بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 127
صفحہ 1 از 7
حدیث نمبر: 22935 مسند احمد
رَوْحٌ ، عَلِيُّ بنُ سُوَيْدٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: اجْتَمَعَ عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بنُ بدْرٍ، وَالْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ، وَعَلْقَمَةُ بنُ عُلَاثَةَ، فَذَكَرُوا الْجُدُودَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمْ أَخْبرْتُكُمْ، جَدُّ بنِي عَامِرٍ جَمَلٌ أَحْمَرُ أَوْ آدَمُ يَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ، قَالَ وَأَحْسِبهُ قَالَ: فِي رَوْضَةٍ، وَغَطَفَانُ أَكَمَةٌ خَشَّاءُ تَنْفِي النَّاسَ عَنْهَا"، قَالَ: فَقَالَ الْأَقْرَعُ بنُ حَابسٍ: فَأَيْنَ جَدُّ بنِي تَمِيمٍ؟ قَالَ:" لَوْ سَكَتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں عیینہ بن بدر اقرع بن حابس اور علقمہ بن علاثہ جمع تھے یہ لوگ دادوں کا تذکرہ کرنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم لوگ خاموشی اختیار کرو تو میں تمہیں ان کی حقیقت بتاتا ہوں بنو عامر کا جد امجد تو اس سرخ یا گندمی اونٹ کی طرح ہے جو کسی باغ میں مختلف درختوں کے پتے کھا رہا ہو بنو غطفان کا جد امجد اس کھر درے ٹیلے کی طرح ہے جو لوگوں کو اپنے سے دور رکھتا ہے اس پر اقرع بن حابس نے کہا کہ بنو تمیم کا جد امجد کہاں گیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کاش! تم خاموش رہ سکتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22936 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ ، الْحُسَيْنُ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ ، أَخْبرَنَا الْحُسَيْنُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ جَالِسًا عَلَى حِرَاءٍ وَمَعَهُ أَبو بكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَتَحَرَّكَ الْجَبلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اثْبتْ حِرَاءُ، فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حراء پہاڑ لرزنے لگا جس پر اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابوبکر و عمر و عثمان غنی رضی اللہ عنہ موجود تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے حراء تھم جا تجھ پر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہیدوں کے علاوہ کوئی نہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22936]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22937 مسند احمد
عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابنَ شَقِيقٍ ، الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ الْحَسَنِ يَعْنِي ابنَ شَقِيقٍ ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " الْعَهْدُ الَّذِي بيْنَنَا وَبيْنَهُمْ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہمارے مشرکین کے درمیان فرق کرنے والی چیز نماز ہے لہٰذا جو شخص نماز چھوڑ دیتا ہے وہ کفر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22937]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22938 مسند احمد
أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، زُهَيْرٌ ، وَاصِلِ بنِ حِيانَ الْبجَلِيِّ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ وَاصِلِ بنِ حِيانَ الْبجَلِيِّ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم قَالَ: " الْكَمْأَةُ دَوَاءُ الْعَيْنِ، وَإِنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ، وَإِنَّ هَذِهِ الْحَبةَ السَّوْدَاءَ، قَالَ ابنُ برَيْدَةَ: يَعْنِي الشُّونِيزَ الَّذِي يَكُونُ فِي الْمِلْحِ دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا الْمَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کھنبی آنکھوں کے لئے علاج ہے عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہو موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22938]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، واصل بن حيان غلط فى اسمه زهير، والصواب: صالح بن حيان، وهذا ضعيف
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، واصل بن حيان غلط فى اسمه زهير، والصواب: صالح بن حيان، وهذا ضعيف
حدیث نمبر: 22939 مسند احمد
عَفَّانُ ، مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ ، أَبي ، قَتَادَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، أَنَّ نَبيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تَقُولُوا لِلْمُنَافِقِ: سَيِّدَنَا، فَإِنَّهُ إِنْ يَكُ سَيِّدَكُمْ، فَقَدْ أَسْخَطْتُمْ رَبكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا منافق کو اپنا آقا اور سردار مت کہا کرو کیونکہ اگر وہی تمہارا آقا ہو تو تم اپنے رب کو ناراض کرتے ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22939]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
الحكم: إسناده ضعيف، لا يعرف سماع قتادة من عبدالله بن بريدة
حدیث نمبر: 22940 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، أَبو سِنَانٍ ، مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْعَزِيزِ بنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهْلُ الْجَنَّةِ عِشْرُونَ وَمِائَةُ صَفٍّ، مِنْهُمْ ثَمَانُونَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ" ، وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً:" أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثَمَانُونَ صَفًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اہل جنت کی ایک سو بیس صفیں ہوں گی جن میں اسی صفیں صرف اس امت کی ہوں گی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22940]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22941 مسند احمد
زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حُسَيْنٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبي
حَدَّثَنَا زَيْدُ بنُ الْحُباب ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَأَبي عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَأَجْلَسَنَا عَلَى الْفُرُشِ، ثُمَّ أُتِينَا بالطَّعَامِ، فَأَكَلْنَا، ثُمَّ أُتِينَا بالشَّرَاب، فَشَرِب مُعَاوِيَةُ، ثُمَّ نَاوَلَ أَبي ، ثُمَّ قَالَ: " مَا شَرِبتُهُ مُنْذُ حَرَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ، ثم قَالَ مُعَاوِيَةُ: كُنْتُ أَجْمَلَ شَباب قُرَيْشٍ، وَأَجْوَدَهُ ثَغْرًا، وَمَا شَيْءٌ كُنْتُ أَجِدُ لَهُ لَذَّةً كَمَا كُنْتُ أَجِدُهُ وَأَنَا شَاب غَيْرُ اللَّبنِ، أَوْ إِنْسَانٍ حَسَنِ الْحَدِيثِ يُحَدِّثُنِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اور میرے والد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے انہوں نے ہمیں بستر پر بٹھایا پھر کھانا پیش کیا جو ہم نے کھایا پھر پینے کی لئے (نبیذ) لائی گئی جسے پہلے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے نوش فرمایا پھر میرے والد کو اس کا برتن پکڑا دیا تو وہ کہنے لگے کہ جب سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے میں نے اسے نہیں پیا پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں قریش کا خوبصورت ترین نوجوان تھا اور سب سے زیادہ عمدہ دانتوں والا تھا مجھے دودھ یا اچھی باتیں کرنے والے انسانوں کے علاوہ اس سے بڑھ کر کسی چیز میں لذت نہیں محسوس ہوتی تھی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22941]
حکم دارالسلام
إسناده قوي
الحكم: إسناده قوي
حدیث نمبر: 22942 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مَاعِزُ بنُ مَالِكٍ، فَقَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ"، فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَاهُ أَيْضًا، فَاعْترَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَقَالَ لَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعْ"، ثُمَّ أَرْسَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ، فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُمْ: " مَا تَعْلَمُونَ مِنْ مَاعِزِ بنِ مَالِكٍ الْأَسْلَمِيِّ؟ هَلْ تَرَوْنَ بهِ بأْسًا، أَوْ تُنْكِرُونَ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئَا؟"، قَالُوا: يَا نَبيَّ اللَّهِ، مَا نَرَى بهِ بأْسًا، وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، ثُمَّ عَادَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الثَّالِثَةَ، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا أَيْضًا، فَقَالَ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَأَرْسَلَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى قَوْمِهِ أَيْضًا، فَسَأَلَهُمْ عَنْهُ، فَقَالُوا لَهُ كَمَا قَالُوا لَهُ الْمَرَّةَ الْأُولَى: مَا نَرَى بهِ بأْسًا، وَمَا نُنْكِرُ مِنْ عَقْلِهِ شَيْئًا، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّابعَةَ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحُفِرَ لَهُ حُفْرَةً، فَجُعِلَ فِيهَا إِلَى صَدْرِهِ، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهُ ، وَقَالَ برَيْدَةُ: كُنَّا نَتَحَدَّثُ أَصْحَاب النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بيْنَنَا أَنَّ مَاعِزَ بنَ مَالِكٍ لَوْ جَلَسَ فِي رَحْلِهِ بعْدَ اعْتِرَافِهِ ثَلَاثَ مِرَارٍ، لَمْ يَطْلُبهُ، وَإِنَّمَا رَجَمَهُ عِنْدَ الرَّابعَةِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا کہ ماعز بن مالک نامی ایک آدمی آیا اور عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھ سے بدکاری کا گناہ سرزد ہوگیا ہے میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ اگلے دن وہ دوبارہ حاضر ہوا اور دوبارہ بدکاری کا اعتراف کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دوبارہ واپس بھیج دیا پھر ایک آدمی کو اس کی قوم میں بھیج کر ان سے پوچھا کہ تم لوگ ماعز بن مالک اسلمی کے متعلق کیا جانتے ہو؟ کیا تم اس میں کوئی نامناسب چیز دیکھتے ہو یا اس کی عقل میں کچھ نقص محسوس ہوتا ہے؟ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! ہم اس میں کوئی نامناسب بات نہیں دیکھتے اور اس کی عقل میں کوئی نقص بھی محسوس نہیں کرتے۔ پھر وہ تیسری مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور پھر بدکاری کا اعتراف کیا اور کہا کہ اے اللہ کے نبی! مجھے پاک کر دیجئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ اس کی قوم کی طرف ایک آدمی کو وہی سوال دے کر بھیجا تو انہوں نے حسب سابق جواب دہرایا پھر جب اس نے چوتھی مرتبہ اعتراف کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا اور اس کے لئے ایک گڑھا کھود دیا گیا اور اسے سینے تک اس گڑھے میں اتار دیا گیا پھر لوگوں کو اس پر پتھرم ارنے کا حکم دیا۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں یہ باتیں کیا کرتے تھے کہ اگر ماعز تین مرتبہ اعتراف کرنے کے بعد بھی اپنے گھر میں بیٹھ جاتے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں تلاش نہ کرواتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ اعتراف کے بعد ہی انہیں رجم فرمایا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1695، وقول بريدة الذى فى آخر الحديث تفرد به بشير بن المهاجر، وهو مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، لكن يعتبر به فى المتابعات والشواهد
الحكم: حديث صحيح، م: 1695، وقول بريدة الذى فى آخر الحديث تفرد به بشير بن المهاجر، وهو مختلف فيه، وهو إلى الضعف أقرب، لكن يعتبر به فى المتابعات والشواهد
حدیث نمبر: 22943 مسند احمد
الْأَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَبو إِسْرَائِيلَ ، حَارِثِ بنِ حَصِيرَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، برَيْدَةُ
حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بنُ عَامِرٍ ، أَخْبرَنَا أَبو إِسْرَائِيلَ ، عَنْ حَارِثِ بنِ حَصِيرَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أبيه، قَالَ: دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَإِذَا رَجُلٌ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ برَيْدَةُ: يَا مُعَاوِيَةُ، فَائْذَنْ لِي فِي الْكَلَامِ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ سَيَتَكَلَّمُ بمِثْلِ مَا قَالَ الْآخَرُ، فَقَالَ برَيْدَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَشْفَعَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدَدَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ وَمَدَرَةٍ" ، قَالَ: أَفَتَرْجُوهَا أَنْتَ يَا مُعَاوِيَةُ، وَلَا يَرْجُوهَا عَلِيُّ بنُ أَبي طَالِب رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟!.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہاں ایک آدمی بات کر رہا تھا حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا معاویہ! کیا آپ مجھے بولنے کی اجازت دیتے ہیں انہوں نے فرمایا ہاں! ان کا خیال یہ تھا کہ وہ بھی پہلے آدمی کی طرح کوئی بات کریں گے لیکن حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے امید ہے کہ قیامت کے دن میں اتنے لوگوں کی سفارش کروں گا جتنے زمین پر درخت اور مٹی ہے اے معاویہ! تم اس شفاعت کی امید رکھ سکتے ہو اور حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کی امید نہیں رکھ سکتے؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22943]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى إسرئيل
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى إسرئيل
حدیث نمبر: 22944 مسند احمد
الْخُزَاعِيُّ وَهُوَ أَبو سَلَمَةَ ، شَرِيكٌ ، أَبي بكْرِ بنِ أَحْمَرَ اسْمُهُ جِبرِيلُ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا الْخُزَاعِيُّ وَهُوَ أَبو سَلَمَةَ , أَخْبرَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي بكْرِ بنِ أَحْمَرَ اسْمُهُ جِبرِيلُ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ تُوُفِّيَ رَجُلٌ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَمْ يَدَعْ وَارِثًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْتَمِسُوا لَهُ وَارِثًا، الْتَمِسُوا لَهُ ذَا رَحِمٍ"، قَالَ: فَلَمْ يُوجَدْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ادْفَعُوهُ إِلَى أَكْبرِ خُزَاعَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ ازد کا ایک آدمی فوت ہوگیا اور پیچھے کوئی وارث چھوڑ کر نہیں گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا کوئی وارث تلاش کرو اس کا کوئی قریبی رشتہ دار تلاش کرو لیکن تلاش کے باوجود کوئی نہ مل سکا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس کا مال خزاعہ کے سب سے بڑے آدمی کو دے دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22944]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف والحديث منكر من أجل أبى بكر بن أحمر، وشريك سيء الحفظ، لكنه توبع إلا فى قوله: التمسوا له ذا رحم
الحكم: إسناده ضعيف والحديث منكر من أجل أبى بكر بن أحمر، وشريك سيء الحفظ، لكنه توبع إلا فى قوله: التمسوا له ذا رحم
حدیث نمبر: 22945 مسند احمد
الْفَضْلُ بنُ دُكَيْنٍ ، ابنُ أَبي غَنِيَّةَ ، الْحَكَمِ ، سَعِيدِ بنِ جُبيْرٍ ، ابنِ عَباسٍ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بنُ دُكَيْنٍ ، حَدَّثَنَا ابنُ أَبي غَنِيَّةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ جُبيْرٍ ، عَنِ ابنِ عَباسٍ ، عَنْ برَيْدَةَ ، قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ عَلِيٍّ الْيَمَنَ، فَرَأَيْتُ مِنْهُ جَفْوَةً، فَلَمَّا قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرْتُ عَلِيًّا، فَتَنَقَّصْتُهُ، فَرَأَيْتُ وَجْهَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَغَيَّرُ، فَقَالَ:" يَا برَيْدَةُ، أَلَسْتُ أَوْلَى بالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ؟"، قُلْتُ: بلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " مَنْ كُنْتُ مَوْلَاهُ، فَعَلِيٌّ مَوْلَاهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا لہٰذا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22945]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22946 مسند احمد
عَبدُ الصَّمَدِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عَبدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَطَيَّرُ مِنْ شَيْءٍ، وَلَكِنَّهُ كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَةً، سَأَلَ عَنِ اسْمِهَا، فَإِنْ كَانَ حَسَنًا رُئِيَ الْبشْرُ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَانَ قَبيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، وَكَانَ إِذَا بعَثَ رَجُلًا سَأَلَ عَنِ اسْمِهِ، فَإِنْ كَانَ حَسَنَ الِاسْمِ رُئِيَ الْبشْرُ فِي وَجْهِهِ، وَإِنْ كَانَ قَبيحًا رُئِيَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے شگون بد نہیں لیتے تھے البتہ جب کسی علاقے میں جانے کا ارادہ فرماتے تو پہلے اس کا نام پوچھتے اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر بشاشت کے اثرات دیکھے جاسکتے تھے اور اگر اس اس کا نام اچھا نہ ہوتا تو اس کے اثرات بھی چہرہ مبارک پر نظر آجاتے تھے اسی طرح جب کسی آدمی کو کہیں بھیجتے تھے تو پہلے اس کا نام پوچھتے تھے، اگر اس کا نام اچھا ہوتا تو بشاشت کے اثرات روئے مبارک پر دیکھے جاسکتے تھے اور اگر نام برا ہوتا تو اس کے اثرات بھی نظر آجاتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22946]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع قتادة من ابن بريدة
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، لا يعرف سماع قتادة من ابن بريدة
حدیث نمبر: 22947 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " بعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةُ جَمِيعًا، إِنْ كَادَتْ لَتَسْبقُنِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مجھے اور قیامت کو ایک ساتھ بھیجا گیا ہے قریب تھا کہ وہ مجھ سے پہلے آجاتی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22947]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22948 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، فَنَادَى ثَلَاثَ مِرَارٍ، فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، تَدْرُونَ مَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ؟"، قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" إِنَّمَا مَثَلِي وَمَثَلُكُمْ مَثَلُ قَوْمٍ خَافُوا عَدُوًّا يَأْتِيهِمْ، فَبعَثُوا رَجُلًا يَتَرَاءى لَهُمْ، فَبيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ، أَبصَرَ الْعَدُوَّ، فَأَقْبلَ لِيُنْذِرَهُمْ، وَخَشِيَ أَنْ يُدْرِكَهُ الْعَدُوُّ قَبلَ أَنْ يُنْذِرَ قَوْمَهُ، فَأَهْوَى بثَوْبهِ: أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ، أَيُّهَا النَّاسُ أُتِيتُمْ"، ثَلَاثَ مِرَارٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور تین مرتبہ پکار کر فرمایا لوگو! کیا تم جانتے ہو کہ میری اور تمہاری کیا مثال ہے؟ لوگوں نے کہا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں فرمایا کہ میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جسے اس کی قوم نے ہر اول کے طور پر بھیجا ہو جب اسے اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے آگے بڑھ جائے گا تو وہ اپنے کپڑے ہلا ہلا کر لوگوں کو خبردار کرے کہ تم پر دشمن آپہنچا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ آدمی میں ہوں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22948]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22949 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي"، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي"، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بنَ مَالِكٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبلَى، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي"، فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بالصَّبيِّ تَحْمِلُهُ، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ"، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ، جَاءَتْ بالصَّبيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبزٍ، قَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالصَّبيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبلَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ بحَجَرٍ، فَرَمَى رَأْسَهَا، فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبهَا، فَسَمِعَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ:" مَهْلًا يَا خَالِدُ بنَ الْوَلِيدِ، لَا تَسُبهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَقَدْ تَابتْ تَوْبةً لَوْ تَابهَا صَاحِب مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ"، فَأَمَرَ بهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ " غامد " سے ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس بھیج دیا اگلے دن وہ پھر آگئی اور دوبارہ اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگی کہ شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں واللہ میں تو " امید " سے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس چلی جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے چنانچہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوچکا تو وہ بچے کو اٹھائے ہوئے پھر آگئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! یہ بچہ پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ چنانچہ جب اس نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس وقت بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ بچہ ایک مسلمان کے حوالے کردیا اور اس عورت کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دے دیا پھر اسے سینے تک اس میں اتارا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اس پر پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا اس سے خون نکل کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے رخسار پر گرا انہوں نے اسے سخت سست کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا تو فرمایا رکو خالد! اسے برا بھلا مت کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصولی میں ظلم کرنے والا کرلے تو اس کی بھی بخشش ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22949]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقصة سب خالد بن الوليد الغامدية، وقصة انتظار الفطام للرجم تفرد بهما بشير فى حديث بريدة وهو مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وقصة سب خالد بن الوليد الغامدية، وقصة انتظار الفطام للرجم تفرد بهما بشير فى حديث بريدة وهو مختلف فيه
حدیث نمبر: 22950 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ الْمُهَاجِرِ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " تَعَلَّمُوا سُورَةَ، فَإِنَّ أَخْذَهَا برَكَةٌ، وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ، وَلَا يَسْتَطِيعُهَا الْبطَلَةُ"، قَالَ: ثُمَّ مَكَثَ سَاعَةً، ثُمَّ قَالَ:" تَعَلَّمُوا سُورَةَ عِمْرَانَ، فَإِنَّهُمَا الزَّهْرَاوَانِ يُظِلَّانِ صَاحِبهُمَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ، أَوْ غَيَايَتَانِ، أَوْ فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ، وَإِنَّ الْقُرْآنَ يَلْقَى صَاحِبهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حِينَ يَنْشَقُّ عَنْهُ قَبرُهُ كَالرَّجُلِ الشَّاحِب، فَيَقُولُ لَهُ: هَلْ تَعْرِفُنِي؟ فَيَقُولُ: مَا أَعْرِفُكَ، فَيَقُولُ: أَنَا صَاحِبكَ الْقُرْآنُ الَّذِي أَظْمَأْتُكَ فِي الْهَوَاجِرِ، وَأَسْهَرْتُ لَيْلَكَ، وَإِنَّ كُلَّ تَاجِرٍ مِنْ وَرَاءِ تِجَارَتِهِ، وَإِنَّكَ الْيَوْمَ مِنْ وَرَاءِ كُلِّ تِجَارَةٍ، فَيُعْطَى الْمُلْكَ بيَمِينِهِ، وَالْخُلْدَ بشِمَالِهِ، وَيُوضَعُ عَلَى رَأْسِهِ تَاجُ الْوَقَارِ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ لَهُمَا أَهْلُ الدُّنْيَا، فَيَقُولَانِ: بمَ كُسِينَا هَذِهِ؟ فَيُقَالُ: بأَخْذِ وَلَدِكُمَا الْقُرْآنَ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُ: اقْرَأْ، وَاصْعَدْ فِي دَرَجَةِ الْجَنَّةِ وَغُرَفِهَا، فَهُوَ فِي صُعُودٍ مَا دَامَ يَقْرَأُ، هَذًّا كَانَ، أَوْ تَرْتِيلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سورت بقرہ کو سیکھو کیونکہ اس کا حاصل کرنا برکت اور چھوڑنا حسرت ہے اور غلط کار لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے پھر تھوڑی دیر خاموش رہنے کے بعد فرمایا سورت بقرہ اور آل عمران دونوں کو سیکھو کیونکہ یہ دونوں روشن سورتیں اپنے پڑھنے والوں پر قیامت کے دن بادلوں سائبانوں یا پرندوں کی دو ٹولیوں کی صورت میں سایہ کریں گی اور قیامت کے دن جب انسان کی قبر شق ہوگی تو قرآن اپنے پڑھنے والے سے " جو لاغر آدمی کی طرح ہوگا ملے گا اور اس سے پوچھے گا کہ کیا تم مجھے پہچانتے ہو؟ وہ کہے گا کہ میں تمہیں نہیں پہچانتا، قرآن کہے گا کہ میں تمہارا وہی ساتھی قرآن ہوں جس نے تمہیں سخت گرم دو پہروں میں پیاسا رکھا اور راتوں کو جگایا ہر تاجر اپنی تجارت کے پیچھے ہوتا ہے آج بھی اپنی تجارت کے پیچھے ہوگے چنانچہ اس کے دائیں ہاتھ میں حکومت اور بائیں ہاتھ میں دوام دے دیا جائے گا اور اس کے سر پر وقار کا تاج رکھاجائے گا اور اس کے والدین کو ایسے جوڑے پہنائے جائیں گے جن کی قیمت ساری دنیا کے لوگ مل کر بھی ادا نہ کرسکیں گے اس کے والدین پوچھیں گے کہ ہمیں یہ لباس کس بنا پر پہنایا جا رہا ہے؟ تو جواب دیا جائے گا کہ تمہارے بچے کے قرآن حاصل کرنے کی برکت سے پھر اس سے کہا جائے کا کہ قرآن پڑھنا اور جنت کے درجات اور بالاخانوں پر چڑھنا شروع کردو چنانچہ جب تک وہ پڑھتا رہے گا چڑھتا رہے گا خواہ تیزی کے ساتھ پڑھے یا ٹھہر ٹھہر کر۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22950]
حکم دارالسلام
إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
الحكم: إسناده حسن فى المتابعات والشواهد من أجل بشير
حدیث نمبر: 22951 مسند احمد
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرُ بنُ مُهَاجِرٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرُ بنُ مُهَاجِرٍ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعْتُ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ أُمَّتِي يَسُوقُهَا قَوْمٌ عِرَاضُ الْأَوْجُهِ، صِغَارُ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْحَجَفُ، ثَلَاثَ مِرَارٍ حَتَّى يُلْحِقُوهُمْ بجَزِيرَةِ الْعَرَب، أَمَّا السَّائقَةُ الْأُولَى، فَيَنْجُو مَنْ هَرَب مِنْهُمْ، وَأَمَّا الثَّانِيَةُ، فَيَهْلِكُ بعْضٌ، وَيَنْجُو بعْضٌ، وَأَمَّا الثَّالِثَةُ، فَيُصْطَلُونَ كُلُّهُمْ مَنْ بقِيَ مِنْهُمْ"، قَالُوا: يَا نَبيَّ اللَّهِ، مَنْ هُمْ؟ قَالَ:" هُمْ التُّرْكُ، قَالَ: أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَيَرْبطُنَّ خُيُولَهُمْ إِلَى سَوَارِي مَسَاجِدِ الْمُسْلِمِينَ" ، قَالَ: وَكَانَ برَيْدَةُ لَا يُفَارِقُهُ بعِيرَانِ أَوْ ثَلَاثَةٌ، وَمَتَاعُ السَّفَرِ وَالْأَسْقِيَةُ، يُعْدَ ذَلِكَ لِلْهَرَب مِمَّا سَمِعَ مِنَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْبلَاءِ مِنْ أُمَرَاءِ التُّرْكِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں شریک تھا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میری امت کو چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والی ایک قوم ہانک دے گی جس کے چہرے ڈھال کی طرح ہوں گے (تین مرتبہ فرمایا) حتیٰ کہ وہ انہیں جزیرہ عرب میں پہنچا دیں گے۔ سابقہ اولیٰ کے وقت تو جو لوگ بھاگ جائیں گے وہ بچ جائیں گے سابقہ ثانیہ کے وقت کچھ لوگ ہلاک ہوجائیں گے اور کچھ بچ جائیں گے اور سابقہ ثالثہ کے وقت بچ جانے والے تمام افراد کھیت ہو رہیں گے لوگوں نے پوچھا اے اللہ کے نبی وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ترکی کے لوگ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے وہ اپنے گھوڑوں کو مسلمانوں کی مسجدوں کے ستونوں سے ضرور باندھیں گے ترکوں کے اس آزمائشی فتنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سننے کے بعد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ ہمیشہ اپنے ساتھ دو تین اونٹ سامان سفر اور مشکیزے تیار رکھتے تھے تاکہ فوری طور پر وہاں سے روانہ ہوسکیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22951]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد بشير
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد بشير
حدیث نمبر: 22952 مسند احمد
عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بنُ عُمَرَ ، أَخْبرَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: خَرَجَ برَيْدَةُ عِشَاءً، فَلَقِيَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا صَوْتُ رَجُلٍ يَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تُرَاهُ مُرَائِيًا؟"، فَأَسْكَتَ برَيْدَةُ، فَإِذَا رَجُلٌ يَدْعُو، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ، أو قال: والذي نفس محمد بيده، لَقَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب"، قَالَ: فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْقَابلَةِ خَرَجَ برَيْدَةُ عِشَاءً، فَلَقِيَهُ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذَ بيَدِهِ فَأَدْخَلَهُ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا صَوْتُ الرَّجُلِ يَقْرَأُ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَقُولُهُ مُرَائيًا؟"، فَقَالَ برَيْدَةُ: أَتَقُولُهُ مُرائيًا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا، بلْ مُؤْمِنٌ مُنِيب، لَا، بلْ مُؤْمِنٌ مُنِيب"، فَإِذَا الْأَشْعَرِيُّ يَقْرَأُ بصَوْتٍ لَهُ فِي جَانِب الْمَسْجِدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الْأَشْعَرِيَّ، أَوْ إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ قَيْسٍ، أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ دَاوُدَ"، فَقُلْتُ: أَلَا أُخْبرُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بلَى، فَأَخْبرْهُ"، فَأَخْبرْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتَ لِي صَدِيقٌ، أَخْبرْتَنِي عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بحَدِيثٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رات کو نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں داخل ہوگئے اچانک اس آدمی کی تلاوت قرآن کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔ اگلی رات حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ پھر عشاء کے بعد نکلے اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر مسجد میں داخل ہوگئے اور اسی طرح ایک آدمی کے قرآن پڑھنے کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ بریدہ رضی اللہ عنہ نے عرض یا رسول اللہ! کیا آپ اسے ریاکار سمجھتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دو مرتبہ فرمایا نہیں بلکہ یہ رجوع کرنے والا اور مومن ہے یہ آواز حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی تھی جو مسجد کے ایک کونے میں قرآن پڑھ رہے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اشعری کو حضرت داؤد علیہ السلام کے خوبصورت لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں انہیں یہ بات بتا نہ دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں بتادو چنانچہ میں نے انہیں یہ بات بتادی وہ کہنے لگے کہ آپ میرے دوست ہیں کہ آپ نے مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث بتائی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22952]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 793
الحكم: إسناده صحيح، م: 793
حدیث نمبر: 22953 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَباهُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، حَدَّثَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ أَنَّ أَباهُ " غَزَا مَعَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شرکت کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22953]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4473 ، م: 1814، وهذا إسناد ضعيف، سمع يزيد من الجريري بعد اختلاطه ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 4473 ، م: 1814، وهذا إسناد ضعيف، سمع يزيد من الجريري بعد اختلاطه ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 22954 مسند احمد
مُعْتَمِرٌ ، كَهْمَسٍ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: " غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سولہ غزوات میں شرکت کی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22954]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4473، م: 1814
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4473، م: 1814