وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي ظَبْيَانَ ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حدثنا عبد الله , حدثني أبى , فِي سَنَةِ ثَمَانٍ وَعِشْرِينَ وَمِائَتَيْنِ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ , عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , أَنَّهُ لَمَّا رَجَعَ مِنَ الْيَمَنِ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , رَأَيْتُ رِجَالًا بِالْيَمَنِ يَسْجُدُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضِهِمْ , أَفَلَا نَسْجُدُ لَكَ؟ قَالَ: " لَوْ كُنْتُ آمِرًا بَشَرًا يَسْجُدُ لِبَشَرٍ , لَأَمَرْتُ الْمَرْأَةَ أَنْ تَسْجُدَ لِزَوْجِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ یمن سے واپس آکر انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عیسائیوں کو اپنے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہوئے دیکھا ہے میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اس سے زیادہ تعظیم کے مستحق تو آپ ہیں تو کیا ہم آپ کو سجدہ نہ کیا کریں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میں کسی کو کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 21986]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو ظبيان لم يدرك معاذا
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد منقطع، أبو ظبيان لم يدرك معاذا