مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عُيَيْنَةُ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي ، عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَنْبَأَنَا عُيَيْنَةُ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ، فَدَخَلْتُ عَلَى سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَعَلَيَّ جُبَّةُ خَزٍّ، فَقَالَ لِي سَالِمٌ: مَا تَصْنَعُ بِهَذِهِ الثِّيَابِ؟ سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّمَا يَلْبَسُ الْحَرِيرَ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علی بن زید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ آیا، اس وقت میں نے ریشمی جبہ زیب تن کر رکھا تھا، سیدنا سالم رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ تم ان کپڑوں کا کیا کرو گے؟ میں نے اپنے والد کو سیدنا عمر رضی اللہ عنہا کے حوالے سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ریشم وہ شخص پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔“ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 345]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ابن جدعان، خ : 5835، م: 2069
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن زيد ابن جدعان، خ : 5835، م: 2069