أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَهْبُ بْنُ كَيْسَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أُحْصِي شَيْئًا وَأَكِيلُهُ، قَالَ:" يَا أَسْمَاءُ , لَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" , قَالَتْ: فَمَا أَحْصَيْتُ شَيْئًا بَعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِي، وَلَا دَخَلَ عَلَيَّ، وَمَا نَفِدَ عِنْدِي مِنْ رِزْقِ اللَّهِ إِلَّا أَخْلَفَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس سے گزرے اس وقت میں کچھ گن رہی تھی اور اسے ناپ رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے اسماء گن گن کر نہ رکھ ورنہ اللہ بھی تمہیں گن گن کردے گا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد میں نے اپنے پاس سے کچھ جانیوالے کو یا آنے والے کو کبھی شمار نہیں کیا اور جب بھی میرے پاس اللہ کا کوئی زرق ختم ہوا، اللہ نے اس کا بدل مجھے عطاء فرمادیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26970]
الحكم: إسناده حسن