملہ نقد ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 314]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2134، م: 1586
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2134، م: 1586
حدیث نمبر: 315 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ ، أَنَّ عُمَرَ ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میت پر اس کے اہل خانہ کے رونے دھونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 315]
حکم دارالسلام
صحيح، سيعد بن المسيب لم يسمع من عمر، خ: 1292، م: 927
الحكم: صحيح، سيعد بن المسيب لم يسمع من عمر، خ: 1292، م: 927
حدیث نمبر: 316 مسند احمد
بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، أَبُو عَوَانَةَ ، الْمُغِيرَةِ ، الشَّعْبِيِّ ، عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عِيسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِي أُنَاسٍ مِنْ قَوْمِي، فَجَعَلَ يَفْرِضُ لِلرَّجُلِ مِنْ طَيِّئٍ فِي أَلْفَيْنِ وَيُعْرِضُ عَنِّي، قَالَ: فَاسْتَقْبَلْتُهُ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مِنْ حِيَالِ وَجْهِهِ، فَأَعْرَضَ عَنِّي، قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَتَعْرِفُنِي؟ قَالَ: فَضَحِكَ حَتَّى اسْتَلْقَى لِقَفَاهُ، ثُمَّ قَالَ:" نَعَمْ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْرِفُكَ، آمَنْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَإِنَّ أَوَّلَ صَدَقَةٍ بَيَّضَتْ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُجُوهَ أَصْحَابِهِ صَدَقَةُ طَيِّئٍ، جِئْتَ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"، ثُمَّ أَخَذَ يَعْتَذِرُ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا فَرَضْتُ لِقَوْمٍ أَجْحَفَتْ بِهِمْ الْفَاقَةُ، وَهُمْ سَادَةُ عَشَائِرِهِمْ، لِمَا يَنُوبُهُمْ مِنَ الْحُقُوقِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عدی بن حاتم کہتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے کچھ لوگوں کے ساتھ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے بنو طئی کے ایک آدمی کو دو ہزار دئیے لیکن مجھ سے اعراض کیا، میں ان کے سامنے آیا تب بھی انہوں نے اعراض کیا، میں ان کے چہرے کے رخ کی جانب سے آیا لیکن انہوں نے پھر بھی اعراض کیا، یہ دیکھ کر میں نے کہا امیرالمومنین! آپ مجھے پہچانتے ہیں؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہنسنے لگے، پھر چت لیٹ گئے اور فرمایا: ہاں! اللہ کی قسم! میں آپ کو جانتا ہوں، جب یہ کافر تھے آپ نے اس وقت اسلام قبول کیا تھا، جب انہوں نے پیٹھ پھیر رکھی تھی آپ متوجہ ہو گئے تھے، جب انہوں نے عہد شکنی کی تھی تب آپ نے وعدہ وفا کیا تھا اور سب سے پہلا وہ مال صدقہ جسے دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کے چہرے کھل اٹھے تھے بنو طئی کی طرف سے آنے والا وہ مال تھا جو آپ ہی لے کر آئے تھے۔ اس کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان سے معذرت کرتے ہوئے فرمانے لگے میں نے ان لوگوں کو مال دیا ہے جنہیں فقر و فاقہ اور تنگدستی نے کمزور کر رکھا ہے اور یہ لوگ اپنے اپنے قبیلے کے سردار ہیں، کیونکہ ان پر حقوق کی نیاب کی ذمہ داری ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 316]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 1605
الحكم: صحيح لغيره، خ: 1605
حدیث نمبر: 317 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ:" فِيمَا الرَّمَلَانُ الْآنَ، وَالْكَشْفُ عَنِ الْمَنَاكِبِ، وَقَدْ أَطَّأَ اللَّهُ الْإِسْلَامَ، وَنَفَى الْكُفْرَ وَأَهْلَهُ، وَمَعَ ذَلِكَ لَا نَدَعُ شَيْئًا كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اب طواف کے دوران جبکہ اللہ نے اسلام کو شان و شوکت عطاء فرما دی اور کفر و اہل کفر کو ذلیل کرکے نکال دیا رمل اور کندھے خالی کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی لیکن اس کے باوجود ہم اسے ترک نہیں کریں گے کیونکہ ہم اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے کرتے چلے آرہے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 317]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1605
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، خ: 1605
حدیث نمبر: 318 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي الْفُرَاتِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ ، قَالَ عَفَّانُ: عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، وَقَدْ وَقَعَ بِهَا مَرَضٌ، قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ: فَهُمْ يَمُوتُونَ مَوْتًا ذَرِيعًا، فَجَلَسْتُ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَمَرَّتْ بِهِ جَنَازَةٌ، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ عُمَرُ : وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى، فَأُثْنِيَ عَلَى صَاحِبِهَا خَيْرٌ، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مُرَّ بِأُخْرَى فَأُثْنِيَ عَلَيْهَا شَرٌّ، فَقَالَ عُمَرُ: وَجَبَتْ، فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ: فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا وَجَبَتْ؟ فَقَالَ: قُلْتُ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا مُسْلِمٍ شَهِدَ لَهُ أَرْبَعَةٌ بِخَيْرٍ، إِلَّا أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، قَالَ: قُلْنَا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: وَثَلَاثَةٌ، قُلْنَا: وَاثْنَانِ؟ قَالَ: وَاثْنَانِ"، قَالَ: وَلَمْ نَسْأَلْهُ عَنِ الْوَاحِدِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوالاسود رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوا، وہاں پہنچا تو پتہ چلا کہ وہاں کوئی بیماری پھیلی ہوئی ہے جس سے لوگ بکثرت مر رہے ہیں، میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی، پھر دوسرا جنازہ گزرا، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، تیسرا جنازہ گزرا تو لوگوں نے اس کی برائی بیان کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، میں نے بالآخر پوچھ ہی لیا کہ امیر المؤمنین! کیا چیز واجب ہو گئی؟ انہوں نے فرمایا: میں نے تو وہی کہا ہے جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جس مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں تو اس کے لئے جنت واجب ہو گئی، ہم نے عرض کیا: اگر تین آدمی ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تب بھی یہی حکم ہے، ہم نے دو کے متعلق پوچھا:، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے، پھر ہم نے خود ہی ایک کے متعلق سوال نہیں کیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 318]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1368
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1368
حدیث نمبر: 319 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبُو هُرَيْرَةَ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: بَيْنَمَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَخْطُبُ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَجَلَسَ، فَقَالَ عُمَرُ: لِمَ تَحْتَبِسُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَا هُوَ إِلَّا أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ، ثُمَّ أَقْبَلْتُ، فَقَالَ عُمَرُ : وَأَيْضًا! أَلَمْ تَسْمَعُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا رَاحَ أَحَدُكُمْ إِلَى الْجُمُعَةِ، فَلْيَغْتَسِلْ"؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، دوران خطبہ ایک صاحب آ کر بیٹھ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: نماز سے کیوں رکے رہے، انہوں نے جواباً کہا کہ امیر المؤمنین! میں بازار سے واپس آیا تھا، میں نے تو جیسے ہی اذان سنی، وضو کرتے ہی آ گیا ہوں، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اچھا کیا تم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے لئے جائے تو اسے غسل کر لینا چاہیے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 319]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 882، م: 845
الحكم: إسناده صحيح، خ: 882، م: 845
حدیث نمبر: 320 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، أَبِي ، الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ الْمُعَلِّمُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ أَخْبَرَهُ: أَنَّ عُمَرَ بَيْنَا هُوَ يَخْطُبُ... فَذَكَرَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ روایت اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 320]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح كسابقه
الحكم: إسناده صحيح كسابقه
حدیث نمبر: 321 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ ، يَحْيَى ، عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، أَبُو حَفْصٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَرْبٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ فِيمَا يَحْسِبُ حَرْبٌ: أَنَّهُ سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ لَبُوسِ الْحَرِيرِ، فَقَالَ: سَلْ عَنْهُ عَائِشَةَ، فَسَأَلَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: سَلْ ابْنَ عُمَرَ، فَسَأَلَ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو حَفْصٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ لَبِسَ الْحَرِيرَ فِي الدُّنْيَا، فَلَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمران بن حطان نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ریشمی لباس کی بابت سوال کیا، انہوں نے کہا کہ اس کا جواب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھو، عمران نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھو، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: تو سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے والد محترم کے حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ جو شخص دنیا میں ریشم پہنتا ہے، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 321]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5835
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5835