بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 84
صفحہ 2 از 5
حدیث نمبر: 26932 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةُ ، أَسْمَاءَ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي فَاطِمَةُ ، عَنْ أَسْمَاءَ . ح وَأَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِحْدَانَا يُصِيبُ ثَوْبَهَا مِنْ دَمِ الْحَيْضَةِ؟ قَالَت: " َحُتُّهُ ثُمَّ لِتَقْرُصْهُ بِالْمَاءِ، ثُمَّ لِتَنْضَحْهُ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک عورت بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ اگر کسی عورت کے جسم (یاکپڑوں) پر دم حیض لگ جائے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے کھرچ دے پھر پانی سے بہادے اور اسی میں نماز پڑھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 227، م: 291
الحكم: إسناده صحيح، خ: 227، م: 291
حدیث نمبر: 26933 مسند احمد
وَكِيعٌ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " نَحَرْنَا فَرَسًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَكَلْنَا لَحْمَهُ، أَوْ مِنْ لَحْمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ دور نبوت میں ایک مرتبہ ہم لوگوں نے ایک گھوڑا ذبح کیا تھا اور اسے کھایا بھی تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5510، م: 1942
حدیث نمبر: 26934 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٍ ، فَاطِمَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " أَنْفِقِي أَوْ ارْضَخِي وَلَا تُحْصِي، فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ، وَلَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2591، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2591، م: 1029
حدیث نمبر: 26935 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، وَكَانَتْ مُحْصِيَةً. ح وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " أَنْفِقِي أَوْ انْضَخِي، أَوْ انْفَحِي هَكَذَا وَهَكَذَا، وَلَا تُوعِي، فَيُوعَى عَلَيْكِ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا سخاوت اور فیاضی کیا کرو اور خرچ کیا کرو جمع مت کیا کرو ورنہ اللہ بھی تم پر جمع کرنے لگے گا اور گن گن کر نہ خرچ کیا کرو کہ تمہیں بھی اللہ گن گن کر دینا شروع کردے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1433، م: 1029
حدیث نمبر: 26936 مسند احمد
عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَتَّابُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " كُنَّا نُؤَدِّي زَكَاةَ الْفِطْرِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُدَّيْنِ مِنْ قَمْحٍ، بِالْمُدِّ الَّذِي تَقْتَاتُونَ بِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں گندم کے دو مد صدقہ فطر کے طور پر ادا کرتے تھے اس مد کی پیمائش کے مطابق جس سے تم پیمائش کرتے ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26936]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26937 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ، وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ، وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ , قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ، وَأَكْفِيهِ مَئُونَتَهُ، وَأَسُوسُهُ، وَأَدُقُّ النَّوَى لِنَاضِحِهِ، أَعْلِبُ، وَأَسْتَقِي الْمَاءَ، وَأَخْرُزُ غَرْبَهُ، وَأَعْجِنُ، وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ، فَكَانَ يَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، وَكُنْتُ أَنْقُلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي، وَهِيَ مِنِّي عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ , قَالَتْ: فَجِئْتُ يَوْمًا وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَدَعَانِي , ثُمَّ قَالَ:" إِخْ إِخْ"، لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ , قَالَتْ: فَاسْتَحَيْتُ أَنْ أَسِيرَ مَعَ الرِّجَالِ، وَذَكَرْتُ الزُّبَيْرَ وَغَيْرَتَهُ، قَالَتْ: وَكَانَ أَغْيَرَ النَّاسِ، فَعَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِّي قَدْ اسْتَحَيْتُ، فَمَضَى، وَجِئْتُ الزُّبَيْرَ، فَقُلْتُ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى رَأْسِي النَّوَى، وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ، فَأَنَاخَ لِأَرْكَبَ مَعَهُ، فَاسْتَحَيْتُ، وَعَرَفْتُ غَيْرَتَكَ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَحَمْلُكِ النَّوَى أَشَدُّ عَلَيَّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ , قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلَيَّ أَبُو بَكْرٍ بَعْدَ ذَلِكَ بِخَادِمٍ، فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت زبیر سے میرا نکاح ہوا روئے زمین پر ان کے گھوڑے کے علاوہ کوئی مال یا غلام یا کوئی اور چیز ان کی ملکیت میں نہ تھی میں ان کے گھوڑے کا چارہ تیار کرتی تھی اس کی ضروریات مہیا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اسی طرح ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کو ٹتی تھی اس کا چارہ بناتی تھی، اسے پانی پلاتی تھی، ان کے ڈول کو سیتی تھی، آٹاگوندھتی تھی، میں روٹی اچھی طرح نہیں پکا سکتی تھی، اس لئے میری کچھ انصاری پڑوسی خواتین مجھے روٹی پکا دیتی تھیں، وہ سچی سہیلیاں تھیں، یاد رہے کہ میں گٹھلیاں حضرت زبیر کی اس زمین سے لایا کرتی تھی جو بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بطور جاگیر کے دیدی تھی، میں نے انہیں اپنے سر پر رکھا ہوتا تھا اور وہ زمین ہمارے گھر سے ایک فرسخ کے دوتہائی کے قریب بنتی تھی۔ ایک دن میں وہاں سے آرہی تھی اور گٹھلیوں کی گٹھڑی میرے سر پر تھی کہ راستے میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کچھ صحابہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے پکارا اور مجھے اپنے پیچھے سوار کرنے کے لئے اونٹ کو بٹھانے لگے لیکن مجھے مردوں کے ساتھ جاتے ہوئے شرم آئی اور مجھے زبیر اور ان کی غیرت یاد آگئی کیونکہ وہ بڑے باغیرت آدمی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ بھانپ گئے کہ مجھے شرم آرہی ہے لہذا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے چل پڑے، میں گھر پہنچی تو زبیر سے ذکر کیا کہ آج مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ملے تھے، میرے سر پر کھجوروں کی گٹھلیاں تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کچھ صحابہ بھی تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اونٹ کو بٹھایا تاکہ میں اس پر سوار ہوجاؤں لیکن مجھے حیاء آئی اور آپ کی غیرت کا بھی خیال آیا، انہوں نے فرمایا واللہ تمہارا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے کی نسبت گٹھلیاں لاد کر لانا مجھ پر اس سے زیادہ شاق گزرتا ہے بالآخر حضرت صدیق اکبر نے اس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے پاس ایک خادم بھیج دیا اور گھوڑے کی دیکھ بھال سے میں بری الذمہ ہوگئی اور ایسا لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے آزاد کردیا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
حدیث نمبر: 26938 مسند احمد
أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّهَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ بِمَكَّةَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَاءَ، فَوَلَدْتُهُ بِقُبَاءَ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَوَضَعْتُهُ فِي حِجْرِهِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَةٍ، فَمَضَغَهَا، ثُمَّ تَفَلَ فِي فِيهِ، فَكَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِي جَوْفِهِ رِيقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ، ثُمَّ دَعَا لَهُ، وَبَرَّكَ عَلَيْهِ، وَكَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِي الْإِسْلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ انہیں مکہ مکرمہ میں عبداللہ بن زبیر کی ولادت کی امید ہوگئی تھی، وہ کہتی ہیں کہ جب میں مکہ مکرمہ سے نکلی تو پورے دنوں سے تھی، مدینہ منورہ پہنچ کر میں نے قباء میں قیام کیا تو وہیں عبداللہ کو جنم دیا، پھر انہیں لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان کی گود میں انہیں ڈال دیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کھجور منگوا کر اسے چبایا اور اپنا لعاب ان کے منہ میں ڈال دیا اس طرح ان کے پیٹ میں سب سے پہلے جو چیز داخل ہوئی وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لعاب دہن تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کھجور سے گھٹی دی اور ان کے لئے برکت کی دعاء فرمائی اور یہ پہلا بچہ تھا جو مدینہ منورہ میں مسلمانوں کے یہاں پیدا ہوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26938]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3909، م: 2146
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3909، م: 2146
حدیث نمبر: 26939 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ الثَّقَفِيَّ ، هِشَامٌ ، أَبِي ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَقِيلٍ الثَّقَفِيَّ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي فِي مُدَّةِ قُرَيْشٍ مُشْرِكَةً، وَهِيَ رَاغِبَةٌ يَعْنِي مُحْتَاجَةٌ فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ عَلَيَّ وَهِيَ مُشْرِكَةٌ رَاغِبَةٌ أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: " صِلِي أُمَّكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک اور ضرورت مند تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں، اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26939]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
حدیث نمبر: 26940 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَدِمَتْ عَلَيَّ أُمِّي وَهِيَ مُشْرِكَةٌ فِي عَهْدِ قُرَيْشٍ إِذْ عَاهَدُوا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمِّي قَدِمَتْ وَهِيَ رَاغِبَةٌ، أَفَأَصِلُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ، صِلِي أُمَّكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ قریش سے معاہدے کے زمانے میں آئی، اس وقت وہ مشرک اور ضرورت مند تھیں، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کیا میں ان کے ساتھ صلہ رحمی کرسکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں اپنی والدہ سے صلہ رحمی کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2620، م: 1003
حدیث نمبر: 26941 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا نَزَلَتْ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَهِيَ تُصَلِّي؟ قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قَالَ: وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا , فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهُ، لَقَدْ غَلَّسْنَا , قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَذِنَ لِلظُّعُنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے دار مزدلفہ کے قریب پڑاؤ کیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا چاند غروب ہوگیا یہ مزدلفہ کی رات تھی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا ابھی نہیں وہ کچھ دیرتک مزید نماز پڑھتی رہیں پھر پوچھا بیٹاچاند چھپ گیا؟ اس وقت تک چاند غائب ہوچکا تھا لہذا میں نے کہہ دیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا پھر کوچ کرو چنانچہ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ کی رمی کی اور اپنے خیمے میں پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو منہ اندھیرے ہی مزدلفہ سے نکل آئے، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بیٹے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواتین کو جلدی چلے جانے کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
حدیث نمبر: 26942 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَ: أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً، عَلَيْهَا لَبِنَةُ شَبْرٍ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ، وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ، قَالَتْ: " هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا، كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ، فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ، قَبَضْتُهَا إِلَيَّ، فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا، يَسْتَشْفِي بِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں اور اس کے دونوں کف ریشم کے بنے ہوئے تھے، انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے اور یہ حضرت عائشہ کے پاس تھا حضرت عائشہ کے وصال کے بعد یہ میرے پاس آگیا اور ہم لوگ اپنے میں سے کسی کے بیمار ہونے پر اسے دھو کر اس کے ذریعے شفاء حاصل کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26942]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2069
الحكم: إسناده صحيح، م: 2069
حدیث نمبر: 26943 مسند احمد
يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ يَعْنِي ابْنَ يَزِيدَ الْعَطَّارِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تھے اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیور نہیں ہوسکتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26943]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5222، م: 2762
حدیث نمبر: 26944 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، حَجَّاجٍ ، أَبِي عُمَرَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ أَبِي عُمَرَ مَوْلَى أَسْمَاءَ , قَالَ: " أَخْرَجَتْ إِلَيْنَا أَسْمَاءُ جُبَّةً مَزْرُورَةً بِالدِّيبَاجِ، فَقَالَتْ: فِي هَذِهِ كَانَ يَلْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَدُوَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دشمن سے سامنا ہونے پر زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26944]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف حجاج بن أرطأة
الحكم: إسناده ضعيف الضعف حجاج بن أرطأة
حدیث نمبر: 26945 مسند احمد
هُشَيْمٌ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، مَوْلًى ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ , مَوْلًى , لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: " كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ مِنْ طَيَالِسَةٍ لَبِنَتُهَا دِيبَاجٌ كِسْرَوَانِيٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے مجھے سبز رنگ کا ایک جبہ نکال کر دکھایا جس میں بالشت بھر کسروانی ریشم کی دھاریاں پڑی ہوئی تھیں انہوں نے بتایا کہ یہ جبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26945]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالملك بن أبى سليمان
الحكم: صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عبدالملك بن أبى سليمان
حدیث نمبر: 26946 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْقُرِّيِّ ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ , عَنْ مُتْعَةِ الْحَجِّ، فَرَخَّصَ فِيهَا، وَكَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَى عَنْهَا، فَقَالَ: هَذِهِ أُمُّ ابْنِ الزُّبَيْرِ تُحَدِّثُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِيهَا، فَادْخُلُوا عَلَيْهَا فَاسْأَلُوهَا , قَالَ: فَدَخَلْنَا عَلَيْهَا، فَإِذَا امْرَأَةٌ ضَخْمَةٌ عَمْيَاءُ، فَقَالَتْ:" قَدْ رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسلم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے متعلق پوچھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی جبکہ حضرت ابن زبیر اس سے منع فرماتے تھے جضرت ابن عباس نے فرمایا کہ ابن زبیر کی والدہ ہی بتاتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے تم جا کر ان سے پوچھ لو ہم ان کے پاس چلے گئے، وہ بھاری جسم کی نابینا عورت تھیں اور انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26946]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1238
الحكم: إسناده صحيح، م: 1238
حدیث نمبر: 26947 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو الزُّهْرِيِّ ، مَوْلَاةٍ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُسْلِمٍ أَخُو الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى نَرْفَعَ رُءُوسَنَا" كَرَاهَةَ أَنْ يَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ لِصِغَرِ أُزُرِهِمْ، وَكَانُوا إِذْ ذَاكَ يَأْتَزِرُونَ بِهَذِهِ النَّمِرَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھالیں، دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر نہ پڑیں اور اس زمانے میں لوگوں کا تہبند یہ چادریں ہوتی تھیں۔ (شلواریں نہیں ہوتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26947]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لابهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
حدیث نمبر: 26948 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، رَبَاحٌ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، بَعْضِهِمْ ، مَوْلَاةٍ لِأَسْمَاءَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَبَاحٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ بَعْضِهِمْ ، عَنْ مَوْلَاةٍ لِأَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ الْمُسْلِمُونَ ذَوِي حَاجَةٍ يَأْتَزِرُونَ بِهَذِهِ النَّمِرَةِ، فَكَانَتْ إِنَّمَا تَبْلُغُ أَنْصَافَ سُوقِهِمْ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يَعْنِي النِّسَاءَ فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى نَرْفَعَ رُءُوسَنَا" , كَرَاهِيَةَ أَنْ تَنْظُرَ إِلَى عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ صِغَرِ أُزُرِهِمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھالیں، دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر نہ پڑیں اور اس زمانے میں لوگوں کا تہبند یہ چادریں ہوتی تھیں۔ (شلواریں نہیں ہوتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26948]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء
حدیث نمبر: 26949 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، مَوْلًى لِأَسْمَاءَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ شِهَابٍ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26949]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
حدیث نمبر: 26950 مسند احمد
عَفَّانُ ، وُهَيْبٌ ، النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، مَوْلًى ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ ، عَنِ ابْنِ أَخِي الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَوْلًى لِأَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَسْمَاءَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الرِّجَالُ رُءُوسَهُمْ" , قَالَتْ: وَذَلِكَ أَنَّ أُزُرَهُمْ كَانَتْ قَصِيرَةً، مَخَافَةَ أَنْ تَنْكَشِفَ عَوْرَاتُهُمْ إِذَا سَجَدُوا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھالیں، دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر نہ پڑیں اور اس زمانے میں لوگوں کا تہبند یہ چادریں ہوتی تھیں۔ (شلواریں نہیں ہوتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26950]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام مولاة أسماء، وقد اختلف على عبدالله بن مسلم فيه
حدیث نمبر: 26951 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ , مَنْ كَانَ مِنْكُنَّ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ , فَلَا تَرْفَعْ رَأْسَهَا حَتَّى يَرْفَعَ الْإِمَامُ رَأْسَهُ" مِنْ ضِيقِ ثِيَابِ الرِّجَالِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے جو عورت اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتی ہے وہ سجدے سے اپنا سر اس وقت تک نہ اٹھایا کرے جب تک ہم مرد اپنا سر نہ اٹھا لیں دراصل مردوں کے تہبند چھوٹے ہوتے تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بات کو ناپسند سمجھتے تھے کہ خواتین کی نگاہ مردوں کی شرمگاہ پر پڑے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26951]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد أخطأ فيه سريج بن النعمان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد أخطأ فيه سريج بن النعمان