بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22949
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22949
حدیث نمبر: 22949 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَبو نُعَيْمٍ ، بشِيرٌ ، عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا أَبو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا بشِيرٌ ، حَدَّثَنِي عَبدُ اللَّهِ بنُ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنْ غَامِدٍ، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي"، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ تُطَهِّرَنِي، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي"، فَلَمَّا أَنْ كَانَ مِنَ الْغَدِ أَتَتْهُ أَيْضًا، فَاعْتَرَفَتْ عِنْدَهُ بالزِّنَا، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، طَهِّرْنِي، فَلَعَلَّكَ أَنْ تَرُدَّنِي كَمَا رَدَدْتَ مَاعِزَ بنَ مَالِكٍ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَحُبلَى، فَقَالَ لَهَا النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْجِعِي حَتَّى تَلِدِي"، فَلَمَّا وَلَدَتْ جَاءَتْ بالصَّبيِّ تَحْمِلُهُ، فَقَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، هَذَا قَدْ وَلَدْتُ، قَالَ:" فَاذْهَبي فَأَرْضِعِيهِ حَتَّى تَفْطِمِيهِ"، فَلَمَّا فَطَمَتْهُ، جَاءَتْ بالصَّبيِّ فِي يَدِهِ كِسْرَةُ خُبزٍ، قَالَتْ: يَا نَبيَّ اللَّهِ، هَذَا قَدْ فَطَمْتُهُ، فَأَمَرَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بالصَّبيِّ فَدَفَعَهُ إِلَى رَجُلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَ بهَا فَحُفِرَ لَهَا حُفْرَةٌ، فَجُعِلَتْ فِيهَا إِلَى صَدْرِهَا، ثُمَّ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَرْجُمُوهَا، فَأَقْبلَ خَالِدُ بنُ الْوَلِيدِ بحَجَرٍ، فَرَمَى رَأْسَهَا، فَنَضَحَ الدَّمُ عَلَى وَجْنَةِ خَالِدٍ فَسَبهَا، فَسَمِعَ النَّبيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبهُ إِيَّاهَا، فَقَالَ:" مَهْلًا يَا خَالِدُ بنَ الْوَلِيدِ، لَا تَسُبهَا، فَوَالَّذِي نَفْسِي بيَدِهِ لَقَدْ تَابتْ تَوْبةً لَوْ تَابهَا صَاحِب مَكْسٍ لَغُفِرَ لَهُ"، فَأَمَرَ بهَا، فَصَلَّى عَلَيْهَا، وَدُفِنَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ " غامد " سے ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! مجھ سے بدکاری کا ارتکاب ہوگیا ہے چاہتی ہوں کہ آپ مجھے پاک کردیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے واپس بھیج دیا اگلے دن وہ پھر آگئی اور دوبارہ اعتراف کرتے ہوئے کہنے لگی کہ شاید آپ مجھے بھی ماعز کی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں واللہ میں تو " امید " سے ہوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا واپس چلی جاؤ یہاں تک کہ بچہ پیدا ہوجائے چنانچہ جب اس کے یہاں بچہ پیدا ہوچکا تو وہ بچے کو اٹھائے ہوئے پھر آگئی اور کہنے لگی کہ اے اللہ کے نبی! یہ بچہ پیدا ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاؤ اور اسے دودھ پلاؤ چنانچہ جب اس نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا تو وہ بچے کو لے کر آئی اس وقت بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگی اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ بھی چھڑا دیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ بچہ ایک مسلمان کے حوالے کردیا اور اس عورت کے لئے گڑھا کھودنے کا حکم دے دیا پھر اسے سینے تک اس میں اتارا گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اس پر پتھر مارنے کا حکم دیا حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کے سر پر مارا اس سے خون نکل کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے رخسار پر گرا انہوں نے اسے سخت سست کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سنا تو فرمایا رکو خالد! اسے برا بھلا مت کہو اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ٹیکس وصولی میں ظلم کرنے والا کرلے تو اس کی بھی بخشش ہوجائے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر اسے نماز جنازہ پڑھ کر دفن کیا گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22949]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقصة سب خالد بن الوليد الغامدية، وقصة انتظار الفطام للرجم تفرد بهما بشير فى حديث بريدة وهو مختلف فيه
الحكم: حديث صحيح، وقصة سب خالد بن الوليد الغامدية، وقصة انتظار الفطام للرجم تفرد بهما بشير فى حديث بريدة وهو مختلف فيه
← پچھلی حدیث (22948) باب پر واپس اگلی حدیث (22950) →