بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 106
صفحہ 3 از 6
حدیث نمبر: 18387 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّد ، أَبِيْه ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّد ، عَنْ أَبِيْه عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ ب سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ، فَرُبَّمَا اجْتَمَعَ الْعِيدُ وَالْجُمُعَةُ، فَقَرَأَ بِهَاتَيْنِ السُّورَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیدین میں سورت اعلیٰ اور سورت غاشیہ کی تلاوت فرماتے تھے اور اگر عیدجمعہ کے دن جاتی تو دونوں نمازوں (عید اور جمعہ) میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18387]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 878
الحكم: إسناده صحيح، م: 878
حدیث نمبر: 18388 مسند احمد
يَحْيَى ، أَبِي عِيسَى مُوسَى الصَّغِيرِ ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ ، أَخِيهِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ أَبِي عِيسَى مُوسَى الصَّغِيرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَوْ عَنْ أَخِيهِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ وَتَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَهْلِيلِهِ تَتَعَطَّفُ حَوْلَ الْعَرْشِ، لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ، يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ، أَفَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو لوگ اللہ کے جلال کی وجہ سے اس کی تسبیح وتحمید اور تکبیر و تہلیل کے ذریعے اس کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے یہ کلمات تسبیح عرش کے گرد گھومتے رہتے ہیں اور مکھیوں جیسی بھنبھناہٹ ان سے نکلتی رہتی ہے اور وہ ذاکر کا ذکر کرتے رہتے ہیں کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ ایک چیز مسلسل اللہ کے یہاں اس کا ذکر کرتی رہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18388]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18389 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ أَبِي الْجَعْدِ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، قال: سمعت رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18389]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
حدیث نمبر: 18390 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ أَهْوَنَ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ: رَجُلٌ يُجْعَلُ فِي أَخْمَصِ قَدَمَيْهِ نَعْلَانِ مِنْ نَارٍ، يَغْلِي مِنْهُمَا دِمَاغُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے قیامت کے دن سب سے ہلکا عذاب اس شخص کو ہوگا جس کے پاؤں میں آگ کے جوتے پہنائے جائیں گے اور ان سے اس کا دماغ کھول رہا ہوگا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18390]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6562، م: 213
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6562، م: 213
حدیث نمبر: 18391 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، ذَرٍّ ، يُسَيْعٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ يُسَيْعٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدُّعَاءُ هُوَ الْعِبَادَةُ"، ثُمَّ قَرَأَ: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ سورة غافر آية 60" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا دعاء ہی اصل عبادت ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی " مجھ سے دعاء مانگو، میں تمہاری دعاء قبول کروں گا " [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18391]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18392 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، أَبِي قِلَابَةَ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى فِي كُسُوفِ الشَّمْسِ نَحْوًا مِنْ صَلَاتِكُمْ، يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سورج گرہن کے موقع پر اسی طرح نماز پڑھائی تھی جیسے تم عام طور پر پڑھتے ہو اور اسی طرح رکوع سجدہ کیا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18392]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من النعمان
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو قلابة لم يسمع من النعمان
حدیث نمبر: 18393 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، خَيْثَمَةَ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُؤْمِنُونَ كَرَجُلٍ وَاحِدٍ، إِنْ اشْتَكَى رَأْسُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ، وَإِنْ اشْتَكَى عَيْنُهُ اشْتَكَى كُلُّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا مؤمن کی مثال جسم کی سی ہے کہ اگر انسان کے سر کو تکلیف ہوتی ہے تو سارے جسم کو تکلیف کا احساس ہوتا ہے اور اگر آنکھ میں تکلیف ہوتب بھی سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے،۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18393]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6011، م: 2586
حدیث نمبر: 18394 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْعِيزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْعِيزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: جَاءَ أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ عَائِشَةَ وَهِيَ رَافِعَةٌ صَوْتَهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ: يَا ابْنَةَ أُمِّ رُومَانَ! وَتَنَاوَلَهَا، أَتَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! قَالَ: فَحَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا. قَالَ: فَلَمَّا خَرَجَ أَبُو بَكْرٍ، جَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَهَا يَتَرَضَّاهَا:" أَلَا تَرَيْنَ أَنِّي قَدْ حُلْتُ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَكِ"، قَالَ: ثُمَّ جَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ، فَوَجَدَهُ يُضَاحِكُهَا، قَالَ: فَأَذِنَ لَهُ، فَدَخَلَ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَشْرِكَانِي فِي سِلْمِكُمَا، كَمَا أَشْرَكْتُمَانِي فِي حَرْبِكُمَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی اونچی ہوتی ہوئی آواز ان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو بچالیا۔ جب حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو چھیڑتے ہوئے فرمانے لگے دیکھا! میں نے تمہیں اس شخص سے کس طرح بچایا؟ تھوڑی دیر بعد حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ دوبارہ آئے اور اجازت لے کر اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو ہنسا رہے ہیں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی صلح میں مجھے بھی شامل کرلیجئے جیسے اپنی لڑائی میں شامل کیا تھا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18394]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18395 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، جَابِرٍ ، أَبِي عَازِبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي عَازِبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِكُلِّ شَيْءٍ خَطَأٌ إِلَّا السَّيْفَ، وَلِكُلِّ خَطَأٌ أَرْشٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کی ایک خطا ہوتی ہے سوائے تلوار کے اور ہر خطا کا تاوان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18395]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا الضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
الحكم: إسناده ضعيف جدا الضعف جابر، ولجهالة أبى عازب، وقد اختلف فيه على جابر
حدیث نمبر: 18396 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي بِشْرٍ ، بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ:" إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ أَوْ مِنْ أَعْلَمِ النَّاسِ بِوَقْتِ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعِشَاءَ، كَانَ يُصَلِّيهَا مِقْدَارَ مَا يَغِيبُ الْقَمَرُ لَيْلَةَ ثَالِثَةٍ، أَوْ رَابِعَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز عشاء میں تمام لوگوں سے زیادہ جانتا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ نماز آغاز مہینہ کی تیسری رات میں سقوط قمر کے بعد پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18396]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18397 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَأَبُو الْعَلَاءِ ، قَتَادَةَ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، وَأَبُو الْعَلَاءِ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ: رُفِعَ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَجُلٌ أَحَلَّتْ لَهُ امْرَأَتُهُ جَارِيَتَهَا، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيهَا بِقَضِيَّةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَئِنْ كَانَتْ أَحَلَّتْهَا لَهُ، لَأَجْلِدَنَّهُ مِائَةَ جَلْدَةٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُنْ أَحَلَّتْهَا لَهُ، لَأَرْجُمَنَّهُ" . قَالَ: فَوَجَدَهَا قَدْ أَحَلَّتْهَا لَهُ، فَجَلَدَهُ مِئَةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18397]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، قتادة لم يسمع هذا الحديث من حبيب بن سالم، ثم فيه اضطراب
الحكم: إسناده ضعيف، قتادة لم يسمع هذا الحديث من حبيب بن سالم، ثم فيه اضطراب
حدیث نمبر: 18398 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَخْطُبُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَقُولُ: " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ" . حَتَّى لَوْ أَنَّ رَجُلًا كَانَ بِالسُّوقِ، لَسَمِعَهُ مِنْ مَقَامِي هَذَا، قَالَ: حَتَّى وَقَعَتْ خَمِيصَةٌ كَانَتْ عَلَى عَاتِقِهِ عِنْدَ رِجْلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادر اوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز کو سن لیتا، حتیٰ کہ ان کے کندھے پر پڑی ہوئی چادرپاؤں پر آگری۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18398]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18399 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ، أَنْذَرْتُكُمْ النَّارَ" . حَتَّى لَوْ كَانَ رَجُلٌ كَانَ فِي أَقْصَى السُّوقِ، سَمِعَهُ، وَسَمِعَ أَهْلُ السُّوقِ صَوْتَهُ، وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سماک رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کو چادراوڑھے ہوئے خطاب کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے میں نے تمہیں جہنم سے ڈرا دیا ہے اگر کوئی شخص اتنی اتنی مسافت پر ہوتا تب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز کو سن لیتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18399]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18400 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَوِّينَا فِي الصُّفُوفِ، حَتَّى كَأَنَّمَا يُحَاذِي بِنَا الْقِدَاحَ، فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يُكَبِّرَ، رَأَى رَجُلًا شَاخِصًا صَدْرُهُ، فَقَالَ: " لَتُسَوُّنَّ صُفُوفَكُمْ، أَوْ لَيُخَالِفَنَّ اللَّهُ بَيْنَ وُجُوهِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صفوں کو اس طرح درست کرواتے تھے جیسے ہماری صفوں سے تیروں کو سیدھا کر رہے ہوں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب تکبیر کہنے کا ارادہ کیا تو دیکھا کہ ایک آدمی کا سینہ باہر نکلا ہوا تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اپنی صفوں کو درست (سیدھا) رکھا کرو ورنہ اللہ تمہارے درمیان اختلاف ڈال دے گا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18400]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
الحكم: إسناده صحيح، خ: 717، م: 436
حدیث نمبر: 18401 مسند احمد
حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، زَائِدَةَ ، سِمَاكٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، كَمَثَلِ الصَّائِمِ نَهَارَهُ، وَالْقَائِمِ لَيْلَهُ حَتَّى يَرْجِعَ مَتَى يَرْجِعُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا راہ اللہ میں جہاد کرنے والے کی مثال " جب تک وہ واپس نہ آجائے خواہ جب بھی واپس آئے " اس شخص کی طرح ہے جو صائم النہار اور قائم اللیل ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18401]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى رفعه وقفه على سماك، والصحيح وقفه
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فى رفعه وقفه على سماك، والصحيح وقفه
حدیث نمبر: 18402 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ ، النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ أَبُو طَلْحَةَ الْأَنْمَارِيُّ ، أَنَّهُ سَمِعَ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُ عَلَى مِنْبَرِ حِمْصَ، " قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَهُ لَيْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ قَامَ بِنَا لَيْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ لَا نُدْرِكَ الْفَلَاحَ" . قَالَ: وَكُنَّا نَدْعُو السُّحُورَ الْفَلَاحَ، فَأَمَّا نَحْنُ فَنَقُولُ: لَيْلَةُ السَّابِعَةِ لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ، وَأَنْتُمْ تَقُولُونَ: لَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ السَّابِعَةُ، فَمَنْ أَصَوْبُ نَحْنُ أَوْ أَنْتُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ حمص کے منبر سے فرما رہے تھے کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کی ٢٣ ویں شب کو رات کی پہلی تہائی تک قیام میں مصروف رہے پھر ٢٥ ویں شب کو نصف رات تک ہم نے قیام کیا پھر ٢٧ ویں شب کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اتناطویل قیام کرایا کہ ہمیں خطرہ ہو کیا کہ کہیں سحری کا وقت نہ نکل جائے اس لئے ہم تو کہتے تھے کہ عشرہ اخیرہ کی ساتویں رات ٢٧ ویں شب بنتی ہے اور تم لوگ کہتے ہو کہ ٢٣ ویں ساتویں رات بنتی ہے اب تم ہی بتاؤ کہ کون صحیح ہے، تم یا ہم؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18402]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18403 مسند احمد
زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ مَنَحَ مَنِيحَةً: وَرِقًا أَوْ ذَهَبًا، أَوْ سَقَى لَبَنًا، أَوْ أَهْدَى زِقَاقًا، فَهُوَ كَعَدْلِ رَقَبَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کسی کوئی ہدیہ مثلاً چاندی سونا دے یا کسی کو دودھ پلادے یا کسی کو مشکیزہ دے دے تو یہ ایسے ہے جیسے ایک غلام کو آزاد کرنا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18403]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18404 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْمُبَارَكُ ، الْحَسَنِ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَكُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: صَحِبْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْنَاهُ يَقُولُ" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ فِتَنًا كَأَنَّهَا قِطَعُ اللَّيْلِ الْمُظْلِمِ، يُصْبِحُ الرَّجُلُ فِيهَا مُؤْمِنًا، ثُمَّ يُمْسِي كَافِرًا، وَيُمْسِي مُؤْمِنًا، ثُمَّ يُصْبِحُ كَافِرًا، يَبِيعُ أَقْوَامٌ خَلَاقَهُمْ بِعَرَضٍ مِنَ الدُّنْيَا يَسِيرٍ، أَوْ بِعَرَضِ الدُّنْيَا" . قَالَ الْحَسَنُ: وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْنَاهُمْ صُوَرًا وَلَا عُقُولَ، أَجْسَامًا وَلَا أَحْلَامَ، فَرَاشَ نَارٍ وَذِبَّانَ طَمَعٍ، يَغْدُونَ بِدِرْهَمَيْنِ، وَيَرُوحُونَ بِدِرْهَمَيْنِ، يَبِيعُ أَحَدُهُمْ دَيْنَهُ بِثَمَنِ الْعَنْزِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہم نشینی کا شرف حاصل کیا ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قیامت کے پہلے فتنے اس طرح رونماہوں گے جیسے تاریک رات کے حصے ہوتے ہیں اس زمانے میں ایک آدمی صبح کو مسلمان اور شام کو کافر ہوگا یا شام کو مسلمان اور صبح کو کافر ہوگا اور لوگ اپنے دین و اخلاق کو دنیا کے ذرا سے مال ومتاع کے عوض بیچ دیں گے۔ حسن کہتے ہیں کہ بخدا! ہم ان لوگوں کو دیکھ رہے ہیں ان کی شکلیں تو ہیں لیکن عقل نام کو نہیں، جسم تو ہیں لیکن دانائی کا نام نہیں یہ آگ کے پروانے اور حرص وہوا کی مکھیاں ہیں جو صبح وشام دو دو درہم لے کر خوش ہوجاتے ہیں اور ایک بکری کی قیمت کے عوض اپنا دین فروخت کرنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18404]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من النعمان بن بشير، ومبارك بن فضالة حجة فيما يرويه عن الحسن، وقد توبع
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من النعمان بن بشير، ومبارك بن فضالة حجة فيما يرويه عن الحسن، وقد توبع
حدیث نمبر: 18405 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: جَاءَتْ امْرَأَةٌ إِلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، فَقَالَتْ: إِنَّ زَوْجَهَا وَقَعَ عَلَى جَارِيَتِهَا، فَقَالَ: سَأَقْضِي فِي ذَلِكَ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ كُنْتِ أَحْلَلْتِيهَا لَهُ، ضَرَبْتُهُ مِائَةَ سَوْطٍ، وَإِنْ لَمْ تَكُونِي أَحْلَلْتِيهَا لَهُ، رَجَمْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حبیب بن سالم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت نعمان رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس کی بیوی نے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانا اپنے شوہر کے لئے حلال کردیا تھا، انہوں نے فرمایا کہ میں اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والا فیصلہ ہی کروں گا، اگر اس کی بیوی نے اسے اپنی باندی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت دی ہوگی تو میں اسے سو کوڑے لگاؤں گا اور اگر اجازت نہ دی ہو تو میں اسے رجم کردوں گا (معلوم ہوا کہ اس کی بیوی نے اجازت دے رکھی تھی اس لئے انہوں نے اسے سو کوڑے لگائے)۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18405]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطرابه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطرابه
حدیث نمبر: 18406 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، حُذَيْفَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ ، حَدَّثَنِي حَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: كُنَّا قُعُودًا فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ بَشِيرٌ رَجُلًا يَكُفُّ حَدِيثَهُ، فَجَاءَ أَبُو ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيُّ، فَقَالَ: يَا بَشِيرُ بْنَ سَعْدٍ، أَتَحْفَظُ حَدِيثَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأُمَرَاءِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا أَحْفَظُ خُطْبَتَهُ، فَجَلَسَ أَبُو ثَعْلَبَةَ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًّا، فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً، فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ، ثُمَّ يَرْفَعُهَا إِذَا شَاءَ أَنْ يَرْفَعَهَا، ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةً عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ" . ثُمَّ سَكَتَ. قَالَ حَبِيبٌ: فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَكَانَ يَزِيدُ بْنُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ فِي صَحَابَتِهِ، فَكَتَبْتُ إِلَيْهِ بِهَذَا الْحَدِيثِ أُذَكِّرُهُ إِيَّاهُ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي أَرْجُو أَنْ يَكُونَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ، بَعْدَ الْمُلْكِ الْعَاضِّ وَالْجَبْرِيَّةِ، فَأُدْخِلَ كِتَابِي عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَسُرَّ بِهِ، وَأَعْجَبَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے بشیر اپنی احادیث روک رکھتے تھے ہماری مجلس میں ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ آئے اور کہنے لگے کہ اے بشیر سعد! کیا امراء حوالے سے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث یاد ہے؟ حضرت حذیفہ! فرمانے لگے کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خطبہ یاد ہے حضرت ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے اور حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا تمہارے درمیان نبوت موجود رہے گی پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر کاٹ کھانے والی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا اس کے بعد ظلم کی حکومت ہوگی اور وہ بھی اس وقت رہے گی جب تک اللہ تعالیٰ کو منظور ہوگا پھر اللہ اسے اٹھانا چاہئے گا تو اٹھالے گا پھر طریقہ نبوت پر گامزن خلافت آجائے گی پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہوگئے۔ راوی حدیث حبیب کہتے ہیں کہ جب عمربن عبدالعزیز خلفیہ مقرر ہوئے تو یزید بن نعمان رضی اللہ عنہ ان کے مشیربنے میں نے یزید بن نعمان کو یاد دہانی کرانے کے لئے خط میں یہ حدیث لکھ کر بھیجی اور آخر میں لکھا کہ مجھے امید ہے کہ امیر المؤمنین کی حکومت کاٹ کھانے والی اور ظلم کی حکومت کے بعد آئی ہے یزید بن نعمان نے میرا یہ خط امیر المؤمنین کی خدمت میں پیش کیا جسے پڑھ کر وہ بہت مسرور اور خوش ہوئے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18406]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن