عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ َزِيدَ ، أَيُّوبَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ َزِيدَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , أَنَّ أَسْمَاءَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَخْدُمُ الزُّبَيْرَ زَوْجَهَا , وَكَانَ لَهُ فَرَسٌ كُنْتُ أَسُوسُهُ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ مِنَ الْخِدْمَةِ أَشَدَّ عَلَيَّ مِنْ سِيَاسَةِ الْفَرَسِ، فَكُنْتُ أَحْتَشُّ لَهُ، وَأَقُومُ عَلَيْهِ، وَأَسُوسُهُ، وَأَرْضَخُ لَهُ النَّوَى , قَالَ: ثُمَّ إِنَّهَا أَصَابَتْ خَادِمًا، أَعْطَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: فَكَفَتْنِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ، فَأَلْقَتْ عَنِّي مَئُونَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ جس وقت حضرت زبیر سے میرا نکاح ہوا میں ان کے گھوڑے کا چارہ تیار کرتی تھی اس کی ضروریات مہیا کرتی تھی اور اس کی دیکھ بھال کرتی تھی اسی طرح ان کے اونٹ کے لئے گٹھلیاں کو ٹتی تھی اس کا چارہ بناتی تھی، اسے پانی پلاتی تھی، ان کے ڈول کو سیتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے کچھ ہی عرصے بعد میرے پاس ایک خادم بھیج دیا اور گھوڑے کی دیکھ بھال سے میں بری الذمہ ہوگئی اور ایسا لگا کہ جیسے انہوں نے مجھے آزاد کردیا ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26972]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3151، م: 2182