بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطارق — Surah Tariq
آیت نمبر 17
کل آیات: 17
قرآن کریم الطارق آیت 17
آیت نمبر: 17 — سورۃ الطارق islamicurdubooks.com ↗
فَمَہِّلِ الۡکٰفِرِیۡنَ اَمۡہِلۡہُمۡ رُوَیۡدًا ﴿٪۱۷﴾
پس چھوڑ دو اے نبیؐ، اِن کافروں کو اک ذرا کی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو
تو کافروں کو مہلت دے انہیں تھوڑے دنوں چھوڑ دے
تو تم کافروں کو ڈھیل دو انہیں کچھ تھوڑی مہلت دو
تو (اے رسول(ص)) ان (کافروں) کو مہلت دے دیجئے ان کو تھوڑی سی مہلت دے دیجئے۔
سو کافروں کو مہلت دے ،مہلت دے انھیں تھوڑی سی مہلت۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صداقت قرآن کا ذکر ٭٭

«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 یعنی ان کے لئے جلدی عذاب کا سوال نہ کر بلکہ انہیں کچھ مہلت دے دے۔

📖 القرآن الکریم

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
← پچھلی آیت (16) پوری سورۃ اگلی آیت →