بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 106
صفحہ 1 از 6
حدیث نمبر: 18347 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَشُبُهَاتٌ بَيْنَ ذَلِكَ، مَنْ تَرَكَ الشُّبُهَاتِ فَهُوَ لِلْحَرَامِ أَتْرَكُ، وَمَحَارِمُ اللَّهِ حِمًى، فَمَنْ أَرْتَعَ حَوْلَ الْحِمَى، كَانَ قَمِنًا أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18347]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2051، م: 1099، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 2051، م: 1099، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18348 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، وَالشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18348]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18349 مسند احمد
حَسَنٌ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، وَيُونُسُ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"، قَالَ حَسَنٌ:" ثُمَّ يَنْشَأُ أَقْوَامٌ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَتَهُمْ، وَشَهَادَتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے پھر ان کے بعد والے اس کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جن کی قسم گواہی پر اور گواہی قسم پر سبقت لے جائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18349]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18350 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَامِرٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَفَعَهُ، قَالَ:" إِنَّ مِنَ الزَّبِيبِ خَمْرًا، وَمِنْ التَّمْرِ خَمْرًا، وَمِنْ الْحِنْطَةِ خَمْرًا، وَمِنْ الشَّعِيرِ خَمْرًا، وَمِنْ الْعَسَلِ خَمْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے کہ شراب کشمش کی بھی بنتی ہے کھجور کی بھی، گندم کی بھی، جو کی بھی اور شہد کی بھی ہوتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18350]
حکم دارالسلام
حديث صحيح من قول عمر موقوفة ، وهو فى حكم المرفوع، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر الشعبي
الحكم: حديث صحيح من قول عمر موقوفة ، وهو فى حكم المرفوع، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر الشعبي
حدیث نمبر: 18351 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَارِثِ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، رَجُلٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، فَذَكَرَ حَدِيثًا، قَالَ: وَحَدَّثَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: كَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْأَلُ، ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ يَسْأَلُ، حَتَّى انْجَلَتْ الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ:" إِنَّ نَاسًا مِنْ أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ أَوْ يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنْ عُظَمَاءِ أَهْلِ الْأَرْضِ، وَإِنَّ ذَاكَ لَيْسَ كَذَاكَ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ، خَشَعَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18351]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن النعمان، وقد اختلف فيه
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن النعمان، وقد اختلف فيه
حدیث نمبر: 18352 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، ذَرٍّ ، يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، وَمَنْصُورٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ الْكِنْدِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الدُّعَاءَ هُوَ الْعِبَادَةُ"، ثُمَّ قَرَأَ: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ، إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سورة غافر آية 60" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا جو لوگ میری عبادت سے تکبر برتتے ہیں۔۔۔۔۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18352]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18353 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، الْعَوَّامِ ، رَجُلٌ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنِ الْعَوَّامِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ آلِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ، فرَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ، ثُمَّ خَفَضَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ، فَقَالَ:" أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَا أَنَا مِنْهُ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَتُهُ، أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نماز عشاء کے بعد مسجد ہی میں تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا پھر نظریں جھکالیں، ہم سمجھے کہ شاید آسمان میں کوئی نیا واقعہ رونما ہوا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یاد رکھو! میرے بعد کچھ جھوٹے اور ظالم حکمران بھی آئیں گے جو شخص ان کے جھوٹ کو سچ اور ان کے ظلم پر تعاون کرے اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جو ان کے جھوٹ کو سچ اور ظلم پر تعاون نہ کرے تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یاد رکھو! مسلمان کا خون اس کا کفارہ ہے یاد رکھو! سبحان اللہ، الحمدللہ، لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر ہی باقیات صالحات (باقی رہنے والی نیکیاں) ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18353]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن النعمان بن بشير
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن النعمان بن بشير
حدیث نمبر: 18354 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَهُ نُحْلًا، فَقَالَتْ لَهُ أُمُّ النُّعْمَانِ: أَشْهِدْ لِابْنِي عَلَى هَذَا النُّحْلِ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ لَهُ:" أَوَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَ مَا أَعْطَيْتَ هَذَا؟" قَالَ: لَا. قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَشْهَدَ لَهُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا ان سے میری والدہ نے کہا کہ اس عطیے پر میرے بیٹے کے لئے کسی کو گواہ بنالو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا گواہ بننے کو اچھا نہیں سمجھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18354]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، م: 1623
حدیث نمبر: 18355 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْجَسَدِ، إِذَا اشْتَكَى الرَّجُلُ رَأْسَهُ تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18355]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
حدیث نمبر: 18356 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ الْكُوفَةِ: وَاللَّهِ " مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَ: نَبِيُّكُمْ عَلَيْهِ السَّلَام يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ، وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ!" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا اور تم لوگ کھجور اور مکھن کے رنگوں پر ہی راضی ہو کر نہیں دیتے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18356]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2977
الحكم: إسناده صحيح، م: 2977
حدیث نمبر: 18357 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: أَحْمَدُ اللَّهَ تَعَالَى، " فَرُبَّمَا أَتَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ يَظَلُّ يَتَلَوَّى، مَا يَشْبَعُ مِنَ الدَّقَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو کوفہ کے منبر پر یہ کہتے ہوئے سنا اللہ کی قسم! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ایک ایک مہینہ تک کبھی ردی کھجور سے اپنا پیٹ نہیں بھرا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18357]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2977
الحكم: إسناده صحيح، م: 2977
حدیث نمبر: 18358 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: ذَهَبَ أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُشْهِدَهُ عَلَى نُحْلٍ نَحَلَنِيهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَكُلَّ بَنِيكَ نَحَلْتَ مِثْلَ هَذَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَرْجِعْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا ان سے میری والدہ نے کہا کہ اس عطیے پر میرے بیٹے کے لئے کسی کو گواہ بنالو میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا واپس چلے جاؤ۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18358]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623
حدیث نمبر: 18359 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، فِطْرٌ ، أَبُو الضُّحَى ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الضُّحَى ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَسَوِّ بَيْنَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا اور اس پر گواہ بنانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر سب کو برابر برابر دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623
حدیث نمبر: 18360 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ، وَعَلَيْهِ خَمِيصَةٌ لَهُ، فَقَالَ: لَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ" . فَلَوْ أَنَّ رَجُلًا مَوْضِعَ كَذَا وَكَذَا، سَمِعَ صَوْتَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادر اوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز کو سن لیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18360]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18361 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْقَائِمِ عَلَى حُدُودِ اللَّهِ تَعَالَى، وَالْمُدَّهِنِ فِيهَا، كَمَثَلِ قَوْمٍ اسْتَهَمُوا عَلَى سَفِينَةٍ فِي الْبَحْرِ، فَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَسْفَلَهَا، وَأَصَابَ بَعْضُهُمْ أَعْلَاهَا، فَكَانَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا يَصْعَدُونَ، فَيَسْتَقُونَ الْمَاءَ، فَيَصُبُّونَ عَلَى الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَعْلَاهَا: لَا نَدَعُكُمْ تَصْعَدُونَ، فَتُؤْذُونَنَا، فَقَالَ الَّذِينَ فِي أَسْفَلِهَا: فَإِنَّنَا نَنْقُبُهَا مِنْ أَسْفَلِهَا، فَنَسْتَقِي" قَالَ:" فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى أَيْدِيهِمْ، فَمَنَعُوهُمْ، نَجَوْا جَمِيعًا، وَإِنْ تَرَكُوهُمْ غَرِقُوا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حدود اللہ کو قائم کرنے والے اور اس میں مداہنت برتنے والوں کی مثال اس قوم کی سی ہے جو کسی سمندری سفر پر روانہ ہو کچھ لوگ نچلے حصے میں بیٹھ جائیں اور کچھ لوگ اوپر والے حصے میں بیٹھ جائیں نچلے حصے والے اوپر چڑھ کر جاتے ہوں، وہاں سے پانی لاتے ہوں جس میں سے تھوڑا بہت پانی اوپروالوں پر بھی گرجاتا ہو جیسے دیکھ کر اوپر والے کہیں کہ اب ہم تمہیں اوپر نہیں چڑھنے دیں گے تم ہمیں تکلیف دیتے ہو نیچے والے اس کا جواب دیں کہ ٹھیک ہے پھر ہم کشتی کے نیچے سوراخ کرکے وہاں سے پانی حاصل کرلیں گے اب اگر اوپر والے ان کا ہاتھ پکڑ لیں اور انہیں اس سے باز رکھیں تو سب ہی بچ جائیں گے ورنہ سب ہی غرق ہوجائیں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18361]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2686
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2686
حدیث نمبر: 18362 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطَّحَّانَ ، عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَخِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُوسَى يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ الطَّحَّانَ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ، يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ، أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18362]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18363 مسند احمد
يَعْلَى ، أَبُو حَيَّانَ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَأَلَتْ أُمِّي أَبِي بَعْضَ الْمَوْهِبَةِ لِي، فَوَهَبَهَا لِي، فَقَالَتْ: لَا أَرْضَى حَتَّى تُشْهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَخَذَ أَبِي بِيَدِي وَأَنَا غُلَامٌ، وَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أُمَّ هَذَا ابْنَةَ رَوَاحَةَ زَاوَلَتْنِي عَلَى بَعْضِ الْمَوْهِبَةِ لَهُ، وَإِنِّي قَدْ وَهَبْتُهَا لَهُ، وَقَدْ أَعْجَبَهَا أَنْ أُشْهِدَكَ، قَالَ:" يَا بَشِيْرُ، أَلَكَ ابْنٌ غَيْرُ هَذَا؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: قَالَ:" فَوَهَبْتَ لَهُ مِثْلَ الَّذِي وَهَبْتَ لِهَذَا؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَلَا تُشْهِدْنِي إِذًا، فَإِنِّي لَا أَشْهَدُ عَلَى جَوْرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میری والدہ نے میرے والد سے مجھے کوئی چیز ہبہ کرنے کے لئے کہا انہوں نے وہ چیز مجھے ہبہ کردی، وہ کہنے لگیں کہ میں اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس پر گواہ نہیں بنالیتے میں اس وقت نوعمر تھا میرے والدنے میرا ہاتھ پکڑا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کی والدہ بنت رواحہ نے مجھ سے مطالبہ کیا کہ میں اس بچے کو کوئی چیز ہبہ کردوں سو میں نے کردی وہ چاہتی ہے کہ میں آپ کو اس پر گواہ بناؤں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بشیر! کیا اس کے علاوہ بھی تمہارا کوئی بیٹا ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18363]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2650، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2650، م: 1623
حدیث نمبر: 18364 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى الصَّفِّ الْأَوَّلِ، أَوْ الصُّفُوفِ الْأُوَلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے صف اول میں شامل ہونے والوں پر صلوٰۃ پڑھتے ہیں (اللہ تعالیٰ دعاء قبول فرماتے ہیں اور فرشتے ان کے لئے رحمت کی دعاء کرتے ہیں) [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18364]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18365 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، أَيُّوبُ ، أَبِي قِلَابَةَ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: انْكَسَفَتْ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ، فَكَانَ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَيَسْأَلُ، حَتَّى انْجَلَتْ. فَقَالَ:" إِنَّ رِجَالًا يَزْعُمُونَ أَنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ إِذَا انْكَسَفَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا، فَإِنَّمَا يَنْكَسِفُ لِمَوْتِ عَظِيمٍ مِنَ الْعُظَمَاءِ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُمَا خَلْقَانِ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِذَا تَجَلَّى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِشَيْءٍ مِنْ خَلْقِهِ، خَشَعَ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ سورج گرہن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعت نماز پڑھتے اور لوگوں سے صورت حال دریافت کرتے، پھر دو رکعت پڑھتے اور صورت حال دریافت کرتے حتیٰ کہ سورج مکمل روشن ہوگیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا زمانہ جاہلیت میں لوگ کہتے ہیں کہ اگر چاند اور سورج میں سے کسی ایک کو گرہن لگ جائے تو وہ اہل زمین میں سے کسی بڑے آدمی کی موت کی وجہ سے ہوتا ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں یہ دونوں تو اللہ کی مخلوق ہیں البتہ جب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق پر اپنی تجلی ظاہر فرماتا ہے تو وہ اس کے سامنے جھک جاتی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18365]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع الحديث من النعمان
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع الحديث من النعمان
حدیث نمبر: 18366 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، دَاوُدَ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: حَمَلَنِي أَبِي بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اشْهَدْ أَنِّي قَدْ نَحَلْتُ النُّعْمَانَ كَذَا وَكَذَا، شَيْئًا سَمَّاهُ، قَالَ: فَقَالَ: " أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَ مِثْلَ الَّذِي نَحَلْتَ النُّعْمَانَ؟" قَالَ: لَا، قَالَ:" فَأَشْهِدْ غَيْرِي"، قال: ثُمَّ قَالَ:" أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ يَكُونُوا إِلَيْكَ فِي الْبِرِّ سَوَاءً؟" قَالَ: بَلَى، قَالَ:" فَلَا إِذًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میرے والد مجھے لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اس بات پر گواہ بن جائیے کہ میں نے نعمان کو فلاں فلاں چیز بخش دی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی دے دیا ہے جسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہ نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر کسی اور کو گواہ بنالو تھوڑی دیر بعد فرمایا کیا تمہیں یہ بات اچھی نہیں لگتی کہ حس سلوک میں یہ سب تمہارے ساتھ برابر ہوں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اس طرح تو نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18366]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، م: 1623