بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 151
صفحہ 1 از 8
حدیث نمبر: 21986 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حدثنا عبد الله , حدثني أبى , فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِهِمْ , أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ , لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21986]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو ظبيان لم يدرك معاذا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو ظبيان لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 21987 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، أَبَا ظَبْيَانَ ، رَجُلٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ظَبْيَانَ يُحَدِّثُ , عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: أَقْبَلَ مُعَاذٌ مِنَ الْيَمَنِ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنِّي رَأَيْتُ رِجَالًا , فَذَكَرَ مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21987]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روي عنه أبو ظبيان
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الذى روي عنه أبو ظبيان
حدیث نمبر: 21988 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا مُعَاذُ , أَتْبِعْ السَّيِّئَةَ بِالْحَسَنَةِ تَمْحُهَا , وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ" , فَقَالَ: وَقَالَ وَكِيعٌ: وَجَدْتُهُ فِي كِتَابِي , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , وَهُوَ السَّمَاعُ الْأَوَّلُ , قَالَ أَبِي: وَقَالَ وَكِيعٌ: قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: عَنْ مُعَاذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا معاذ! گناہ ہوجائے تو اس کے بعد نیکی کرلیا کرو جو اسے مٹا دے اور لوگوں کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آیا کرو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21988]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ، ثم قد اختلف على سفيان فى إسناده
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ، ثم قد اختلف على سفيان فى إسناده
حدیث نمبر: 21989 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ ، مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ مَوْهَبٍ , عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ , قَالَ: عِنْدَنَا كِتَابُ مُعَاذٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ " إِنَّمَا أَخَذَ الصَّدَقَةَ مِنَ الْحِنْطَةِ , وَالشَّعِيرِ , وَالزَّبِيبِ , وَالتَّمْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
موسیٰ بن طلحہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا ایک خط ہے جس میں انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ حدیث بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گندم، جو کشمش اور کھجور میں سے بھی زکوٰۃ وصول فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 21990 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ ، مُعَاذٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانَ ، جَابِرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ:" بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قُرًى عَرَبِيَّةٍ , فَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ حَظَّ الْأَرْضِ" , وقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ , يَعْنِي: عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ جَابِرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ يَعْنِي فِي حَدِيثِ مُعَاذٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے عرب کی کسی بستی میں بھیجا اور حکم دیا کہ زمین کا حصہ وصول کرکے لاؤں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21990]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، ورواية محمد بن زيد عن معاذ منقطعة
الحكم: إسناده ضعيف، جابر الجعفي ضعيف، ورواية محمد بن زيد عن معاذ منقطعة
حدیث نمبر: 21991 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ إِسْرَائِيلَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ تَعْبُدُوهُ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" فَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" لَا يُعَذِّبُهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21991]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 21992 مسند احمد
وَكِيعٌ ، النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ ، شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ النَّهَّاسِ بْنِ قَهْمٍ , حَدَّثَنِي شَدَّادٌ أَبُو عَمَّارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سِتٌّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: مَوْتِي , وَفَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ , وَمَوْتٌ يَأْخُذُ فِي النَّاسِ كَقُعَاصِ الْغَنَمِ , وَفِتْنَةٌ يَدْخُلُ حَرْبُهَا بَيْتَ كُلِّ مُسْلِمٍ , وَأَنْ يُعْطَى الرَّجُلُ أَلْفَ دِينَارٍ فَيَتَسَخَّطَهَا , وَأَنْ تَغْدِرَ الرُّومُ , فَيَسِيرُونَ فِي ثَمَانِينَ بَنْدًا تَحْتَ كُلِّ بَنْدٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا چھ چیزیں علامات قیامت میں سے ہیں میری وفات بیت المقذس کی فتح، موت کی وباء پھیل جانا جیسے بکریوں میں پھیل جاتی ہے ایک ایسی آزمائش جس کی جنگ ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوجائے گی نیزیہ کہ کسی شخص کو ایک ہزار بھی دے دیئے جائیں تو وہ ناراض ہی رہے اور رومی لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکے بازی کریں اور اسی جھنڈوں کے تحت مسلمانوں کی طرف پیش قدمی کریں جن میں سے ہر ایک جھنڈے کے ماتحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21992]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النهاس بن قهم ضعيف، وشداد لم يدرك معاذا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، النهاس بن قهم ضعيف، وشداد لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 21993 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي سُفْيَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي سُفْيَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ: أَتَيْنَا مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مِنْ غَرَائِبِ حَدِيثِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: نَعَمْ , كُنْتُ رِدْفَهُ عَلَى حِمَارٍ , قَالَ: فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" إِنَّ حَقَّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی عجیب واقعہ ہمیں سنائیے انہوں نے فرمایا اچھا ایک مرتبہ میں (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21993]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد قوي
الحكم: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد قوي
حدیث نمبر: 21994 مسند احمد
عبدُ الرحمن ، سُفْيَانُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حدثناه عبدُ الرحمن , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حدثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى عِبَادِهِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ , وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا يُعَذِّبَهُمْ" , قَالَ مَعْمَرٌ فِي حَدِيثِهِ: قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَا أُبَشِّرُ النَّاسَ؟ قَالَ:" دَعْهُمْ يَعْمَلُوا"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21994]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 21995 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي حَصِينٍ ، الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ مُعَاذٍ , بِنَحْوِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21995]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 21996 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي رَزِينٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى بَابٍ مِنْ أَبْوَابِ الْجَنَّةِ؟" , قَالَ: وَمَا هُوَ؟ قَالَ:" لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا میں جنت کے ایک دروازے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ انہوں نے عرض کیا وہ کیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " لاحول ولاقوۃ الا باللہ " [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21996]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذا
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 21997 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبُو الطُّفَيْلِ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ , حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفَيْلِ , حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا , وَذَلِكَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ , " فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْر وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ , قُلْتُ: مَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: أَرَادَ أَنْ لَا تحْرِجَ أُمَّتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر پر روانہ ہوئے یہ غزوہ تبوک کا واقعہ ہے اور اس سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا، راوی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ ان کی امت کو تکلیف نہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21997]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 706
الحكم: إسناده صحيح، م: 706
حدیث نمبر: 21998 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسُ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ ، شَيْخٍ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ بِالْبَصْرَةِ , فَجَلَسْتُ إِلَى شَيْخٍ أَبْيَضِ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ , فَقَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَا مِنْ نَفْسٍ تَمُوتُ وَهِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ يَرْجِعُ ذَاكْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ , إِلَّا غَفَرَ اللَّهُ لَهَا" , قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ مُعَاذٍ؟ فَكَأَنَّ الْقَوْمَ عَنَّفُونِي , قَالَ: لَا تُعَنِّفُوهُ , وَلَا تُؤَنِّبُوهُ دَعُوهُ , نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُ ذَاكَ مِنْ مُعَاذٍ , يُدَبِّرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً: يَأْثُرُهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: قُلْتُ لِبَعْضِهِمْ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ھصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں جامع بصرہ میں داخل ہوا اور ایک بزرگ کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عبدالرحمن بن سمرہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21998]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 21999 مسند احمد
عَبْدُ الْأَعْلَى ، يُونُسَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ ، شَيْخٌ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى , عَنْ يُونُسَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , قَالَ: وَكَانَ أَبُوهُ كَاهِنًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ , قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فِي إِمَارَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ , فَإِذَا شَيْخٌ أَبْيَضُ الرَّأْسِ وَاللِّحْيَةِ , يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21999]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22000 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ ، حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، هِصَّانُ بْنُ الْكَاهِنِ الْعَدَوِيُّ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنِ الْحَجَّاجِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عُثْمَانَ , حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ , حَدَّثَنَا هِصَّانُ بْنُ الْكَاهِنِ الْعَدَوِيُّ , قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ وَلَا أَعْرِفُهُ , قَالَ: حدثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا عَلَى الْأَرْضِ نَفْسٌ تَمُوتُ لَا تُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا , تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْجِعُ ذَاكُمْ إِلَى قَلْبٍ مُوقِنٍ , إِلَّا غُفِرَ لَهَا" , قَالَ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ؟ قَالَ: فَعَنَّفَنِي الْقَوْمُ , فَقَالَ: دَعُوهُ فَإِنَّهُ لَمْ يُسِئْ الْقَوْلَ , نَعَمْ أَنَا سَمِعْتُهُ مِنْ مُعَاذٍ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ھصان بن کاہل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں عبدالرحمن بن سمرہ رحمہ اللہ کی مجلس میں شامل ہوگیا جن کے سر اور ڈاڑھی کے بال سفید ہوچکے تھے وہ کہنے لگے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے مجھے یہ حدیث سنائی ہے کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی اور میرے رسول ہونے کی گواہی دیتا ہو اور یہ گواہی دل کے یقین سے ہو تو اس کے سارے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے ان سے پوچھا کہ کیا واقعی آپ نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے؟ لوگ اس پر مجھے ملامت کرنے لگے لیکن انہوں نے کہا کہ اسے ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ نہ کرو، اسے چھوڑ دو، میں نے یہ حدیث حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے ہی سنی ہے جسے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نقل کرتے ہیں، بعد میں میں نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22000]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22001 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , عَنْ هِصَّانَ بْنِ الْكَاهِنِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ , عَنْ مُعَاذٍ , مِثْلَهُ نَحْوَ قَوْلِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22001]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22002 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْعَيْذِيِّ أَوْ الْخَوْلَانِيِّ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءِ , عنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْعَيْذِيِّ أَوْ الْخَوْلَانِيِّ , قَالَ: جَلَسْتُ مَجْلِسًا فِيهِ عِشْرُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَإِذَا فِيهِمْ شَابٌّ حَدِيثُ السِّنِّ , حَسَنُ الْوَجْهِ , أَدْعَجُ الْعَيْنَيْنِ , أَغَرُّ الثَّنَايَا , فَإِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ , فَقَال قَوْلًا انْتَهَوْا إِلَى قَوْلِهِ , فَإِذَا هُوَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , فَلَمَّا كَانَ مِنَ الْغَدِ , جِئْتُ فَإِذَا هُوَ يُصَلِّي إِلَى سَارِيَةٍ , قَالَ: فَحَذَفَ مِنْ صَلَاتِهِ , ثُمَّ احْتَبَى فَسَكَتَ , قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ , قَالَ: أَللَّهِ؟ قَالَ: قُلْتُ: أَللَّهِ , قَالَ: فَإِنَّ مِنَ الْمُتَحَابِّينَ فِي اللَّهِ , فِيمَا أَحْسَبُ أَنَّهُ قَالَ: فِي ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ , ثُمَّ لَيْسَ فِي بَقِيَّتِهِ شَكٌّ يَعْنِي: فِي بَقِيَّةِ الْحَدِيثِ , يُوضَعُ لَهُمْ كَرَاسٍ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمْ بِمَجْلِسِهِمْ مِنَ الرَّبِّ عَزَّ وَجَلَّ , النَّبِيُّونَ , وَالصِّدِّيقُونَ , وَالشُّهَدَاءُ , قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ , فَقَالَ: لَا أُحَدِّثُكَ إِلَّا مَا سَمِعْتُ عَنْ لِسَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وحَقَّتْ محبتي للمتزاورينَ في , وَحَقَّتْ محبتي لِلْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ , وَحَقَّتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَصَادِقِينَ فِيَّ , وَالْمُتَوَاصِلِينَ" , شَكَّ شُعْبَةُ: فِي الْمُتَوَاصِلِينَ , أَوْ الْمُتَزَاوِرِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو ادریس کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ایک ایسی مجلس میں شریک ہوا جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تشریف فرما تھے ان میں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے غالباً یہ فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اس دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے علاوہ کہیں سایہ نہ ہوگا، (اس کے بعد بقیہ حدیث میں کوئی شک نہیں) ان کے لئے نور کی کرسیاں رکھی جائیں گی اور ان کی نشست گاہ پروردگار عالم کے قریب ہونے کی وجہ سے انبیاء کرام (علیہم السلام) اور صدیقین وشہداء بھی ان پر رشک کریں گے۔ بعد میں یہ حدیث میں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کو سنائی تو انہوں نے فرمایا میں بھی تم سے صرف وہی حدیث بیان کروں گا جو میں نے خود لسان نبوت سے سنی ہے اور وہ یہ کہ " میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں اور میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے جڑتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22002]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى سماع أبى إدريس الخولاني من معاذ، وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى سماع أبى إدريس الخولاني من معاذ، وقد توبع
حدیث نمبر: 22003 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَنَسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ مَاتَ وَهُوَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ صَادِقًا مِنْ قَلْبِهِ دَخَلَ الْجَنَّةَ" , قَالَ شُعْبَةُ: لَمْ أَسْأَلْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَهُ عَنْ أَنَسٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22003]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22004 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي حَصِينٍ ، وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي حَصِينٍ , وَالْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ , أَنَّهُمَا سَمِعَا الْأَسْوَدَ بْنَ هِلَالٍ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , فَقَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَعْبُدُونَهُ وَلَا يُشْرِكُونَ بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" أَتَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22004]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7373، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7373، م: 30
حدیث نمبر: 22005 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ ، أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ ، مُعَاذٌ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حدثَنَا شُعْبَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي حَكِيمٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيْلِيِّ , قَالَ: كَانَ مُعَاذٌ بِالْيَمَنِ , فَارْتَفَعُوا إِلَيْهِ فِي يَهُودِيٍّ مَاتَ وَتَرْكَ أَخًا مُسْلِمًا , فَقَالَ مُعَاذٌ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ الْإِسْلَامَ يَزِيدُ وَلَا يَنْقُصُ" , فَوَرَّثَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو الاسود دیلی کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جس وقت یمن میں تھے تو ان کے سامنے ایک یہودی کی وراثت کا مقدمہ پیش ہوا جو فوت ہوگیا تھا اور اپنے پیچھے ایک مسلمان بھائی چھوڑ گیا تھا حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اسلام اضافہ کرتا ہے کمی نہیں کرتا اور اس حدیث سے استدلال کر کے انہوں نے اسے وارث قرار دے دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22005]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو الأسود لا يعرف له سماع من معاذ، وقد اختلف فيه على عمرو بن أبى حكيم
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه ، أبو الأسود لا يعرف له سماع من معاذ، وقد اختلف فيه على عمرو بن أبى حكيم