بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 22089
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 22089
حدیث نمبر: 22089 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ , قَالَ: انْتَسَبَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى عَهْدِ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام , أَحَدُهُمَا مُسْلِمٌ وَالْآخَرُ مُشْرِكٌ , فَانْتَسَبَ الْمُشْرِكُ , فَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , حَتَّى بَلَغَ تِسْعَةَ آبَاءٍ , ثُمَّ قَالَ لِصَاحِبِهِ: انْتَسِبْ لَا أُمَّ لَكَ , قَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ , وَأَنَا بَرِيءٌ مِمَّا وَرَاءَ ذَلِكَ , فَنَادَى مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَام النَّاسَ فَجَمَعَهُمْ , ثُمَّ قَالَ: " قَدْ قُضِيَ بَيْنَكُمَا , أَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى تِسْعَةِ آبَاءٍ , فَأَنْتَ فَوْقَهُمْ الْعَاشِرُ فِي النَّارِ , وَأَمَّا الَّذِي انْتَسَبَ إِلَى أَبَوَيْهِ , فَأَنْتَ امْرُؤٌ مِنْ أَهْلِ الْإِسْلَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ابن ابی لیلیٰ رضی اللہ عنہ سے بحوالہ معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دور باسعادت میں دو آدمیوں نے اپنا نسب نامہ بیان کیا، ان میں سے ایک مسلمان تھا اور دوسرا مشرک، مشرک نے دوسرے سے کہا کہ میں تو فلاں بن فلاں ہوں اور اس نے اپنے آباؤ اجداد میں سے نو افراد کے نام گنوائے اور کہا کہ تو کون ہے؟ تیری ماں نہ رہے اس نے کہا میں فلاں بن فلاں ہوں اور اس سے آگے کے لوگوں سے میں بری ہوں حضرت موسٰی علیہ السلام نے منادی کر کے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا تم دونوں کے درمیان فیصلہ کردیا گیا ہے اے نو آدمیوں کی طرف نسبت کرنے والے! وہ سب جہنم میں ہیں اور دسواں تو خود ان کے ساتھ جہنم میں ہوگا اور اے اپنے والدین کی طرف اپنے نسب کو منسوب کرنے والے! تو اہل اسلام میں کا ایک فرد ہے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 22089]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
الحكم: إسناده ضعيف، ابن أبى ليلى لم يسمع من معاذ
← پچھلی حدیث (22088) باب پر واپس اگلی حدیث (22090) →