بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 127
صفحہ 2 از 7
حدیث نمبر: 22955 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: أَتَى النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ، فَقَالَ: " صَلِّ مَعَنَا هَذَيْنِ"، فَأَمَرَ بلَالًا حِينَ طَلَعَ الْفَجْرُ فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَذَّنَ حِينَ زَالَتْ الشَّمْسُ الظُّهْرَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِب حِينَ غَاب حَاجِب الشَّمْسِ، ثُمَّ أَمَرَهُ حِينَ غَاب الشَّفَقُ، فَأَقَامَ الْعِشَاءَ فَصَلَّى، ثُمَّ أَمَرَهُ مِنَ الْغَدِ، فَأَقَامَ الْفَجْرَ، فَأَسْفَرَ بهَا، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَبرَدَ بالظُّهْرِ، فَأَنْعَمَ أَنْ يُبرِدَ بهَا، ثُمَّ صَلَّى الْعَصْرَ وَالشَّمْسُ بيْضَاءُ، أَخَّرَهَا فَوْقَ ذَلِكَ الَّذِي كَانَ، أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْمَغْرِب قَبلَ أَنْ يَغِيب الشَّفَقُ، ثُمَّ أَمَرَهُ فَأَقَامَ الْعِشَاءَ حِينَ ذَهَب ثُلُثُ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ الصَّلَاةِ؟"، قَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ:" وَقْتُ صَلَاتِكُمْ بيْنَ مَا رَأَيْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اوقات نماز کے حوالے سے پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا، انہوں نے فجر کی اقامت اس وقت کہی جب طلوع فجر ہوگئی اور لوگ ایک دوسرے کو پہچان نہیں سکتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے ظہر کی اقامت اس وقت کہی جب زوال شمس ہوگیا اور کوئی کہتا تھا کہ آدھا دن ہوگیا کوئی کہتا تھا نہیں ہوا لیکن وہ زیادہ جانتے تھے پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عصر کی اقامت اس وقت کہی جب سورج روشن تھا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے مغرب کی اقامت اس وقت کہی جب سورج غروب ہوگیا پھر انہیں حکم دیا انہوں نے عشاء کی اقامت اس وقت کہی جب شفق غروب ہوگئی پھر اگلے دن فجر کو اتنا مؤخر کیا کہ جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ کہنے لگے کہ سورج طلوع ہونے ہی والا ہے ظہر کو اتنا مؤخر کیا کہ وہ گزشتہ دن کی عصر کے قریب ہوگئی عصر کو اتنا مؤخر کیا کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگ کہنے لگے کہ سورج سرخ ہوگیا ہے مغرب کو سقوط شفق تک مؤخر کردیا اور عشاء کو رات کی پہلی تہائی تک مؤخر کردیا پھر سائل کو بلا کر فرمایا کہ نماز کا وقت ان دو وقتوں کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22955]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 613
الحكم: إسناده صحيح، م: 613
حدیث نمبر: 22956 مسند احمد
إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بنُ يُوسُفَ ، عَنْ عَبدِ الْمَلِكِ بنِ أَبي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ الْمَكِّيِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّ امْرَأَةً أَتَتْ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ، فَمَاتَتْ، وَإِنَّهَا رَجَعَتْ إِلَيَّ فِي الْمِيرَاثِ، قَالَ: " قد آجَرَكِ اللَّهُ، وَرَدَّ عَلَيْكِ فِي الْمِيرَاثِ"، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي مَاتَتْ وَلَمْ تَحُجَّ، فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَحُجَّ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَتْ: فَإِنَّ أُمِّي كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ، فَيُجْزِئُهَا أَنْ أَصُومَ عَنْهَا، قَالَ:" نَعَمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی اس نے کہا کہ میری والدہ حج کئے بغیر ہی فوت ہوگئی ہیں کیا میرا ان کی طرف سے حج کرنا ان کی لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! اس نے کہا کہ میری والدہ کے ذمے ایک ماہ کے روزے بھی فرض تھے کیا میرا ان کی طرف سے سے روزے رکھنا ان کے لئے کفایت کرسکتا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22956]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1149، غير أن قوله فيه: سليمان بن بريدة، وهم، والصواب: عبدالله ابن بريدة
الحكم: إسناده صحيح، م: 1149، غير أن قوله فيه: سليمان بن بريدة، وهم، والصواب: عبدالله ابن بريدة
حدیث نمبر: 22957 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، أَبي قِلَابةَ ، أَبي مَلِيحٍ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بنُ إِبرَاهِيمَ ، أَخْبرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ أَبي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ برَيْدَةَ فِي غَزَاةٍ فِي يَوْمٍ ذِي غَيْمٍ، فَقَالَ: بكِّرُوا بالصَّلَاةِ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ حَبطَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو ملیح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کسی غزوہ میں شریک تھے اس دن ابر چھایا ہوا تھا انہوں نے فرمایا جلدی نماز پڑھ لو کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22957]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 22958 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، ضِرَارٌ يَعْنِي ابنَ مُرَّةَ أَبو سِنَانٍ ، مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا ضِرَارٌ يَعْنِي ابنَ مُرَّةَ أَبو سِنَانٍ ، عَنْ مُحَارِب بنِ دِثَارٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَهَيْتُكُمْ عَنْ زِيَارَةِ الْقُبورِ، فَزُورُوهَا، وَنَهَيْتُكُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ أَنْ تُمْسِكُوهَا فَوْقَ ثَلَاثٍ، فَأَمْسِكُوهَا مَا بدَا لَكُمْ، وَنَهَيْتُكُمْ عَنِ النَّبيذِ إِلَّا فِي سِقَاءٍ، فَاشْرَبوا فِي الْأَسْقِيَةِ كُلِّهَا، وَلَا تَشْرَبوا مُسْكِرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا اب چلے جایا کرو نیز میں نے تمہیں تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت رکھنے کی ممانعت کی تھی اب جب تک چاہو رکھو نیز میں نے تمہیں مشکیزے کے علاوہ دوسرے برتنوں میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا اب جس برتن میں چاہو پی سکتے ہو البتہ نشہ آور چیز مت پینا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22958]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 977
الحكم: إسناده صحيح، م: 977
حدیث نمبر: 22959 مسند احمد
حَسَنُ بنُ مُوسَى ، شَيْبانُ ، يَحْيَى ، أَبي قِلَابةَ ، أَبي مَلِيحٍ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا شَيْبانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبي قِلَابةَ ، عَنْ أَبي مَلِيحٍ ، عَنْ برَيْدَةَ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ تَرَكَ صَلَاةَ الْعَصْرِ، فَقَدْ حَبطَ عَمَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص عصر کی نماز چھوڑ دے اس کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22959]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 553
الحكم: إسناده صحيح، خ: 553
حدیث نمبر: 22960 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْجُرَيْرِيِّ ، أَبي نَضْرَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبي نَضْرَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ مَوَلَةَ ، قَالَ: بيْنَمَا أَنَا أَسِيرُ بالْأَهْوَازِ، إِذَا أَنَا برَجُلٍ يَسِيرُ بيْنَ يَدَيَّ عَلَى بغْلٍ، أَوْ بغْلَةٍ، فَإِذَا هُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ ذَهَب قَرْنِي مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ، فَأَلْحِقْنِي بهِمْ، فَقُلْتُ: وَأَنَا فَأَدْخِلْ فِي دَعْوَتِكَ، قَالَ: وَصَاحِبي هَذَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ أُمَّتِي قَرْنِي مِنْهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، قَالَ: وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الثَّالِثَ، أَمْ لَا، ثُمَّ تَخْلُفُ أَقْوَامٌ يَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ، يُهْرِيقُونَ الشَّهَادَةَ، وَلَا يَسْأَلُونَهَا"، قَالَ: وَإِذَا هُوَ برَيْدَةُ الْأَسْلَمِيُّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن مولہ کہتے کہ ایک دن میں " اہواز " میں چل رہا تھا کہ ایک آدمی پر نظر پڑی جو مجھ سے آگے ایک خچر پر سوار چلا جا رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ اے اللہ! اس امت میں سے میرا دور گذر گیا ہے تو مجھے ان ہی میں شامل فرما میں نے کہا کہ مجھے بھی اپنی دعاء میں شامل کرلیجئے انہوں نے کہا کہ میرے ساتھی کو بھی اگر یہ چاہتا ہے پھر کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے میرے سب سے بہترین امتی میرے دور کے ہیں پھر ان کے بعد والے ہوں گے (تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں مجھے یاد نہیں) ان کے بعد ایسے لوگ آئیں گے جن میں موٹاپا غالب آجائے گا وہ مطالبہ کے بغیر گواہی دینے کے لئے تیار ہوں گے وہ صحابی حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22960]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 22961 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَعِيدِ بنِ عُبيْدَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: بعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَحَابةَ صَاحِبكُمْ؟"، قَالَ: فَإِمَّا شَكَوْتُهُ، أَوْ شَكَاهُ غَيْرِي، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا، قَالَ: فَإِذَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ، قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں، تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22961]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22962 مسند احمد
أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ أَبو مُعَاوِيَةَ: وَلَا أُرَاهُ سَمِعَهُ مِنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا يُخْرِجُ رَجُلٌ شَيْئًا مِنَ الصَّدَقَةِ حَتَّى يَفُكَّ عَنْهَا لَحْيَيْ سَبعِينَ شَيْطَانًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا انسان جو بھی صدقہ نکالتا ہے وہ اسے ستر شیطانوں کے جبڑوں سے چھڑا دیتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22962]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع، الأعمش لم يسمع من ابن بريدة
الحكم: إسناده منقطع، الأعمش لم يسمع من ابن بريدة
حدیث نمبر: 22963 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، أَبيهِ ، برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنَا عُيَيْنَةُ بنُ عَبدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنْ برَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ ذَاتَ يَوْمٍ لِحَاجَةٍ، فَإِذَا أَنَا بالنَّبيِّ عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ يَمْشِي بيْنَ يَدَيَّ، فَأَخَذَ بيَدِي فَانْطَلَقْنَا نَمْشِي جَمِيعًا، فَإِذَا نَحْنُ بيْنَ أَيْدِينَا برَجُلٍ يُصَلِّي يُكْثِرُ الرُّكُوعَ وَالسُّجُودَ، فَقَالَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتُرَاهُ يُرَائِي؟"، فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَتَرَكَ يَدِي مِنْ يَدِهِ، ثُمَّ جَمَعَ بيْنَ يَدَيْهِ، فَجَعَلَ يُصَوِّبهُمَا وَيَرْفَعُهُمَا، وَيَقُولُ: " عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، عَلَيْكُمْ هَدْيًا قَاصِدًا، فَإِنَّهُ مَنْ يُشَادَّ هَذَا الدِّينَ يَغْلِبهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابوبریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کہ ایک دن میں ٹہلتا ہوا نکلا تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جانب چہرے کا رخ کیا ہوا ہے میں سمجھا کہ شاید قضاء حاجت کے لئے جا رہے ہیں اس لئے میں ایک طرف کو ہو کر نکلنے لگا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھ لیا اور میری طرف اشارہ کیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ہم دونوں ایک طرف چلنے لگے اچانک ہم ایک آدمی کے قریب پہنچے جو نماز پڑھ رہا تھا اور کثرت سے رکوع و سجود کر رہا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ چھوڑ کر دونوں ہتھیلیوں کو اکٹھا کیا اور کندھوں کے برابر اٹھانے اور نیچے کرنے لگے اور تین مرتبہ فرمایا اپنے اوپر درمیانہ راستہ لازم کرلو کیونکہ جو شخص دین کے معاملہ میں سختی کرتا ہے وہ مغلوب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22963]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22964 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنِ الْمُثَنَّى بنِ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمُؤْمِنَ يَمُوتُ بعَرَقِ الْجَبينِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مسلمان آدمی کی موت پیشانی کے پسینے کی طرح (بڑی آسانی سے) واقع ہوجاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22964]
حکم دارالسلام
انظر: 23022, 23047
الحكم: انظر: 23022, 23047
حدیث نمبر: 22965 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بنِ مِغْوَلٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: سَمِعَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بأَنِّي أَشْهَدُ أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، الْأَحَدُ الصَّمَدُ، الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ، فَقَالَ: " قَدْ سَأَلَ اللَّهَ باسْمِ اللَّهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا سُئِلَ بهِ أَعْطَى، وَإِذَا دُعِيَ بهِ أَجَاب" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ رات کو نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملاقات ہوگئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا اور مسجد میں داخل ہوگئے اچانک اس آدمی کی تلاوت قرآن کی آواز آئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم اسے ریاکار سمجھتے ہو؟ بریدہ رضی اللہ عنہ خاموش رہے وہ آدمی یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کیونکہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی اللہ ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اکیلا ہے بےنیاز ہے اس کی کوئی اولاد ہے نہ وہ کسی کی اولاد ہے اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے اللہ کے اس اسم اعظم کا واسطہ دے کر سوال کیا ہے کہ جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ تعالیٰ ضرور عطا فرماتا ہے اور جب دعا کی جائے تو ضرور قبول فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22965]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22966 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، سُفْيَانَ ، عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بنُ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ النَّبيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصَّلَوَاتِ بوُضُوءٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّكَ صَنَعْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ! قَالَ: " عَمْدًا صَنَعْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22966]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 277
الحكم: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 22967 مسند احمد
يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، عَبدُ الْجَلِيلِ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، برَيْدَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبدُ الْجَلِيلِ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى حَلْقَةٍ فِيهَا أَبو مِجْلَزٍ، وَابنُ برَيْدَةَ، فَقَالَ عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ : حَدَّثَنِي أَبي برَيْدَةُ ، قَالَ: أَبغَضْتُ عَلِيًّا بغْضًا لَمْ يُبغَضْهُ أَحَدٌ قَطُّ، قَالَ: وَأَحْببتُ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ لَمْ أُحِبهُ إِلَّا عَلَى بغْضِهِ عَلِيًّا، قَالَ: فَبعِثَ ذَلِكَ الرَّجُلُ عَلَى خَيْلٍ، فَصَحِبتُهُ مَا أَصْحَبهُ إِلَّا عَلَى بغْضِهِ عَلِيًّا، قَالَ: فَأَصَبنَا سَبيًا، قَالَ: فَكَتَب إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابعَثْ إِلَيْنَا مَنْ يُخَمِّسُهُ، قَالَ: فَبعَثَ إِلَيْنَا عَلِيًّا، وَفِي السَّبيِ وَصِيفَةٌ هِيَ أَفْضَلُ مِنَ السَّبيِ، فَخَمَّسَ وَقَسَمَ، فَخَرَجَ رَأْسُهُ مُغَطًّى، فَقُلْنَا: يَا أَبا الْحَسَنِ، مَا هَذَا؟ قَالَ: أَلَمْ تَرَوْا إِلَى الْوَصِيفَةِ الَّتِي كَانَتْ فِي السَّبيِ؟ فَإِنِّي قد قَسَمْتُ وَخَمَّسْتُ، فَصَارَتْ فِي الْخُمُسِ، ثُمَّ صَارَتْ فِي أَهْلِ بيْتِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَارَتْ فِي آلِ عَلِيٍّ، وَوَقَعْتُ بهَا، قَالَ: فَكَتَب الرَّجُلُ إِلَى نَبيِّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: ابعَثْنِي، فَبعَثَنِي مُصَدِّقًا، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَقْرَأُ الْكِتَاب وَأَقُولُ: صَدَقَ، قَالَ: فَأَمْسَكَ يَدِي وَالْكِتَاب، وَقَالَ:" أَتُبغِضُ عَلِيًّا"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تَبغَضْهُ، وَإِنْ كُنْتَ تُحِبهُ فَازْدَدْ لَهُ حُبا، فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بيَدِهِ، لَنَصِيب آلِ عَلِيٍّ فِي الْخُمُسِ أَفْضَلُ مِنْ وَصِيفَةٍ"، قَال: فَمَا كَانَ مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ بعْدَ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَب إِلَيَّ مِنْ عَلِيٍّ ، قَالَ عَبدُ اللَّهِ: فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، مَا بيْنِي وَبيْنَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ غَيْرُ أَبي برَيْدَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابتداء مجھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اتنی نفرت تھی کہ کسی سے اتنی نفرت کبھی نہیں رہی تھی اور صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کی وجہ سے میں قریش کے ایک آدمی سے محبت رکھتا تھا ایک مرتبہ اس شخص کو چند شہسواروں کا سردار بنا کر بھیجا گیا تو میں بھی اس کے ساتھ چلا گیا اور صرف اس بنیاد پر کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نفرت کرتا تھا ہم لوگوں نے کچھ قیدی پکڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس یہ خط لکھا کہ ہمارے پاس کسی آدمی کو بھیج دیں جو مال غنیمت کا خمس وصول کرلے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ہمارے پاس بھیج دیا۔ ان قیدیوں میں " وصیفہ " بھی تھی جو قیدیوں میں سب سے عمدہ خاتون تھی حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خمس وصول کیا اور اسے تقسیم کردیا پھر وہ باہر آئے تو ان کا سر ڈھکا ہوا تھا ہم نے ان سے پوچھا اے ابوالحسن! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا تم نے وہ " وصیفہ " دیکھی تھی جو قیدیوں میں شامل تھی میں نے خمس وصول کیا تو وہ خمس میں شامل تھی پھر وہ اہل بیت نبوت میں آگئی اور وہاں سے آل علی میں آگئی اور میں نے اس سے مجامعت کی ہے اس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خط لکھ کر اس صورت حال سے آگاہ کیا میں نے اس سے کہا یہ خط میرے ہاتھ بھیجو چنانچہ اس نے مجھے اپنی تصدیق کرنے کے لئے بھیج دیا میں بارگاہ نبوت میں حاضر ہو کر خط پڑھنے لگا اور کہنے لگا کہ انہوں نے سچ کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس خط پر سے میرے ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے چنانچہ اس فرمان کے بعد میری نظروں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص محبوب نہ رہا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22967]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22968 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، شَرِيكٍ ، أَبو رَبيعَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، حَدَّثَنَا أَبو رَبيعَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِب مِنْ أَصْحَابي أَرْبعَةً، أَخْبرَنِي أَنَّهُ يُحِبهُمْ وَأَمَرَنِي أَنْ أُحِبهُمْ"، قَالُوا: مَنْ هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِنَّ عَلِيًّا مِنْهُمْ، وَأَبو ذَرٍّ الْغِفَارِيُّ، وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ، وَالْمِقْدَادُ بنُ الْأَسْوَدِ الْكِنْدِيُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ میرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے چار لوگوں سے محبت کرتا ہے اور اس نے مجھے بتایا ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے اور مجھے بھی ان سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ! وہ کون ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ان میں سے سے ایک تو علی ہیں دوسرے ابوذر غفاری تیسرے سلمان فارسی اور چوتھے مقداد بن اسود کندی ہیں۔ رضی اللہ عنہ۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22968]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك
حدیث نمبر: 22969 مسند احمد
ابن نمير ، مَالِكٌ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حدثنا ابن نمير , حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ عَبدَ اللَّهِ بنَ قَيْسٍ الْأَشْعَرِيَّ أُعْطِيَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عبداللہ بن قیس اشعری کو آل داؤد کے لہجوں میں سے ایک لہجہ دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22969]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 793
الحكم: إسناده صحيح، م: 793
حدیث نمبر: 22970 مسند احمد
ابنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبي دَاوُدَ ، برَيْدَةَ
حَدَّثَنَا ابنُ نُمَيْرٍ ، أَخْبرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبي دَاوُدَ , عَنْ برَيْدَةَ ، عَنِ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا، كَانَ لَهُ كُلَّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ، وَمَنْ أَنْظَرَهُ بعْدَ حِلِّهِ، كَانَ لَهُ مِثْلُهُ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم، صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی تنگدست (مقروض) کو مہلت دیدے تو اسے روزانہ صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے اور جو شخص وقت مقررہ گذرنے کے بعد اسے مہلت دے دے تو اسے روزانہ اتنی ہی مقدار (جو اس نے قرض میں دے رکھی ہے) صدقہ کرنے کا ثواب ملتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22970]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل أبى داود الأعمى، وقد اختلف عليه فيه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف جدا من أجل أبى داود الأعمى، وقد اختلف عليه فيه
حدیث نمبر: 22971 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ عَطَاءٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بجَارِيَةٍ، وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ: " آجَرَكِ اللَّهُ، وَرَدَّ عَلَيْكِ الْمِيرَاثَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ! میں نے اپنی والدہ کو ایک باندی صدقہ میں دی تھی والدہ کا انتقال ہوگیا اس لئے وراثت میں وہ باندی دوبارہ میرے پاس آگئی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس کا ثواب دے گا اور باندی بھی تمہیں وراثت میں مل گئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22971]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1149
الحكم: إسناده صحيح، م: 1149
حدیث نمبر: 22972 مسند احمد
مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، صَالِحٌ يَعْنِي ابنَ حَيَّانَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بنُ عُبيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحٌ يَعْنِي ابنَ حَيَّانَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي اثْنَيْنِ وَأَرْبعِينَ مِنْ أَصْحَابهِ، وَالنَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْمَقَامِ، وَهُمْ خَلْفَهُ جُلُوسٌ يَنْتَظِرُونَهُ، فَلَمَّا صَلَّى، أَهْوَى فِيمَا بيْنَهُ وَبيْنَ الْكَعْبةِ كَأَنَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَأْخُذَ شَيْئًا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى أَصْحَابهِ، فَثَارُوا، وَأَشَارَ إِلَيْهِمْ بيَدِهِ أَنْ اجْلِسُوا، فَجَلَسُوا، فَقَالَ:" رَأَيْتُمُونِي حِينَ فَرَغْتُ مِنْ صَلَاتِي أَهْوَيْتُ فِيمَا بيْنِي وَبيْنَ الْكَعْبةِ كَأَنِّي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ شَيْئًا؟"، قَالُوا: نَعَمْ، يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " إِنَّ الْجَنَّةَ عُرِضَتْ عَلَيَّ، فَلَمْ أَرَ مِثْلَ مَا فِيهَا، وَإِنَّهَا مَرَّتْ بي خَصْلَةٌ مِنْ عِنَب، فَأَعْجَبتْنِي، فَأَهْوَيْتُ إِلَيْهَا لِآخُذَهَا، فَسَبقَتْنِي، وَلَوْ أَخَذْتُهَا، لَغَرَسْتُهَا بيْنَ ظَهْرَانِيكُمْ حَتَّى تَأْكُلُوا مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ، وَاعْلَمُوا أَنَّ الْكَمْأَةَ دَوَاءُ الْعَيْنِ، وَأَنَّ الْعَجْوَةَ مِنْ فَاكِهَةِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ هَذِهِ الْحَبةَ السَّوْدَاءَ الَّتِي تَكُونُ فِي الْمِلْحِ اعْلَمُوا أَنَّهَا دَوَاءٌ مِنْ كُلِّ دَاءٍ، إِلَّا الْمَوْتَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ٢٤ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں شامل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مقام ابراہیم کے قریب نماز پڑھ رہے تھے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پیچھے بیٹھے انتظار کر رہے تھے نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کی جانب اس طرح بڑھے جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہے ہیں پھر واپس آئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کھڑے ہوگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دست مبارک سے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ لوگ بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کیا تم نے مجھے نماز سے فارغ ہو کر خانہ کعبہ کی طرف اس طرح بڑھتے ہوئے دیکھا تھا جیسے کوئی چیز پکڑنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ انہوں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا جس کی نعمتوں جیسی کوئی چیز میں نے کبھی نہیں دیکھی میرے سامنے سے انگوروں کا ایک خوشہ گذرا جو مجھے اچھا لگا میں اسے پکڑنے کے لئے آگے بڑھا تو وہ مجھ سے آگے نکل گیا اگر میں اسے پکڑ لیتا تو اسے تمہارے سامنے گاڑ دیتا تاکہ تم جنت کے میوے کھاتے اور جان رکھو کہ کھنبی آنکھوں کا علاج ہے اور عجوہ جنت کا میوہ ہے اور یہ کلونجی جو نمک میں ہوتی ہے موت کے علاوہ ہر بیماری کا علاج ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22972]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، صالح بن حيان ضعيف، ولبعضه شواهد يصح بها
الحكم: إسناده ضعيف، صالح بن حيان ضعيف، ولبعضه شواهد يصح بها
حدیث نمبر: 22973 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ فَتْحُ مَكَّةَ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: رَأَيْتُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَنَعْتَ الْيَوْمَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَصْنَعُهُ! قَالَ: " عَمْدًا صَنَعْتُهُ يَا عُمَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ فتح کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک ہی وضو سے کئی نمازیں پڑھیں تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آج تو آپ نے وہ کام کیا ہے جو پہلے کبھی نہیں کیا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے جان بوجھ کر ایسا کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22973]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 277
الحكم: إسناده صحيح، م: 277
حدیث نمبر: 22974 مسند احمد
وَكِيعٌ ، شَرِيكٌ ، أَبي رَبيعَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبي رَبيعَةَ ، عَنْ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُتْبعْ النَّظْرَةَ النَّظْرَةَ، فَإِنَّمَا لَكَ الْأُولَى، وَلَيْسَتْ لَكَ الْآخِرَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نامحرم عورت پر ایک مرتبہ نظر پڑجانے کے بعد دوبارہ نظر مت ڈالا کرو کیونکہ پہلی نظر تمہیں معاف ہے لیکن دوسری نظر معاف نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22974]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف أبى ربيعة وشريك