بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22100
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22100
حدیث نمبر: 22100 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو عَوْنٍ ، الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو ، أَصْحَابِ مُعَاذٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , أَخْبَرَنِي أَبُو عَوْنٍ , قَالَ: سَمِعْتُ الْحَارِثَ بْنَ عَمْرٍو ابْنَ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَذَكَرَ: " كَيْفَ تَقْضِي إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟" , قَالَ: أَقْضِي بِكِتَابِ اللَّهِ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ" , قَالَ: فَسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سَنَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" , قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي وَلَا آلُو , قَالَ: فَضَرَبَ صَدْرِي , فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ عرض کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرمادی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22100]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الإبهام أصحاب معاذ، وجهالة الحارث بن عمرو
الحكم: إسناده ضعيف الإبهام أصحاب معاذ، وجهالة الحارث بن عمرو
← پچھلی حدیث (22099) باب پر واپس اگلی حدیث (22101) →