بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 127
صفحہ 6 از 7
حدیث نمبر: 23035 مسند احمد
حُمَيْدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، أَبي ، عَبدِ الْكَرِيمِ بنِ سُلَيْطٍ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبي ، عَنْ عَبدِ الْكَرِيمِ بنِ سُلَيْطٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: لَمَّا خَطَب عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَا بدَّ لِلْعُرْسِ مِنْ وَلِيمَةٍ" ، قَالَ: فَقَالَ سَعْدٌ: عَلَيَّ كَبشٌ، وَقَالَ فُلَانٌ: عَلَيَّ كَذَا وَكَذَا مِنْ ذُرَةٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ سے اپنا پیغام نکاح بھیجا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا شادی کا ولیمہ ہونا ضروری ہے حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا میرے ذمے ایک مینڈھا ہے دوسرے نے کہا کہ میرے ذمے اتنا جو ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23035]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 23036 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: لِيَقْبضَ الْخُمُسَ، قَالَ: فَأَصْبحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدٌ لِبرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا لِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ؟! قَالَ: وَكُنْتُ أُبغِضُ عَلِيًّا، قَالَ: فَقَالَ:" يَا برَيْدَةُ، أَتُبغِضُ عَلِيًّا؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تُبغِضْهُ، قَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: فَأَحِبهُ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس خمس تقسیم کرنے کے لئے بھیج دیا۔۔۔۔۔۔ صبح ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ سے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہو کہ علی نے کیا کیا ہے؟ مجھے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4350
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4350
حدیث نمبر: 23037 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ بنِ شَقِيقٍ ، الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ بنِ شَقِيقٍ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فِي الْإِنْسَانِ ثَلَاثُ مِائَةٍ وَسِتُّونَ مَفْصِلًا، فَعَلَيْهِ أَنْ يَتَصَدَّقَ عَنْ كُلِّ مَفْصِلٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ بصَدَقَةٍ"، قَالُوا: وَمَنْ يُطِيقُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" النُّخَاعَةُ تَرَاهَا فِي الْمَسْجِدِ فَتَدْفِنُهَا، أَوْ الشَّيْءُ تُنَحِّيهِ عَنِ الطَّرِيقِ، فَإِنْ لَمْ تَقْدِرْ، فَرَكْعَتَا الضُّحَى تُجْزِئُكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہر انسان کے تین سو ساٹھ جوڑ ہیں اور اس پر ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ کرنا ضروری ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! اس کی طاقت کس میں ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا طریقہ یہ ہے کہ اگر مسجد میں تھوک نظر آئے تو اس پر مٹی ڈال دو راستے میں تکلیف دہ چیز کو ہٹا دو اگر یہ سب نہ کرسکو تو چاشت کے وقت دو رکعتیں تمہاری طرف سے کفایت کر جائیں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23037]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23038 مسند احمد
حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، خَلَفٌ يَعْنِي ابنَ خَلِيفَةَ ، أَبي جَنَاب ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا خَلَفٌ يَعْنِي ابنَ خَلِيفَةَ ، عَنْ أَبي جَنَاب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا غَزْوَةَ الْفَتْحِ، فَخَرَجَ يَمْشِي إِلَى الْقُبورِ حَتَّى إِذَا أَتَى إِلَى أَدْنَاهَا، جَلَسَ إِلَيْهِ كَأَنَّهُ يُكَلِّمُ إِنْسَانًا جَالِسًا يَبكِي، قَالَ: فَاسْتَقْبلَهُ عُمَرُ بنُ الْخَطَّاب، فَقَالَ: مَا يُبكِيكَ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاءَكَ؟ قَالَ: " سَأَلْتُ رَبي عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ، فَأَذِنَ لِي، فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي فَأَسْتَغْفِرُ لَهَا، فَأَبى، إِنِّي كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوا بعْدَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، فَكُلُوا مَا بدَا لَكُمْ، وَعَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَمَنْ شَاءَ فَلْيَزُرْ، فَقَدْ أُذِنَ لِي فِي زِيَارَةِ قَبرِ أُمِّ مُحَمَّدٍ، وَمَنْ شَاءَ فَلْيَدَعْ، وَعَنِ الظُّرُوفِ تَشْرَبونَ فِيهَا: الدُّباءَ، وَالْحَنْتَمَ، وَالْمُزَفَّتَ، وَأَمَرْتُكُمْ بظُرُوفٍ، وَإِنَّ الْوِعَاءَ لَا يُحِلُّ شَيْئًا وَلَا يُحَرِّمُهُ، فَاجْتَنِبوا كُلَّ مُسْكِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے ایک جگہ پہنچ کر پڑاؤ کیا اس وقت ہم لوگ ایک ہزار کے قریب شہسوار تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو رکعتیں پڑھیں اور ہماری طرف رخ کر کے متوجہ ہوئے تو آنکھیں آنسوؤں سے بھیگی ہوئی تھیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر اپنے ماں باپ کو قربان کرتے ہوئے پوچھا یا رسول اللہ! کیا بات ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے اپنے رب سے اپنی والدہ کے لئے بخشش کی دعاء کرنے کی اجازت مانگی تھی، لیکن مجھے اجازت نہیں ملی تو شفقت کی وجہ سے میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور میں نے تمہیں تین چیزوں سے منع کیا تھا، قبرستان جانے سے لیکن اب چلے جایا کرو تاکہ تمہیں آخرت کی یاد آئے میں نے تمہیں تین دن کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا اب اسے کھاؤ اور جب تک چاہو رکھو اور میں نے تمہیں مخصوص برتنوں میں پینے سے منع فرمایا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23038]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب، فهو ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف من أجل أبى جناب، فهو ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23039 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ حُمَيْدٍ أَبو سُفْيَانَ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ حُمَيْدٍ أَبو سُفْيَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُهُمْ إِذَا خَرَجُوا إِلَى الْمَقَابرِ، يَقُولُ: " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الدِّيَارِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ بكُمْ لَلَاحِقُونَ، أَنْتُمْ لَنَا فَرَطٌ وَنَحْنُ لَكُمْ تَبعٌ، فَنَسْأَلُ اللَّهَ لَنَا وَلَكُمْ الْعَافِيَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ جب وہ قبرستان جائیں تو یہ کہا کریں کہ مؤمنین و مسلمین کی جماعت والو! تم پر سلامتی ہو ہم بھی ان شاء اللہ تم سے آکر ملنے والے ہیں تم ہم سے پہلے چلے گئے اور ہم تمہارے پیچھے آنے والے ہیں اور ہم اپنے اور تمہارے لئے اللہ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 975
الحكم: إسناده صحيح، م: 975
حدیث نمبر: 23040 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ وَهُوَ ابنُ شَقِيقٍ ، الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، ابنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ وَهُوَ ابنُ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بلَالًا، فَقَالَ:" يَا بلَالُ، بمَ سَبقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ، إِنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ الْبارِحَةَ، فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مِنْ ذَهَب مُرَبعٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: فَأَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنَ الْعَرَب، قُلْتُ: أَنَا عَرَبيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: فَأَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ؟ قَالُوا: لَعُمَرَ بنِ الْخَطَّاب"، فَقَالَ بلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بهَذَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بلایا اور ان سے پوچھا بلال! تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے؟ میں جب بھی جنت میں داخل ہوا تو اپنے آگے سے تمہاری آہٹ سنی ابھی آج رات ہی میں جنت میں داخل ہوا تو تمہاری آہٹ پھر سنائی دی پھر میں سونے سے بنے ہوئے ایک بلند وبالا محل کے سامنے پہنچا اور لوگوں سے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ایک عربی آدمی کا ہے میں نے کہا کہ عربی تو میں بھی ہوں یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ امت محمدیہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ایک مسلمان آدمی کا ہے میں نے کہا کہ پھر میں تو خود محمد ہوں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب کا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عمر! اگر مجھے تمہاری غیرت کا خیال نہ آتا تو میں اس محل میں ضرور داخل ہوتا انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں آپ کے سامنے غیرت دکھاؤں گا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے پوچھا تم جنت میں مجھ سے آگے کیسے تھے؟ انہوں نے عرض کیا کہ میں جب بھی بےوضو ہوا تو وضو کر کے دو رکعتیں ضرور پڑھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہی اس کا سبب ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23040]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 23041 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23041]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23042 مسند احمد
حَرَمِيُّ بنُ عُمَارَةَ ، ثَوَاب بنُ عُتْبةَ الْمَهْرِيُّ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بنُ عُمَارَةَ ، حَدَّثَنِي ثَوَاب بنُ عُتْبةَ الْمَهْرِيُّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الْفِطْرِ لَمْ يَخْرُجْ حَتَّى يَأْكُلَ، وَإِذَا كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ لَمْ يَأْكُلْ حَتَّى يَذْبحَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدالفطر کے دن اپنے گھر سے کچھ کھائے پئے بغیر نہیں نکلتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عید سے فارغ ہو کر آنے تک کچھ کھاتے پیتے نہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23042]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 23043 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبي نَضْرَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لِيَكْفِ أَحَدَكُمْ مِنَ الدُّنْيَا خَادِمٌ وَمَرْكَب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے لئے دنیا کی چیزوں میں سے ایک خادم اور ایک سواری کافی ہونی چاہئے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23043]
حکم دارالسلام
حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن مولة مقبول، والجريري مختلط ورواية حماد بن سلمة عنه قبل الاختلاط
الحكم: حديث محتمل للتحسين، عبدالله بن مولة مقبول، والجريري مختلط ورواية حماد بن سلمة عنه قبل الاختلاط
حدیث نمبر: 23044 مسند احمد
عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ الْوَلِيدِ ، وَمُؤَمَّلٌ , قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّ أَعْرَابيًّا قَالَ فِي الْمَسْجِدِ: مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟ بعْدَ الْفَجْرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَهُ، لَا وَجَدْتَهُ، لَا وَجَدْتَهُ، إِنَّمَا بنِيَتْ هَذِهِ الْبيُوتُ، وقَالَ مُؤَمَّلٌ: هَذِهِ الْمَسَاجِدُ لِمَا بنِيَتْ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور اعلان کرنے لگا کہ نماز فجر کے بعد میرا سرخ اونٹ گم ہوگیا ہے مجھے اس کے بارے میں کون بتائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار فرمایا تجھے تیرا اونٹ نہ ملے یہ گھر (مساجد) اس مقصد کے لئے ہی بنائے گئے ہیں جس کے لئے بنائے گئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23044]
حکم دارالسلام
إسناده قوي ، م: 569
الحكم: إسناده قوي ، م: 569
حدیث نمبر: 23045 مسند احمد
عَبدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي قِلَابةَ ، أَبي مَلِيحِ بنِ أُسَامَةَ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا عَبدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بنِ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحِ بنِ أُسَامَةَ ، عَنْ برَيْدَةَ أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ مُتَعَمِّدًا، أَحْبطَ اللَّهُ عَمَلَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 23046 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبدُ الْوَارِثِ ، مُحَمَّدُ بنُ جُحَادَةَ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ جُحَادَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ"، قَالَ: ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ"، قُلْتُ: سَمِعْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَقُولُ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلِهِ صَدَقَةٌ"، ثُمَّ سَمِعْتُكَ، تَقُولُ:" مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ"، قَالَ لَهُ:" بكُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ قَبلَ أَنْ يَحِلَّ الدَّيْنُ، فَإِذَا حَلَّ الدَّيْنُ، فَأَنْظَرَهُ، فَلَهُ بكُلِّ يَوْمٍ مِثْلَيْهِ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دیدے اسے ہر دن کے عوض اتنا ہی صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا پھر ایک اور مرتبہ سنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص کسی تنگدست مقروض کو مہلت دے دے اسے ہر دن کے عوض دو گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پہلے میں نے آپ کو ایک گنا اور پھر دو گنا ثواب کا ذکر کرتے ہوئے سنا؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قرض کی ادائیگی سے قبل اسے روزانہ ایک گنا صدقہ کرنے کا ثواب ملے گا اور قرض کی ادائیگی کے بعد مہلت دینے پر دو گنا ثواب ملے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23047 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ ، وَأَبو دَاوُدَ ، الْمُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الضُّبعِيَّ ، قَتَادَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ . وَأَبو دَاوُدَ , حَدَّثَنَا الْمُثَنَّى بنُ سَعِيدٍ يَعْنِي الضُّبعِيَّ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ عَادَ أَخًا لَهُ، فَرَأَى جَبينَهُ يَعْرَقُ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبرُ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ، أَوْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبو دَاوُدَ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْمُؤْمِنُ يَمُوتُ بعَرَقِ الْجَبينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 23048 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي قِلَابةَ ، أَبي مَلِيحٍ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ . وَإِسْمَاعِيلَ , أَخْبرَنَا هِشَامٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزْوَةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، قَالَ: بكِّرُوا بالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، حَبطَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو ملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23048]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 23049 مسند احمد
وَكِيعٌ ، بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا سُورَةَ، فَإِنَّ أَخْذَهَا برَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبطَلَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23049]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 23050 مسند احمد
وَكِيعٌ ، بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِر ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِر ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَعَلَّمُوا عمران، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يَجِيئَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ يُحَاجَّانِ وَقَالَ وَكِيعٌ مَرَّةً: يُجَادِلَانِ عَنْ صَاحِبهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں، سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت سایہ کریں گی اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کریں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23050]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 23051 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعِيدُ بنُ سِنَانٍ وَهُوَ أَبو سِنَانٍ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بنُ سِنَانٍ وَهُوَ أَبو سِنَانٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: صَلَّى النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَنْ دَعَا لِلْجَمَلِ الْأَحْمَرِ؟، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا وَجَدْتَ، إِنَّمَا بنِيَتْ الْمَسَاجِدُ لِمَا بنِيَتْ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دیہاتی مسجد نبوی میں آیا اور اعلان کرنے لگا کہ نماز فجر کے بعد میرا سرخ اونٹ گم ہوگیا ہے مجھے اس کے بارے میں کون بتائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار فرمایا تجھے تیرا اونٹ نہ ملے یہ گھر (مساجد) اس مقصد کے لئے ہی بنائے گئے ہیں جس کے لئے بنائے گئے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23051]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 569
الحكم: حديث صحيح، م: 569
حدیث نمبر: 23052 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبو جَنَاب ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبو جَنَاب ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كُنْتُ نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، وَلَا تَقُولُوا هُجْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں پہلے قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو البتہ بیہودہ بات نہ کہنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23052]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، م: 977، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى جناب، لكنه توبع
حدیث نمبر: 23053 مسند احمد
وَكِيعٌ ، عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَبيهِ ، برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو کیونکہ جو شخص دین کے معاملے میں سختی کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23053]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 23054 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، فَقَالَ: " آجَرَكِ اللَّهُ، وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت مل گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23054]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1149
الحكم: إسناده صحيح، م: 1149