بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 309
صفحہ 16 از 16
حدیث نمبر: 382 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ : أَنَّ عُمَرَ قَبَّلَهُ وَالْتَزَمَهُ، ثُمّ قَالَ:" رَأَيْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِكَ حَفِيًّا"، يَعْنِي الْحَجَرَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سوید بن غفلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کو چمٹ کر اسے بوسہ دیا اور اس سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تجھ پر مہربان دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 382]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، وأنظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح، وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 383 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ اللَّيْلُ مِنْ هَهُنَا، وَذَهَبَ النَّهَارُ مِنْ هَهُنَا، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رات یہاں سے آ جائے اور دن وہاں سے چلا جائے تو روزہ دار کو روزہ افطار کر لینا چاہیے، مشرق اور مغرب مراد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 383]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1954، م: 1100
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1954، م: 1100
حدیث نمبر: 384 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَثَلُ الَّذِي يَعُودُ فِي صَدَقَتِهِ، كَمَثَلِ الَّذِي يَعُودُ فِي قَيْئِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صدقہ دے کر دوبارہ اس کی طرف رجوع کرنے والا اس شخص کی طرح ہوتا ہے جو اپنے منہ سے قئی کر کے اس کو چاٹ لے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 384]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1490، م: 1620
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1490، م: 1620
حدیث نمبر: 385 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ:" كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يُفِيضُونَ مِنْ جَمْعٍ، حَتَّى يَقُولُوا: أَشْرِقْ ثَبِيرُ كَيْمَا نُغِيرُ، فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، فَكَانَ يَدْفَعُ مِنْ جَمْعٍ مِقْدَارَ صَلَاةِ الْمُسْفِرِينَ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ، قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو تاکہ ہم حملہ کریں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے جبکہ نماز فجر اسفار کر کے پڑھنے والوں کی مقدار کے تناسب سے پڑھی جا سکتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 385]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1684
حدیث نمبر: 386 مسند احمد
وَكِيعٌ ، رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا رَبَاحُ بْنُ أَبِي مَعْرُوفٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: قَالَ لِي عُمَرُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میت کو اس پر اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 386]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1287، م: 927
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، خ: 1287، م: 927
حدیث نمبر: 387 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، سَالِمٍ ، ابْنِ عُمَرَ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : أَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَمْسَحُ عَلَى خُفَّيْهِ فِي السَّفَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دوران سفر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 387]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله واضطرابه
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عاصم بن عبيد الله واضطرابه
حدیث نمبر: 388 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الْبُخْلِ وَالْجُبْنِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَأَرْذَلِ الْعُمُرِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ"، قَالَ وَكِيعٌ: فِتْنَةُ الصَّدْرِ: أَنْ يَمُوتَ الرَّجُلُ، وَذَكَرَ وَكِيعٌ: الْفِتْنَةَ لَمْ يَتُبْ مِنْهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پانچ چیزوں سے) اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، بخل سے، بزدلی سے، دل کے فتنہ سے، عذاب قبر سے اور بری عمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 389 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْوَلِيدِ الشَّنِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، قَالَ: جَلَسَ عُمَرُ مَجْلِسًا، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُهُ تَمُرُّ عَلَيْهِ الْجَنَائِزُ، قَالَ:" فَمَرُّوا بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ، فَأَثْنَوْا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا خَيْرًا، فَقَالَ: وَجَبَتْ، ثُمَّ مَرُّوا بِجِنَازَةٍ، فَقَالُوا: هَذَا كَانَ أَكْذَبَ النَّاسِ، فَقَالَ: إِنَّ أَكْذَبَ النَّاسِ أَكْذَبُهُمْ عَلَى اللَّهِ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، مَنْ كَذَبَ عَلَى رُوحِهِ فِي جَسَدِهِ، قَالَ: قَالُوا: أَرَأَيْتَ إِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَثَلَاثَةٌ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، قَالُوا: وَاثْنَيْنِ؟ قَالَ: وَجَبَتْ، وَلَأَنْ أَكُونَ قُلْتُ وَاحِدًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ، قَالَ: فَقِيلَ لِعُمَرَ: هَذَا شَيْءٌ تَقُولُهُ بِرَأْيِكَ، أَمْ شَيْءٌ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَا، بَلْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس جگہ بیٹھے ہوئے تھے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی بیٹھتے تھے اور وہاں سے جنازے گزر تے تھے، وہاں سے ایک جنازہ کا گزر ہوا، لوگوں نے اس مردے کی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: واجب ہو گئی، پھر دوسرا جنازہ گزر ا، لوگوں نے اس کی بھی تعریف کی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پھر فرمایا: واجب ہو گئی، تیسرے جنازہ پر بھی ایسا ہی ہوا، جب چوتھا جنازہ گزر ا تو لوگوں نے کہا: یہ سب سے بڑا جھوٹا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بڑا جھوٹا وہ ہوتا ہے جو اللہ پر سب سے زیادہ جھوٹ باندھتا ہے، اس کے بعد وہ لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جسم میں موجود روح پر جھوٹ باندھتے ہیں، لوگوں نے کہا: یہ بتائیے کہ اگر کسی مسلمان کے لئے چار آدمی خیر کی گواہی دے دیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کے لئے جنت واجب ہو گئی، لوگوں نے عرض کیا: اگر تین آدمی ہوں؟ تو فرمایا: تب بھی یہی حکم ہے، ہم نے دو کے متعلق پوچھا، فرمایا: دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے، اگر میں ایک کے متعلق پوچھ لیتا تو یہ میرے نزدیک سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسندیدہ تھا، کسی شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ یہ بات آپ اپنی رائے سے کہہ رہے ہیں یا آپ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 389]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2643، عبدالله بن بريدة لم يدرك عمر، بينهما أبو الأسود الدؤلي كما تقدم برقم: 139 بإسناد صحيح
الحكم: حديث صحيح، خ: 2643، عبدالله بن بريدة لم يدرك عمر، بينهما أبو الأسود الدؤلي كما تقدم برقم: 139 بإسناد صحيح
حدیث نمبر: 390 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، قَالَ: بَلَغَ عُمَرَ أَنَّ سَعْدًا لَمَّا بَنَى الْقَصْرَ، قَالَ: انْقَطَعَ الصُّوَيْتُ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ، فَلَمَّا قَدِمَ أَخْرَجَ زَنْدَهُ، وَأَوْرَى نَارَهُ، وَابْتَاعَ حَطَبًا بِدِرْهَمٍ، وَقِيلَ لِسَعْدٍ: إِنَّ رَجُلًا فَعَلَ كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ: ذَاكَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ، فَحَلَفَ بِاللَّهِ مَا قَالَهُ، فَقَالَ: نُؤَدِّي عَنْكَ الَّذِي تَقُولُهُ، وَنَفْعَلُ مَا أُمِرْنَا بِهِ، فَأَحْرَقَ الْبَابَ، ثُمَّ أَقْبَلَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ أَنْ يُزَوِّدَهُ، فَأَبَى، فَخَرَجَ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ ، فَهَجَّرَ إِلَيْهِ، فَسَارَ ذَهَابَهُ وَرُجُوعَهُ تِسْعَ عَشْرَةَ، فَقَالَ: لَوْلَا حُسْنُ الظَّنِّ بِكَ، لَرَأَيْنَا أَنَّكَ لَمْ تُؤَدِّ عَنَّا، قَالَ: بَلَى، أَرْسَلَ يَقْرَأُ السَّلَامَ، وَيَعْتَذِرُ، وَيَحْلِفُ بِاللَّهِ مَا قَالَ: فَهَلْ زَوَّدَكَ شَيْئًا؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تُزَوِّدَنِي أَنْتَ؟ قَالَ: إِنِّي كَرِهْتُ أَنْ آمُرَ لَكَ، فَيَكُونَ لَكَ الْبَارِدُ، وَيَكُونَ لِي الْحَارُّ، وَحَوْلِي أَهْلُ الْمَدِينَةِ قَدْ قَتَلَهُمْ الْجُوعُ، وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يَشْبَعُ الرَّجُلُ دُونَ جَارِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبایہ بن رفاعہ کہتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ خبر معلوم ہوئی کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اپنے لئے ایک محل تعمیر کروایا ہے جہاں فریادیوں کی آوازیں پہنچنا بند ہو گئی ہیں، تو انہوں نے فوراً محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کو روانہ فرمایا: انہوں نے وہاں پہنچ کر چقماق نکال کر اس سے آگ سلگائی، ایک درہم کی لکڑیاں خریدیں اور انہیں آگ لگا دی۔ کسی نے جا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ایک آدمی ایسا ایسا کر رہا ہے، انہوں نے فرمایا کہ وہ محمد بن مسلمہ ہیں، یہ کہہ کر وہ ان کے پاس آئے اور ان سے قسم کھا کر کہا کہ انہوں نے کوئی بات نہیں کہی ہے, محمد بن مسلمہ کہنے لگے کہ ہمیں تو جو حکم ملا ہے، ہم وہی کریں گے، اگر آپ نے کوئی پیغام دینا ہو تو وہ بھی پہنچا دیں گے، یہ کہہ کر انہوں نے اس محل کے دروازے کو آگ لگا دی۔ پھر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں زاد راہ کی پیشکش کی لیکن انہوں نے اسے بھی قبول نہ کیا اور واپس روانہ ہو گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جس وقت وہ پہنچے وہ دوپہر کا وقت تھا اور اس آنے جانے میں ان کے کل انیس دن صرف ہوئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھ کر فرمایا: اگر آپ کے ساتھ حسن ظن نہ ہوتا تو ہم یہ سمجھتے کہ شاید آپ نے ہمارا پیغام ان تک نہیں پہنچایا۔ انہوں نے عرض کیا: کیوں نہیں! اس کے جواب میں انہوں نے آپ کو سلام کہلوایا ہے اور معذرت کی ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہا ہے کہ انہوں نے کسی قسم کی کوئی بات نہیں کی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ کیا انہوں نے آپ کو زادراہ دیا؟ عرض کیا میں نے خود ہی نہیں لیا، فرمایا: پھر اپنے ساتھ کیوں نہیں لے گئے؟ عرض کیا کہ مجھے یہ چیز اچھی نہ لگی کہ میں انہیں آپ کا کوئی حکم دوں، وہ آپ کے لئے تو ٹھنڈے رہیں اور میرے لئے گرم ہو جائیں، پھر میرے اردگرد اہل مدینہ آباد ہیں جنہیں بھوک نے مار رکھا ہے اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ کوئی شخص اپنے پڑوسی کو چھوڑ کر خود سیراب نہ ہوتا پھرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 390]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ورواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة
الحكم: حديث صحيح، ورواية عباية بن رفاعة عن عمر مرسلة