بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 84
صفحہ 4 از 5
حدیث نمبر: 26972 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ َزِيدَ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ َزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , أَنَّ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ زَوْجَهَا , وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ كُنْتُ أَسُوسُهُ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الْخِدْمَةِ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ، فَكُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ، وَأَقُومُ عَلَيْهِ، وَأَسُوسُهُ، وَأَرْضَخُ لَهُ النَّوَى , قَالَ: ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا، أَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت زبیر سے میرا نکاح ہوا میں ان کے گھوڑے کا چارہ تیار کرتی تھی اس کی ضروریات مہیا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اسی طرح ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کو ٹتی تھی اس کا چارہ بناتی تھی، اسے پانی پلاتی تھی، ان کے ڈول کو سیتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے پاس ایک خادم بھیج دیا اور گھوڑے کی دیکھ بھال سے میں بری الذمہ ہوگئی اور ایسا لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے آزاد کردیا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
حدیث نمبر: 26973 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بر سر منبر فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26974 مسند احمد
سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، هَارُونَ بْنِ عنترة ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءُ
وَجَدْتُ فِي كِتَابِ أَبِي هَذَا الْحَدِيثَ بِخَطِّ يَدِهِ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ سَعْدَوَيْهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادٌ يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ ، عَنْ هَارُونَ بْنِ عنترة , عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: لَمَّا قَتَلَ الْحَجَّاجُ ابْنَ الزُّبَيْرِ وَصَلَبَهُ مَنْكُوسًا، فَبَيْنَا هُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، إِذْ جَاءَتْ أَسْمَاءُ ، وَمَعَهَا أَمَةٌ تَقُودُهَا، وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهَا، فَقَالَتْ: أَيْنَ أَمِيرُكُمْ؟ فَذَكَرَ قِصَّةً، فَقَالَتْ: كَذَبْتَ، وَلَكِنِّي أُحَدِّثُكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ، الْآخِرُ مِنْهُمَا أَشَرُّ مِنَ الْأَوَّلِ، وَهُوَ مُبِيرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عنترہ کہتے ہیں کہ جب حجاج بن یوسف حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرچکا ان کا جسم پھانسی سے لٹکا ہوا تھا اور حجاج منبر پر تھا کہ تو حضرت اسما آگئیں ان کے ساتھ ایک باندی تھی جو انہیں لے کر آرہی تھی کیونکہ ان کی بینائی ختم ہوچکی تھی، انہوں نے فرمایا تمہارا امیر کہاں ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور کہا تو جھوٹ بولتا ہے واللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ بنوثقیف میں سے دو کذاب آدمیوں کا خروج عنقریب ہوگا جن میں سے دوسرا پہلے کی نسبت زیادہ بڑا شر اور فتنہ ہوگا اور وہ مبیر ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26974]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح لكن بلفظ: "ان فى ثقيف كذابا و مبيرا" وهذا اسناد فيه هارون بن عنترة، وفيه كلام، وقد انفرد بسياق هذه القصة. وقوله: "منكوسا" تفرد له، وان الحجاج هو الذى دخل على اسماء
الحكم: مرفوعه صحيح لكن بلفظ: "ان فى ثقيف كذابا و مبيرا" وهذا اسناد فيه هارون بن عنترة، وفيه كلام، وقد انفرد بسياق هذه القصة. وقوله: "منكوسا" تفرد له، وان الحجاج هو الذى دخل على اسماء
حدیث نمبر: 26975 مسند احمد
يَعْمَرُ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، ابْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَعْمَرُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ مُبَارَكٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنِ ابْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ سَمِعَ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ , تَقُولُ: عِنْدِي لِلزُّبَيْرِ سَاعِدَانِ مِنْ دِيبَاجٍ، كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَاهُمَا إِيَّاهُ، يُقَاتِلُ فِيهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میرے پاس حضرت زبیر کی قمص کے دو بازو موجود ہیں جو ریشمی ہیں جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بوقت جنگ پہننے کے لئے عطا فرمائے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26975]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف تفرد به ابن لهيعة
الحكم: إسناده ضعيف تفرد به ابن لهيعة
حدیث نمبر: 26976 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، أَسْمَاءُ
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ: كَانَتْ أَسْمَاءُ تُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: قَالَ: " إِذَا دَخَلَ الْإِنْسَانُ قَبْرَهُ، فَإِنْ كَانَ مُؤْمِنًا، أَحَفَّ بِهِ عَمَلُهُ، الصَّلَاةُ وَالصِّيَامُ" , قَالَ:" فَيَأْتِيهِ الْمَلَكُ مِنْ نَحْوِ الصَّلَاةِ، فَتَرُدُّهُ، وَمِنْ نَحْوِ الصِّيَامِ، فَيَرُدُّهُ" , قَالَ:" فَيُنَادِيهِ اجْلِسْ" , قَالَ:" فَيَجْلِسُ، فَيَقُولُ لَهُ: مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: مَنْ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ , قَالَ: أَنَا أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ," قَالَ:" يَقُولُ وَمَا يُدْرِيكَ؟ أَدْرَكْتَهُ؟ قال: أَشْهَدُ أَنَّهُ رَسُولُ اللَّهِ" , قَالَ:" يَقُولُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ" , قَالَ:" وَإِنْ كَانَ فَاجِرًا، أَوْ كَافِرًا" , قَالَ:" جَاءَ الْمَلَكُ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ شَيْءٌ يَرُدُّهُ" , قَالَ:" فَأَجْلَسَهُ" , قَالَ:" يَقُولُ: اجْلِسْ، مَاذَا تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ؟ قَالَ: أَيُّ رَجُلٍ؟ قَالَ: مُحَمَّدٌ , قَالَ: يَقُولُ وَاللَّهِ مَا أَدْرِي، سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ شَيْئًا، فَقُلْتُهُ" , قَالَ:" فَيَقُولُ لَهُ الْمَلَكُ عَلَى ذَلِكَ عِشْتَ، وَعَلَيْهِ مِتَّ، وَعَلَيْهِ تُبْعَثُ" , قَالَ:" وَتُسَلَّطُ عَلَيْهِ دَابَّةٌ فِي قَبْرِهِ، مَعَهَا سَوْطٌ، تَمْرَتُهُ جَمْرَةٌ مِثْلُ غَرْبِ الْبَعِيرِ، تَضْرِبُهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، صَمَّاءُ لَا تَسْمَعُ صَوْتَهُ فَتَرْحَمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب انسان کو اس کی قبر میں داخل کردیا جاتا ہے اور وہ مؤمن ہو تو اس کے اعمال مثلا نماز، روزہ اسے گھیرے میں لے لیتے ہیں، فرشتہ عذاب نماز کی طرف سے آنا چاہتا ہے تو نماز اسے روکی دیتی ہے، روزے کی طرف سے آنا چاہے تو روزہ روک دیتا ہے، وہ اسے پکار کر بیٹھنے کے لئے کہتا ہے چنانچہ انسان بیٹھ جاتا ہے، فرشتہ اس سے پوچھتا ہے کہ تو اس آدمی یعنی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق کیا کہتا ہے؟ وہ پوچھتا ہے کون آدمی؟ فرشتہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کہتا ہے میں گواہی دیتاہوں کہ وہ اللہ کے پیغمبر ہیں، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا اور اسی پر تجھے موت آگئی اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا۔ اور اگر مردہ فاجریا کافر ہو تو جب فرشتہ اس کے پاس آتا ہے تو درمیان میں اسے واپس لوٹا دینے والی کوئی چیز نہیں ہوتی، وہ اسے بٹھاکرپوچھتا ہے کہ تو اس آدمی کے متعلق کیا کہتا ہے؟ مردہ پوچھتا ہے کون آدمی وہ کہتا ہے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، مردہ کہتا ہے کہ واللہ میں کچھ نہیں جانتا، میں لوگوں کو جو کہتے ہوئے سنتا تھا، وہی کہہ دیتا تھا، فرشتہ کہتا ہے کہ تو اسی پر زندہ رہا، اسی پر مرا اور اسی پر تجھے اٹھایا جائے گا، پھر اس پر قبر میں ایک جانور کو مسلط کردیا جاتا ہے اس کے پاس ایک کوڑا ہوتا ہے جس کے سرے پر چنگاری ہوتی ہے جیسے اونٹ کی نوک ہو جب تک اللہ کو منظور ہوگا وہ اسے مارتا رہے گا، وہ جانور بہرا ہے جو آواز سن ہی نہیں سکتا کہ اس پر رحم کھالے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26976]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، لم يذكر سماع محمد بن المنكدر من اسماء، وهو قد ادركها
الحكم: رجاله ثقات، لم يذكر سماع محمد بن المنكدر من اسماء، وهو قد ادركها
حدیث نمبر: 26977 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةُ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي ضَرَّةً، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ إِنْ تَشَبَّعْتُ مِنْ زَوْجِي بِغَيْرِ الَّذِي يُعْطِينِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُتَشَبِّعُ بِمَا لَمْ يُعْطَهُ، كَلَابِسِ ثَوْبَيْ زُورٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ میری ایک سوکن ہے اگر مجھے میرے خاوند نے کوئی چیز نہ دی ہو لیکن میں یہ ظاہر کروں کہ اس نے مجھے فلاں چیز سے سیراب کردیا ہے، تو کیا اس میں مجھ پر کوئی گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے آپ کو ایسی چیز سے سیراب ہونیوالا ظاہر کرنا جو اسے نہیں ملی وہ ایسے ہے جیسے جھوٹ کے دو کپڑے پہننے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26977]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5219، م: 2130
الحكم: صحيح، خ: 5219، م: 2130
حدیث نمبر: 26978 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: " أَكَلْنَا فَرَسًا لَنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26978]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26979 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ بِنْتُ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَتْ: لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , إِنّ لِي بُنَيَّةً عَرِيسًا وَإِنَّهُ تَمَرَّقَ شَعَرُهَا، فَهَلْ عَلَيَّ مِنْ جُنَاحٍ إِنْ وَصَلْتُ رَأْسَهَا؟ وَقَالَ وَكِيعٌ: تَمَرَّطَ شَعْرُهَا , قَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2122
الحكم: إسناده صحيح، م: 2122
حدیث نمبر: 26980 مسند احمد
يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، أَفَأَرْضَخُ مِنْهُ؟ قَالَ: " ارْضَخِي، وَلَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
حدیث نمبر: 26981 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةُ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ , ح وَأَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنِي هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبُهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ؟ قَالَ: " تَحُتُّهُ، ثُمَّ لِتَقْرِضْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ تَنْضَحْهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھرچ دے، پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 307، م: 291
الحكم: إسناده صحيح، خ: 307، م: 291
حدیث نمبر: 26982 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، أَبِي عُمَرَ ، أَسْمَاءُ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُغِيرَةُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ أَسْمَاءُ : يَا جَارِيَةُ، نَاوِلِينِي جُبَّةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخْرَجَتْ جُبَّةً مِنْ طَيَالِسَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کردکھایا اور بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26982]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26983 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامٌ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ أَوْ مِنْ لَحْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26984 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ , وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَرْدٍ رَجُلَانِ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ , سَمِعَاهُ مِنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا سَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَنَّ الزُّبَيْرِ رَجُلٌ شَدِيدٌ، يَأْتِينِي الْمِسْكِينُ، فَأَتَصَدَّقُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْتِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " ارْضَخِي، وَلَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیرگھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26984]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26985 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26985]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1433، م: 1029، وهذا اسناد اختلف فيه على اسامة بن زيد
الحكم: حديث صحيح، خ: 1433، م: 1029، وهذا اسناد اختلف فيه على اسامة بن زيد
حدیث نمبر: 26986 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، حَجَّاجٍ ، أَبِي عُمَرَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ لَهُ: " جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ مَكْفُوفَةٍ بِالدِّيبَاجِ، يَلْقَى فِيهَا الْعَدُوَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں کف ریشم کے بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26986]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون ذكر لقاء رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم بهذه الجبة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
الحكم: حديث صحيح دون ذكر لقاء رسول الله ﷺ بهذه الجبة ، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 26987 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ عَلَى بَيْتِي، فَأُعْطِي مِنْهُ؟ قَالَ: " أَعْطِي، وَلَا تُوكِي، فَيُوكِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26987]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26988 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَنَّ عَبَّادَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26988]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
حدیث نمبر: 26989 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، مَوْلَى أَسْمَاءَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ مَوْلَى أَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ كِسْرَوَانِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26989]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالملك بن أبى سليمان
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى هذا الإسناد على عبدالملك بن أبى سليمان
حدیث نمبر: 26990 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا: " أَنْفِقِي أَوْ انْضَحِي , وَلَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، أَوْ لَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
حدیث نمبر: 26991 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَتْ مُحْصِيَةً. ح وَعَنِ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " أَنْفِقِي أَوْ انْضَخِي، أَوْ انْفَحِي هَكَذَا وَهَكَذَا، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِي اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029