بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 151
صفحہ 6 از 8
حدیث نمبر: 22086 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، زَائِدَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا زَائِدَةُ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ , عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: اسْتَبَّ رَجُلَانِ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَغَضِبَ أَحَدُهُمَا حَتَّى أَنَّهُ لَيُتَخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّ أَنْفَهُ لَيَتَمَزَّعُ مِنَ الْغَضَبِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنِّي لَأَعْلَمُ كَلِمَةً لَوْ يَقُولُهَا هَذَا الْغَضْبَانُ لَذَهَبَ عَنْهُ الْغَضَبُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں دو آدمیوں کے درمیان تلخ کلامی ہوگئی اور ان میں سے ایک آدمی کو اتنا غصہ آیا کہ اب تک خیالی تصورات میں میں اس کی ناک کو دیکھ رہا ہوں جو غصے کی وجہ سے سرخ ہو رہی تھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں جو اگر یہ غصے میں مبتلا آدمی کہہ لے تو اس کا غصہ دور ہوجائے اور وہ کلمہ یہ ہے " اللہم انی اعوذبک میں الشیطان الرجیم "۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22086]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على عبدالملك بن عمير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على عبدالملك بن عمير
حدیث نمبر: 22087 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ , عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ , وَحَجَّ الْبَيْتَ الْحَرَامَ , وَصَامَ رَمَضَانَ , وَلَا أَدْرِي أَذَكَرَ الزَّكَاةَ أَمْ لَا؟ كَانَ حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ إِنْ هَاجَرَ فِي سَبِيلِهِ , أَوْ مَكَثَ بِأَرْضِهِ الَّتِي وُلِدَ بِهَا" , فَقَالَ مُعَاذٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَأُخْبِرُ النَّاسَ , قَالَ:" ذَرْ النَّاسَ يَا مُعَاذُ , فِي الْجَنَّةِ مِائَةُ دَرَجَةٍ , مَا بَيْنَ كُلِّ دَرَجَتَيْنِ مِائَةُ سَنَةٍ , وَالْفِرْدَوْسُ أَعْلَى الْجَنَّةِ وَأَوْسَطُهَا , وَمِنْهَا تَفَجَّرُ أَنْهَارُ الْجَنَّةِ , فَإِذَا سَأَلْتُمْ اللَّهَ فَاسْأَلُوهُ الْفِرْدَوْسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص پنج گانہ نماز ادا کرتا ہو بیت اللہ کا حج کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے اور اللہ پر حق ہے خواہ وہ ہجرت کرے یا اسی علاقے میں رہے جہاں وہ پیدا ہوا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا معاذ! انہیں عمل کرتے رہنے دو جنت میں سو درجے ہیں اور ہر دو درجوں کے درمیان سو سال کا فاصلہ ہے اور فردوس جنت کا سب سے اعلیٰ اور بہترین درجہ ہے اسی سے جنت کی نہریں پھوٹتی ہیں اس لئے تم جب اللہ سے سوال کیا کرو تو جنت الفردوس ہی کا سوال کیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22087]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على زيد بن أسلم وعلى عطاء بن يسار
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء لم يسمع من معاذ، وقد اختلف فيه على زيد بن أسلم وعلى عطاء بن يسار
حدیث نمبر: 22088 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ , حَدَّثَنَا مَسَرَّةُ بْنُ مَعْبَدٍ , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: قَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " سَتُهَاجِرُونَ إِلَى الشَّامِ , فَيُفْتَحُ لَكُمْ , وَيَكُونُ فِيكُمْ دَاءٌ كَالدُّمَّلِ , أَوْ كَالْحَرَّةِ , يَأْخُذُ بِمَرَاقِ الرَّجُلِ , يَسْتَشْهِدُ اللَّهُ بِهِ أَنْفُسَهُمْ , وَيُزَكِّي بِهَ أَعْمَالَهُمْ" , اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَعْطِهِ هُوَ وَأَهْلَ بَيْتِهِ الْحَظَّ الْأَوْفَرَ مِنْهُ , فَأَصَابَهُمْ الطَّاعُونُ فَلَمْ يَبْقَ مِنْهُمْ أَحَدٌ , فَطُعِنَ فِي أُصْبُعِهِ السَّبَّابَةِ , فَكَانَ يَقُولُ مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي بِهَا حُمْرَ النَّعَمِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تم شام کی طرف ہجرت کرو گے اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہوجائے گا لیکن وہاں پھوڑے پھنسیوں کی ایک بیماری تم پر مسلط ہوجائے گی جو آدمی کو سیڑھی کے پائے سے پکڑ لے گا اللہ اس کے ذریعے انہیں شہادت عطاء فرمائے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ فرمائے گا اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ حدیث سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس کا وافر حصہ عطاء فرماء چنانچہ وہ سب طاعون میں مبتلا ہوگئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہ بچاجب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کی شہادت والی انگلی میں طاعون کی گلٹی نمودار ہوئی تو وہ اسے دیکھ دیکھ کر فرماتے تھے کہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ ملنا بھی پسند نہیں ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22088]
حکم دارالسلام
المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إسماعيل بن عبيد الله لم يدرك معاذا
الحكم: المرفوع منه صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، إسماعيل بن عبيد الله لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22089 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ , فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ , فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ , ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ: انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ , قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ , فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ , ثُمَّ قَالَ: " قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا , أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ , فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ , وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ , فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22089]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22090 مسند احمد
عَفَّانُ ، خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ ، يَحْيَى التَّيْمِيُّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي الطَّحَّانَ , حدثَنَا يَحْيَى التَّيْمِيُّ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يُتَوَفَّى لَهُمَا ثَلَاثَةٌ , إِلَّا أَدْخَلَهُمَا اللَّهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ إِيَّاهُمَا" , فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَوْ اثْنَانِ , قَالَ:" أَوْ اثْنَانِ" , قَالُوا: أَوْ وَاحِدٌ , قَالَ:" أَوْ وَاحِدٌ" , ثُمَّ قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّ السِّقْطَ لَيَجُرُّ أُمَّهُ بِسَرَرِهِ إِلَى الْجَنَّةِ إِذَا احْتَسَبَتْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جن دو مسلمان میاں بیوی کے تین بچے فوت ہوجائیں، اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل و کرم سے جنت میں داخل فرما دے گا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے پوچھا یا رسول اللہ! اگر دو بچے ہوں تو؟ فرمایا ان کا بھی یہی حکم ہے انہوں نے پوچھا اگر ایک ہو تو؟ فرمایا اس کا بھی یہی حکم ہے پھر فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، نامکمل حمل بھی اپنی ماں کو کھینچ کر جنت میں لے جائے گا بشرطیکہ اس نے اس پر صبر کیا ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22090]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قصة السقط فى آخره وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى التيمي
الحكم: صحيح لغيره دون قصة السقط فى آخره وهذا إسناد ضعيف لضعف يحيى التيمي
حدیث نمبر: 22091 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ" , وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22092 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، وَثَابِتٌ ، عَاصِمٌ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، أَبِي ظَبْيَةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَعَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , وَثَابِتٌ , فَحَدَّثَ عَاصِمٌ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَبِي ظَبْيَةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَبِيتُ عَلَى ذِكْرِ اللَّهِ طَاهِرًا فَيَتَعَارَّ مِنَ اللَّيْلِ , فَيَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , إِلَّا أَعْطَاهُ" , فَقَالَ ثَابِتٌ: قَدِمَ عَلَيْنَا , فَحَدَّثَنَا هَذَا الْحَدِيثَ , وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا يَعْنِي أَبَا ظَبْيَةَ , قُلْتُ لِحَمَّادٍ: عَنْ مُعَاذٍ؟ قَالَ: عَنْ مُعَاذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو مسلمان باوضو ہو کر اللہ کا ذکر کرتے ہوئے رات کو سوتا ہے پھر رات کے کسی حصے میں بیدار ہو کر اللہ سے دنیا و آخرت کی جس خیر کا بھی سوال کرتا ہے اللہ اسے وہ ضرور عطاء فرماتا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح من جهة ثابت، ومن جهة عاصم ضعيف لضعف شهر بن حوشب
الحكم: إسناده صحيح من جهة ثابت، ومن جهة عاصم ضعيف لضعف شهر بن حوشب
حدیث نمبر: 22093 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ ، عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي خَمْسٍ , مَنْ فَعَلَ مِنْهُنَّ كَانَ ضَامِنًا عَلَى اللَّهِ: " مَنْ عَادَ مَرِيضًا , أَوْ خَرَجَ مَعَ جَنَازَةٍ , أَوْ خَرَجَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ , أَوْ دَخَلَ عَلَى إِمَامٍ يُرِيدُ بِذَلِكَ تَعْزِيرَهُ وَتَوْقِيرَهُ , أَوْ قَعَدَ فِي بَيْتِهِ فَيَسْلَمُ النَّاسُ مِنْهُ , وَيَسْلَمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانچ چیزوں کے متعلق ہم سے وعدہ کیا ہے کہ جو شخص وہ کام کرے گا وہ اللہ کی حفاظت میں ہوگا، مریض کی تیماداری کرنے والا، جنازے میں شریک ہونے والا، اللہ کے راستہ میں جہاد کے لئے جانے والا، امام کے پاس جا کر اس کی عزت و احترام کرنے والا، یا وہ آدمی جو اپنے گھر میں بیٹھ جائے کہ لوگ اس کی ایذاء سے محفوظ رہیں اور وہ لوگوں کی ایذاء سے محفوظ رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22093]
حکم دارالسلام
حديث حسن، إسناده حسن
الحكم: حديث حسن، إسناده حسن
حدیث نمبر: 22094 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَامِرِ بْنِ وَاثِلَةَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " كَانَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ زَيْغِ الشَّمْسِ , أَخَّرَ الظُّهْرَ حَتَّى يَجْمَعَهَا إِلَى الْعَصْرِ , يُصَلِّيهِمَا جَمِيعًا , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ زَيْغِ الشَّمْسِ صَلَّى الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ثُمَّ سَارَ , وَكَانَ إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ الْمَغْرِبِ أَخَّرَ الْمَغْرِبَ حَتَّى يُصَلِّيَهَا مَعَ الْعِشَاءِ , وَإِذَا ارْتَحَلَ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , عَجَّلَ الْعِشَاءَ فَصَلَّاهَا مَعَ الْمَغْرِبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زوال سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو مؤخر کردیتے اور عصر کے وقت دونوں نمازیں ملا کر اکٹھی ادا کرلیتے اور اگر زوال کے بعد کوچ فرماتے تو پہلے ظہر اور عصر دونوں پڑھ لیتے اور اگر مغرب کے بعد روانہ ہوتے تو نماز عشاء کو پہلے ہی مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے پھر روانہ ہوتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22094]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات،لكن أشار بعض أهل العلم إلى تفرد قتيبة به
الحكم: رجاله ثقات،لكن أشار بعض أهل العلم إلى تفرد قتيبة به
حدیث نمبر: 22095 مسند احمد
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ هَارُونَ , حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ , أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ قَاضِي إِفْرِيقِيَّةَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَدِمَ الشَّامَ , وَأَهْلُ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ , فَقَالَ لِمُعَاوِيَةَ: مَا لِي أَرَى أَهْلَ الشَّامِ لَا يُوتِرُونَ؟! فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: وَوَاجِبٌ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ؟ قَالَ: نَعَمْ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " زَادَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ صَلَاةً وَهِيَ الْوِتْرُ , وَقْتُهَا مَا بَيْنَ الْعِشَاءِ إِلَى طُلُوعِ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب ملک شام تشریف لائے تو معلوم ہوا کہ اہل شام وتر نہیں پڑھتے انہوں نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا کیا بات ہے کہ میں اہل شام کو وتر پڑھتے ہوئے نہیں دیکھتا؟ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا یہ ان پر واجب ہے؟ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جی ہاں! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میرے رب نے مجھ پر ایک نماز کا اضافہ فرمایا ہے اور وہ وتر ہے جس کا وقت نماز عشاء اور طلوع فجر کے درمیان ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 22096 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا رَدِيفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ , وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ: ثُمَّ سَارَ سَاعَةً , ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" قُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ , قَالَ:" فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" فَإِنَّ حَقَّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان صرف کجاوے کا پچھلا حصہ حائل تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6267، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6267، م: 30
حدیث نمبر: 22097 مسند احمد
هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ أَوْ مِثْلَهُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22097]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 22098 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ , حَدَّثَنِي أَبِي , حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ إِلَّا آخِرَةُ الرَّحْلِ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22098]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22099 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي رَزِينٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: بَلَى , قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا لاحول ولاقوۃ الاباللہ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22099]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذ بن جبل
الحكم: صحيح لغيره، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذ بن جبل
حدیث نمبر: 22100 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو عَوْنٍ ، الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو ، أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ , قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو ابْنَ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ: " كَيْفَ تَقْضِي إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟" , قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ" , قَالَ: فَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سَنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي , فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ عرض کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرمادی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22100]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الإبهام أصحاب معاذ، وجهالة الحارث بن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف الإبهام أصحاب معاذ، وجهالة الحارث بن عمرو
حدیث نمبر: 22101 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ بَحِيرِ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُؤْذِي امْرَأَةٌ زَوْجَهَا فِي الدُّنْيَا , إِلَّا قَالَتْ زَوْجَتُهُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ: لَا تُؤْذِيهِ قَاتَلَكِ اللَّهُ , فَإِنَّمَا هُوَ عِنْدَكِ دَخِيلٌ يُوشِكُ أَنْ يُفَارِقَكِ إِلَيْنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب کوئی عورت دنیا میں اپنے شوہر کو تکلیف پہنچاتی ہے تو جنت میں اس شخص کی حور عین میں سے جو بیوی ہوتی ہے وہ اس عورت سے کہتی ہے کہ اسے مت ستاؤ، اللہ تمہارا ستیاناس کرے یہ تو تمہارے پاس چند دن کا مہمان ہے عنقریب یہ تم سے جدا ہو کر ہمارے پاس آجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22101]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22102 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَفَاتِيحُ الْجَنَّةِ شَهَادَةُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا جنت کی کنجی " لا الہ الا اللہ " کی گواہی دینا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22102]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، ولم يدرك معاذا، ورواية إسماعيل عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
الحكم: إسناده ضعيف، شهر بن حوشب ضعيف، ولم يدرك معاذا، ورواية إسماعيل عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
حدیث نمبر: 22103 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًا سورة السجدة آية 16 قَالَ: قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " ان کے پہلو اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں " سے مراد رات کے وقت انسان کا تہجد کے لئے اٹھنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22103]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22104 مسند احمد
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَمِيرَةَ , قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ , قِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَوْصِنَا , قَالَ: أَجْلِسُونِي , فَقَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنْ ابْتَغَاهُمَا , وَجَدَهُمَا يَقُولُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , فَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ , وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ , وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ , وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ , الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو کسی نے ان سے کہا اے ابوعبدالرحمن! ہمیں کوئی وصیت فرما دیجئے انہوں نے فرمایا مجھے بٹھا دو اور فرمایا علم اور ایمان اپنی اپنی جگہ رہتے ہیں جو ان کی تلاش میں نکلتا ہے وہی انہیں پاتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا پھر فرمایا چار آدمیوں سے علم حاصل کرو، حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جو پہلے یہودی تھے بعد میں مسلمان ہوگئے تھے اور ان کے متعلق میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ جنت میں دس افراد میں سے دسویں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22105 مسند احمد
سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، وَيُونُسُ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، السَّرِيِّ بْنِ يَنْعُمَ ، مَرِيحِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ النُّعْمَانِ , وَيُونُسُ , قَالَا: حدثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنِ السَّرِيِّ بْنِ يَنْعُمَ , عَنْ مَرِيحِ بْنِ مَسْرُوقٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ بِهِ إِلَى الْيَمَنِ , قَالَ: " إِيَّاكَ وَالتَّنَعُّمَ , فَإِنَّ عِبَادَ اللَّهِ لَيْسُوا بِالْمُتَنَعِّمِين" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو فرمایا ناز و نعم کی زندگی سے بچنا کیونکہ اللہ کے بندے ناز و نعم کی زندگی نہیں گذارا کرتے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22105]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف بقية ، وهو مدلس يدلس تدليس التسوية، وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف لضعف بقية ، وهو مدلس يدلس تدليس التسوية، وقد عنعن