رَوْحٌ ، عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، أَبيهِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بنُ سُوَيْدِ بنِ مَنْجُوفٍ ، عَنْ عَبدِ اللَّهِ بنِ برَيْدَةَ ، عَنْ أَبيهِ ، قَالَ: بعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا إِلَى خَالِدِ بنِ الْوَلِيدِ لِيَقْسِمَ الْخُمُسَ، وَقَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: لِيَقْبضَ الْخُمُسَ، قَالَ: فَأَصْبحَ عَلِيٌّ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، قَالَ: فَقَالَ خَالِدٌ لِبرَيْدَةَ: أَلَا تَرَى إِلَى مَا يَصْنَعُ هَذَا لِمَا صَنَعَ عَلِيٌّ؟! قَالَ: وَكُنْتُ أُبغِضُ عَلِيًّا، قَالَ: فَقَالَ:" يَا برَيْدَةُ، أَتُبغِضُ عَلِيًّا؟"، قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: " فَلَا تُبغِضْهُ، قَالَ رَوْحٌ مَرَّةً: فَأَحِبهُ، فَإِنَّ لَهُ فِي الْخُمُسِ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس خمس تقسیم کرنے کے لئے بھیج دیا۔۔۔۔۔۔ صبح ہوئی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا حضرت خالد رضی اللہ عنہ نے بریدہ سے کہا کہ آپ دیکھ رہے ہو کہ علی نے کیا کیا ہے؟ مجھے بھی حضرت علی رضی اللہ عنہ سے بغض تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم علی سے نفرت کرتے ہو؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اس سے نفرت نہ کرو بلکہ اگر محبت کرتے ہو تو اس میں مزید اضافہ کردو کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے خمس میں آل علی کا حصہ " وصیفہ " سے بھی افضل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4350
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4350