بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطارق — Surah Tariq
آیت نمبر 11
کل آیات: 17
قرآن کریم الطارق آیت 11
آیت نمبر: 11 — سورۃ الطارق islamicurdubooks.com ↗
وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجۡعِ ﴿ۙ۱۱﴾
قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی
بارش والے آسمان کی قسم!
آسمان کی قسم! جس سے مینھ اترتا ہے
قَسم ہے بارش والے آسمان کی۔
قسم ہے آسمان کی جو بار بار بارش برسانے والا ہے!

📖 تفسیر ابن کثیر

صداقت قرآن کا ذکر ٭٭

«رَجْعِهِ» کے معنی بارش، بارش والے بادل، برسنے، ہر سال بندوں کی روزی لوٹانے والے، جس کے بغیر انسان اور ان کے جانور ہلاک ہو جائیں، سورج، چاند اور ستاروں کے ادھر ادھر لوٹنے کے مروی ہیں، زمین پھٹتی ہے تو دانے گھاس اور چارہ نکلتا ہے۔ یہ قرآن حق ہے عدل کا مظہر ہے یہ کوئی عذر قصہ باتیں نہیں کافر اسے جھٹلاتے ہیں اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں طرح طرح کے مکر و فریب سے لوگوں کو قرآن کے خلاف اکساتے ہیں۔ اے نبی! تو انہیں ذرا سی ڈھیل دے پھر عنقریب دیکھ لے گا کہ کیسے کیسے بدترین عذابوں میں پکڑے جاتے ہیں جیسے اور جگہ ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» ۱؎ [31-لقمان:24] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم انہیں کچھ یونہی سا فائدہ دیں گے پھر نہایت سخت عذاب کی طرف انہیں بے بس کر دیں گے ‘۔ «الْحَمْدُ لِلَّـه» سورۃ الطارق کی تفسیر ختم ہوئی۔

📖 احسن البیان

11۔ 1 عرب بارش کو رجع کہتے ہیں اس لئے بارش کو رَجْع کہا اور بطور شگون عرب بارش کو کہتے تھے تاکہ وہ بار بار ہوتی رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 12،11){ وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ …: ” الرَّجْعِ “} کی تفسیر مجاہد نے بارش کی ہے۔ [دیکھیے بخاري، التفسیر، باب سورۃ الطارق، بعد ح: ۴۹۴۰ ] اکثر مفسرین نے یہی معنی کیا ہے۔ {” الرَّجْعِ “} کا لفظی معنی لوٹنا یا لوٹانا ہے، چونکہ بارش بار بار پلٹ کر برستی ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سمندر کا پانی بھاپ بنتا ہے، وہ بھاپ پلٹ کر پھر بارش کی صورت میں برستی ہے، پھر وہ پانی اڑتا ہے پھر برستا ہے، اس لیے اسے ”رجع “ کہا ہے۔ {” الصَّدْعِ “} کا معنی پھٹنا ہے۔
← پچھلی آیت (10) پوری سورۃ اگلی آیت (12) →