بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 151
صفحہ 2 از 8
حدیث نمبر: 22006 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَتَدْرِي مَا حَقُّ اللَّهِ عَلَى الْعِبَادِ؟" , قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ يَعْبُدُوهُ وَلَا يُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا" , قَالَ:" وَهَلْ تَدْرِي مَا حَقُّهُمْ عَلَيْهِ إِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ؟" , قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ , قَالَ:" أَنْ لَا يُعَذِّبَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ (گدھے پر) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ردیف تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا نام لے کر فرمایا اے معاذ! کیا تم جانتے ہو کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ میں نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا (بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے کہ) تم اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟ اگر وہ ایسا کرلیں تو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ حق یہ ہے کہ اللہ انہیں عذاب میں مبتلا نہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22006]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2856، م: 30
حدیث نمبر: 22007 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي عَوْنٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، نَاسٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ أَبِي عَوْنٍ , عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أَخِي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ مُعَاذٍ مِنْ أَهْلِ حِمْصَ , عَنْ مُعَاذٍ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ , فَقَالَ: " كَيْفَ تَصْنَعُ إِنْ عَرَضَ لَكَ قَضَاءٌ؟" , قَالَ: أَقْضِي بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي كِتَابِ اللَّهِ" , قَالَ: فَبِسُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟" , قَالَ: أَجْتَهِدُ رَأْيِي لَا آلُو , قَالَ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدْرِي , ثُمَّ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَفَّقَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَا يُرْضِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو ان سے پوچھا کہ اگر تمہارے پاس کوئی فیصلہ آیا تو تم اسے کیسے حل کرو گے؟ عرض کیا کہ کتاب اللہ کی روشنی میں اس کا فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا اگر وہ مسئلہ کتاب اللہ میں نہ ملے تو کیا کرو گے؟ عرض کیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کہ اگر اس کا حکم میری سنت میں بھی نہ ملا تو کیا کرو گے؟ عرض کیا کہ پھر میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہیں کروں گا، اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مار کر فرمایا اللہ کا شکر ہے جس نے اپنے پیغمبر کے قاصد کی اس چیز کی طرف رہنمائی فرما دی جو اس کے رسول کو پسند ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22007]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لابهام أصحاب معاذ وجهالة الحارث، لكن مال إلى القول بصحته غير واحد من المحققين
الحكم: إسناده ضعيف لابهام أصحاب معاذ وجهالة الحارث، لكن مال إلى القول بصحته غير واحد من المحققين
حدیث نمبر: 22008 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَبَا رَمْلَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ مُسْلِمٍ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَمْلَةَ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَوْجَبَ ذُو الثَّلَاثَةِ" , فَقَالَ لَهُ مُعَاذٌ: وَذُو الِاثْنَيْنِ؟ قَالَ:" وَذُو الِاثْنَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس شخص کے حق میں تین آدمی گواہی دیں اس کے لئے جنت واجب ہوگئی حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اگر دو ہوں تو؟ فرمایا دو ہوں تب بھی یہی حکم ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22008]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو رملة مجهول، وعبيد الله بن مسلم لايعرف، وفي إثبات صحبته نظر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو رملة مجهول، وعبيد الله بن مسلم لايعرف، وفي إثبات صحبته نظر
حدیث نمبر: 22009 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسٍ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ أَنَسٍ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ:" يَا مُعَاذُ بْنَ جَبَلٍ" , قَالَ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَسَعْدَيْكَ , قَالَ: " لَا يَشْهَدُ عَبْدٌ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , ثُمَّ يَمُوتُ عَلَى ذَلِكَ إِلَّا دَخَلَ الْجَنَّةَ" , قَالَ: قُلْتُ: أَفَلَا أُحَدِّثُ النَّاسَ , قَالَ:" لَا , إِنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّكِلُوا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا اے معاذ بن جبل! انہوں نے عرض کیا لبیک یا رسول اللہ وسعدیک، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ لا الہ الا اللہ کی گواہی صدق دل سے دیتا ہو وہ جنت میں داخل ہوگا میں نے عرض کیا کہ میں لوگوں کو یہ بات نہ بتادوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا نہیں مجھے اندیشہ ہے کہ وہ اسی پر بھروسہ کر کے بیٹھ جائیں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22010 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (اگر گائے تعداد میں تیس سے کم ہوں تو میں ان کی زکوٰۃ نہیں لوں گا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں کیونکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22010]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
الحكم: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22011 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ , ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، طَاوُسٍ ، مُعَاذٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ , عَنْ طَاوُسٍ , عَنْ مُعَاذٍ , فَذَكَرَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22011]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
الحكم: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22012 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، سُفْيَانُ ، أَبِي الزُّبَيْرِ ، أَبِي الطُّفَيْلِ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا سُفْيَانُ , وَأَبُو أَحْمَدَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: " جَمَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ , وَالْمَغْرِبِ َالْعِشَاءِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غزوہ تبوک میں ظہر اور عصر مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22012]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 706
الحكم: إسناده صحيح، م: 706
حدیث نمبر: 22013 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، مَسْرُوقٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْيَمَنِ " فَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ مِنَ الْبَقَرِ تَبِيعًا أَوْ تَبِيعَةً , وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً , وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا أَوْ عِدْلَهُ مَعَافِرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انہیں یمن بھیجا تو انہیں حکم دیا کہ ہر تیس گائے میں زکوٰۃ کے طور پر ایک سالہ گائے لینا اور ہر چالیس پر دو سالہ ایک گائے لینا اور ہر بالغ ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑا جس کا نام " معافر " ہے وصول کرنا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22013]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22014 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ ، حَجَّاجٌ ، وَرَوْحٌ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى : حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ يَخَامِرَ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ حَدَّثَهُمْ , أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مِنْ رَجُلٍ مُسْلِمٍ فُوَاقَ نَاقَتِهِ , وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ , وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ عِنْدِ نَفْسِهِ صَادِقًا , ثُمَّ مَاتَ , أَوْ قُتِلَ , فَلَهُ أَجْرُ شَهِيدٍ , وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً , فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغَذِّ مَا كَانَتْ , لَوْنُهَا كَالزَّعْفَرَانِ , وَرِيحُهَا كَالْمِسْكِ , وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَعَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ" , قَالَ أَبِي: وقَالَ حَجَّاجٌ , وَرَوْحٌ : كَأعَزِّ , وَقَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: كَأَغَرِّ , وَهَذَا الصَّوَابُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو مسلمان آدمی اللہ کے راستہ میں اونٹنی کے تھنوں میں دودھ اترنے کے وقفے برابر بھی قتال کرے اس کے لئے جنت واجب ہوجاتی ہے اور جو شخص اپنے متعلق اللہ سے صدق دل کے ساتھ شہادت کی دعاء کرے اور پھر طبعی موت پا کر دنیا سے رخصت ہو تو اسے شہید کا ثواب ملے گا اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے یا تکلیف پہنچ جائے تو وہ قیامت کے دن اس سے بھی زیادہ رستا ہوا آئے گا لیکن اس دن اس کا رنگ زعفران جیسا اور مہک مشک جیسی ہوگی اور جس شخص کو اللہ کے راستہ میں کوئی زخم لگ جائے تو اس پر شہداء کی مہر لگ جاتی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22014]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22015 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَيُّوبَ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ ، أَبِي بُرْدَةَ ، مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أخبرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ الْعَدَوِيِّ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , قَالَ: قَدِمَ عَلَى أَبِي مُوسَى مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ بِالْيَمَنِ , فَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ , قَالَ: مَا هَذَا؟ قَالَ: رَجُلٌ كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ , ثُمَّ تَهَوَّدَ , وَنَحْنُ نُرِيدُهُ عَلَى الْإِسْلَامِ , مُنْذُ قَالَ: أَحْسَبُهُ شَهْرَيْنِ , فَقَالَ: وَاللَّهِ لَا أَقْعُدُ حَتَّى تَضْرِبُوا عُنُقَهُ , فَضُرِبَتْ عُنُقُهُ , فَقَالَ: قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ " أَنَّ مَنْ رَجَعَ عَنْ دَيْنِهِ فَاقْتُلُوهُ" , أَوْ قَالَ:" مَنْ بَدَّلَ دَيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت بردہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ یمن میں حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے وہاں ایک آدمی رسیوں سے بندھا ہوا نظر آیا تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اس کا کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ایک یہودی تھا اس نے اسلام قبول کرلیا بعد میں اپنے ناپسندیدہ دین کی طرف لوٹ گیا اور دوبارہ یہودی ہوگیا ہم غالباً دو ماہ سے اسے اسلام کی طرف لانے کی کوشش کر رہے ہیں حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تو اس وقت تک نہیں بیٹھوں گا جب تک تم اسے قتل نہیں کردیتے چنانچہ میں نے اسے قتل کردیا پھر انہوں نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ یہی ہے کہ جو شخص اپنے دین سے پھر سے جائے اسے قتل کردو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22015]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22016 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، أَبِي وَائِلٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ , فَأَصْبَحْتُ يَوْمًا قَرِيبًا مِنْهُ وَنَحْنُ نَسِيرُ , فَقُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ , وَيُبَاعِدُنِي مِنَ النَّارِ , قَالَ: " لَقَدْ سَأَلْتَ عَنْ عَظِيمٍ , وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ , تَعْبُدُ اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا , وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ , وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ , وَتَصُومُ رَمَضَانَ , وَتَحُجُّ الْبَيْتَ" , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ , وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ , وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ" , ثُمَّ قَرَأَ قَوْلَهُ تَعَالَى: تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 حَتَّى بَلَغَ يَعْمَلُونَ سورة البقرة آية 96 , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِرَأْسِ الْأَمْرِ , وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟" , فَقُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ , قَالَ:" رَأْسُ الْأَمْرِ الإسلامُ , وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ , وَذِرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ" , ثُمَّ قَالَ:" أَلَا أُخْبِرُكَ بِمِلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟" , فَقُلْتُ لَهُ: بَلَى يَا نَبِيَّ اللَّهِ , فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ , فَقَالَ:" كُفَّ عَلَيْكَ هَذَا" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ , فَقَالَ:" ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا مُعَاذُ , وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ فِي النَّارِ" , أَوْ قَالَ:" عَلَى مَنَاخِرِهِمْ إِلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر میں تھا دوران سفر ایک دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قرب حاصل ہوگیا میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور کر دے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت بڑی بات پوچھی البتہ جس کے لئے اللہ آسان کر دے اس کے لئے بہت آسان ہے، اللہ کی عبادت کرو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکوٰۃ ادا کرو، ماہ رمضان کے روزے رکھو اور بیت اللہ کا حج کرو۔ پھر فرمایا کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتادوں؟ روزہ ڈھال ہے صدقہ گناہوں کو بجھا دیتا ہے اور آدھی رات کو انسان کا نماز پڑھنا باب خیر میں سے ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت سجدہ کی یہ آیت تلاوت فرمائی " تتجافی جنوبہم عنی المضاجع حتی بلغ یعملون " پھر فرمایا کیا میں تمہیں دین کی بنیاد، اس کا ستون اور اس کے کوہان کی بلندی کے متعلق نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! کیوں نہیں فرمایا اس دین و مذہب کی بنیاد اسلام ہے اس کا ستون نماز ہے اور اس کے کوہان کی بلندی جہاد ہے پھر فرمایا کیا میں تمہیں ان چیزوں کا مجموعہ نہ بتادوں؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں اے اللہ کے نبی! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کو روک کر رکھو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم جو کچھ بولتے ہیں کیا اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ کیا جائے گا؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پیار سے ڈانٹتے ہوئے) فرمایا معاذ! تمہاری ماں تمہیں روئے لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں ان کی دوسروں کے متعلق کہی ہوئی باتوں کے علاوہ بھی کوئی چیز اوندھا گرائے گی؟ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22016]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، أبو وائل لم يسمع من معاذ
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد منقطع، أبو وائل لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22017 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي الْوَرْدِ يَعْنِي ابْنَ ثُمَامَةَ ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْجُرَيْرِيُّ ، أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ ، اللَّجْلَاجِ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ يَعْنِي ابْنَ ثُمَامَةَ . ح وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أخبرَنَا الْجُرَيْرِيُّ , عَنْ أَبِي الْوَرْدِ بْنِ ثُمَامَةَ , جَمِيعًا عَنِ اللَّجْلَاجِ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: مَرَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَجُلٍ , وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الصَّبْرَ , فَقَالَ: " قَدْ سَأَلْتَ الْبَلَاءَ فَسَلْ اللَّهَ الْعَافِيَةَ" , قال: ومر برجل يقول: يا ذا الجلال والإكرامِ , قال:" قد أستُجيبَ لك فسَل" , قَالَ: وَمَرَّ بِرَجُلٍ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَمَامَ النِّعْمَةِ , قَالَ:" يَا ابْنَ آدَمَ أَتَدْرِي مَا تَمَامُ النِّعْمَةِ؟" , قَالَ: دَعْوَةٌ دَعَوْتُ بِهَا أَرْجُو بِهَا الْخَيْرَ , قَالَ:" فَإِنَّ تَمَامَ النِّعْمَةِ فَوْزٌ مِنَ النَّارِ , وَدُخُولُ الْجَنَّةِ" , قَالَ أَبِي: لَوْ لَمْ يَرْوِ الْجُرَيْرِيُّ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ كَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گذرے جو یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے صبر مانگتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم تو اللہ سے مصیبت کی دعاء مانگ رہے ہو اللہ سے عافیت مانگا کرو (پھر ایک آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ " یاذا الجلال والا کر ام " کہہ کر دعاء کر رہا تھا، اس سے فرمایا کہ تمہاری دعاء قبول ہوگی اس لئے مانگو) ایک اور آدمی کے پاس سے گذر ہوا تو وہ یہ دعاء کر رہا تھا کہ اے اللہ! میں تجھ سے تمام نعمت کی درخواست کرتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے ابن آدم! کیا تمہیں معلوم ہے کہ " تمام نعمت " سے کیا مراد ہے؟ اس نے عرض کیا کہ وہ دعاء جو میں نے مانگی تھی اس کی خیر کا امیدوار ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمام نعمت یہ ہے کہ انسان جہنم سے بچ جائے اور جنت میں داخل ہوجائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22017]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 22018 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، طَاوُسًا ، مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , وَابْنُ بَكْرٍ , قَالَا: أخبرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ , أَنَّ طَاوُسًا أَخْبَرَهُ , أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ , قَالَ: " لَسْتُ آخُذُ فِي أَوْقَاصِ الْبَقَرِ شَيْئًا , حَتَّى آتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَأْمُرْنِي فِيهَا بِشَيْءٍ" , قَالَ ابْنُ بَكْرٍ: لَسْتُ بِآخِذٍ فِي الْأَوْقَاصِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ (اگر گائے تعداد میں تیس سے کم ہوں تو میں ان کی زکوٰۃ نہیں لوں گا تاآنکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوجاؤں کیونکہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا، [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22018]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
الحكم: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22019 مسند احمد
سُفْيَانُ ، عَمْرٍو ، طَاوُسٍ ، مُعَاذٌ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ عَمْرٍو , عَنْ طَاوُسٍ , أُتِيَ مُعَاذٌ بِوَقَصِ الْبَقَرِ , وَالْعَسَلِ , فَقَالَ: " لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمَا بِشَيْءٍ" , قَالَ سُفْيَانُ: الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس تیس سے کم گائیں اور شہد لایا گیا انہوں نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تیس سے کم گائے ہونے کی صورت میں مجھے کوئی حکم نہیں دیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22019]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
الحكم: رجاله ثقات، وهذا إسناد منقطع، طاووس لم يدرك معاذا
حدیث نمبر: 22020 مسند احمد
الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ , حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَابِطٍ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الْأَوْدِيِّ , قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ الْيَمَنَ رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ السَّحَرِ , رَافِعًا صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ , أَجَشَّ الصَّوْتِ , فَأُلْقِيَتْ عَلَيْهِ مَحَبَّتِي فَمَا فَارَقْتُهُ , حَتَّى حَثَوْتُ عَلَيْهِ التُّرَابَ بِالشَّامِ مَيِّتًا رَحِمَهُ اللَّهُ , ثُمَّ نَظَرْتُ إِلَى أَفْقَهِ النَّاسِ بَعْدَهُ , فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ , فَقَالَ لِي: كَيْفَ أَنْتَ إِذَا أَتَتْ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُصَلُّونَ الصَّلَاةَ لِغَيْرِ وَقْتِهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: مَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكَنِي ذَلِكَ؟ قَالَ: " صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا , وَاجْعَلْ ذَلِكَ مَعَهُمْ سُبْحَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن میمون اودی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قاصد حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے یہاں یمن میں جب تشریف لائے تو وہ سحری کا وقت تھا وہ بلند اور بارعب آواز کے ساتھ تکبیر کہتے جا رہے تھے میرے دل میں ان کی محبت رچ بس گئی چنانچہ میں ان سے اس وقت تک جدا نہ ہوا جب تک شام میں ان کی وفات کے بعد ان کی قبر پر مٹی نہ ڈال لی، اللہ کی رحمتیں ان پر نازل ہوں، پھر میں نے ان کے بعد سب سے زیادہ فقیہہ آدمی کے لئے اپنی نظریں دوڑائیں اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوگیا، انہوں نے مجھ سے فرمایا اس وقت تم کیا کرو گے جب تم پر ایسے حکمران آجائیں گے جو نماز کو اس کا وقت نکال کر پڑھا کریں گے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر میں اس زمانے کو پاؤں تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا تم اپنے وقت مقررہ پر نماز پڑھ لینا اور حکمرانوں کے ساتھ نفل کی نیت سے شریک ہوجانا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22020]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 22021 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ ، الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اسْتَعِيذُوا بِاللَّهِ مِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى طَبْعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ يَهْدِي إِلَى غَيْرِ مَطْمَعٍ , وَمِنْ طَمَعٍ حَيْثُ لَا طَمَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے ایک مرتبہ فرمایا اس لالچ سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جو دلوں پر مہر لگنے کی کیفیت تک پہنچا دے، اس لالچ سے بھی پناہ مانگا کرو جو کسی بےمقصد چیز تک پہنچا دے اور ایسی لالچ سے بھی اللہ کی پناہ مانگا کرو جہاں کوئی لالچ نہ ہو۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22021]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عامر
الحكم: إسناده ضعيف لضعف عبدالله بن عامر
حدیث نمبر: 22022 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمٍ ، شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ سورة السجدة آية 16 قَالَ: قِيَامُ الْعَبْدِ مِنَ اللَّيْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " ان کے پہلو اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں " سے مراد رات کے وقت انسان کا تہجد کے لئے اٹھنا ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22022]
حکم دارالسلام
صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ثم هو لم يسمع من معاذ
الحكم: صحيح بطرقه وشواهده، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر بن حوشب، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22023 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ ، أَبِي ، مَكْحُولٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، مَكْحُولٌ ، جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ ثَوْبَانَ , حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ مَكْحُولٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُمْرَانُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ خَرَابُ يَثْرِبَ , وَخَرَابُ يَثْرِبَ خُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ , وَخُرُوجُ الْمَلْحَمَةِ فَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ , وَفَتْحُ الْقُسْطَنْطِينِيَّةِ خُرُوجُ الدَّجَّالِ" , ثُمَّ ضَرَبَ عَلَى فَخِذِهِ أَوْ عَلَى مَنْكِبِهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ هَذَا لَحَقٌّ كَمَا أَنَّكَ قَاعِدٌ" , وَكَانَ مَكْحُولٌ يُحَدِّثُ بِهِ , عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ , عَنْ مَالِكِ بْنِ يَخَامِرَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بیت المقدس کا آباد ہوجانا مدینہ منورہ کے بےآباد ہوجانے کی علامت ہے اور مدینہ منورہ کا بےآباد ہونا جنگوں کے آغاز کی علامت ہے اور جنگوں کا آغاز فتح قسطنطنیہ کی علامت ہے اور قسطنطنیہ کی فتح خروج دجال کا پیش خیمہ ہوگی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی ران یا کندھے پر ہاتھ مار کر فرمایا یہ ساری چیزیں اسی طرح برحق اور یقینی ہیں جیسے تمہارا یہاں بیٹھا ہونا یقینی ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22023]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات عبدالرحمن بن ثابت ، ومكحول لم يسمع من معاذ
الحكم: إسناده ضعيف، وهذا الحديث من منكرات عبدالرحمن بن ثابت ، ومكحول لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22024 مسند احمد
يُونُسُ ، شَيْبَانَ ، قَتَادَةَ ، شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ فِي تَفْسِيرِ شَيْبَانَ , عَنْ قَتَادَةَ , قَالَ: وَحَدَّثَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يُبْعَثُ الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ جُرْدًا , مُرْدًا , مُكَحَّلِينَ بَنِي ثَلَاثِينَ سَنَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کے دن مسلمانوں کو اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ ان کے جسم پر کوئی بال نہیں ہوگا، وہ بےریش ہوں گے، ان کی آنکھیں سرمگیں ہوں گی اور وہ تیس سال کی عمر کے لوگ ہوں گے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22024]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شهر، ثم هو لم يسمع من معاذ
حدیث نمبر: 22025 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، أَبِي مُوسَى ، رَوْحٌ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي بُرْدَةَ ، أَبِي مُوسَى
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ عَاصِمٍ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , وَعَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا كَانَ الَّذِي يَلِيهِ الْمُهَاجِرينَ , قَالَ: فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا , فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ حَوْلَهُ , قَالَ: فَتَعَارَرْتُ مِنَ اللَّيْلِ أَنَا وَمُعَاذٌ , فَنَظَرْنَا قَالَ: فَخَرَجْنَا نَطْلُبُهُ , إِذْ سَمِعْنَا هَزِيزًا كَهَزِيزِ الْأَرْحَاءِ , إِذْ أَقْبَلَ , فَلَمَّا أَقْبَلَ نَظَرَ , قَالَ:" مَا شَأْنُكُمْ؟" , قَالُوا: انْتَبَهْنَا فَلَمْ نَرَكَ حَيْثُ كُنْتَ خَشِينَا أَنْ يَكُونَ أَصَابَكَ شَيْءٌ , جِئْنَا نَطْلُبُكَ , قَالَ: " أَتَانِي آتٍ فِي مَنَامِي , فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ الْجَنَّةَ نِصْفُ أُمَّتِي , أَوْ شَفَاعَةً , فَاخْتَرْتُ لَهُمْ الشَّفَاعَةَ" , فَقُلْنَا: فَإِنَّا نَسْأَلُكَ بِحَقِّ الْإِسْلَامِ , وَبِحَقِّ الصُّحْبَةِ , لَمَا أَدْخَلْتَنَا الْجَنَّةَ , قَالَ: فَاجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ , فَقَالُوا لَهُ مِثْلَ مَقَالَتِنَا , وَكَثُرَ النَّاسُ , فَقَالَ:" إِنِّي أَجْعَلُ شَفَاعَتِي لِمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا" . حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَحْرُسُهُ أَصْحَابُهُ , فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مہاجر صحابہ رضی اللہ عنہ آپ کے قریب ہوتے تھے، ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے، اچانک حضرت معاذ رضی اللہ عنہ اور میں رات کو اٹھے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلے تو ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آ رہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہیں کیا ہوا؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22025]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن