بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26941
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26941
حدیث نمبر: 26941 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِا عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا نَزَلَتْ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ، فَقَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَهِيَ تُصَلِّي؟ قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: أَيْ بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قَالَ: وَقَدْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَارْتَحِلُوا , فَارْتَحَلْنَا، ثُمَّ مَضَيْنَا بِهَا حَتَّى رَمَيْنَا الْجَمْرَةَ، ثُمَّ رَجَعَتْ، فَصَلَّتْ الصُّبْحَ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا أَيْ هَنْتَاهُ، لَقَدْ غَلَّسْنَا , قَالَتْ: كَلَّا يَا بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَذِنَ لِلظُّعُنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ جو حضرت اسماء کے آزاد کردہ غلام ہیں سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسماء نے دار مزدلفہ کے قریب پڑاؤ کیا اور پوچھا کہ بیٹا کیا چاند غروب ہوگیا یہ مزدلفہ کی رات تھی اور وہ نماز پڑھ رہی تھیں، میں نے کہا ابھی نہیں وہ کچھ دیرتک مزید نماز پڑھتی رہیں پھر پوچھا بیٹاچاند چھپ گیا؟ اس وقت تک چاند غائب ہوچکا تھا لہذا میں نے کہہ دیا جی ہاں! انہوں نے فرمایا پھر کوچ کرو چنانچہ ہم لوگ وہاں سے روانہ ہوگئے اور منیٰ پہنچ کر جمرہ عقبہ کی رمی کی اور اپنے خیمے میں پہنچ کر فجر کی نماز ادا کی میں نے ان سے عرض کیا کہ ہم تو منہ اندھیرے ہی مزدلفہ سے نکل آئے، انہوں نے فرمایا ہرگز نہیں بیٹے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خواتین کو جلدی چلے جانے کی اجازت دی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1679، م: 1291
← پچھلی حدیث (26940) باب پر واپس اگلی حدیث (26942) →