بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 151
صفحہ 3 از 8
حدیث نمبر: 22026 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22027 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ , نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى , ثُمَّ جَلَسَ , ثُمَّ أَقَامَ , فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى , قَالَ: " نِعْمَ مَا رَأَيْتَ , عَلِّمْهَا بِلَالًا" , قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ , وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے " جو مجھے بیداری کے واقعے کی طرح یاد ہے " میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے دو سبز چادریں زیب تن کر رکھی تھیں وہ مدینہ منورہ کے کسی باغ کے ایک درخت پر اترا اور اس نے اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے پھر وہ بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس نے اقامت کہی اور اس میں بھی یہی کلمات دو دو مرتبہ دہرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھا دو، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے، لیکن وہ مجھ پر سبقت لے گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22027]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه
الحكم: إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه
حدیث نمبر: 22028 مسند احمد
رَوْحٌ ، زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , يُصَلِّي الْخَمْسَ , وَيَصُومُ رَمَضَانَ , غُفِرَ لَهُ" , قُلْتُ: أَفَلَا أُبَشِّرُهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" دَعْهُمْ يَعْمَلُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے کہ وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو پنجگانہ نماز ادا کرتا ہو اور ماہ رمضان کے روزے رکھتا ہو تو اس کے گناہ معاف کردیئے جائیں گے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میں لوگوں کو یہ خوشخبری نہ سنادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں عمل کرتے رہنے دو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22028]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء بن يسار لم يسمع من معاذ
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، عطاء بن يسار لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22029 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , حَدَّثَنَا الْعَلَاءُ بْنُ زِيَادٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الشَّيْطَانَ ذِئْبُ الْإِنْسَانِ كَذِئْبِ الْغَنَمِ يَأْخُذُ الشَّاةَ الْقَاصِيَةَ وَالنَّاحِيَةَ , فَإِيَّاكُمْ وَالشِّعَابَ , وَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ , وَالْعَامَّةِ , وَالْمَسْجِدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس طرح بکریوں کے لئے بھیڑیا ہوتا ہے اسی طرح انسان کے لئے شیطان بھیڑیا ہے جو اکیلی رہ جانے والی اور سب سے الگ تھلگ رہنے والی بکری کو پکڑ لیتا ہے اس لئے تم گھاٹیوں میں تنہا رہنے سے اپنے آپ کو بچاؤ اور جماعت مسلمین کو، عوام کو اور مسجد کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22029]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، العلاء بن زياد لم يسمع من معاذ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد منقطع، العلاء بن زياد لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22030 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، وَإِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى ، مَالِكٌ ، أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ ، أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكٌ , وَإِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ عِيسَى , أَخْبَرَنِي مَالِكٌ , عَنْ أَبِي حَازِمِ بْنِ دِينَارٍ , عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ , قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ دِمَشْقِ الشَّامِ , فَإِذَا أَنَا بِفَتًى بَرَّاقِ الثَّنَايَا , وَإِذَا النَّاسُ حَوْلَهُ , إِذَا اخْتَلَفُوا فِي شَيْءٍ أَسْنَدُوهُ إِلَيْهِ , وَصَدَرُوا عَنْ رَأْيِهِ , فَسَأَلْتُ عَنْهُ , فَقِيلَ: هَذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ , فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ هَجَّرْتُ , فَوَجَدْتُ قَدْ سَبَقَنِي بِالْهَجِيرِ , وَقَالَ إِسْحَاقُ: بِالتَّهْجِيرِ , وَوَجَدْتُهُ يُصَلِّي , فَانْتَظَرْتُهُ حَتَّى إِذَا قَضَى صَلَاتَهُ جِئْتُهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ , فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقُلْتُ لَهُ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَقَالَ: أَللَّهِ؟ فَقُلْتُ: أَللَّهِ , فَقَالَ: أَللَّهِ؟ فَقُلْتُ: أَللَّهِ , فَأَخَذَ بِحُبْوَةِ رِدَائِي فَجَبَذَنِي إِلَيْهِ , وَقَالَ: أَبْشِرْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَجَبَتْ مَحَبَّتِي لِلْمُتَحَابِّينَ فِيَّ , وَالْمُتَجَالِسِينَ فِيَّ , وَالْمُتَزَاوِرِينَ فِيَّ , وَالْمُتَبَاذِلِينَ فِيَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوادریس کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ دمشق کی جامع مسجد میں داخل ہوا وہاں ایک نوجوان اور کم عمر صحابی بھی تھے ان کا رنگ کھلتا ہوا، بڑی اور سیاہ آنکھیں اور چمکدار دانت تھے، جب لوگوں میں کوئی اختلاف ہوتا اور وہ کوئی بات کہہ دیتے تو لوگ ان کی بات کو حرف آخر سمجھتے تھے، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہیں۔ اگلے دن میں دوبارہ حاضر ہوا تو وہ ایک ستون کی آڑ میں نماز پڑھ رہے تھے انہوں نے نماز کو مختصر کیا اور گوٹ مار کر خاموشی سے بیٹھ گئے میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا بخدا! میں اللہ کے جلال کی وجہ سے آپ سے محبت کرتا ہوں انہوں نے قسم دے کر پوچھا واقعی؟ میں نے بھی قسم کھا کر جواب دیا انہوں نے میری چادر کا پلو پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور فرمایا تمہیں خوشخبری ہو کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میری محبت ان لوگوں کے لئے طے شدہ ہے جو میری وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں میری وجہ سے ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22030]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وفي سماع أبى إدريس من معاذ خلاف
الحكم: حديث صحيح، وفي سماع أبى إدريس من معاذ خلاف
حدیث نمبر: 22031 مسند احمد
رَوْحٌ ، الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ الْأَسْوَدُ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمُتَحَابُّونَ فِي اللَّهِ فِي ظِلِّ الْعَرْشِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے قیامت کے دن عرش الہٰی کے سائے میں ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22031]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وهو لم يدرك معاذا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب ، وهو لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22032 مسند احمد
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ النَّزَّالِ أَوْ النَّزَّالَ بْنَ عُرْوَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ شُعْبَةُ: فَقُلْتُ لَهُ: سَمِعَهُ مِنْ مُعَاذٍ , قَالَ: لَمْ يَسْمَعْهُ مِنْهُ , وَقَدْ أَدْرَكَهُ أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ مَعْمَرٍ , عَنْ عَاصِمٍ , أَنَّهُ قَالَ الْحَكَمُ: وَسَمِعْتُهُ مِنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22032]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، عروة بن النزال مجهول ولم يسمعه من معاذ، ومتابع عروة ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ أيضا
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، عروة بن النزال مجهول ولم يسمعه من معاذ، ومتابع عروة ميمون بن أبى شبيب لم يسمع من معاذ أيضا
حدیث نمبر: 22033 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْحُصَيْنُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْحُصَيْنُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: كَانَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سُبِقَ الرَّجُلُ بِبَعْضِ صَلَاتِهِ سَأَلَهُمْ , فَأَوْمئوا إِلَيْهِ بِالَّذِي سُبِقَ بِهِ مِنَ الصَّلَاةِ , فَيَبْدَأُ فَيَقْضِي مَا سُبِقَ , ثُمَّ يَدْخُلُ مَعَ الْقَوْمِ فِي صَلَاتِهِمْ , فَجَاءَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَالْقَوْمُ قُعُودٌ فِي صَلَاتِهِمْ , فَقَعَدَ , فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ فَقَضَى مَا كَانَ سُبِقَ بِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اصْنَعُوا كَمَا صَنَعَ مُعَاذٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ابتدائی دور باسعادت میں یہ معمول تھا کہ اگر کسی آدمی کی کچھ رکعتیں چھوٹ جاتیں تو وہ نمازیوں سے پوچھ لیتا وہ اسے اشارے سے بتا دیتے کہ اس کی کتنی رکعتیں چھوٹی ہیں، چنانچہ پہلے وہ اپنی چھوٹی ہوئی رکعتیں پڑھتا اور پھر لوگوں کی نماز میں شریک ہوجاتا ایک دن حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نماز میں کچھ تاخیر سے آئے لوگ اس وقت قعدے میں تھے وہ بھی بیٹھ گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے کھڑے ہو کر اپنی چھوٹی ہوئی نماز مکمل کرلی، یہ دیکھ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا تم بھی اسی طرح کیا کرو جیسے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22033]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، واختلف على ابن أبى ليلى فيه
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، واختلف على ابن أبى ليلى فيه
حدیث نمبر: 22034 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، صَالِحٌ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ ، كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , أخبرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا صَالِحٌ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ , عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لَنَا مُعَاذٌ فِي مَرَضِهِ: قَدْ سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا كُنْتُ أَكْتُمُكُمُوهُ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ آخِرُ كَلَامِهِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
کثیرہ بن مرہ کہتے ہیں کہ کہ اپنے مرض الوفات میں حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے ہم سے فرمایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث سن رکھی ہے جو میں اب تک تم سے چھپاتا رہا ہوں (اب بیان کر رہا ہوں) میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنیا سے رخصتی کے وقت جس شخص کا آخری کلام لا الہ الا اللہ ہو اس کے لئے جنت واجب ہوگئی۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22034]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 22035 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، الْأَعْمَشَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، مُعَاذًا
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ , حَدَّثَنَا أَبِي , قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ , أَنَّ مُعَاذًا قَالَ: " وَاللَّهِ إِنَّ عُمَرَ فِي الْجَنَّةِ , وَمَا أُحِبُّ أَنَّ لِي حُمْرَ النَّعَمِ , وَأَنَّكُمْ تَفَرَّقْتُمْ قَبْلَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ لِمَ قُلْتُ ذَاكَ؟ ثُمَّ حَدَّثَهُمْ الرُّؤْيَا الَّتِي رَأَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَأْنِ عُمَرَ , قَالَ: وَرُؤْيَا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بخدا! حضرت عمر رضی اللہ عنہ جنت میں ہوں گے اور مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ لینا بھی پسند نہیں ہے اور قبل اس کے کہ میں تمہیں اپنی اس بات کی وجہ بتاؤں تم لوگ منتشر ہو رہے ہو، پھر انہوں نے وہ خواب بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق دیکھا تھا اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خواب برحق ہے (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مرتبہ خواب میں میں جنت کے اندر تھا تو میں نے وہاں ایک محل دیکھا لوگوں سے پوچھا کہ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہے) [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22035]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد منقطع، مصعب بن سعد لم يسمع من معاذ
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد منقطع، مصعب بن سعد لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22036 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ لَا يَرُوحُ حَتَّى يُبْرِدَ , حَتَّى يَجْمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عزوہ تبوک میں ٹھنڈے وقت روانہ ہوئے تھے اور اس سفر میں ظہر اور عصر، مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھتے رہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22036]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 706، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام
الحكم: حديث صحيح، م: 706، وهذا إسناد حسن فى المتابعات والشواهد من أجل هشام
حدیث نمبر: 22037 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا عَاصِمٌ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذٍ , قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ , وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا حَوْلِيًّا , وَأَمَرَنِي فِيمَا سَقَتْ السَّمَاءُ الْعُشْرَ , وَمَا سُقِيَ بِالدَّوَالِي نِصْفَ الْعُشْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن بھیجا تو مجھے حکم دیا کہ ہر بالغ سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا نیز مجھے بارانی زمینوں میں عشر لینے اور چاہی زمینوں میں نصف عشر لینے کا حکم دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22037]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 22038 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ ، رَجُلٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَإِنَّهُ مَعَنَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کا اچھی طرح خیال رکھے وہ ہمارے ساتھ شمار ہوگا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22038]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن معاذ وضعف أبى بكر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الراوي عن معاذ وضعف أبى بكر
حدیث نمبر: 22039 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لِي:" يَا مُعَاذُ , أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا , أَتَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" يُدْخِلُهُمْ الْجَنَّةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل کر دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22039]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، وخالد الحذاء لم يسمع من أبى عثمان النهدي
الحكم: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لضعف على بن عاصم، وخالد الحذاء لم يسمع من أبى عثمان النهدي
حدیث نمبر: 22040 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي الْمَلِيحِ ، رَوْحِ بْنِ عَابِدٍ ، أَبِي الْعَوَّامِ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى , قَالَا: حدثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: أَخبرنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ , قَالَ الْحَسَنُ: الْهُذَلِيِّ , عَنْ رَوْحِ بْنِ عَابِدٍ , عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رِدْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى جَمَلٍ أَحْمَرَ , فَقَالَ:" يَا مُعَاذُ" , قُلْتُ: لَبَّيْكَ , قَالَ: " هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قَالَ: فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , فَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , ثُمَّ قَالَ:" حَقُّهُ عَزَّ وَجَلَّ , أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , ثُمَّ قَالَ:" هَلْ تَدْرِي مَا حَقُّ الْعِبَادِ عَلَى اللَّهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , فَقُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَهَا ثَلَاثًا , وَقُلْتُ ذَلِكَ ثَلَاثًا , فَقَالَ:" حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا هُمْ فَعَلُوا ذَلِكَ؟ أَنْ يَغْفِرَ لَهُمْ وَأَنْ يُدْخِلَهُمْ الْجَنَّةَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں سرخ گدھے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! میں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، تین مرتبہ یہ سوال جواب ہوئے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں جنت میں داخل فرما دے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22040]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لجهالة روح وأبي العوام، وضعف على بن زيد
الحكم: حديث صحيح، خ: 2856، م: 30، وهذا إسناد ضعيف لجهالة روح وأبي العوام، وضعف على بن زيد
حدیث نمبر: 22041 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحُسْنٌ ، حَمَّادٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي رَزِينٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , وَحُسْنٌ , قَالَا: حدثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ أَبِي رَزِينٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِمَارٍ قَدْ شُدَّ عَلَيْهِ بَرْدَعَةٌ" , إِلَّا أَنَّ حَسَنًا جَمَعَ الْإِسْنَادَيْنِ فِي حَدِيثِهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذا
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، أبو رزين لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22042 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ وَهُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , قَالَا: حدثَنَا بَقِيَّةُ وَهُوَ ابْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْغَزْوُ غَزْوَانِ: فَأَمَّا مَنْ ابْتَغَى وَجْهَ اللَّهِ , وَأَطَاعَ الْإِمَامَ , وَأَنْفَقَ الْكَرِيمَةَ , وَيَاسَرَ الشَّرِيكَ , وَاجْتَنَبَ الْفَسَادَ , فَإِنَّ نَوْمَهُ وَنُبْهَهُ أَجْرٌ كُلُّهُ , وَأَمَّا مَنْ غَزَا فَخْرًا وَرِيَاءً وَسُمْعَةً , وَعَصَى الْإِمَامَ , وَأَفْسَدَ فِي الْأَرْضِ , فَإِنَّهُ لَمْ يَرْجِعْ بِالْكَفَافِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جہاد دو طرح کا ہوتا ہے، جو شخص رضاء الہٰی کے حصول کے لئے جہاد کرتا ہے اپنے امیر کی اطاعت کرتا ہے، اپنی جان خرچ کرتا ہے شریک سفر کے لئے آسانی کا سبب بنتا ہے اور فتنہ و فساد سے بچتا ہے تو اس کا سونا اور جاگنا بھی باعث اجروثواب ہے اور جو شخص فخر، ریاکاری اور شہرت کے لئے جہاد کرتا ہے امام کی نافرمانی کرتا ہے اور زمین میں فساد پھیلاتا ہے تو وہ اتنا بھی ثواب لے کر واپس نہیں آتا جو بقدر کفایت ہی ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22042]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، ولا يقبل منه إلا أن يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
الحكم: إسناده ضعيف، بقية بن الوليد ضعيف و مدلس، ولا يقبل منه إلا أن يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
حدیث نمبر: 22043 مسند احمد
حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ ، خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ , وَيَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ , قَالَا: حدثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ , حَدَّثَنِي بَحِيرُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ لَيْلَةِ الْقَدْرِ , فَقَال: " هِيَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ , أَوْ فِي الْخَامِسَةِ , أَوْ فِي الثَّالِثَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شب قدر کے متعلق پوچھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ آخری دس دنوں میں ہوتی ہے یا آخری تین یا پانچ دنوں میں ہوتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22043]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد لم يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، بقية بن الوليد لم يصرح بالسماع فى جميع طبقات السند
حدیث نمبر: 22044 مسند احمد
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، ابْنُ عَيَّاشٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى , قَالَ عَبْد اللَّهِ: وَحَدَّثَنَاهُ الْحَكَمُ بن موسى , حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذٍ , عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَنْ يَنْفَعَ حَذَرٌ مِنْ قَدَرٍ , وَلَكِنَّ الدُّعَاءَ يَنْفَعُ مِمَّا نَزَلَ وَمِمَّا لَمْ يَنْزِلْ , فَعَلَيْكُمْ بِالدُّعَاءِ عِبَادَ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تقدیر کے آگے تدبیر و احتیاط کچھ فائدہ نہیں دے سکتی البتہ دعاء ان چیزوں میں بھی فائدہ مند ہوتی ہے جو نازل ہوں یا جو نازل نہ ہوں لہٰذا بندگان خدا! دعاء کو اپنے اوپر لازم کرلو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22044]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف شهر، ولم يسمع من معاذ، ورواية ابن عياش عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
الحكم: إسناده ضعيف لضعف شهر، ولم يسمع من معاذ، ورواية ابن عياش عن غير أهل بلده ضعيفة، وهذه منها
حدیث نمبر: 22045 مسند احمد
أَبُو الْمُغِيرَةِ ، وَأَبُو الْيَمَانِ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ ، أَبِي بَحْرِيَّةَ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ , وَأَبُو الْيَمَانِ , قَالَا: حدثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُطَيْبٍ السَّكُونِيِّ , عَنْ أَبِي بَحْرِيَّةَ قَالَ أَبُو الْمُغِيرَةِ فِي حَدِيثِهِ: عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قَيْسٍ , قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمَلْحَمَةُ الْعُظْمَى , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَخُرُوجُ الدَّجَّالِ , فِي سَبْعَةِ أَشْهُرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جنگ عظیم، فتح قسطنطنیہ اور خروج دجال سب سات ماہ کے اندر ہوجائے گا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22045]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف أبى بكر والوليد بن سفيان، ولجهالة حال يزيد بن قطيب
الحكم: إسناده ضعيف لضعف أبى بكر والوليد بن سفيان، ولجهالة حال يزيد بن قطيب