بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 127
صفحہ 5 از 7
حدیث نمبر: 23015 مسند احمد
يَعْقُوب بنُ إِبرَاهِيمَ ، أَبي ، مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، برَيْدَةَ بنِ حُصَيْب
حَدَّثَنَا يَعْقُوب بنُ إِبرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ مُحَمَّدِ بنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ سَلَمَةَ بنِ كُهَيْلٍ أَنَّهُ حَدَّثَ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ بنِ حُصَيْب ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، فَإِنَّ فِي زِيَارَتِهَا عِظَةً وَعِبرَةً، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ فِي هَذِهِ الْأَسْقِيَةِ، فَاشْرَبوا، وَلَا تَشْرَبوا حَرَامًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23015]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لعنعنة ابن إسحاق، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23016 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثٍ: عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَعَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُحْبسَ فَوْقَ ثَلَاثٍ، وَعَنِ الْأَوْعِيَةِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ لِيُوسِعْ ذُو السَّعَةِ عَلَى مَنْ لَا سَعَةَ لَهُ، فَكُلُوا وَادَّخِرُوا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ أُذِنَ لَهُ فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّهِ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ الظُّرُوفِ، وَإِنَّ الظُّرُوفَ لَا تُحَرِّمُ شَيْئًا وَلَا تُحِلُّهُ، وَكُلُّ مُسْكِرٍ حَرَامٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23016]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لسوء حفظ مؤمل، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23017 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، أَيُّوب بنُ جَابرٍ ، سِمَاكٍ ، الْقَاسِمِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوب بنُ جَابرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بنِ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بوَدَّانَ، قَالَ:" مَكَانَكُمْ حَتَّى آتِيَكُمْ"، فَانْطَلَقَ، ثُمَّ جَاءَنَا وَهُوَ سَقِيمٌ، فَقَالَ: " إِنِّي أَتَيْتُ قَبرَ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَسَأَلْتُ رَبي الشَّفَاعَةَ، فَمَنَعَنِيهَا وَإِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا وَأَمْسِكُوا مَا بدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ هَذِهِ الْأَشْرِبةِ فِي هَذِهِ الْأَوْعِيَةِ، فَاشْرَبوا فِيمَا بدَا لَكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23017]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أيوب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أيوب
حدیث نمبر: 23018 مسند احمد
الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، أَوْسُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، سَهْلُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَرْوَ، حَدَّثَنَا أَوْسُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، قَالَ: أَخْبرَنِي أَخِي سَهْلُ بنُ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ جَدِّهِ برَيْدَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتَكُونُ بعْدِي بعُوثٌ كَثِيرَةٌ، فَكُونُوا فِي بعْثِ خُرَاسَانَ، ثُمَّ انْزِلُوا مَدِينَةَ مَرْوَ، فَإِنَّهُ بنَاهَا ذُو الْقَرْنَيْنِ، وَدَعَا لَهَا بالْبرَكَةِ، وَلَا يَضُرُّ أَهْلَهَا سُوءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب میرے بعد بہت سے لشکر روانہ ہوں گے تم خراسان کی طرف جانے والے لشکر میں شامل ہوجانا اور " مرو " نامی شہر میں پڑاؤ ڈالنا کیونکہ اسے ذوالقرنین نے بنایا تھا اور اس میں برکت کی دعا کی تھی اس لئے وہاں رہنے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23018]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
الحكم: إسناده ضعيف جدا شبه موضوع
حدیث نمبر: 23019 مسند احمد
الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، الْفَضْلُ بنُ مُوسَى ، عُبيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ مُوسَى ، عَنْ عُبيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيِّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَتْرُ حَقٌّ، فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ، فَلَيْسَ مِنَّا"، قَالَهَا ثَلَاثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وتر کی نماز برحق ہے اور جو شخص وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے تین مرتبہ فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23019]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبدالله، والحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل عبيد الله بن عبدالله، والحسن بن يحيى فيه نظر، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23020 مسند احمد
أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، مُوسَى بنُ أَعْيَنَ ، لَيْثٍ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا مُوسَى بنُ أَعْيَنَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَهُمْ مَا أَسْلَمُوا عَلَيْهِ مِنْ أَرَضِيهِمْ، وَرَقِيقِهِمْ، وَمَاشِيَتِهِمْ، وَلَيْسَ عَلَيْهِمْ فِيهِ إِلَّا الصَّدَقَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جن زمینوں، جانوروں اور غلاموں کی ملکیت پر وہ اسلام قبول کریں ان پر ان کی ملکیت برقرار رہے گی اور اس میں ان پر زکوٰۃ کے علاوہ کوئی چیز واجب نہ ہوگی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23020]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 23021 مسند احمد
أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، شَرِيكٌ ، أَبي إِسْحَاقَ ، وأبى ربيعة الإيادي ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بنُ عَبدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي إِسْحَاقَ ، وأبى ربيعة الإيادي , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: " يَا عَلِيُّ، لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23021]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وسوء حفظ شريك، لكنه متابع
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وسوء حفظ شريك، لكنه متابع
حدیث نمبر: 23022 مسند احمد
بهْزٌ ، مُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا بهْزٌ ، حَدَّثَنَا مُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّه كَانَ بخُرَاسَانَ، فَعَادَ أَخًا لَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَوَجَدَهُ بالْمَوْتِ وَإِذَا هُوَ يَعْرَقُ جَبينُهُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَوْتُ الْمُؤْمِنِ بعَرَقِ الْجَبينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23022]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 23023 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ بحْرٍ ، أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ الْأَزْدِيُّ ، خَالِدُ بنُ عُبيْدٍ أَبو عِصَامٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ بحْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبو تُمَيْلَةَ يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ الْأَزْدِيُّ ، أَخْبرَنِي خَالِدُ بنُ عُبيْدٍ أَبو عِصَامٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: ذَهَب بي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَوْضِعٍ بالْبادِيَةِ قَرِيبا مِنْ مَكَّةَ، فَإِذَا أَرْضٌ يَابسَةٌ حَوْلَهَا رَمْلٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَخْرُجُ الدَّابةُ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ"، فَإِذَا فِتْرٌ فِي شِبرٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے مکہ مکرمہ کے قریب دیہات کے ایک مقام پر لے گئے جو ایک خشک زمین تھی اور اس کے گرد ریت تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دابۃ الارض کا خروج یہاں سے ہوگا وہ ایک بالشت چوڑی اور ایک انچ لمبی جگہ تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23023]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا من أجل خالد بن عبيد
الحكم: إسناده ضعيف جدا من أجل خالد بن عبيد
حدیث نمبر: 23024 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبي نَضْرَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ أَنَا فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَكُونُ قَوْمٌ تَسْبقُ شَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ، وَأَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" الْقَرْنُ الَّذِينَ بعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چلا جا رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23024]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لكن قوله: ثم الذين يلونهم، فى المرة الرابعة والخامسة غير محفوظ، فقد تفرد به حماد بن سلمة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن لكن قوله: ثم الذين يلونهم، فى المرة الرابعة والخامسة غير محفوظ، فقد تفرد به حماد بن سلمة
حدیث نمبر: 23025 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ لَعِب بالنَّرْدَشِيرِ، فَكَأَنَّمَا يَغْمِسُ يَدَيْهِ فِي لَحْمِ الْخِنْزِيرِ وَدَمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص بارہ ٹانی کے ساتھ کھیلتا ہے وہ گویا اپنے ہاتھ خنزیر کے خون اور گوشت میں ڈبو دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23025]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2260
الحكم: إسناده صحيح، م: 2260
حدیث نمبر: 23026 مسند احمد
عَبدُ الْوَهَّاب بنُ عَطَاءٍ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي قِلَابةَ ، أَبا مَلِيحٍ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَهَّاب بنُ عَطَاءٍ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، أَنَّ أَبا مَلِيحٍ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بكِّرُوا بالصَّلَاةِ، فَإِنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبطَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 553
الحكم: إسناده صحيح، م: 553
حدیث نمبر: 23027 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، أَبو فُلَانَةَ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، أَخْبرَنَا أَبو فُلَانَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: كَذَا قَالَ أَبي، لَمْ يُسَمِّهِ عَلَى عَمْدٍ، وحَدَّثَنَاه غَيْرُهُ فَسَمَّاهُ يَعْنِي أَبا حُنَيْفَةَ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ أَتَاهُ: " اذْهَب، فَإِنَّ الدَّالَّ عَلَى الْخَيْرِ كَفَاعِلِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا جاؤ کہ نیکی کی طرف رہنمائی کرنے والا نیکی کرنے والے کی طرح ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23027]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23028 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعْدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ مَرَّ عَلَى مَجْلِسٍ وَهُمْ يَتَنَاوَلُونَ مِنْ عَلِيٍّ، فَوَقَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ: إِنَّهُ قَدْ كَانَ فِي نَفْسِي عَلَى عَلِيٍّ شَيْءٌ، وَكَانَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ كَذَلِكَ، فَبعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ عَلَيْهَا عَلِيٌّ، وَأَصَبنَا سَبيًا، قَالَ: فَأَخَذَ عَلِيٌّ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ لِنَفْسِهِ، فَقَالَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ: دُونَكَ، قَالَ: فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ بمَا كَانَ، ثُمَّ قُلْتُ: إِنَّ عَلِيًّا أَخَذَ جَارِيَةً مِنَ الْخُمُسِ، قَالَ: وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي، فَإِذَا وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ تَغَيَّرَ، فَقَالَ: " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ کسی ایسی مجلس سے گذرے جہاں پر لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق کچھ باتیں کر رہے ہیں وہ ان کے پاس کھڑے ہو کر کہنے لگے کہ ابتداء میں میرے دل میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق بوجھ تھا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی بھی یہی صورت حال تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ مجھے ایک دستے کے ساتھ روانہ کردیا جس کے امیر حضرت علی رضی اللہ عنہ تھے ہمیں وہاں قیدی ہاتھ لگے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس میں سے ایک باندی اپنے لئے رکھ لی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا ٹھہرو، پھر جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو میں پیش آمدہ واقعہ بیان کرنے لگا اور کہا کہ علی نے خمس میں سے باندی لی ہے میں نے اس وقت سر جھکا رکھا تھا اچانک سر اٹھا کر دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رخ انور متغیر ہو رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کا میں محبوب ہوں علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23029 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ بوُضُوءٍ وَاحِدٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ! قَالَ: " إِنِّي عَمْدًا فَعَلْتُ يَا عُمَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 277
الحكم: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 23030 مسند احمد
عَبدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَّرَ أَمِيرًا عَلَى جَيْشٍ أَوْ سَرِيَّةٍ، أَوْصَاهُ فِي خَاصَّتِهِ بتَقْوَى اللَّهِ، وَمَنْ مَعَهُ مِنَ الْمُسْلِمِينَ خَيْرًا، ثُمَّ قَالَ: " اغْزُوا بسْمِ اللَّهِ، فِي سَبيلِ اللَّهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ باللَّهِ، اغْزُوا وَلَا تَغُلُّوا، وَلَا تَغْدِرُوا، وَلَا تُمَثِّلُوا، وَلَا تَقْتُلُوا وَلِيدًا، وَإِذَا لَقِيتَ عَدُوَّكَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَادْعُهُمْ إِلَى إِحْدَى ثَلَاثِ خِصَالٍ، أَوْ خِلَالٍ فَأَيَّتُهُنَّ مَا أَجَابوكَ إِلَيْهَا، فَاقْبلْ مِنْهُمْ، وَكُفَّ عَنْهُمْ: ادعهم إلى الإسلام، فإن أجابوك إليه فقبل منهم، وكف عنهم، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى التَّحَوُّلِ مِنْ دَارِهِمْ إِلَى دَارِ الْمُهَاجِرِينَ، وَأَخْبرْهُمْ إِنْ هُمْ فَعَلُوا أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُهَاجِرِينَ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا أَنْ يَتَحَوَّلُوا مِنْهَا، فَأَخْبرْهُمْ أَنَّهُمْ يَكُونُونَ كَأَعْرَاب الْمُسْلِمِينَ، يَجْرِي عَلَيْهِمْ حُكْمُ اللَّهِ الَّذِي يَجْرِي عَلَى الْمُسْلِمِينَ، وَلَا يَكُونُ لَهُمْ فِي الْغَنِيمَةِ وَالْفَيْءِ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يُجَاهِدُوا مَعَ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنْ هُمْ أَبوْا، فَسَلْهُمْ الْجِزْيَةَ، فَإِنْ هُمْ أَجَابوكَ، فَاقْبلْ مِنْهُمْ وَكُفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ هُمْ أَبوْا، فَاسْتَعِنْ باللَّهِ وَقَاتِلْهُمْ، وَإِذَا حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تَجْعَلَ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ نَبيِّكَ، فَلَا تَجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّةَ اللَّهِ وَلَا ذِمَّةَ نَبيِّهِ، وَلَكِنْ اجْعَلْ لَهُمْ ذِمَّتَكَ وَذِمَّةَ أَبيكَ وَذِمَمَ أَصْحَابكَ، فَإِنَّكُمْ إِنْ تُخْفِرُوا ذِمَمَكُمْ وَذِمَمَ آبائِكُمْ، أَهْوَنُ مِنْ أَنْ تُخْفِرُوا ذِمَّةَ اللَّهِ وَذِمَّةَ رَسُولِهِ، وَإِنْ حَاصَرْتَ أَهْلَ حِصْنٍ، فَأَرَادُوكَ أَنْ تُنْزِلَهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، فَلَا تُنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِ اللَّهِ، وَلَكِنْ أَنْزِلْهُمْ عَلَى حُكْمِكَ، فَإِنَّكَ لَا تَدْرِي أَتُصِيب حُكْمَ اللَّهِ فِيهِمْ، أَمْ لَا" ، قَالَ عَبدُ الرَّحْمَنِ: هَذَا، أَوْ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی شخص کو کسی دستہ یا لشکر کا امیر مقرر کر کے روانہ فرماتے تو اسے خصوصیت کے ساتھ اس کے اپنے متعلق تقوی کی وصیت فرماتے اور اس کے ہمراہ مسلمانوں کے ساتھ بہترین سلوک کی تاکید فرماتے پھر فرماتے کہ اللہ کا نام لے کر اللہ کے راستہ میں جہاد کرو اللہ کے ساتھ کفر کرنے والوں کے ساتھ قتال کرو اور جب دشمن سے تمہارا آمنا سامنا ہو تو اسے تین میں سے کسی ایک بات کو قبول کرنے کی دعوت دو وہ ان میں سے جس بات کو بھی قبول کرلیں تم اسے ان کی طرف سے تسلیم کرلو اور ان سے اپنے ہاتھ روک لو سب سے پہلے اسلام کی دعوت ان کے سامنے پیش کرو اگر وہ تمہاری بات مان لیں تو تم بھی اسے قبول کرلو پھر انہیں اپنے علاقے سے دارالمہاجرین کی طرف منتقل ہونے کی دعوت دو اور انہیں بتاؤ کہ اگر انہوں نے ایسا کرلیا تو ان کے وہی حقوق ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اور وہی فرائض ہوں گے جو مہاجرین کے ہیں اگر وہ اس سے انکار کردیں اور اپنے علاقے ہی میں رہنے کو ترجیح دیں تو انہیں بتانا کہ وہ دیہاتی مسلمانوں کی مانند شمار ہوں گے ان پر اللہ کے احکام تو ویسے ہی جاری ہوں گے جیسے تمام مسلمانوں پر ہوتے ہیں لیکن مال غنیمت میں مسلمانوں کے ہمراہ جہاد کئے بغیر ان کا کوئی حصہ نہ ہوگا اگر وہ اس سے انکار کردیں تو انہیں جزیہ دینے کی دعوت دو اگر وہ اسے تسلیم کرلیں تو تم اسے ان کی طرف سے قبول کرلینا اور ان سے اپنے ہاتھ روک لینا لیکن اگر وہ اس سے بھی انکار کردیں تو پھر اللہ سے مدد چاہتے ہوئے ان سے قتال کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23030]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1731
الحكم: إسناده صحيح، م: 1731
حدیث نمبر: 23031 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ ، عَوْفٌ ، مَيْمُونٍ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جَعْفَرٍ ، وَرَوْحٌ , الْمَعْنَى , قَالَا: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبي عَبدِ اللَّهِ ، قَالَ رَوْحٌ: الْكُرْدِيُّ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ، عَنْ أَبيهِ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحِصْنِ أَهْلِ خَيْبرَ، أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللِّوَاءَ عُمَرَ بنَ الْخَطَّاب، وَنَهَضَ مَعَهُ مَنْ نَهَضَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، فَلَقُوا أَهْلَ خَيْبرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَأُعْطِيَنَّ اللِّوَاءَ غَدًا رَجُلًا يُحِب اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ"، فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ، دَعَا عَلِيًّا وَهُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِي عَيْنَيْهِ، وَأَعْطَاهُ اللِّوَاءَ، وَنَهَضَ النَّاسُ مَعَهُ، فَلَقِيَ أَهْلَ خَيْبرَ، وَإِذَا مَرْحَب يَرْتَجِزُ بيْنَ أَيْدِيهِمْ وَهُوَ يَقُولُ: لَقَدْ عَلِمَتْ خَيْبرُ أَنِّي مَرْحَب شَاكِي السِّلَاحِ بطَلٌ مُجَرَّب أَطْعَنُ أَحْيَانًا وَحِينًا أَضْرِب إِذَا اللُّيُوثُ أَقْبلَتْ تَلَهَّب قَالَ: فَاخْتَلَفَ هُوَ وَعَلِيٌّ ضَرْبتَيْنِ، فَضَرَبهُ عَلَى هَامَتِهِ حَتَّى عَضَّ السَّيْفُ مِنْهَا بأَضْرَاسِهِ، وَسَمِعَ أَهْلُ الْعَسْكَرِ صَوْتَ ضَرْبتِهِ، قَالَ: وَمَا تَتَامَّ آخِرُ النَّاسِ مَعَ عَلِيٍّ حَتَّى فُتِحَ لَهُ وَلَهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگوں نے خیبر کا محاصرہ کیا تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے جھنڈا پکڑا لیکن وہ مخصوص اور اہم قلعہ فتح کئے بغیر واپس آگئے اگلے دن پھر جھنڈا پکڑا اور روانہ ہوگئے لیکن آج بھی وہ قلعہ فتح نہ ہوسکا اور اس دن لوگوں کو خوب مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کل میں یہ جھنڈا اس شخص کو دوں گا جسے اللہ اور اس کا رسول محبوب رکھتے ہوں گے اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوگا اور فتح حاصل کئے بغیر واپس نہ آئے گا۔ چنانچہ ساری رات ہم اس بات پر خوش ہوتے رہے کہ کل یہ قلعہ بھی فتح ہوجائے گا جب صبح ہوئی تو نماز فجر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہوئے اور جھنڈا منگوایا لوگ اپنی صفوں میں بیٹھے ہوئے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا جنہیں آشوب چشم تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کردیا اور ان کے ہاتھوں وہ قلعہ فتح ہوگیا حالانکہ اس کی خواہش کرنے والوں میں میں بھی تھا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب اہل خیبر سے آمنا سامنا ہوا تو مرحب ان کے سامنے رجزیہ اشعار پڑھتا ہوا آیا کہ سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ پہنے ہوئے بہادر اور تجربہ کار ہوں، کبھی نیزے سے لڑتا ہوں اور کبھی تلوار سے جب شیر دھاڑتے ہوئے سامنے آجائیں پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اس کا مقابلہ ہوا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس کی کھوپڑی پر ایسی ضرب لگائی کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی تلوار اس کی ڈاڑھ کاٹتی ہوئی نکل گئی اور لشکر والوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ضرب کی آواز سنی بالآخر انہیں فتح نصیب ہوئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23031]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ميمون أبى عبدالله الكندي، لكنه توبع، وقول روح فى نسبته: الكردي، خطأ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ميمون أبى عبدالله الكندي، لكنه توبع، وقول روح فى نسبته: الكردي، خطأ
حدیث نمبر: 23032 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ عَطَاءٍ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ عَطَاءٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ، فَمَاتَتْ أُمِّي وَبقِيَتْ الْجَارِيَةُ، فَقَالَ: " قَدْ وَجَب أَجْرُكِ، وَرَجَعَتْ إِلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ"، قَالَتْ: فَإِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّي صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَصُومُ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي لَمْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ:" حُجِّي عَنْ أُمِّكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! تم اپنی والدہ کی طرف سے حج کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23032]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1149
الحكم: إسناده صحيح، م: 1149
حدیث نمبر: 23033 مسند احمد
زَيْدُ بنُ الْحُباب ، مَالِكُ بنُ مِغْوَلٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، أَخْبرَنِي مَالِكُ بنُ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَأَخَذَ بيَدِي، فَدَخَلْتُ مَعَهُ، فَإِذَا رَجُلٌ يَقْرَأُ وَيُصَلِّي، قَالَ: " لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" ، وَإِذَا هُوَ عَبدُ اللَّهِ بنُ قَيْسٍ أَبو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأُخْبرُهُ؟ قَالَ: فَأَخْبرْتُهُ، فَقَالَ: لَمْ تَزَلْ لِي صَدِيقًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے تو میرا ہاتھ پکڑ لیا میں بھی ان کے ساتھ مسجد میں داخل ہوگیا وہاں ایک آدمی قرآن پڑھ رہا تھا اور نماز پڑھ رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس شخص کو آل داؤد علیہ السلام کے خوبصورت لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے دیکھا تو وہ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں انہیں یہ بات بتادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بتادو چناچہ میں نے انہیں بتادیا اور وہ کہنے لگے کہ آپ ہمیشہ میرے دوست ہی رہے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23034 مسند احمد
يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ وَهُوَ أَبو تُمَيْلَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسْلِمٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ وَاضِحٍ وَهُوَ أَبو تُمَيْلَةَ , عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي يَدِ رَجُلٍ خَاتَمًا مِنْ ذَهَب، فَقَالَ: " مَا لَكَ وَلِحُلِيِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" , قَالَ: فَجَاءَ وَقَدْ لَبسَ خَاتَمًا مِنْ صُفْرٍ، فَقَالَ:" أَجِدُ مِعكَ رِيحَ أَهْلِ الْأَصْنَامِ"، قَالَ: فَمِمَّ أَتَّخِذُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مِنْ فِضَّةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی دیکھی تو اس سے فرمایا کہ تم اہل جنت کا زیور دنیا میں کیوں پہنے ہو؟ اگلی مرتبہ وہ آیا تو اس نے پیتل کی انگوٹھی پہن رکھی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے تم سے بتوں کے بچاریوں جیسی بو آتی ہے " اس نے پوچھا یا رسول اللہ! پھر میں کس چیز کی انگوٹھی بناؤں؟ فرمایا چاندی کی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23034]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: فجاء وقد لبس خاتما من صفر، فقال النبى صلى الله عليه و آله وسلم: "أجد معك ريح اهل الاصنام"، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل عبدالله بن مسلم
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: فجاء وقد لبس خاتما من صفر، فقال النبى ﷺ: "أجد معك ريح اهل الاصنام"، وهذا اسناد حسن فى المتابعات والشواهد من اجل عبدالله بن مسلم