اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
قسم ہے آسمان کی اور اندھیرے میں روشن ہونے والے کی۔
(آیت 1تا4) ➊ {وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِ …: ”طَرَقَ يَطْرُقُ“} (ن) کا اصل معنی زور سے مارنا ہے جس سے آواز پیدا ہو۔ {”مِطْرَقَةٌ“} (ہتھوڑا) اور{”طَرِيْقٌ“} (راستہ) اسی سے مشتق ہیں، کیونکہ راستے پر چلنے والوں کے قدم زور سے پڑتے ہیں تو آواز دیتے جاتے ہیں۔{” الطَّارِقِ “} رات کو آنے والے کو کہتے ہیں، کیونکہ عام طور پر اسے دروازہ کھٹکھٹانا پڑتا ہے۔ {” النَّجْمُ الثَّاقِبُ “} میں الف لام جنس کے لیے ہے، اس لیے اگرچہ لفظ واحد ہے مگر اس میں تمام ستارے آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو پیدا کرنے کا ایک مقصد یہ بیان فرمایا ہے کہ وہ شیطانوں سے آسمان دنیا کی حفاظت کا ذریعہ ہیں۔ (دیکھیے صافات: ۶، ۷) {” اِنْ “} نفی کے معنی میں ہے اور {” لَمَّا “} بمعنی {”إِلَّا“} ہے۔ ➋ قسم کسی بات کی تاکید کے لیے اٹھائی جاتی ہے اور عموماً اس بات کی شہادت ہوتی ہے جس کے لیے قسم اٹھائی گئی ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آسمان اور چمک دار ستارے کی قسم اٹھا کر فرمایا کہ ہر جان کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آسمان اور ستاروں کا یہ عظیم الشان سلسلہ جو بغیر کسی سہارے کے قائم ہے اور جس میں کوئی خرابی یا حادثہ پیش نہیں آتا، اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ جس قادر مطلق نے ان کی حفاظت کا انتظام کررکھا ہے وہی ہر جان کی بھی حفاظت کر رہا ہے اور ہر چیز کا اصل حافظ وہی ہے، اگر وہ ایک لمحہ کے لیے اپنی توجہ ہٹالے تو سب کچھ فنا ہو جائے۔ جس طرح اس نے شیطانوں سے آسمانوں کی حفاظت ستاروں کے ذریعے سے کی ہے، اسی طرح آفات سے حفاظت کے لیے ہر شخص پر باری باری آنے والے فرشتے مقرر کیے ہیں (دیکھیے رعد: ۱۱) اور اس کے اعمال کو لکھ کر محفوظ کرنے کے لیے کراماً کاتبین مقرر کیے ہیں۔ دیکھیے سورۂ انفطار (۱۰ تا ۱۳)۔
اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
تجھے معلوم بھی ہے کہ وه رات کو نمودار ہونے والی چیز کیا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ تم نے جا نا وه رات کو آنے والا کیا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اورتمہیں کیا معلوم کہ رات کو نمودار ہو نے والا کیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ رات کو آنے والا کیا ہے ؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
3۔ 1 طارق سے مراد؟ خود قرآن نے واضح کردیا۔ روشن ستارہ طارق ہے جس کے لغوی معنی کھٹکھٹانے کے ہیں، لیکن طارق رات کو آنے والے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ ستاروں کو بھی طارق اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ دن کو چھپ جاتے ہیں اور رات کو نمودار ہوتے ہیں۔
کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی ایسا نہیں جس پر نگہبان فرشتہ نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
کوئی جان نہیں جس پر نگہبان نہ ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی متنفس ایسا نہیں ہے جس پرکوئی نگہبان نہ ہو۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں کوئی جان مگر اس کے اوپر ایک حفاظت کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
4۔ 1 یعنی ہر نفس پر اللہ کی طرف سے فرشتے مقرر ہیں جو اس کے اچھے یا برے سارے اعمال لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ انسانوں کی حفاطت کرنے والے فرشتے ہیں۔
پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
انسان کو دیکھنا چاہئے کہ وه کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو چاہئے کہ آدمی غور کرے کہ کس چیز سے بنا یا گیا
علامہ محمد حسین نجفی
سو انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
پس انسان کو لازم ہے کہ دیکھے وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
5۔ 1 یعنی منی سے جو قضائے شہوت کے بعد زور سے نکلتی ہے۔ یہی قطرہ آب رحم عورت میں جر اللہ کے حکم سے حمل کا باعث بنتا ہے۔
(آیت 5تا7) ➊ {فَلْيَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَ …:} ایک مقرر وقت تک انسان کی ذات کی حفاظت اور اعمال کی نگہداشت یوم حساب کے لیے ہے، اگر اسے اپنا دوبارہ زندہ کیا جانا محال معلوم ہوتا ہے تو اپنی پیدائش پر غور کر لے کہ کس چیز سے ہوتی ہے؟ ایک اچھلنے والے پانی سے۔ جب اللہ تعالیٰ نے پانی جیسی مائع چیز پر صورت گری کرکے ایک کامل انسان پیدا کر دیا، جس میں مکمل اعضائے جسم، حیات، قوت، عقل اور ادراک سب کچھ موجود ہے تو یقینا وہ اس انسان کو اس کی مٹی سے دوبارہ پہلی صورت میں پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ بتاؤ، انسان کو پانی سے بنانا مشکل ہے یا اسی کی خاک سے دوبارہ بنا دینا؟ اور پہلی دفعہ بغیر نمونے کے پیدا کرنا مشکل ہے یا پہلے نمونے پر دوبارہ بنا دینا؟ ➋ منی اگرچہ بظاہر خصیوں میں بنتی ہے، مگر جب پیدا کرنے والے نے بتا دیا کہ اس کا اصل مرکز پیٹھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان ہے تو اس حقیقت میں شک کی کوئی گنجائش نہ رہی۔ بعض اہلِ علم کے بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ جدید طب نے بھی تسلیم کیا ہے کہ جنین کے خصیے ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں کے درمیان گردوں کے قریب ہوتے ہیں، پھر ولادت سے پہلے اور بعض اوقات ولادت سے کچھ دیر بعد فوطوں میں اتر آتے ہیں، مگر پھر بھی ان کے اعصاب اور رگوں کا مقام وہی {” بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ “} رہتا ہے، بلکہ ان کی شریان بھی پیٹھ کے قریب شہ رگ ({أَوْرَطٰي}) سے نکلتی ہے اور پورے پیٹ سے گزرتی ہوئی ان کو خون مہیا کرتی ہے۔ گویا خصیتین بھی اصل میں پیٹھ کا جز ہیں جو جسم کا زیادہ درجۂ حرارت برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے باہر فوطوں میں منتقل کر دیے گئے ہیں۔ اب مادۂ منویہ اگرچہ خصیتین میں پیدا ہوتا اور کیسۂ منی میں جمع ہوتا ہے، مگر اسے خون پہنچانے اور حرکت دینے والا مرکز {” بَيْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآىِٕبِ “} ہی ہے۔ دماغ سے اعصاب کے ذریعے سے جب اس مرکز کو حکم پہنچتا ہے تو اس مرکز کی تحریک سے کیسۂ منی سکڑتا ہے اور مائِ دافق پچکاری کی طرح اچھل کر نکلتا ہے۔ الحمدللہ جدید طب بھی اس حقیقت کو معلوم کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بالفرض اگر وہ اس حقیقت تک نہ پہنچ پاتی تو قرآن کا بیان پھر بھی اٹل حقیقت تھا۔ قصور انسانی تجربات و مشاہدات کا تھا جو اپنی نارسائی کی وجہ سے خالق کی بیان کردہ حقیقت تک نہ پہنچ سکے۔
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
7۔ 1 کہا جاتا ہے کہ پیٹھ مرد کی اور سینہ عورت کا، ان دونوں کے پانی سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ لیکن اسے ایک پانی اس لیے کہا کہ یہ دونوں مل کر ایک ہی بن جاتا ہے۔
بےشک وہ (خدا) اس کے لوٹا سکنے (دوبارہ پیدا کرنے) پر قادر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ اسے لوٹانے پر یقینا قادر ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
8۔ 1 یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحییح قرار دیا ہے۔
(آیت 9،8){ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8) يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ: ” تُبْلَى “ ”بَلَا يَبْلُوْ“} (ن) آزمائش کرنا، جانچ پڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جانچ پڑتال تبھی ہوگی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔ {” السَّرَآىِٕرُ “ ” سَرِيْرَةٌ “} کی جمع ہے۔ {”سِرٌّ“} اور{” سَرِيْرَةٌ“} اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جائے۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ {” يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ “ ” رَجْعِهٖ “} کا ظرف ہے،یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
9۔ 1 یعنی ظاہر ہوجائیں گے کیونکہ ان پر جزا و سزا ہوگی بلکہ حدیث میں آتا ہے کہ ہر غدر (بدعہدی) کرنے والے کے سرین کے پاس جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان کردیا جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے۔ (صحیح بخاری)
اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
تو نہ ہوگا اس کے پاس کچھ زور نہ مدددگار
احمد رضا خان بریلوی
تو آدمی کے پاس نہ کچھ زور ہوگا نہ کوئی مددگار
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس وقت نہ خود انسان کے پاس کوئی طاقت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے پاس نہ کوئی قوت ہوگی اور نہ کوئی مددگار ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تخلیق انسان ٭٭
اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔
جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔
10۔ 1 یعنی خود انسان کے پاس اتنی قوت نہ ہوگی کہ وہ خدا کے عذاب سے بچ جائے نہ کسی اور طرف اس کو کوئی ایسا مددگار مل سکے گا جو اس کو اللہ کے عذاب سے بچا دے۔
(آیت 10){ فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍ:} آدمی گرفتار ہو جائے تو اپنی قوت سے چھوٹ جاتا ہے یا کسی کی مدد سے، مگر اس دن اس میں نہ خود بچ نکلنے کی قوت ہو گی اور نہ کوئی اس کی مدد کو آنے والا ہوگا۔
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
11۔ 1 عرب بارش کو رجع کہتے ہیں اس لئے بارش کو رَجْع کہا اور بطور شگون عرب بارش کو کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔
(آیت 12،11){ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ …: ” الرَّجْعِ “} کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ الطارق، بعد ح: ۴۹۴۰ ] اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ {” الرَّجْعِ “} کا لفظی معنی لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھاپ بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر برستا ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہا ہے۔ {” الصَّدْعِ “} کا معنی پھٹنا ہے۔
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
12۔ 1 یعنی زمین پھٹتی ہے تو اس سے پودا باہر نکلتا ہے، زمین پھٹتی ہے تو اس سے چشمہ جاری ہوتا ہے اور اسی طرح ایک دن آئے گا کہ زمین پھٹے گی، سارے مردے زندہ ہو کر باہر نکل آئیں گے۔ اس لیے زمین کو پھٹنے والی اور شگاف والی کہا۔
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کہ وہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ بے شک یہ یقینا ایک دو ٹوک بات ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صداقت قرآن کا ذکر ٭٭
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
13۔ 1 یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہوجاتے ہیں۔
(آیت 13){ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ:} بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ قرآن قول فصل ہے، اس میں شک نہیں کہ قرآن قول فصل ہے، مگر پچھلی آیات اور قسموں کی مناسبت کو مد نظر رکھیں تو یہاں مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ قول فصل سے مراد قیامت بپا کرنے اور انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی بات ہے، یعنی آسمان سے بار بار برسنے والی بارش اور اس کی نمی سے پھٹ کر بیج کو اُگا کر باہر لے آنے والی زمین شاہد ہے کہ تمھارے دوبارہ زندہ کیے جانے کی بات دو ٹوک بات ہے، قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُوْنَ… ثُمَّ يُنْزِلُ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِْنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلٰی إِلَّا عَظْمًا وَّاحِدًا وَ هُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «یوم ینفخ فی الصور…» : ۴۹۳۵۔ مسلم: ۲۹۵۵ ] ”دونفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا… پھر آسمان سے بارش برسے گی تو لوگ اس طرح اُگیں گے جس طرح سبزی اُگتی ہے اور انسان کا کوئی حصہ نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ دم کی ہڈی ہے، قیامت کے دن اسی سے مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
14۔ 1 یعنی کھیل کود اور مذاق والی چیز نہیں ہے (قصد اور ارادہ) کی ضد ہے، یعنی ایک واضح مقصد کی حامل کتاب ہے، لہو و لعب کی طرح بےمقصد نہیں۔
(آیت 14){ وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ:} یعنی دوبارہ زندہ ہونے کی بات تم سے مذاق کے ساتھ نہیں کہی جا رہی، یہ حکیم و علیم کا قول ہے، کسی جاہل کا نہیں جو مذاق کر رہا ہو۔ موسیٰ علیہ السلام کی قوم نے گائے ذبح کرنے کے حکم پر ان سے کہا کہ کیا آپ ہمیں مذاق کر رہے ہیں تو انھوں نے فرمایا: «اَعُوْذُ بِاللّٰهِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ» [ البقرۃ: ۶۷ ] ” میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جاؤں۔“
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
15۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو دین حق لے کر آئے ہیں، اس کو ناکام کرنے کے لئے سازشیں کرتے ہیں، یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دھوکا اور فریب دیتے ہیں اور منہ پر ایسی باتیں کرتے ہیں کہ دل میں اس کے برعکس ہوتا ہے۔
(آیت 15تا17){ اِنَّهُمْ يَكِيْدُوْنَ كَيْدًا …: ” رُوَيْدًا “} مختار الصحاح میں ہے: {” فُلاَنٌ يَمْشِيْ عَلٰي رُوْدٍ بِوَزْنِ عُوْدٍ أَيْ عَلٰي مَهْلٍ وَ تَصْغِيْرُهُ رُوَيْدٌ“} یعنی {”رُوَيْدٌ“ ”رُوْدٌ“} بروزن {”عُوْدٌ“} کی تصغیر ہے جس کا معنی مہلت ہے۔ گویا {” رُوَيْدًا “} کا معنی تھوڑی سی مہلت ہے۔ آیت میں یہ {” اَمْهِلْهُمْ “} کے مصدر محذوف {”إِمْهَالًا“} کی صفت ہے۔ یہ لوگ قیامت کو جھٹلانے اور حق کو مٹانے کے لیے خفیہ تدبیریں کر رہے ہیں اور میں خفیہ طور پر ان کے توڑ کے لیے ان سے بھی بڑی تدبیر کر رہا ہوں۔ آپ نہ ان کی مخالفت سے گھبرائیں، نہ جلد عذاب کی دعا کریں اور میرے کہنے پر انھیں تھوڑی سی مہلت دیں، آخر انھوں نے میرے ہی پاس آنا ہے، پھر میں جانوں اور یہ جانیں۔
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
16۔ 1 یعنی میں ان کی چالوں اور سازشوں سے غافل نہیں ہوں، میں بھی ان کے خلاف تدبیر کر رہا ہوں یا ان کی چالوں کا توڑ کر رہا ہوں، جو برے مقصد کے لئے ہو تو بری اور مقصد نیک تو بری نہیں۔
پس چھوڑ دو اے نبیؐ، اِن کافروں کو اک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو کافروں کو مہلت دے انہیں تھوڑے دنوں چھوڑ دے
احمد رضا خان بریلوی
تو تم کافروں کو ڈھیل دو انہیں کچھ تھوڑی مہلت دو
علامہ محمد حسین نجفی
تو (اے رسول(ص)) ان (کافروں) کو مہلت دے دیجئے ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
سو کافروں کو مہلت دے ،مہلت دے انھیں تھوڑی سی مہلت۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
صداقت قرآن کا ذکر ٭٭
«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔
17۔ 1 یعنی ان کے لئے جلدی عذاب کا سوال نہ کر بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔