مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَأَبُو دَاوُدَ ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عُمَرُ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . وَأَبُو دَاوُدَ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، قَالَ: صَلَّى عُمَرُ الصُّبْحَ وَهُوَ بِجَمْعٍ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: كُنَّا مَعَ عُمَرَ بِجَمْعٍ، فَقَالَ: إِنَّ الْمُشْرِكِينَ كَانُوا لَا يُفِيضُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَيَقُولُونَ: أَشْرِقْ ثَبِيرُ،" وَإِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالَفَهُمْ، فَأَفَاضَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں مزدلفہ میں فجر کی نماز پڑھائی اور فرمایا کہ مشرکین طلوع آفتاب سے پہلے واپس نہیں جاتے تھے اور کہتے تھے کہ کوہ ثبیر روشن ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا اور مزدلفہ سے منیٰ کی طرف طلوع آفتاب سے قبل ہی روانہ ہو گئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ/حدیث: 358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1684