بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 84
صفحہ 3 از 5
حدیث نمبر: 26952 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَأَحْلَلْنَا كُلَّ الْإِحْلَالِ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26952]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26953 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، سُعْدَى بِنْتَ عَوْفٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَدَّتِهِ فَمَا أَدْرِي أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ أَوْ سُعْدَى بِنْتَ عَوْفٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى ضُبَاعَةَ بْنتِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، فَقَالَ: " مَا يَمْنَعُكَ مِنَ الْحَجِّ يَا عَمَّةُ؟" , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي امْرَأَةٌ سَقِيمَةٌ، وَإِنِّي أَخَافُ الْحَبْسَ , قَالَ:" فَأَحْرِمِي، وَاشْتَرِطِي أَنَّ مَحِلَّكِ حَيْثُ حُبِسْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ ضباعہ بنت زبیربن عبد المطلب کے پاس آئے، وہ بیمار تھیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم اس سفر میں ہمارے ساتھ نہیں چلو گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارادہ حجۃ الوداع کا تھا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ میں بیمار ہوں مجھے خطرہ ہے کہ میری بیماری آپ کو روک نہ دے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم حج کا احرام باندھ لو اور یہ نیت کرلو کہ اے اللہ! جہاں تو مجھے روک دے گا، وہی جگہ میرے احرام کھل جانے کی ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26953]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أبى بكر بن عبدالله
حدیث نمبر: 26954 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حُدِّثْتُ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا قَالَتْ:" فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي قَائِمَةً، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، فَقُلْتُ: إِنِّي أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْكِ" , وقَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَزِعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہوگئے اور اپنی قمیص لے کر اس پر چادر اوڑھی اور لوگوں کو لے کر طویل قیام کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران قیام اور رکوع کرتے رہے میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بڑی عمر کی تھی لیکن وہ کھڑی تھی، پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی لیکن پھر بھی کھڑی تھی یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ تم سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقدار تو میں ہوں [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 906
الحكم: إسناده صحيح، م: 906
حدیث نمبر: 26955 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ " يَقْرَأُ، وَهُوَ يُصَلِّي نَحْوَ الرُّكْنِ قَبْلَ أَنْ يَصْدَعَ بِمَا يُؤْمَرُ، وَالْمُشْرِكُونَ يَسْتَمِعُونَ فَبِأَيِّ آلاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ سورة الرحمن آية 13" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک دن میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حجر اسود کے سامنے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا یہ اس وقت کی بات ہے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اہل مشرکین کے سامنے دعوت پیش کرنے کا حکم نہیں ہوا تھا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس نماز میں جبکہ مشرکین بھی سن رہے تھے،، یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا فبای آلاء ربکما تکذبن۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26955]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، تفرد به يحيي بن إسحاق
الحكم: إسناده ضعيف، تفرد به يحيي بن إسحاق
حدیث نمبر: 26956 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذِي طُوًى، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ أَيْ بُنَيَّةُ: اظْهَرِي بِي عَلَى أَبِي قَبِيسٍ , قَالَتْ: وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ , قَالَتْ: فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ، فَقَالَ: يَا بُنَيَّةُ، مَاذَا تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا، قَالَ: تِلْكَ الْخَيْلُ، قَالَتْ: وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا، قَالَ: يَا بُنَيَّةُ، ذَلِكَ الْوَازِعُ يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا، ثُمَّ قَالَتْ: قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ، فَقَالَ: قَدْ وَاللَّهِ إِذَا دَفَعَتْ الْخَيْلُ، فَأَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي، فَانْحَطَّتْ بِهِ، وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ لَهَا مِنْ وَرِقٍ، فَتَلَقَّاها رَّجُلُ، فَاقْتَلَعَهُ مِنْ عُنُقِهَا , قَالَتْ: فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ، يَعُودُهُ فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ أَنْتَ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ:" أَسْلِمْ" , فَأَسْلَمَ، وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَأْسُهُ كَأَنَّهُ ثَغَامَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ" , ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ، فَقَالَ: أَنْشُدُ بِاللَّهِ وَبِالْإِسْلَامِ طَوْقَ أُخْتِي، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ، فَقَالَ: يَا أُخَيَّةُ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقم ذی طوی پر پہنچ کر رکے تو ابوقحافہ نے اپنے چھوٹے بیٹے کی لڑکی سے کہا بیٹی! مجھے ابوقبیس پر لے کر چڑھو! اس وقت تک ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ انہیں اس پہاڑ پر لے کر چڑھ گئی تو ابوقحافہ نے پوچھا بیٹی! تمہیں کیا نظر آرہا ہے؟ اس نے کہا کہ ایک بہت بڑا لشکر جو اکٹھا ہو کر آیا ہوا ہے ابوقحافہ نے کہا کہ وہ گھڑ سوار لوگ ہیں ان کی پوتی کا کہنا ہے کہ میں نے اس لشکر کے آگے آگے ایک آدمی کو دوڑتے ہوئے دیکھا جو کبھی آگے آجاتا تھا اور کبھی پیچھے ابوقحافہ نے بتایا کہ وہ واضح ہوگیا یعنی وہ آدمی جو شہسواروں کو حکم دیتا اور ان سے آگے رہتا ہے، وہ کہتی ہے کہ پھر وہ لشکرپھیلنا شروع ہوگیا، اس پر ابوقحافہ نے کہا واللہ پھر تو گھڑ سوار لوگ روانہ ہوگئے ہیں، تم مجھے جلدی سے گھرلے چلو، وہ انہیں لے کرنیچے اترنے لگی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے گھرتک پہنچتے لشکر وہاں تک پہنچ چکا تھا، اس بچی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا جو ایک آدمی نے اس کی گردن میں سے اتار لیا۔ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے اور مسجد میں تشریف لے گئے تو حضرت صدیق اکبر بارگاہ نبوت میں اپنے والد کو لے کر حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ دیکھ کر فرمایا آپ انہیں گھر میں ہی رہنے دیتے، میں خود ہی وہاں چلا جاتا، حضرت صدیق اکبر نے عرض کیا یا رسول اللہ! یہ ان کا زیادہ حق بنتا ہے کہ یہ آپ کے پاس چل کر آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ ان کے پاس تشریف لے جائیں پھر انہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے بٹھادیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیر کر انہیں قبول اسلام کی دعوت دی چنانچہ وہ مسلمان ہوگئے، جس وقت حضرت ابوبکر انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے تو ان کا سر ثغامہ نامی بوٹی کی طرح (سفید) ہوچکا تھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان کے بالوں کو رنگ کردو پھر حضرت صدیق اکبر کھڑے ہوئے اور اپنی بہن کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر کہتاہوں کہ میری بہن کا ہار واپس لوٹا دو، لیکن کسی نے اس کا جواب نہ دیا، تو حضرت صدیق اکبرنے فرمایا پیاری بہن اپنے ہار پر ثواب کی امید رکھو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26956]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26957 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، أَبِي ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَبَاهُ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ، عَنْ جَدَّتِهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَرَجَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، احْتَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَالَهُ كُلَّهُ مَعَهُ خَمْسَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ، أَوْ سِتَّةَ آلَافِ دِرْهَمٍ , قَالَتْ: وَانْطَلَقَ بِهَا مَعَهُ , قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، قَالَتْ: قُلْتُ كَلَّا يَا أَبَتِ، إِنَّهُ قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا , قَالَتْ: فَأَخَذْتُ أَحْجَارًا، فَتَرَكْتُهَا فَوَضَعْتُهَا فِي كُوَّةِ الْبَيْتِ، كَانَ أَبِي يَضَعُ فِيهَا مَالَهُ، ثُمَّ وَضَعْتُ عَلَيْهَا ثَوْبًا، ثُمَّ أَخَذْتُ بِيَدِهِ، فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ، ضَعْ يَدَكَ عَلَى هَذَا الْمَالِ , قَالَتْ: فَوَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهِ، فَقَالَ: لَا بَأْسَ، إِنْ كَانَ قَدْ تَرَكَ لَكُمْ هَذَا، فَقَدْ أَحْسَنَ، وَفِي هَذَا لَكُمْ بَلَاغٌ , قَالَتْ: لَا , وَاللَّهِ مَا تَرَكَ لَنَا شَيْئًا، وَلَكِنِّي قَدْ أَرَدْتُ أَنْ أُسْكِنَ الشَّيْخَ بِذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ہمراہ حضرت صدیق اکبر بھی مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت صدیق اکبر نے اپنا سارا مال جو پانچ چھ ہزار درہم بنتا تھا بھی ساتھ لے لیا اور روانہ ہوگئے تھوڑی دیر بعد ہمارے دادا ابوقحافہ آگئے، ان کی بینائی زائل ہوچکی تھی، وہ کہنے لگے میرا خیال ہے کہ وہ اپنے ساتھ ہی اپنا سارا مال بھی لے گیا ہے، میں نے کہا ابا جان! نہیں وہ تو ہمارے لئے بہت سا مال چھوڑ گئے ہیں یہ کہہ کر میں نے کچھ پتھر لئے اور انہیں گھر کے ایک طاقچے میں جہاں میرے والد اپنا مال رکھتے تھے، رکھ دیا اور ان پر ایک کپڑا ڈھانپ لیا پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر کہا ابا جان! اس مال پر اپنا ہاتھ رکھ کر دیکھ لیجئے! انہوں نے اس پر ہاتھ پھیر کر کہا کہ اگر وہ تمہارے لئے یہ چھوڑ گیا ہے تو کوئی حرج نہیں اور اس نے بہت اچھا کیا اور تم اس سے اپنی ضروریات کی تکمیل کرسکو گے، حالانکہ والد صاحب کچھ بھی چھوڑ کر نہیں گئے تھے، میں نے اس طریقے سے صرف بزرگوں کو اطمینان دلانا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26957]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26958 مسند احمد
حَسَنٌ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ، غَطَّتْهُ شَيْئًا حَتَّى يَذْهَبَ فَوْرُهُ، ثُمَّ تَقُولُ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء کے حوالے سے مروی ہے کہ جب وہ کھانا بناتی تھیں تو کچھ دیر کے لئے اسے ڈھانپ دیتی تھیں تاکہ اس کی حرارت کی شدت کم ہوجائے اور فرماتی تھیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اس سے کھانے میں خوب برکت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26958]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية حسن عن ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، لكنه توبع، وقد توبع ابن لهيعة ايضاً
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف، رواية حسن عن ابن لهيعة بعد احتراق كتبه ، لكنه توبع، وقد توبع ابن لهيعة ايضاً
حدیث نمبر: 26959 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلٍ ، عَتَّابٌ ، عَبْدُ اللَّهِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، حَدَّثَنَا عَتَّابٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ: أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا كَانَتْ إِذَا ثَرَدَتْ، غَطَّتْهُ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26959]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26960 مسند احمد
يُونُسُ ، عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْقَطَّانُ بَصْرِيٌّ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي زَوَّجْتُ ابْنَتِي، فَمَرِضَتْ، فَتَمَرَّطَ رَأْسُهَا، وَإِنَّ زَوْجَهَا قَدْ اخْتَلَفَ إِلَيَّ، أَفَأَصِلُ رَأْسَهَا؟ قَالَتْ: " فَسَبَّ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سرکے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26960]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5935، م: 2122، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 5935، م: 2122، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 26961 مسند احمد
يُونُسُ ، عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنِ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ، فَقَالَتْ: فَقَالَ لَنَا: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہو اسے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26961]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1236، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 1236، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عمران بن يزيد، وقد توبع
حدیث نمبر: 26962 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ ، عُبَادَةَ بْنَ الْمُهَاجِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَادَةَ بْنَ الْمُهَاجِرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْعَبَّاسِ , يَقُولُ لِابْنِ الزُّبَيْرِ: أَلَا تَسْأَلُ أُمَّكَ؟ قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَى أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، فَقَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَتَّى إِذَا كُنَّا بِذِي الْحُلَيْفَةِ، قَالَ: " مَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِالْحَجِّ، فَلْيُهِلَّ، وَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ، فَلْيُهِلَّ" , قَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكُنْتُ أَنَا وَعَائِشَةُ وَالْمِقْدَادُ وَالزُّبَيْرُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہوا سے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے، حضرت اسماء کہتی ہیں کہ میں اور عائشہ مقداد اور زبیر عمرہ کا احرام باندھنے والوں میں سے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26962]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث أسماء لجهالة عبادة بن المهاجر، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد خولف
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة من حديث أسماء لجهالة عبادة بن المهاجر، وابن لهيعة سيئ الحفظ، وقد خولف
حدیث نمبر: 26963 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا نَافِعٌ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكُسُوفِ , قَالَتْ: فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ قَامَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَأَطَالَ الْقَيَّامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ، فَأَطَالَ السُّجُودَ، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَقَالَ: " دَنَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ اجْتَرَأْتُ، لَجِئْتُكُمْ بِقِطَافٍ مِنْ قِطَافِهَا، وَدَنَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ: يَا رَبُّ، وَأَنَا مَعَهُمْ؟ وَإِذَا امْرَأَةٌ قَالَ نَافِعٌ: حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ تَخْدِشُهَا هِرَّةٌ , قُلْتُ: مَا شَأْنُ هَذِهِ؟ قِيلَ لِي: حَبَسَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَلَا هِيَ أَرْسَلَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ سوج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو نماز پڑھائی اس میں طویل قیام فرمایا: پھر رکوع کیا اور وہ بھی طویل کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام فرمایا: پھر دوسری مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا، پھر کھڑے ہو کر طویل قیام فرمایا پھر دو مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھالیا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر دوسرا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ دوران نماز جنت میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ اگر میں ہاتھ بڑھاتا تو اس کا کوئی خوشہ توڑ لاتا، پھر جہنم کو اتنا قریب کردیا گیا کہ میں کہنے لگا پروردگار! کیا میں بھی ان میں ہوں؟ میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسی حال میں یہ بلی مرگئی تھی، اس نے اسے خود ہی کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26964 مسند احمد
وَكِيعٌ ، نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ فَصَلَّى، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، ثُمَّ رَفَعَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الثَّانِيَةِ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: " لَقَدْ أُدْنِيَتْ مِنِّي الْجَنَّةُ حَتَّى لَوْ اجْتَرَأْتُ عَلَيْهَا، لَأَتَيْتُكُمْ بِقِطْفٍ مِنْ أَقْطَافِهَا، وَلَقَدْ أُدْنِيَتْ مِنِّي النَّارُ حَتَّى قُلْتُ: يَا رَبُّ، وَأَنَا مَعَهُمْ؟ فَرَأَيْتُ فِيهَا هِرَّةً قَالَ: حَسِبْتُ أَنَّهَا تَخْدِشُ امْرَأَةً حَبَسَتْهَا، فَلَمْ تُطْعِمْهَا، وَلَمْ تَدَعْهَا تَأْكُلُ مِنْ خِشَاشِ الْأَرْضِ حَتَّى مَاتَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ سوج گرہن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو نماز پڑھائی اس میں طویل قیام فرمایا: پھر رکوع کیا اور وہ بھی طویل کیا، پھر سر اٹھا کر طویل قیام فرمایا: پھر دوسری مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا، پھر کھڑے ہو کر طویل قیام فرمایا پھر دو مرتبہ طویل رکوع کیا، پھر سر اٹھالیا اور سجدے میں چلے گئے اور طویل سجدہ کیا پھر سر اٹھا کر دوسرا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہو کر فرمایا کہ دوران نماز جنت میرے اتنے قریب کردی گئی تھی کہ اگر میں ہاتھ بڑھاتا تو اس کا کوئی خوشہ توڑ لاتا، پھر جہنم کو اتنا قریب کردیا گیا کہ میں کہنے لگا پروردگار! کیا میں بھی ان میں ہوں؟ میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جسے ایک بلی نوچ رہی تھی، میں نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ تو مجھے بتایا گیا کہ اس عورت نے اس بلی کو باندھ دیا تھا اور اسی حال میں یہ بلی مرگئی تھی، اس نے اسے خود ہی کچھ کھلایا اور نہ ہی اسے چھوڑا کہ خود ہی زمین کے کیڑے مکوڑے کھا لیتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26964]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 745، غير أن قولها: فأطال القيام، ثم سجد سجدتين لم يرد فى طرق حديث أسماء، وهذا من حديث جابر عند مسلم
الحكم: إسناده صحيح، خ: 745، غير أن قولها: فأطال القيام، ثم سجد سجدتين لم يرد فى طرق حديث أسماء، وهذا من حديث جابر عند مسلم
حدیث نمبر: 26965 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ وَهِيَ أُمُّهُ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: خَرَجْنَا مُحْرِمِينَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيُتِمَّ وَقَالَ رَوْحٌ: فَلْيَقُمْ عَلَى إِحْرَامِهِ , وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ، فَلْيَحْلِلْ" , قَالَتْ: فَلَمْ يَكُنْ مَعِي هَدْيٌ، فَحَلَلْتُ، وَكَانَ مَعَ الزُّبَيْرِ زَوْجِهَا هَدْيٌ فَلَمْ يَحِلَّ، قَالَتْ: فَلَبِسْتُ ثِيَابِي وَحَلَلْتُ، فَجِئْتُ إِلَى الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: قُومِي عَنِّي , قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَتَخْشَى أَنْ أَثِبَ عَلَيْكَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ حج کا احرام باندھ کر روانہ ہوئے، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے فرمایا جس شخص کے ساتھ ہدی کا جانور ہوا سے اپنا احرام باقی رکھنا چاہئے اور جس کے ساتھ ہدی کا جانور نہ ہو اسے احرام کھول لینا چاہئے، میرے ساتھ چونکہ ہدی کا جانور نہیں تھا، لہذا میں حلال ہوگئی اور میرے شوہر حضرت زبیر کے پاس ہدی کا جانور تھا لہذا وہ حلال نہیں ہوئے، میں اپنے کپڑے پہن کر اور احرام کھول کر حضرت زبیر کے پاس آئی تو وہ کہنے لگے کہ میرے پاس سے اٹھ جاؤ میں نے کہا کیا آپ کو اندیشہ ہے کہ میں آپ پر کو دوں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1236
الحكم: إسناده صحيح، م: 1236
حدیث نمبر: 26966 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، وَرَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ وَرَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ لَيْلَةَ جَمْعٍ , قُلْتُ: لَا , ثُمَّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا , فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّى رَمَتْ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: لَقَدْ غَلَّسْنَا قَالَ رَوْحٌ: أَيْ هَنْتَاهُ , قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَذِنَ لِلظُّعُنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہی سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء دار مزدلفہ کے قریب پڑاؤ کیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا چاند غروب ہوگیا یہ مزدلفہ کی رات تھی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا ابھی نہیں وہ کچھ دیرتک مزید نماز پڑھتی رہیں پھر پوچھا بیٹاچاند چھپ گیا؟ اس وقت تک چاند غائب ہوچکا تھا لہذا میں نے کہہ دیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا پھر کوچ کرو چنانچہ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ کی رمی کی اور اپنے خیمے میں پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو منہ اندھیرے ہی مزدلفہ سے نکل آئے، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بیٹے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواتین کو جلدی چلے جانے کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
حدیث نمبر: 26967 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَوْفٌ ، أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ النَّاجِيِّ ، أَنَّ الْحَجَّاجَ بْنَ يُوسُفَ دَخَلَ عَلَى أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بَعْدَمَا قُتِلَ ابْنُهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنَكِ أَلْحَدَ فِي هَذَا الْبَيْتِ، وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَذَاقَهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ، وَفَعَلَ بِهِ مَا فَعَلَ، فَقَالَتْ: كَذَبْتَ، كَانَ بَرًّا بِالْوَالِدَيْنِ، صَوَّامًا قَوَّامًا، وَاللَّهِ لَقَدْ أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ": أَنَّهُ سَيَخْرُجُ مِنْ ثَقِيفٍ كَذَّابَانِ، الْآخِرُ مِنْهُمَا شَرٌّ مِنَ الْأَوَّلِ، وَهُوَ مُبِيرٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الصدیق ناجی کہتے ہیں کہ حجاج بن یوسف حضرت عبداللہ بن زبیر کو شہید کرچکا تو حضرت اسماء کے پاس آکر کہنے لگا کہ آپ کے بیٹے نے حرم شریف میں کجی کی راہ اختیار کی تھی، اس لئے اللہ نے اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھا دیا اور اس کے ساتھ جو کرنا تھا سو کرلیا، انہوں نے فرمایا تو جھوٹ بولتا ہے، وہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنیوالا تھا، صائم النہار اور قائم اللیل تھا، واللہ ہمیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پہلے ہی بتا چکے ہیں کہ بنوثقیف میں سے دو کذاب آدمیوں خروج عنقریب ہوگا، جن میں سے دوسرا پہلے کی نبست زیادہ بڑا شر اور فتنہ ہوگا اور وہ مبیر ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26967]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26968 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أنها قَالَتْ: فَزِعَ يَوْمَ كَسَفَتْ الشَّمْسُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أَدْرَكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ بِالنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ، فَلَوْ جَاءَ إِنْسَانٌ بَعْدَمَا رَكَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , لَمْ يَعْلَمْ أَنَّهُ رَكَعَ، مَا حَدَّثَ نَفْسَهُ أَنَّهُ رَكَعَ، مِنْ طُولِ الْقِيَامِ , قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَكْبَرُ مِنِّي، وَإِلَى الْمَرْأَةِ الَّتِي هِيَ أَسْقَمُ مِنِّي قَائِمَةً، وَأَنَا أَحَقُّ أَنْ أَصْبِرَ عَلَى طُولِ الْقِيَامِ مِنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس دن سورج گرہن ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بےچین ہوگئے اور اپنی قمیص لے کر اس پر چادر اوڑھی اور لوگوں کو لے کر طویل قیام کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس دوران قیام اور رکوع کرتے رہے میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بڑی عمر کی تھی لیکن وہ کھڑی تھی، پھر میں نے ایک عورت کو دیکھا جو مجھ سے زیادہ بیمار تھی لیکن پھر بھی کھڑی تھی، یہ دیکھ کر میں نے سوچا کہ تم سے زیادہ ثابت قدمی کے ساتھ کھڑے ہونے کی حقدار تو میں ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26968]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 906
الحكم: إسناده صحيح، م: 906
حدیث نمبر: 26969 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ ، وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، أَسْمَاءَ ، يُونُسُ ، أَبَانَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ , وَأَبَانُ بْنُ يَزِيدَ كلاهما , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ أَسْمَاءَ أَخْبَرَتْهُ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ , يَقُولُ: :" إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" , وَقَالَ يُونُسُ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ أَبَانَ :" لَا شَيْءَ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26970 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُحْصِي شَيْئًا وَأَكِيلُهُ، قَالَ:" يَا أَسْمَاءُ , لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" , قَالَتْ: فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي، وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ، وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا أَخْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس وقت میں کچھ گن رہی تھی اور اسے ناپ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اسماء گن گن کر نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد میں نے اپنے پاس سے کچھ جانیوالے کو یا آنے والے کو کبھی شمار نہیں کیا اور جب بھی میرے پاس اللہ کا کوئی زرق ختم ہوا، اللہ نے اس کا بدل مجھے عطاء فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26970]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 26971 مسند احمد
هَاشِمٌ ، أَبِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي شَيْبَانَ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي مُعَاوِيَةُ يَعْنِي شَيْبَانَ , عَنْ يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: " مَا مِنْ شَيْءٍ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762