إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أَسْمَاءُ بِنْتُ أَبِي بَكْرٍ ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي شَيْءٌ إِلَّا مَا أَدْخَلَ الزُّبَيْرُ عَلَى بَيْتِي، فَأُعْطِي مِنْهُ؟ قَالَ: " أَعْطِي، وَلَا تُوكِي، فَيُوكِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت اسماء سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میرے پاس صدقہ کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں سوائے اس کے جو زبیر گھر میں لاتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خرچ کیا کرو اور گن گن کر نہ رکھا کرو کہ تمہیں بھی گن گن کردیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26987]
الحكم: إسناده صحيح