يَزِيدُ ، دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَبْدِيُّ ، مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عُمَرَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا دَيْلَمُ بْنُ غَزْوَانَ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا مَيْمُونٌ الْكُرْدِيُّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، قَالَ: إِنِّي لَجَالِسٌ تَحْتَ مِنْبَرِ عُمَرَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ النَّاسَ، فَقَالَ فِي خُطْبَتِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَخْوَفَ مَا أَخَافُ عَلَى هَذِهِ الْأُمَّةِ، كُلُّ مُنَافِقٍ عَلِيمِ اللِّسَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے منبر کے نیچے بیٹھا ہوا تھا اور وہ لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مجھے اپنی امت کے متعلق سب سے زیادہ خطرہ اس منافق سے ہے جو زبان دان ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 310]
الحكم: إسناده قوي