مُؤَمَّلٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي فَرْوَةَ ، الشَّعْبِيِّ ، النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " حَلَالٌ بَيِّنٌ، وَحَرَامٌ بَيِّنٌ، وَبَيْنَ ذَلِكَ أُمُورٌ مُشْتَبِهَةٌ، فَمَنْ تَرَكَ مَا اشْتَبَهَ عَلَيْهِ مِنَ الْإِثْمِ، أَوْ الْأَمْرِ، فَهُوَ لِمَا اسْتَبَانَ لَهُ أَتْرَكُ، وَمَنْ اجْتَرَأَ عَلَى مَا شَكَّ، أَوْشَكَ أَنْ يُوَاقِعَ مَا اسْتَبَانَ، وَمَنْ يَرْتَعْ حَوْلَ الْحِمَى، يُوشِكْ أَنْ يُوَاقِعَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ متشابہات ہیں جو شخص ان متشابہات کو چھوڑ دے گا وہ حرام کو بآسانی چھوڑ سکے گا اور اللہ کے محرمات اس کی چراگاہیں ہیں اور جو شخص چراگاہ کے آس پاس اپنے جانوروں کو چراتا ہے اندیشہ ہوتا ہے کہ وہ چراگاہ میں گھس جائے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18418]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح، خ: 52، م: 1599، مؤمل سيئ الحفظ، لكنه توبع