بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 106
صفحہ 4 از 6
حدیث نمبر: 18407 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ ، السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ ، الشَّعْبِيَّ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ كَثِيرٍ الْهَمْدَانِيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ السَّرِيَّ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْكُوفِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ الشَّعْبِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ مِنَ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَمِنْ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا، وَأَنَا أَنْهَى عَنْ كُلِّ مُسْكِرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی، گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے اور ہر نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18407]
حکم دارالسلام
صحيح من قول عمر موقوفاً عدا قوله: وأنا أنهي عن كل مسكر فصحيح مرفوعاً بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
الحكم: صحيح من قول عمر موقوفاً عدا قوله: وأنا أنهي عن كل مسكر فصحيح مرفوعاً بشواهده، وهذا إسناد اختلف فيه على الشعبي
حدیث نمبر: 18408 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَبَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَبَهْزٌ الْمَعْنَى، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: أَظُنُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " سَافَرَ رَجُلٌ بِأَرْضٍ تَنُوفَةٍ قَالَ حَسَنٌ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي فَلَاةً، فَقَالَ تَحْتَ شَجَرَةٍ، وَمَعَهُ رَاحِلَتُهُ، وَعَلَيْهَا سِقَاؤُهُ وَطَعَامُهُ، فَاسْتَيْقَظَ، فَلَمْ يَرَهَا، فَعَلَا شَرَفًا، فَلَمْ يَرَهَا، ثُمَّ عَلَا شَرَفًا، فَلَمْ يَرَهَا، ثُمَّ الْتَفَتَ، فَإِذَا هُوَ بِهَا تَجُرُّ خِطَامَهَا، فَمَا هُوَ بِأَشَدَّ بِهَا فَرَحًا مِنَ اللَّهِ بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ إِذَا تَابَ" . قَالَ بَهْزٌ:" عَبْدِهِ إِذَا تَابَ إِلَيْهِ". قَالَ بَهْزٌ: قَالَ حَمَّادٌ: أَظُنُّهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18408]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
حدیث نمبر: 18409 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، أَبِيهِ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَالْجُمُعَةِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى و هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَقَرَأَ بِهِمَا" . وَقَدْ قَالَ أَبُو عَوَانَةَ: وَرُبَّمَا اجْتَمَعَ عِيدَانِ فِي يَوْمٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18409]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 878
الحكم: إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18410 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُجَالِدٌ ، الشَّعْبِيَّ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا مُجَالِدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْكُوفَةِ يقول: نَحَلَنِي أَبِي غُلَامًا، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُشْهِدَهُ، فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18410]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مجالد ضعيف، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، مجالد ضعيف، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18411 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدَّهِنِ وَالْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الْقَائِمِ فِي حُدُودِ اللَّهِ مَثَلُ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا، فَكَانَ يَخْتَلِفُ، وَثَقُلَ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَرَّ، فَقَالَ: أَخْرِقُ خَرْقًا يَكُونُ أَهْوَنَ عَلَيَّ، وَلَا يَكُونُ مُخْتَلَفِي عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا يَخْرِقُ فِي نَصِيبِهِ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ، نَجَا وَنَجَوْا، وَإِنْ تَرَكُوهُ هَلَكَ وَهَلَكُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة
الحكم: إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة
حدیث نمبر: 18412 مسند احمد
سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيُّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حدثنا الشَّعْبِيُّ ، سَمِعَهُ مِنَ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ إِذَا سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ظَنَنْتُ أَنْ لَا أَسْمَعَ أَحَدًا عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ فِي الْإِنْسَانِ مُضْغَةً، إِذَا سَلِمَتْ وَصَحَّتْ، سَلِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَصَحَّ، وَإِذَا سَقِمَتْ سَقِمَ سَائِرُ الْجَسَدِ وَفَسَدَ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے جو اگر تندرست اور صحیح ہو تو ساراجسم تندرست اور صحیح سالم رہتا ہے اور اگر وہ بیمار ہوجائے تو سارا جسم بیمار ہوجاتا ہے، یاد رکھو! وہ دل ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18412]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
الحكم: حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، وهذا إسناد ضعيف لضعف مجالد
حدیث نمبر: 18413 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُولُ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ وَهُوَ يَخْطُبُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَرَجُلٌ يُوضَعُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ جَمْرَتَانِ يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18413]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6561، م: 213
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6561، م: 213
حدیث نمبر: 18414 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيِّ ، أَبِي قِلَابَةَ ، أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ كَتَبَ كِتَابًا قَبْلَ أَنْ يَخْلُقَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ بِأَلْفَيْ عَامٍ، فَأَنْزَلَ مِنْهُ آيَتَيْنِ، فَخَتَمَ بِهِمَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَلَا يُقْرَآنِ فِي دَارٍ ثَلَاثَ لَيَالٍ فَيَقْرَبَهَا الشَّيْطَانُ" . قَالَ عَفَّانُ: فَلَا تُقْرَبَنَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق سے دوہزار سال قبل کتاب لکھ دی تھی اور اس میں سے دو آیتیں نازل کرکے ان سے سورت بقرہ کا اختتام فرمادیا لہٰذا جس گھر میں تین راتوں تک سورت بقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھی جائیں گی شیطان اس گھر کے قریب نہیں آسکے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18414]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18415 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَسُرَيْجٌ ، أَبُو عَوَانَةَ ، أَبِي بِشْرٍ ، بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِوَقْتِ هَذِهِ الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ، كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّيهَا لِسُقُوطِ الْقَمَرِ لِثَالِثَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز عشاء کا وقت میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تہائی رات کے سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18415]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18416 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ سُرَيْجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِينَ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا أَلِمَ بَعْضُهُ تَدَاعَى سَائِرُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18416]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6011، م: 2586، سماك بن حرب توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 6011، م: 2586، سماك بن حرب توبع
حدیث نمبر: 18417 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ مَعْقِلٍ ، وَهْبًا ، النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ يَعْنِي ابْنَ مَعْقِلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ وَهْبًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الرَّقِيمَ، فَقَالَ:" إِنَّ ثَلَاثَةً كَانُوا فِي كَهْفٍ، فَوَقَعَ الْجَبَلُ عَلَى بَابِ الْكَهْفِ، فَأُوصِدَ عَلَيْهِمْ، قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: تَذَاكَرُوا أَيُّكُمْ عَمِلَ حَسَنَةً، لَعَلَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِرَحْمَتِهِ يَرْحَمُنَا، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي أُجَرَاءُ يَعْمَلُونَ، فَجَاءَنِي عُمَّالٌ لِي، اسْتَأْجَرْتُ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ بِأَجْرٍ مَعْلُومٍ، فَجَاءَنِي رَجُلٌ ذَاتَ يَوْمٍ وَسَطَ النَّهَارِ، فَاسْتَأْجَرْتُهُ بِشَطْرِ أَصْحَابِهِ، فَعَمِلَ فِي بَقِيَّةِ نَهَارِهِ كَمَا عَمِلَ كُلُّ رَجُلٍ مِنْهُمْ فِي نَهَارِهِ كُلِّهِ، فَرَأَيْتُ عَلَيَّ فِي الذِِّمَامِ أَنْ لَا أُنْقِصَهُ مِمَّا اسْتَأْجَرْتُ بِهِ أَصْحَابَهُ، لِمَا جَهِدَ فِي عَمَلِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: أَتُعْطِي هَذَا مِثْلَ مَا أَعْطَيْتَنِي، وَلَمْ يَعْمَلْ إِلَّا نِصْفَ نَهَارٍ؟! فَقُلْتُ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَمْ أَبْخَسْكَ شَيْئًا مِنْ شَرْطِكَ، وَإِنَّمَا هُوَ مَالِي أَحْكُمُ فِيهِ مَا شِئْتُ. قَالَ: فَغَضِبَ، وَذَهَبَ، وَتَرَكَ أَجْرَهُ. قَالَ: فَوَضَعْتُ حَقَّهُ فِي جَانِبٍ مِنَ الْبَيْتِ مَا شَاءَ اللَّهُ، ثُمَّ مَرَّتْ بِي بَعْدَ ذَلِكَ بَقَرٌ، فَاشْتَرَيْتُ بِهِ فَصِيلَةً مِنَ الْبَقَرِ، فَبَلَغَتْ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَمَرَّ بِي بَعْدَ حِينٍ شَيْخًا ضَعِيفًا لَا أَعْرِفُهُ، فَقَالَ: إِنَّ لِي عِنْدَكَ حَقًّا فَذَكَّرَنِيهِ حَتَّى عَرَفْتُهُ، فَقُلْتُ: إِيَّاكَ أَبْغِي، هَذَا حَقُّكَ، فَعَرَضْتُهَا عَلَيْهِ جَمِيعَهَا، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، لَا تَسْخَرْ بِي، إِنْ لَمْ تَصَدَّقْ عَلَيَّ، فَأَعْطِنِي حَقِّي. قَالَ: وَاللَّهِ لَا أَسْخَرُ بِكَ، إِنَّهَا لَحَقُّكَ، مَا لِي مِنْهَا شَيْءٌ، فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ جَمِيعًا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَانْصَدَعَ الْجَبَلُ حَتَّى رَأَوْا مِنْهُ وَأَبْصَرُوا. قَالَ الْآخَرُ: قَدْ عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً كَانَ لِي فَضْلٌ، فَأَصَابَتْ النَّاسَ شِدَّةٌ فَجَاءَتْنِي امْرَأَةٌ تَطْلُبُ مِنِّي مَعْرُوفًا، قَالَ: فَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَأَبَتْ عَلَيَّ، فَذَهَبَتْ ثُمَّ رَجَعَتْ، فَذَكَّرَتْنِي بِاللَّهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ، مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَأَبَتْ عَلَيَّ، وَذَهَبَتْ فَذَكَرَتْ لِزَوْجِهَا، فَقَالَ لَهَا: أَعْطِيهِ نَفْسَكِ، وَأَغْنِي عِيَالَكِ، فَرَجَعَتْ إِلَيَّ فَنَاشَدَتْنِي بِاللَّهِ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهَا وَقُلْتُ: وَاللَّهِ مَا هُوَ دُونَ نَفْسِكِ، فَلَمَّا رَأَتْ ذَلِكَ، أَسْلَمَتْ إِلَيَّ نَفْسَهَا، فَلَمَّا تَكَشَّفْتُهَا وَهَمَمْتُ بِهَا، ارْتَعَدَتْ مِنْ تَحْتِي، فَقُلْتُ لَهَا: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ. قُلْتُ لَهَا: خِفْتِيهِ فِي الشِّدَّةِ، وَلَمْ أَخَفْهُ فِي الرَّخَاءِ! فَتَرَكْتُهَا، وَأَعْطَيْتُهَا مَا يَحِقُّ عَلَيَّ بِمَا تَكَشَّفْتُهَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ، فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ: فَانْصَدَعَ حَتَّى عَرَفُوا، وَتَبَيَّنَ لَهُمْ. قَالَ الْآخَرُ: عَمِلْتُ حَسَنَةً مَرَّةً، كَانَ لِي أَبَوَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَكَانَتْ لِي غَنَمٌ، فَكُنْتُ أُطْعِمُ أَبَوَيَّ وَأَسْقِيهِمَا، ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى غَنَمِي، قَالَ: فَأَصَابَنِي يَوْمًا غَيْثٌ حَبَسَنِي، فَلَمْ أَبْرَحْ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَأَتَيْتُ أَهْلِي، وَأَخَذْتُ مِحْلَبِي، فَحَلَبْتُ وَغَنَمِي قَائِمَةٌ، فَمَضَيْتُ إِلَى أَبَوَيَّ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَشَقَّ عَلَيَّ أَنْ أَتْرُكَ غَنَمِي، فَمَا بَرِحْتُ جَالِسًا وَمِحْلَبِي عَلَى يَدِي حَتَّى أَيْقَظَهُمَا الصُّبْحُ، فَسَقَيْتُهُمَا، اللَّهُمَّ إِنْ كُنْتُ فَعَلْتُ ذَلِكَ لِوَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا، قَالَ النُّعْمَانُ: لَكَأَنِّي أَسْمَعُ هَذِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ الْجَبَلُ: طَاقْ، فَفَرَّجَ اللَّهُ عَنْهُمْ، فَخَرَجُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا گزشتہ زمانہ میں تین آدمی جارہے تھے راستے میں بارش شروع ہوگئی یہ تینوں پہاڑ کے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے اوپر سے ایک پتھر آکر دروازہ پر گرا اور غار کا دروازہ بند ہوگیا یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے کہنے لگے اللہ کی قسم تمہاری یہاں سے رہائی بغیر سچائی کے اظہار کے نہیں ہوسکتی لہٰذا جس شخص نے اپنی دانست میں جو کوئی سچائی کا کام کیا ہو اس کو پیش کرکے خدا سے دعا کرے۔ مشورہ طے ہونے کے بعد ایک شخص بولا میں نے ایک مرتبہ ایک نیکی کی تھی میرے یہاں کچھ مزودر کام کررہے تھے، میں نے ان میں سے ہر ایک کو طے شدہ مزدوری پر رکھا ہوا تھا ایک دن ایک مزدور نصف النہار کے وقت میرے پاس آیا میں نے اسے اسی مزدوری پر رکھ لیا جس پر صبح سے کام کرنے والوں کو رکھا تھا چناچہ وہ دوسرے مزدوروں کی طرح باقی دن کام کرتا رہاجب مزدوری دینے کا وقت آیا تو ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ اس نے مزدوری تو نصف النہار سے کی ہے اور آپ اسے اجرت اتنی ہی دے رہے ہیں جتنی مجھے دی ہے؟ میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے! میں نے تمہارے حق میں تو کوئی کمی نہیں کی آگے یہ میرا مال ہے میں جو چاہوں فیصلہ کروں اس پر وہ ناراض ہوگیا اور اپنی مزدوری بھی چھوڑ کر چلا گیا میں نے اس کا حق اٹھا کر گھرکے ایک کونے میں رکھ دیا کچھ عرصے بعد میرے پاس سے ایک گائے گذری میں نے ان پیسوں سے گائے کا بچہ خرید لیا جو بڑھتے بڑھتے پورا ریوڑ بن گیا کچھ عرصے بعد وہ انتہائی بوڑھا ہوگیا تو وہ شخص اپنی مزدوری مانگتا ہوا میرے پاس آیا میں نے کہا یہ گائے بیل لے جا وہ کہنے لگا میرے ساتھ مذاق نہ کر، میرا حق مجھے دے دے میں نے جواب دیا میں تمہارے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، یہ تمہارا حق ہے یہ گائے بیل لے جا، الہٰی! اگر تیری دانست میں میں نے یہ فعل صرف تیرے خوف سے کیا ہے تو ہم سے یہ مصیبت دور فرمادے چناچہ اس کی دعا کی برکت سے پتھر کسی قد رکھل گیا۔ دوسرا شخص بولا الہٰی! تو واقف ہے کہ ایک عورت جو میری نظر میں سب سے زیادہ محبوب تھی میں نے بہلا کر اس سے کار برآری کرنا چاہی لیکن اس نے بغیر سو دینار لئے (وصل سے) انکار کردیا میں نے کوشش کرکے سو دینارحاصل کئے اور جب وہ میرے قبضہ میں آگئے تو میں نے لے جا کر اس کودے دیئے اس نے اپنے نفس کو میرے قبضہ میں دے دیا جب میں اس کی ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو وہ کہنے لگی اللہ کا خوف کر اور بغیرحق کے مہر نہ توڑ، میں تو فوراً اٹھ کھڑا ہو اور سو دینار بھی چھوڑ دئیے، الہٰی! اگر میرا یہ فعل صرف تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو یہ مصیبت ہم سے دور کردے چناچہ وہ پتھر مزید ہٹ گیا اور وہ باہر کی چیزیں دیکھنے لگے۔ تیسرا شخص کہنے لگا الہٰی! تو واقف ہے کہ میرے والدین بہت بوڑھے تھے میں ان کو روزانہ شام کو اپنی بکریوں کا دودھ (دوہ کر) دیا کرتا تھا ایک روز مجھے (جنگل سے آنے میں) دیر ہوگئی جس وقت میں آیا تو وہ سوچکے تھے اور میری بیوی بچے بھوک کی وجہ سے چلا رہے تھے لیکن میرا قاعدہ تھا کہ جب تک میرے ماں باپ نہ پی لیتے تھے میں ان کو نہ پلاتا تھا (اس لئے بڑاحیران ہوا) ' نہ تو ان کو بیدار کرنا مناسب معلوم ہوا نہ یہ کچھ اچھا معلوم ہوا کہ ان کو ایسے ہی چھوڑ دوں کہ (نہ کھانے سے) ان کو کمزوری ہوجائے اور صبح تک میں ان کی (آنکھ کھلنے کے) انتظار میں (کھڑا) رہا الہٰی! اگر تیری دانست میں میرا یہ فعل تیرے خوف کی وجہ سے تھا تو ہم سے اس مصیبت کو دور فرمادے فوراً پتھر کھل گیا اور آسمان ان کو نظر آنے لگا اور وہ باہر نکل آئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18417]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18418 مسند احمد
مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي فَرْوَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ، أَوْ الْأَمْرِ، فَهُوَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكُ، وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ، أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع
حدیث نمبر: 18419 مسند احمد
سُرَيجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُرَيجُ بْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18419]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18420 مسند احمد
الْقَوَارِيرِيُّ ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنِي الْقَوَارِيرِيُّ ، وَالْمُقَدَّمِيُّ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ يَعْنِي ابْنَ الْمُهَلَّبِ بْنِ أَبِي صُفْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ" .
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18421 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي وَمِنِّي. مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا بِنْتَ فُلَانَةَ! أَلَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی اونچی ہوتی ہوئی آوازان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو بچالیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18421]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18422 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ حَاجِبِ بْنِ الْمُفَضَّلِ بْنِ الْمُهَلَّبِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: " اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ، اعْدِلُوا بَيْنَ أَبْنَائِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنے بچوں کے درمیان عدل کیا کرو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18422]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18423 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي الْحَرَّانِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَاللَّهِ لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ رَجُلٍ كَانَ فِي سَفَرٍ فِي فَلَاةٍ مِنَ الْأَرْضِ، فَآوَى إِلَى ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَنَامَ تَحْتَهَا، فَاسْتَيْقَظَ، فَلَمْ يَجِدْ رَاحِلَتَهُ، فَأَتَى شَرَفًا، فَصَعِدَ عَلَيْهِ، فَأَشْرَفَ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، ثُمَّ أَتَى آخَرَ، فَأَشْرَفَ، فَلَمْ يَرَ شَيْئًا، فَقَالَ: أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِي الَّذِي كُنْتُ فِيهِ، فَأَكُونُ فِيهِ حَتَّى أَمُوتَ" قَالَ:" فَذَهَبَ، فَإِذَا بِرَاحِلَتِهِ تَجُرُّ خِطَامَهَا". قَالَ:" فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے غالباً مرفوعاً مروی ہے کہ ایک آدمی کسی جنگل کے راستے سفر پر روانہ ہوا راستے میں وہ ایک درخت کے نیچے قیلولہ کرے اس کے ساتھ اس کی سواری بھی ہو جس پر کھانے پینے کا سامان رکھا ہوا ہو وہ آدمی جب سو کر اٹھے تو اسے اپنی سواری نظر نہ آئے وہ ایک بلند ٹیلے پر چڑھ کر دیکھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر دوسرے ٹیلے پر چڑھے لیکن سواری نظر نہ آئے پھر پیچھے مڑ کر دیکھے تو اچانک اسے اپنی سواری نظر آجائے جو اپنی لگام گھسیٹتی چلی جارہی ہو تو وہ کتنا خوش ہوگا لیکن اس کی یہ خوشی اللہ کی اس خوشی سے زیادہ نہیں ہوتی جب بندہ اللہ کے سامنے توبہ کرتا ہے اور اللہ خوش ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18423]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد اختلف فى رفعه ووقفه، وموقوفه أصح
حدیث نمبر: 18424 مسند احمد
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، زُهَيْرٌ ، جَابِرٌ ، أَبُو عَازِبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا جَابِرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَازِبٍ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي شَهَادَةٍ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " كُلُّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ، وَفِي كُلِّ خَطَإٍ أَرْشٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک خطا ہوتی ہے سوائے تلوار کے اور ہر خطا کا تاوان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18424]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جداً لضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
الحكم: إسناده ضعيف جداً لضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
حدیث نمبر: 18425 مسند احمد
بَهْزٌ ، أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَهُوَ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ، وَكَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا، وَقَعَ عَلَى جَارِيَةِ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَرُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ الْأَنْصَارِيِّ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ، جَلَدْتُكَ مِئَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ، رَجَمْتُكَ بِالْحِجَارَةِ" . قَالَ: وَكَانَتْ قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ، فَجَلَدَهُ مِائَةً، وَقَالَ: سَمِعْتُ أَبَانًا يَقُولُ: وَأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ فِيهِ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، وَكَتَبَ إِلَيْهِ بِهَذَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18425]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، خالد بن عرفطة مجهول، ثم وفيه اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، خالد بن عرفطة مجهول، ثم وفيه اضطراب
حدیث نمبر: 18426 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةُ ، خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، أَبَانُ ، قَتَادَةُ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُرْفُطَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، وَقَالَ أَبَانُ : أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ فِيهِ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُنَيْنٍ، كَانَ يُنْبَزُ قُرْقُورًا، رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَطِئَ جَارِيَةَ امْرَأَتِهِ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَكَ، جَلَدْتُكَ مِئَةً، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَكَ، رَجَمْتُك، فَوَجَدَهَا قَدْ أَحَلَّتْهَا لَه، فَجَلَدَهُ مِئَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18426]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه