أَبُو نُعَيْمٍ ، يُونُسُ ، الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ، النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ ، حَدَّثَنَا الْعِيزَارُ بْنُ حُرَيْثٍ ، قَالَ: قَالَ النُّعْمَانُ بْنُ بَشِيرٍ ، قَالَ: اسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَمِعَ صَوْتَ عَائِشَةَ عَالِيًا وَهِيَ تَقُولُ: وَاللَّهِ لَقَدْ عَرَفْتُ أَنَّ عَلِيًّا أَحَبُّ إِلَيْكَ مِنْ أَبِي وَمِنِّي. مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ، فَدَخَلَ فَأَهْوَى إِلَيْهَا، فَقَالَ: يَا بِنْتَ فُلَانَةَ! أَلَا أَسْمَعُكِ تَرْفَعِينَ صَوْتَكِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اندر آنے کی اجازت طلب کرنے لگے اسی دوران حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ کی اونچی ہوتی ہوئی آوازان کے کانوں میں پہنچی، اجازت ملنے پر جب وہ اندر داخل ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو پکڑ لیا اور فرمایا اسے بنت رومان! کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنی آواز بلند کرتی ہو؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے درمیان میں آکر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ کو بچالیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18421]
الحكم: إسناده حسن