بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطارق — Surah Tariq
آیت نمبر 13
کل آیات: 17
قرآن کریم الطارق آیت 13
آیت نمبر: 13 — سورۃ الطارق islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہٗ لَقَوۡلٌ فَصۡلٌ ﴿ۙ۱۳﴾
یہ ایک جچی تلی بات ہے
بیشک یہ (قرآن) البتہ دو ٹوک فیصلہ کرنے واﻻ کلام ہے
بیشک قرآن ضرور فیصلہ کی بات ہے
کہ وہ (قرآن) قولِ فیصل ہے۔
کہ بے شک یہ یقینا ایک دو ٹوک بات ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صداقت قرآن کا ذکر ٭٭

«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

13۔ 1 یہ جواب قسم ہے، یعنی کھول کر بیان کرنے والا ہے جس سے حق اور باطل دونوں واضح ہوجاتے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 13){ اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ:} بعض مفسرین نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ یہ قرآن قول فصل ہے، اس میں شک نہیں کہ قرآن قول فصل ہے، مگر پچھلی آیات اور قسموں کی مناسبت کو مد نظر رکھیں تو یہاں مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ قول فصل سے مراد قیامت بپا کرنے اور انسان کو دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے کی بات ہے، یعنی آسمان سے بار بار برسنے والی بارش اور اس کی نمی سے پھٹ کر بیج کو اُگا کر باہر لے آنے والی زمین شاہد ہے کہ تمھارے دوبارہ زندہ کیے جانے کی بات دو ٹوک بات ہے، قیامت کے دن تم بھی اسی طرح زندہ ہو کر زمین سے نکل آؤ گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا بَيْنَ النَّفْخَتَيْنِ أَرْبَعُوْنَ… ثُمَّ يُنْزِلُ اللّٰهُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيَنْبُتُوْنَ كَمَا يَنْبُتُ الْبَقْلُ، لَيْسَ مِنَ الإِْنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلٰی إِلَّا عَظْمًا وَّاحِدًا وَ هُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَمِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «یوم ینفخ فی الصور…» : ۴۹۳۵۔ مسلم: ۲۹۵۵ ] ”دونفخوں کے درمیان چالیس کا فاصلہ ہوگا… پھر آسمان سے بارش برسے گی تو لوگ اس طرح اُگیں گے جس طرح سبزی اُگتی ہے اور انسان کا کوئی حصہ نہیں جو بوسیدہ نہ ہو، سوائے ایک ہڈی کے اور وہ دم کی ہڈی ہے، قیامت کے دن اسی سے مخلوق کو جوڑا جائے گا۔“
← پچھلی آیت (12) پوری سورۃ اگلی آیت (14) →