عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ:" حَجَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَنَا، فَجَعَلْنَاهَا عُمْرَةً، فَأَحْلَلْنَا كُلَّ الْإِحْلَالِ، حَتَّى سَطَعَتْ الْمَجَامِرُ بَيْنَ النِّسَاءِ وَالرِّجَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج کے ارادے سے نکلے تھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا تو ہم نے اسے عمرے کا احرام بنا لیا اور ہمارے لئے تمام چیزیں حسب سابق حلال ہوگئیں حتی کہ عورتوں اور مردوں کے درمیان انگیٹھیاں بھی دہکائی گئیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26952]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد