سُفْيَانُ ، مُجَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُجَالِدٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، سَمِعَهُ مِنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَثَلُ الْمُدَّهِنِ وَالْوَاقِعِ فِي حُدُودِ اللَّهِ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً: الْقَائِمِ فِي حُدُودِ اللَّهِ مَثَلُ ثَلَاثَةٍ رَكِبُوا فِي سَفِينَةٍ، فَصَارَ لِأَحَدِهِمْ أَسْفَلُهَا وَأَوْعَرُهَا وَشَرُّهَا، فَكَانَ يَخْتَلِفُ، وَثَقُلَ عَلَيْهِ كُلَّمَا مَرَّ، فَقَالَ: أَخْرِقُ خَرْقًا يَكُونُ أَهْوَنَ عَلَيَّ، وَلَا يَكُونُ مُخْتَلَفِي عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إِنَّمَا يَخْرِقُ فِي نَصِيبِهِ، وَقَالَ آخَرُونَ: لَا، فَإِنْ أَخَذُوا عَلَى يَدَيْهِ، نَجَا وَنَجَوْا، وَإِنْ تَرَكُوهُ هَلَكَ وَهَلَكُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے والد نے انہیں کوئی تحفہ دیا پھر میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت حاضر ہوئے اور انہیں اس پر گواہ بننے کے لئے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تم نے اپنے سارے بیٹوں کو بھی اسی طرح دے دیا ہے جیسے اسے دیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مجھے اس پر گواہ نہ بناؤ کیونکہ میں ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18411]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة
الحكم: إسناده ضعيف من أجل مجالد، وقد سلف بأسانيد صحيحة