أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ ، الْأَعْمَشِ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ عَيَّاشٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ فِي النَّوْمِ كَأَنِّي مُسْتَيْقِظٌ أَرَى رَجُلًا نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ عَلَيْهِ بُرْدَانِ أَخْضَرَانِ , نَزَلَ عَلَى جِذْمِ حَائِطٍ مِنَ الْمَدِينَةِ , فَأَذَّنَ مَثْنَى مَثْنَى , ثُمَّ جَلَسَ , ثُمَّ أَقَامَ , فَقَالَ: مَثْنَى مَثْنَى , قَالَ: " نِعْمَ مَا رَأَيْتَ , عَلِّمْهَا بِلَالًا" , قَالَ: قَالَ عُمَرُ: قَدْ رَأَيْتُ مِثْلَ ذَلِكَ , وَلَكِنَّهُ سَبَقَنِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک انصاری آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں نے آج رات ایک خواب دیکھا ہے " جو مجھے بیداری کے واقعے کی طرح یاد ہے " میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو آسمان سے اترا اس نے دو سبز چادریں زیب تن کر رکھی تھیں وہ مدینہ منورہ کے کسی باغ کے ایک درخت پر اترا اور اس نے اذان کے کلمات دو دو مرتبہ دہرائے پھر وہ بیٹھ گیا کچھ دیر بعد اس نے اقامت کہی اور اس میں بھی یہی کلمات دو دو مرتبہ دہرائے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے بہت اچھا خواب دیکھا یہ کلمات بلال کو سکھا دو، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے، لیکن وہ مجھ پر سبقت لے گیا۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22027]
حکم دارالسلام
إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه
الحكم: إسناده منقطع، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ، وقد اختلف على أبن أبى ليلى فيه