أَبو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، سَعِيدِ بنِ عُبيْدَةَ ، ابنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ سَعِيدِ بنِ عُبيْدَةَ ، عَنِ ابنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: بعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمْنَا، قَالَ:" كَيْفَ رَأَيْتُمْ صَحَابةَ صَاحِبكُمْ؟"، قَالَ: فَإِمَّا شَكَوْتُهُ، أَوْ شَكَاهُ غَيْرِي، قَالَ: فَرَفَعْتُ رَأْسِي وَكُنْتُ رَجُلًا مِكْبابا، قَالَ: فَإِذَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَدْ احْمَرَّ وَجْهُهُ، قَالَ: وَهُوَ يَقُولُ: " مَنْ كُنْتُ وَلِيَّهُ، فَعَلِيٌّ وَلِيُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں یمن میں جہاد کے موقع پر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ شریک تھا مجھے ان کی طرف سے سختی کا سامنا ہوا جب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتے ہوئے ان کی شان میں کوتاہی کی میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کا رنگ تبدیل ہو رہا ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے بریدہ! کیا مجھے مسلمانوں پر ان کی اپنی جانوں سے زیادہ حق نہیں ہے؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں جس کا محبوب ہوں، تو علی بھی اس کے محبوب ہونے چاہئیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22961]
الحكم: إسناده صحيح