بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مُسْنَدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 309
صفحہ 4 از 16
حدیث نمبر: 142 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، مَعْمَرٍ ، سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ، فَحَدَّثَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ:" غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزْوَتَيْنِ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ يَوْمَ بَدْرٍ، وَيَوْمَ الْفَتْحِ، فَأَفْطَرْنَا فِيهِمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معمر (جو کہ ایک مشہور محدث ہیں) نے ایک مرتبہ سیدنا سعید بن مسیب رحمہ اللہ علیہ سے دوران سفر روزہ رکھنے کا حکم دریافت کیا تو انہوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث انہیں سنائی کہ ہم نے ماہ رمضان میں دو مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں شرکت کی ہے، ایک غزوہ بدر کے موقع پر اور ایک فتح مکہ کے موقع پر اور دونوں مرتبہ ہم نے روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 142]
حکم دارالسلام
حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
الحكم: حديث قوي، عبدالله بن لهيعة سيء الحفظ، لكن رواه عنه قتيبة بن سعيد، ورواية قتيبة عنه صالحة معتبر بها
حدیث نمبر: 143 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ عَبْدِيٌّ ، مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ عَبْدِيٌّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ النَّهْدِيُّ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتِي، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 143]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 144 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّهُ كَانَ مَعَ مَسْلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ فِي أَرْضِ الرُّومِ، فَوُجِدَ فِي مَتَاعِ رَجُلٍ غُلُولٌ، فَسَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَجَدْتُمْ فِي مَتَاعِهِ غُلُولًا، فَأَحْرِقُوهُ، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ: وَاضْرِبُوهُ"، قَالَ: فَأَخْرَجَ مَتَاعَهُ فِي السُّوقِ، قَالَ: فَوَجَدَ فِيهِ مُصْحَفًا، فَسَأَلَ سَالِمًا، فَقَالَ: بِعْهُ، وَتَصَدَّقْ بِثَمَنِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ وہ مسلمہ بن عبدالملک کے ساتھ ارض روم میں تھے کہ ایک آدمی کے سامان سے چوری کا مال غنیمت نکل آیا، لوگوں نے سیدنا سالم رحمہ اللہ علیہ سے اس مسئلے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اپنے والد سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے واسطے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث نقل کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جس شخص کے سامان میں سے تمہیں چوری کا مال غنیمت مل جائے، اس سامان کو آگ لگا دو اور شاید یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کی پٹائی کرو۔ چنانچہ لوگوں نے اس کا سامان نکال کر بازار میں لا کر رکھا، اس میں سے ایک قرآن شریف بھی نکلا، لوگوں نے سالم سے اس کے متعلق پوچھا: تو انہوں نے فرمایا کہ اسے بیچ کر اس کی قیمت صدقہ کر دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 144]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة
حدیث نمبر: 145 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، وَحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عُمَرَ : أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يَتَعَوَّذُ مِنْ خَمْسٍ: مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، «مِنَ الْبُخْلِ، وَالْجُبْنِ، وَفِتْنَةِ الصَّدْرِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَسُوءِ الْعُمُرِ» بخل سے، بزدلی سے، دل کے فتنہ سے، عذاب قبر سے اور بری عمر سے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 145]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 146 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَطَاءَ بْنَ دِينَارٍ ، أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءَ بْنَ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الشُّهَدَاءُ ثَلَاثَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ إِلَيْهِ النَّاسُ أَعْنَاقَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ جِلْدُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، أَتَاهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَتَلَهُ، هُوَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَرَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ، خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا، وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَلِكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: شہداء تین طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ٹوپی گر گئی۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہو کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا، یہ دوسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان تو مضبوط ہو لیکن اس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تیسرے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 146]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
حدیث نمبر: 147 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُقَادُ وَالِدٌ مِنْ وَلَدٍ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَرِثُ الْمَالَ مَنْ يَرِثُ الْوَلَاءَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مال کا وارث وہی ہو گا جو ولاء کا وارث ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 147]
حکم دارالسلام
حديث حسن، عبدالله بن لهيعة- وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
الحكم: حديث حسن، عبدالله بن لهيعة- وإن كان سيء الحفظ - قد توبع
حدیث نمبر: 148 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُقَادُ لِوَلَدٍ مِنْ وَالِدِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ باپ سے اس کی اولاد کا قصاص نہیں لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 148]
حکم دارالسلام
حديث حسن كسابقه
الحكم: حديث حسن كسابقه
حدیث نمبر: 149 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ شُرَحْبِيلَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَنَّهُ قَالَ:" رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ مَرَّةً مَرَّةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ بھی دھویا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 149]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، عبدالله بن لهيعة تابعه رشدين بن سعد وهو ممن يعتبر بحديثه
الحكم: صحيح لغيره، عبدالله بن لهيعة تابعه رشدين بن سعد وهو ممن يعتبر بحديثه
حدیث نمبر: 150 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الْإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ، فَقُتِلَ، فَذَلِكَ الَّذِي يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى سَقَطَتْ قَلَنْسُوَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ قَلَنْسُوَةُ عُمَرَ، وَالثَّانِي: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَكَأَنَّمَا يُضْرَبُ ظَهْرُهُ بِشَوْكِ الطَّلْحِ، جَاءَهُ سَهْمٌ غَرْبٌ، فَقَتَلَهُ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّانِيَةِ، وَالثَّالِثُ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ خَلَطَ عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى قُتِلَ، قَالَ: فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الثَّالِثَةِ، وَالرَّابِعُ: رَجُلٌ مُؤْمِنٌ أَسْرَفَ عَلَى نَفْسِهِ إِسْرَافًا كَثِيرًا، لَقِيَ الْعَدُوَّ، فَصَدَقَ اللَّهَ حَتَّى قُتِلَ، فَذَاكَ فِي الدَّرَجَةِ الرَّابِعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: شہداء چار طرح کے ہوتے ہیں۔ وہ مسلمان آدمی جس کا ایمان مضبوط ہو، دشمن سے اس کا آمنا سامنا ہوا اور اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تو وہ آدمی ہے جس کی طرف قیامت کے دن لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھیں گے اور خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا سر بلند کر کے دکھایا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ٹوپی مبارک گر گئی۔ وہ مسلمان آدمی جس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا اور ایسا محسوس ہوا کہ اس کے جسم پر کسی نے کانٹے چبھا دئیے ہوں، اچانک کہیں سے ایک تیر آیا اور وہ شہید ہو گیا، یہ دوسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس نے کچھ اچھے اور کچھ برے دونوں طرح کے عمل کیے ہوں، دشمن سے جب اس کا آمنا سامنا ہوا تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا، یہاں تک کہ شہید ہو گیا، یہ تیسرے درجے میں ہو گا۔ وہ مسلمان آدمی جس نے اپنی جان پر بےحد ظلم کیا، اس کا دشمن سے آمنا سامنا ہوا، تو اس نے اللہ کی بات کو سچا کر دکھایا اور شہید ہو گیا، یہ چوتھے درجے میں ہو گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 150]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى يزيد الخولاني
حدیث نمبر: 151 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيُّ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، أَبِيهِ ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ غَيْلَانَ ، حَدَّثَنَا رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْغَافِقِيُّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ" تَوَضَّأَ عَامَ تَبُوكَ وَاحِدَةً وَاحِدَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک کے سال اپنے اعضاء وضو کو ایک ایک مرتبہ دھویا تھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 151]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، رشدين بن سعد- على ضعفه - توبع
الحكم: صحيح لغيره، رشدين بن سعد- على ضعفه - توبع
حدیث نمبر: 152 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" سَيَخْرُجُ أَهْلُ مَكَّةَ، ثُمَّ لَا يَعْبُرُ بِهَا، أَوْ لَا يَعْرِفُهَا إِلَّا قَلِيلٌ، ثُمَّ تَمْتَلِئُ وَتُبْنَى، ثُمَّ يَخْرُجُونَ مِنْهَا، فَلَا يَعُودُونَ فِيهَا أَبَدًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب اہل مکہ اپنے شہر سے نکلیں گے لیکن دوبارہ اسے بہت کم آباد کر سکیں گے، پھر شہر مکہ بھر جائے گا اور وہاں بڑی عمارتیں بن جائیں گے، اس وقت جب اہل مکہ وہاں سے نکل گئے تو دوبارہ واپس کبھی نہیں آ سکیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 152]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وتدليس أبى الزبير
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ابن لهيعة وتدليس أبى الزبير
حدیث نمبر: 153 مسند احمد
الْحَسَنُ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخْبَرَهُ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا تَوَضَّأَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ، فَتَرَكَ مَوْضِعَ ظُفُرٍ عَلَى ظَهْرِ قَدَمِهِ، فَأَبْصَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوءَكَ" فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ صَلَّى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نظر ایک ایسے شخص پر پڑی جو نماز ظہر کے لئے وضو کر رہا تھا، اس نے وضو کرتے ہوئے پاؤں کی پشت پر ایک ناخن کے بقدر جگہ چھوڑ دی یعنی وہ اسے دھو نہ سکا یا وہاں تک پانی نہیں پہنچا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ جا کر اچھی طرح وضو کرو، چنانچہ اس نے جا کر دوبارہ وضو کیا اور نماز پڑھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 153]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ابن لهيعة قد توبع. م: 243
الحكم: حديث صحيح، ابن لهيعة قد توبع. م: 243
حدیث نمبر: 154 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: زَعَمَ الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُطْرُونِي كَمَا أَطْرَتْ النَّصَارَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام، فَإِنَّمَا أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عیسائیوں نے جس طرح سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو حد سے زیادہ آگے بڑھایا مجھے اس طرح مت بڑھاؤ، میں تو اللہ کا بندہ اور اس کا پیغمبر ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 154]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2462، م: 1691
الحكم: حديث صحيح، خ: 2462، م: 1691
حدیث نمبر: 155 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ:" كَانَ إِذَا صَلَّى بِأَصْحَابِهِ رَفَعَ صَوْتَهُ بِالْقُرْآنِ، قَالَ: فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، أَيْ بِقِرَاءَتِكَ، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ، فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، فَلَا تُسْمِعُهُمْ الْقُرْآنَ، حَتَّى يَأْخُذُوهُ عَنْكَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلا سورة الإسراء آية 110".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آیت قرآنی «ولا تجهر بصلاتك ولاتخافت بها»
جس وقت نازل ہوئی ہے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں روپوش تھے، وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتے تھے تو قرآن کریم کی تلاوت بلند آواز سے کرتے تھے، جب مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچتی تو وہ خود قرآن کو، قرآن نازل کرنے والے کو اور قرآن لانے والے کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی کہ آپ بلند آواز سے قرأت نہ کیا کریں کہ مشرکین کے کانوں تک وہ آواز پہنچے اور وہ قرآن ہی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیں اور اتنی پست آواز سے بھی تلاوت نہ کریں کہ آپ کے ساتھی اسے سن ہی نہ سکیں، بلکہ درمیانہ راستہ اختیار کریں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4722، م: 446
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4722، م: 446
حدیث نمبر: 156 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: خَطَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً: خَطَبَنَا، فَحَمِدَ اللَّهَ تَعَالَى وَأَثْنَى عَلَيْهِ، فَذَكَرَ الرَّجْمَ، فَقَالَ:" لَا تُخْدَعُنَّ عَنْهُ، فَإِنَّهُ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى، أَلَا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ، وَرَجَمْنَا بَعْدَهُ، وَلَوْلَا أَنْ يَقُولَ قَائِلُونَ: زَادَ عُمَرُ فِي كِتَابِ اللَّهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ، لَكَتَبْتُهُ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمُصْحَفِ، شَهِدَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَقَالَ هُشَيْمٌ مَرَّةً، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، وَفُلَانٌ، وَفُلَانٌ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَمَ وَرَجَمْنَا مِنْ بَعْدِهِ، أَلَا وَإِنَّهُ سَيَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ قَوْمٌ يُكَذِّبُونَ بِالرَّجْمِ، وَبِالدَّجَّالِ، وَبِالشَّفَاعَةِ، وَبِعَذَابِ الْقَبْرِ، وَبِقَوْمٍ يُخْرَجُونَ مِنَ النَّارِ بَعْدَمَا امْتَحَشُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے کھڑے ہوئے، حمد و ثناء کے بعد آپ نے رجم کا تذکرہ شروع کیا اور فرمایا کہ رجم کے حوالے سے کسی دھوکے کا شکار مت رہنا، یہ اللہ کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے ایک سزا ہے، یاد رکھو! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور ہم بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد یہ سزا جاری کرتے رہے ہیں، اگر کہنے والے یہ نہ کہتے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قرآن میں اضافہ کر دیا اور ایسی چیز اس میں شامل کر دی جو کتاب اللہ میں سے نہیں ہے تو میں اس آیت کو قرآن کریم کے حاشیے پر لکھ دیتا۔ یاد رکھو! سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اس بات کا گواہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجم کی سزا جاری فرمائی ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد ہم نے بھی یہ سزا جاری کی ہے، یاد رکھو! تمہارے بعد کچھ لوگ آئیں گے جو رجم کی تکذیب کرتے ہوں گے، دجال، شفاعت اور عذاب قبر سے انکار کرتے ہوں گے اور اس قوم کے ہونے کو جھٹلائیں گے جنہیں جہنم میں جل کر کوئلہ ہوجانے کے بعد نکال لیا جائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 156]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والشطر الأول صحيح كما سيأتي برقم: 197 و 391
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على بن زيد، والشطر الأول صحيح كما سيأتي برقم: 197 و 391
حدیث نمبر: 157 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، حُمَيْدٌ ، أَنَسٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، أَنْبَأَنَا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قُلْتُ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ اتَّخَذْنَا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى؟ فَنَزَلَتْ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ نِسَاءَكَ يَدْخُلُ عَلَيْهِنَّ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ، فَلَوْ أَمَرْتَهُنَّ أَنْ يَحْتَجِبْنَ؟ فَنَزَلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، وَاجْتَمَعَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِسَاؤُهُ فِي الْغَيْرَةِ، فَقُلْتُ لَهُنَّ: عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ سورة التحريم آية 5، قَالَ: فَنَزَلَتْ كَذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے۔ (پہلا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیتے، اس پر یہ آیت نازل ہو گئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو۔ (دوسرا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں، اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے؟ اس پر آیت حجاب نازل ہو گئی۔ (تیسرا) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کر لیا، میں نے ان سے کہا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہیں طلاق دے دی ہو تو ہو سکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر عطاء کر دے، ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 157]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 602
الحكم: إسناده صحيح، خ: 602
حدیث نمبر: 158 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ: سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ يَقْرَأُ سُورَةَ الْفُرْقَانِ، فَقَرَأَ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ يَكُنْ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْرَأَنِيهَا، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أُسَاوِرَهُ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَلَمَّا فَرَغَ، قُلْتُ: مَنْ أَقْرَأَكَ هَذِهِ الْقِرَاءَةَ؟ قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: كَذَبْتَ، وَاللَّهِ مَا هَكَذَا أَقْرَأَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ أَقُودُهُ، فَانْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ أَقْرَأْتَنِي سُورَةَ الْفُرْقَانِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ هَذَا يَقْرَأُ فِيهَا حُرُوفًا لَمْ تَكُنْ أَقْرَأْتَنِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ يَا هِشَامُ، فَقَرَأَ كَمَا كَانَ قَرَأَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ: اقْرَأْ يَا عُمَرُ، فَقَرَأْتُ، فَقَالَ: هَكَذَا أُنْزِلَتْ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْقُرْآنَ نَزَلَ عَلَى سَبْعَةِ أَحْرُفٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ہشام بن حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو سورت فرقان کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، انہوں نے اس میں ایسے حروف کی تلاوت کی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے نہیں پڑھائے تھے میں اس وقت نماز پڑھ رہا تھا، میرا دل چاہا کہ میں ان سے نماز ہی میں پوچھ لوں، بہرحال! فراغت کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ تمہیں سورت فرقان اس طرح کس نے پڑھائی ہے؟ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے، میں نے کہا: آپ جھوٹ بولتے ہیں، بخدا! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو اس طرح یہ سورت نہیں پڑھائی ہو گی۔ یہ کہہ کر میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور انہیں کھینچتا ہوا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے کر حاضر ہو گیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے مجھے سورت فرقان خود پڑھائی ہے، میں نے اسے سورت فرقان کو ایسے حروف میں پڑھتے ہوئے سنا ہے جو آپ نے مجھے نہیں پڑھائے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہشام سے اس کی تلاوت کرنے کے لئے فرمایا: انہوں نے اسی طرح پڑھا جیسے وہ پہلے پڑھ رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ سورت اسی طرح نازل ہوئی ہے، پھر مجھ سے کہا کہ عمر! تم بھی پڑھ کر سناؤ، چنانچہ میں نے بھی پڑھ کر سنا دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سورت اس طرح بھی نازل ہوئی ہے، اس کے بعد ارشاد فرمایا: بیشک اس قرآن کا نزول سات قرأتوں پر ہوا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2419، م: 818
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2419، م: 818
حدیث نمبر: 159 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْهَيْثَمِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ عُمَرَ ، قَالَ: لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَلْتَوِي، مَا يَجِدُ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ مِنَ الدَّقَلِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھوک کی وجہ سے کروٹیں بدلتے ہوئے دیکھا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ردی کھجور بھی نہ ملتی تھی جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنا پیٹ بھر لیتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2978
الحكم: حديث صحيح، وإسناده حسن، م: 2978
حدیث نمبر: 160 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، أَنَسٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : وَافَقْتُ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي ثَلَاثٍ، أَوْ وَافَقَنِي رَبِّي فِي ثَلَاثٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ اتَّخَذْتَ الْمَقَامَ مُصَلًّى؟ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى سورة البقرة آية 125، وَقُلْتُ: لَوْ حَجَبْتَ عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَإِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيْكَ الْبَرُّ وَالْفَاجِرُ؟ فَأُنْزِلَتْ آيَةُ الْحِجَابِ، قَالَ: وَبَلَغَنِي عَنْ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ شَيْءٌ، أَقُولُ لَهُنَّ: لَتَكُفُّنَّ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ لَيُبْدِلَنَّهُ اللَّهُ بِكُنَّ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ، حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَتْ: يَا عُمَرُ، أَمَا فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا يَعِظُ نِسَاءَهُ حَتَّى تَعِظَهُنَّ، فَكَفَفْتُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: عَسَى رَبُّهُ إِنْ طَلَّقَكُنَّ أَنْ يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِنْكُنَّ مُسْلِمَاتٍ مُؤْمِنَاتٍ قَانِتَاتٍ سورة التحريم آية 5 الْآيَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے تین باتوں میں اپنے رب کی موافقت کی ہے، (پہلا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! کاش! ہم مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنا لیتے، اس پر یہ آیت نازل ہو گئی کہ مقام ابراہیم کو مصلی بنا لو۔ (دوسرا) ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کی ازواج مطہرات کے پاس نیک اور بد ہر طرح کے لوگ آتے ہیں اگر آپ انہیں پردے کا حکم دے دیں تو بہتر ہے؟ اس پر آیت حجاب نازل ہو گئی۔ (تیسرا) ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات نے کسی بات پر ایکا کر لیا، میں نے ان سے کہا کہ تم باز آ جاؤ، ورنہ ہو سکتا ہے ان کا رب انہیں تم سے بہتر بیویاں عطاء کر دے، میں اسی سلسلے میں امہات المؤمنین میں سے کسی کے پاس گیا تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عمر! کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی بیویوں کو نصیحت نہیں کر سکتے کہ تم انہیں نصیحت کرنے نکلے ہو؟ اس پر میں رک گیا، لیکن ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن کریم کی آیت نازل ہو گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1534
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1534
حدیث نمبر: 161 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عِكْرِمَةَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ ، عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، أَنَّ يَحْيَى بْنَ أَبِي كَثِيرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ، يَقُولُ:" أَتَانِي اللَّيْلَةَ آتٍ مِنْ رَبِّي، فَقَالَ: صَلِّ فِي هَذَا الْوَادِي الْمُبَارَكِ، وَقُلْ: عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ". قَالَ الْوَلِيدُ: يَعْنِي ذَا الْحُلَيْفَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے وادی عقیق میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آج رات ایک آنے والا میرے رب کے پاس سے آیا اور کہنے لگا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھیے اور حج کے ساتھ عمرہ کی بھی نیت کر کے احرام باندھ لیں، مراد ذوالحلیفہ کی جگہ ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 402
الحكم: إسناده صحيح، خ: 402