يَحْيَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ , أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي إِلَّا مَا أَدْخَلَ عَلَيَّ الزُّبَيْرُ، أَفَأَرْضَخُ مِنْهُ؟ قَالَ: " ارْضَخِي، وَلَا تُوعِي، فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26980]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1434، م: 1029