أَبُو أَحْمَدَ ، فِطْرٌ ، أَبُو الضُّحَى ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو الضُّحَى ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: انْطَلَقَ بِي أَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَعْنِي يُشْهِدُهُ عَلَى عَطِيَّةٍ يُعْطِينِيهَا، فَقَالَ: " هَلْ لَكَ وَلَدٌ غَيْرُهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" فَسَوِّ بَيْنَهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والدنے انہیں کوئی تحفہ دیا اور اس پر گواہ بنانے کے لئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس معاملے کا ذکر کردیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا اس کے علاوہ بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے کہا جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پھر سب کو برابر برابر دو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18359]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2586، م: 1623