بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الطارق — Surah Tariq
آیت نمبر 8
کل آیات: 17
قرآن کریم الطارق آیت 8
آیت نمبر: 8 — سورۃ الطارق islamicurdubooks.com ↗
اِنَّہٗ عَلٰی رَجۡعِہٖ لَقَادِرٌ ؕ﴿۸﴾
یقیناً وہ (خالق) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے
بیشک وه اسے پھیر ﻻنے پر یقیناً قدرت رکھنے واﻻ ہے
بے شک اللہ اس کے واپس کرینے پر قادر ہے
بےشک وہ (خدا) اس کے لوٹا سکنے (دوبارہ پیدا کرنے) پر قادر ہے۔
بے شک وہ اسے لوٹانے پر یقینا قادر ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تخلیق انسان ٭٭

اللہ تعالیٰ آسمانوں کی اور ان کے روشن ستاروں کی قسم کھاتا ہے «طارق» کی تفسیر چمکتے ستارے سے کی ہے وجہ یہ ہے کہ دن کو چھپے رہتے ہیں اور رات کو ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ «نَهَى أَنْ يَطْرُقَ الرَّجُلُ أَهْلَهُ طُرُوقًا» { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ کوئی اپنے گھر رات کے وقت بے خبر آ جائے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1801] ‏‏‏‏ یہاں بھی لفظ «طُرُوقً» ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک دعا «إِلَّا طَارِقًا يَطْرُقُ بِخَيْرٍ يَا رَحْمَنُ» میں بھی «طَارِقً» کا لفظ آیا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:419/3:حسن] ‏‏‏‏ «ثَّاقِبُ» کہتے ہیں چمکیلے اور روشن ستارے کو جو شیطان پر گرتا ہے اور اسے جلا دیتا ہے، ہر شخص پر اللہ کی طرف سے ایک محافظ مقرر ہے جو اسے آفات سے بچاتا ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ اللَّـهِ» ۱؎ [13-الرعد:11] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ آگے پیچھے سے باری باری آنے والے فرشتے مقرر ہیں جو اللہ کے حکم سے بندے کی حفاظت کرتے ہیں ‘۔ انسان کی ضعیفی کا بیان ہو رہا ہے کہ دیکھو تو اس کی اصل کیا ہے اور گویا اس میں نہایت باریکی کے ساتھ قیامت کا یقین دلایا گیا ہے کہ جو ابتدائی پیدائش پر قادر ہے وہ لوٹانے پر قادر کیوں نہ ہو گا۔

جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ الخ یعنی ’ جس نے پہلے پیدا کیا وہ ہی دوبارہ لوٹائے گا اور یہ اس پر بہت ہی آسان ہے ‘۔ انسان اچھلنے والے پانی یعنی عورت، مرد کی منی سے پیدا کیا گیا ہے جو مرد کی پیٹھ سے اور عورت کی چھاتی سے نکلتی ہے، عورت کا یہ پانی زرد رنگ کا اور پتلا ہوتا ہے اور دونوں سے بچہ کی پیدائش ہوتی ہے۔ «تَّرَائِبُ» کہتے ہیں ہار کی جگہ کو کندھوں سے لے کر سینے تک کو بھی کہا گیا ہے اور نرخرے سے نیچے کو بھی کہا گیا ہے اور چھاتیوں سے اوپر کے حصہ کو بھی کہا گیا ہے اور نیچے کی طرف چار پسلیوں کو بھی کہا گیا ہے اور دونوں چھاتیوں اور دونوں پیروں اور دونوں آنکھوں کے درمیان کو بھی کہا گیا ہے، دل کے نچوڑ کو بھی کہا گیا ہے، سینہ اور پیٹھ کے درمیان کو بھی کہا جاتا ہے وہ اس کے لوٹانے پر قادر ہے یعنی نکلے ہوئے پانی کو اس کی جگہ واپس پہنچا دینے پر اور یہ مطلب کہ اسے دوبارہ پیدا کر کے آخرت کی طرف لوٹانے پر بھی پچھلا قول ہی اچھا ہے۔ اور یہ دلیل کئی مرتبہ بیان ہو چکی ہے پھر فرمایا کہ قیامت کے دن پوشیدگیاں کھل جائیں گی راز ظاہر ہو جائیں گے بھید آشکار ہو جائیں گے۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ہر غدار کی رانوں کے درمیان اس کے غدار کا جھنڈا گاڑ دیا جائے گا اور اعلان ہو جائے گا کہ یہ فلاں بن فلاں کی غداری ہے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6178] ‏‏‏‏ اس دن نہ تو خود انسان کو کوئی قوت حاصل ہو گی نہ اس کا کوئی مددگار کوئی اور کھڑا ہو گا یعنی نہ تو خود اپنے آپ کو عذابوں سے بچا سکے گا نہ کوئی اور ہو گا جو اسے اللہ کے عذاب سے بچا سکے۔

📖 احسن البیان

8۔ 1 یعنی انسان کے مرنے کے بعد، اسے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے۔ بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ اس قطرہ آب کو دوبارہ شرمگاہ کے اندر لوٹانے کی قدرت رکھتا ہے جہاں سے وہ نکلا تھا پہلے مفہوم کو امام شوکانی اور امام ابن جریر طبری نے زیادہ صحییح قرار دیا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9،8){ اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌ (8) يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ:تُبْلَى”بَلَا يَبْلُوْ“} (ن) آزمائش کرنا، جانچ پڑتال کرنا، یہاں ظاہر کیا جانا مراد ہے، کیونکہ جانچ پڑتال تبھی ہوگی جب چھپے ہوئے اعمال ظاہر ہوں گے۔ {” السَّرَآىِٕرُ “ ” سَرِيْرَةٌ “} کی جمع ہے۔ {”سِرٌّ“} اور{” سَرِيْرَةٌ“} اس چیز کو کہتے ہیں جو چھپائی جائے۔ (قاموس) اس سے مراد وہ ارادے، نیتیں اور عقائد ہیں جن کا علم خود آدمی کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا اور وہ اعمال بھی جن کا علم کسی دوسرے کو نہیں ہو سکتا۔ {” يَوْمَ تُبْلَى السَّرَآىِٕرُ “ ” رَجْعِهٖ “} کا ظرف ہے،یعنی اللہ تعالیٰ انسان کو اس دن دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہے جس دن چھپی ہوئی باتوں کی جانچ پڑتال کی جائے گی۔
← پچھلی آیت (7) پوری سورۃ اگلی آیت (9) →