بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
ق
سورۃ ق — 45 آیات
قرآن کریم Surah 50
قٓ ۟ۚ وَ الۡقُرۡاٰنِ الۡمَجِیۡدِ ۚ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ق، قسم ہے قرآن مجید کی
مولانا محمد جوناگڑھی
ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے
احمد رضا خان بریلوی
عزت والے قرآن کی قسم
علامہ محمد حسین نجفی
ق۔
عبدالسلام بن محمد
ق۔ قسم ہے قرآن کی جو بہت بڑی شان والا ہے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس» ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [31-لقمان:27] ‏‏‏‏ } اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔ پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] ‏‏‏‏ پوری آیت تک ہے۔ لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» ۱؎ [51-الذاريات:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ‘ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
ق! بہت بڑی شان والے اس قرآن کی قسم ہے (1)
ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مجمعوں کے مواقع پر عموماً اس سورت کی تلاوت فرمایا کرتے تھے، مثلاً عید اور جمعہ۔ اس کے علاوہ فجر کی نماز میں بھی اس کی قراء ت فرمایا کرتے تھے، کیونکہ یہ ابتدائے خلق، بعث، نشور، معاد، قیام، حساب، جنت، جہنم، ثواب، عقاب اور ترغیب و ترہیب پر مشتمل ہے۔“ (ابن کثیر) عبید اللہ بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کیا پڑھا کرتے تھے؟“ تو انھوں نے کہا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں نمازوں میں {” قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ “} اور {” اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ “} پڑھا کرتے تھے۔“ [ مسلم، صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ بہ في صلاۃ العیدین: ۸۹۱ ] ام ہشام بنت حارثہ بن نعمان رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں: ”میں نے سورۂ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سن کر ہی یاد کی ہے، آپ ہر جمعہ کو منبر پر خطبہ دیتے ہوئے اسے پڑھا کرتے تھے۔“ [ مسلم، الجمعۃ، باب تخفیف الصلاۃ و الخطبۃ: ۸۷۳ ] جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: [ إِنَّ النَّبِيَّ صَلّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِبِ «‏‏‏‏قٓ وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ» وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيْفًا ] [ مسلم، الصلاۃ، باب القراءۃ في الصبح: ۴۵۸ ] ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں سورۂ ق پڑھا کرتے تھے، اس کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہلکی ہوتی تھی۔“ بعض علماء نے {” وَكَانَ صَلَاتُهُ بَعْدُ تَخْفِيْفًا “} کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ اس کے بعد کی باقی نمازیں ہلکی ہوتی تھیں۔ (آیت 1) ➊ { قٓ:} مفسر ابن کثیر نے فرمایا: {” قٓ “} ان حروف تہجی میں سے ہے جو سورتوں کی ابتدا میں مذکور ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا {” صٓ “، ” نٓ “، ” الٓمّٓ “، ” حٰمٓ “، ” طٰسٓ “} وغیرہ۔ یہ مجاہد کا قول ہے۔ ہم سورۂ بقرہ کے شروع میں اس پر کلام کر چکے ہیں جسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ (ہماری اس تفسیر میں بھی سورۂ بقرہ کے شروع میں اس پر کلام گزر چکا ہے) بعض سلف سے مروی ہے کہ انھوں نے کہا {” قٓ “} ایک پہاڑ ہے جو ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے، اسے جبل قاف کہتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے (واللہ اعلم) کہ یہ بنی اسرائیل کی خرافات سے ہے جو بعض لوگوں نے یہ سمجھ کر لے لی ہیں کہ بنی اسرائیل سے وہ روایات لینا جائز ہیں جنھیں ہم نہ سچا کہیں نہ جھوٹا۔ میرے نزدیک یہ اور اس جیسی دوسری باتیں بنی اسرائیل کے دشمنِ دین اور زندیق لوگوں کی گھڑی ہوئی ہیں، جن کے ذریعے سے وہ لوگوں کے دلوں میں ان کے دین کے بارے میں شکوک پیدا کرنا چاہتے تھے۔ جیسا کہ ہماری امت میں بڑے بڑے جلیل القدر علماء و حفاظ اور ائمہ کی موجودگی کے باوجود نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹی روایات گھڑ کر بیان کی گئی ہیں، حالانکہ کوئی زیادہ مدت بھی نہیں گزری۔ تو اتنی لمبی مدت میں بنی اسرائیل کا کیا حال ہو گا جن میں تنقید کرنے والے حفاظ بہت کم تھے، شرابیں پی جاتی تھیں اور ان کے علماء اللہ کے کلام اور اس کی آیات میں لفظی اور معنوی تحریف اور تبدیلی کیا کرتے تھے۔ شارع نے یہ کہہ کر کہ {”حَدِّثُوْا عَنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ وَلاَ حَرَجَ“} (بنی اسرائیل سے بیان کرو اور کوئی حرج نہیں) صرف ان روایات کی اجازت دی ہے جنھیں عقل ممکن قرار دیتی ہو، رہی وہ باتیں جو عقلاً محال اور واضح طور پر باطل ہیں، وہ اس فرمان میں شامل نہیں ہیں۔“(ابن کثیر) {” حَدِّثُوْا عَنْ بَنِيْ إِسْرَائِيْلَ وَلاَ حَرَجَ “} کی تفسیر جو ابنِ حبان رحمہ اللہ نے فرمائی ہے، اس تفسیر کے مقدمہ میں اسرائیلیات پر کلام میں ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد ابن کثیر نے ابن ابی حاتم کے حوالے سے ایک روایت نقل فرما کر اس کی تردید کی ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس زمین کے پیچھے ایک سمندر پیدا فرمایا ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے ایک پہاڑ پیدا فرمایا ہے جسے کوہِ قاف کہا جاتا ہے، جس کے اوپر آسمان دنیا ہے۔ اسی طرح سات زمینیں ہیں جن میں ہر ایک کے پیچھے ایک سمندر اور ایک کوہِ قاف ہے۔ غرض لمبی روایت ہے جو عقل و نقل اور مشاہدے کے صریح خلاف ہے۔ اگر واقعی قاف کسی پہاڑ کا نام بھی ہوتا تو اسے {” قٓ “} کے بجائے ”قاف“ لکھا جاتا۔ معلوم ہوتا ہے مسلمانوں میں کوہِ قاف اور اس کی پریوں کے افسانے ایسی ہی روایتوں سے رائج ہوئے ہیں اور کتبِ تفسیر میں نقل ہونے کی وجہ سے ملحد اور بے دین لوگوں کو اسلام اور قرآن و سنت پر اعتراض کا موقع مل گیا ہے، حالانکہ قرآن و سنت دونوں ایسی فضول باتوں سے پاک ہیں۔ غیر محتاط اور مکھی پر مکھی مارنے والے مفسرین کی باتوں کو لے کر اسلام پر اعتراض صرف بدباطن اور بدنیت لوگ ہی کرتے ہیں، اہلِ تحقیق کا یہ شیوہ نہیں۔ ➋ { وَ الْقُرْاٰنِ الْمَجِيْدِ:} قسم کسی بات کی تاکید کے لیے اٹھائی جاتی ہے، وہ تاکید یا تو اس چیز کی عظمت کی بنا پر ہوتی ہے جس کی قسم اٹھائی گئی ہے، جیسے اللہ تعالیٰ اور اس کے اسمائے حسنیٰ کی قسم ہے، یا قسم کے اس بات کی دلیل اور شاہد ہونے کی بنا پر ہوتی ہے جو قسم کے جواب میں آ رہی ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے قرآن کی قسم اس کے عظیم مجد و شرف کی بنا پر اٹھائی ہے اور اس بنا پر بھی کہ قرآن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول برحق ہونے کی دلیل ہے۔ اس کا جوابِ قسم محذوف ہے جو اگلی آیت: «‏‏‏‏بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ» ‏‏‏‏ سے سمجھ میں آ رہا ہے۔ اگلی آیت میں پہلی بات جس پر کفار کے تعجب کا ذکر ہے، یہ ہے کہ ان کی طرف خود ان میں سے ایک پیغمبر کیسے مبعوث ہو گیا؟ وہ تو کوئی فرشتہ ہونا چاہیے تھا۔ جواب قسم اس مفہوم کا جملہ ہو گا: {” إِنَّكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ حَقًّا وَ مَا رَدُّوْا أَمْرَكَ بِحُجَّةٍ وَلَا كَذَّبُوْكَ بِبُرْهَانٍ “} یعنی یہ عظیم الشان قرآن اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور کفار نے آپ کی نبوت کا انکار کسی دلیل یا حجت کی بنا پر نہیں کیا بلکہ محض اس تعجب کی بنا پر کیا ہے کہ ان کے پاس ان میں سے ایک ڈرانے والا کیسے آ گیا؟ سورۂ یٰس میں اس قسم کا جواب محذوف نہیں بلکہ مذکور ہے، فرمایا: «يٰسٓ (1) وَ الْقُرْاٰنِ الْحَكِيْمِ (2) اِنَّكَ لَمِنَ الْمُرْسَلِيْنَ» ‏‏‏‏ [ یٰسٓ:۱ تا ۳ ] ” {يٰسٓ۔} اس حکمت سے بھرے ہوئے قرآن کی قسم! بلاشبہ تو یقینا بھیجے ہوئے لوگوں میں سے ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر کفار کے اس تعجب اور شبہے کا ذکر فرما کر اس کا ردّ فرمایا ہے۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۹۴) سورۂ ص میں بھی {” وَ الْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ “} کا جواب محذوف ہے جو اس سے اگلی آیت: «‏‏‏‏بَلِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا فِيْ عِزَّةٍ وَّ شِقَاقٍ» سے معلوم ہو رہا ہے۔
بَلۡ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ فَقَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا شَیۡءٌ عَجِیۡبٌ ۚ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ اِن لوگوں کو تعجب اس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود اِنہی میں سے اِن کے پاس آگیا پھر منکرین کہنے لگے "یہ تو عجیب بات ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ انہیں تعجب معلوم ہوا کہ ان کے پاس انہی میں سے ایک آگاه کرنے واﻻ آیا تو کافروں نے کہا کہ یہ ایک عجیب چیز ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ انھیں اس کا اچنبھا ہوا کہ ان کے پاس انہی میں کا ایک ڈر سنانے والا تشریف لایا تو کافر بولے یہ تو عجیب بات ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے باعظمت قرآن کی (پیغمبرِ اسلام (ص) میرے سچے رسول ہیں) لیکن ان لوگوں کو اس بات پر تعجب ہے کہ انہی میں سے ایک ڈرانے والا (رسول) ان کے پاسایا ہے تو کافر کہتے ہیں کہ یہ ایک عجیب چیز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوںنے تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا، توکافروں نے کہا یہ ایک عجیب چیز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس» ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [31-لقمان:27] ‏‏‏‏ } اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔ پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] ‏‏‏‏ پوری آیت تک ہے۔ لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» ۱؎ [51-الذاريات:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ‘ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
2۔ 1 حالانکہ اس میں کوئی تعجب والی بات نہیں ہے، ہر نبی اسی قوم کا ایک فرد ہوتا تھا جس میں اسے مبعوث کیا جاتا تھا۔ اسی حساب سے قریش مکہ کو ڈرانے کے لئے قریش ہی میں سے ایک شخص کو نبوت کے لئے چن لیا گیا۔
(آیت 2) ➊ { بَلْ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ:عَجِبُوْۤا “} (انھوں نے تعجب کیا) میں ضمیر کفارِ قریش کے لیے ہے اور ڈرانے والے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ بعض نے کہا کہ ضمیر سے مراد تمام لوگ ہیں اور ”ان میں سے“ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی جنس سے ایک انسان ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات میں سے {” مُنْذِرٌ “} کا ذکر اس لیے فرمایا کہ آپ انھیں دوبارہ زندہ کیے جانے، اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے اور اس کے عذاب سے ڈراتے تھے۔ ➋ {فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا شَيْءٌ عَجِيْبٌ:} یہ دوسری بات ہے جسے کفار نے عجیب قرار دیا اور وہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا۔ یہاں {”فَقَالُوْا“} کہنے کے بجائے جو یہ فرمایا {” فَقَالَ الْكٰفِرُوْنَ “} تو لفظ {” الْكٰفِرُوْنَ “} ان کی مذمت کے اظہار کے لیے ہے کہ اس تعجب کی بھی کوئی معقول وجہ نہیں، کیونکہ جس نے پہلی دفعہ انھیں پیدا کیا، جب ان کا نام و نشان تک نہ تھا، وہ دوبارہ بھی پیدا کر سکتا ہے، بلکہ یہ تعجب محض ان کے کفر اور ”میں نہ مانوں“ کی ضد کی وجہ سے ہے۔
ءَاِذَا مِتۡنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ۚ ذٰلِکَ رَجۡعٌۢ بَعِیۡدٌ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا جب ہم مر جائیں گے اور خاک ہو جائیں گے (تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے)؟ یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا جب ہم مر کر مٹی ہو جائیں گے۔ پھر یہ واپسی دور (از عقل) ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا جب ہم مرجائیں اور مٹی ہوجائیں گے پھر جیئں گے یہ پلٹنا دور ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا جب ہم مر جائیں گے اور مٹی ہو جائیں گے (تو دوبارہ زندہ ہوں گے) یہ تو بڑی بعید (از عقل) بات ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا جب ہم مر گئے اور ہم مٹی ہو گئے؟ یہ واپس لوٹنا بہت دور ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس» ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [31-لقمان:27] ‏‏‏‏ } اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔ پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] ‏‏‏‏ پوری آیت تک ہے۔ لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» ۱؎ [51-الذاريات:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ‘ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
3۔ 1 حالانکہ عقلی طور پر اس میں بھی کوئی استحالہ نہیں ہے۔ آگے اس کی کچھ وضاحت ہے
(آیت 3) ➊ { ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا:اِذَا “} فعل محذوف کا ظرف ہے: {”أَيْ أَ نَرْجِعُ إِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا “} ”یعنی کیا ہم اس وقت دوبارہ لوٹیں گے جب ہم مر گئے اور مٹی ہو گئے۔“ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۵) اور سورئہ صافات (۱۶)۔ ➋ { ذٰلِكَ رَجْعٌۢ بَعِيْدٌ:} یہ لوٹنا تو عقل سے بہت دور ہے، یعنی ان کے خیال میں ممکن ہی نہیں۔ ➌ حقیقت یہ ہے کہ کفار نے جن باتوں کو باعث تعجب قرار دیا وہ قابل تعجب نہیں، بلکہ قابل تعجب کفار کی باتیں ہیں۔ چنانچہ انھوں نے اس بات کو قابل تعجب قرار دیا کہ انھیں خبردار کرنے اور ڈرانے والا خود ان میں سے آیا، حالانکہ اپنی جنس کا فرد ڈرانے اور آگاہ کرنے میں زیادہ مخلص اور خیر خواہ ہوتا ہے۔ تعجب کی بات یہ تھی کہ انسانوں کو خبردار کرنے کے لیے کوئی فرشتہ آتا، یا عربوں کی طرف کوئی چینی آتا۔ پھر وہ اس بات پر تعجب کر رہے ہیں کہ انسان رسول کیسے ہو گیا اور انھیں اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہوتا کہ وہ پتھر کو رب مان کر اس کی پرستش کر رہے ہیں۔ پھر وہ مٹی ہو جانے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جانے کو عجیب کہہ رہے ہیں اور انھیں اس بات پر تعجب نہیں ہوتا کہ پہلی مرتبہ اسی مٹی سے انھیں پیدا کیا گیا اور زندگی عطا کی گئی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے قیامت کے انکار کی بات کو عجیب قرار دیا، فرمایا: «وَ اِنْ تَعْجَبْ فَعَجَبٌ قَوْلُهُمْ ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا ءَاِنَّا لَفِيْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ» ‏‏‏‏ [ الرعد: ۵ ] ”اور اگر تو تعجب کرے تو ان کا یہ کہنا بہت عجیب ہے کہ کیا جب ہم مٹی ہو جائیں گے تو کیا واقعی ہم یقینا ایک نئی پیدائش میں ہوں گے۔“ (بقاعی)
قَدۡ عَلِمۡنَا مَا تَنۡقُصُ الۡاَرۡضُ مِنۡہُمۡ ۚ وَ عِنۡدَنَا کِتٰبٌ حَفِیۡظٌ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
زمین ان کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
زمین جو کچھ ان سے گھٹاتی ہے وه ہمیں معلوم ہے اور ہمارے پاس سب یاد رکھنے والی کتاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
ہم جانتے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے گھٹاتی ہے اور ہمارے پاس ایک یاد رکھنے والی کتاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
ہم خوب جانتے ہیں (ان اجزاء کو) جو زمین (کھا کر) ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس تو ایک ایسی کتاب ہے جس میں (سب کچھ) محفوظ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک ہم جان چکے ہیں جو کچھ زمین ان میں سے کم کرتی ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس» ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [31-لقمان:27] ‏‏‏‏ } اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔ پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] ‏‏‏‏ پوری آیت تک ہے۔ لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» ۱؎ [51-الذاريات:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ‘ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
4۔ 1 یعنی زمین انسان کے گوشت، ہڈی اور بال وغیرہ بوسیدہ کر کے کھا جاتی ہے یعنی اسے ریزہ ریزہ کردیتی ہے وہ نہ صرف ہمارے علم میں ہے بلکہ لوح محفوظ میں بھی درج ہے اس لئے ان تمام اجزا کو جمع کر کے انہیں دوبارہ زندہ کردینا ہمارے لئے قطعًا مشکل امر نہیں ہے۔
(آیت 4) ➊ { قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْهُمْ:} وہ دوبارہ زندہ ہونے کو اس لیے بعید کہہ رہے تھے کہ مٹی ہونے کے بعد اس کے ذرّات تو سب ایک جیسے ہو جاتے ہیں، پھر جب ان کی مٹی کی دوسری مٹی سے پہچان ہی ختم ہو گئی تو وہ دوبارہ کیسے زندہ ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس شبہے کو ردّ کرتے ہوئے فرمایا: «‏‏‏‏قَدْ عَلِمْنَا» ‏‏‏‏ ”یقینا ہم جان چکے“ یعنی ہمیں پہلے ہی سے معلوم ہے کہ مرنے کے بعد زمین ان کے جسم میں سے جن جن اجزا کو کم کرے گی اور انھیں مٹی میں بدلتی جائے گی وہ کہاں کہاں ہوں گے، ہمارے علم سے ایک ذرّہ بھی باہر نہیں ہے۔ {” مِنْهُمْ “} میں لفظ {”مِنْ“} تبعیض کے لیے ہے، اس میں اشارہ ہے کہ انسان کے تمام اجزا مٹی نہیں ہوتے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لَيْسَ مِنَ الْإِنْسَانِ شَيْءٌ إِلَّا يَبْلٰي إِلَّا عَظْمًا وَاحِدًا وَ هُوَ عَجْبُ الذَّنَبِ وَ مِنْهُ يُرَكَّبُ الْخَلْقُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ مسلم، الفتن، باب ما بین النفختین: ۲۹۵۵، عن أبي ھریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”انسان کی ہر چیز بوسیدہ ہو جاتی ہے سوائے ایک ہڈی کے جو دُم کی ہڈی ہے اور قیامت کے دن مخلوق کو اسی سے جوڑا جائے گا۔“ ➋ { وَ عِنْدَنَا كِتٰبٌ حَفِيْظٌ:” حَفِيْظٌ “} مبالغے کا صیغہ ہے۔ چونکہ لوگ لکھی ہوئی بات کو زیادہ معتبر سمجھتے ہیں اس لیے ان کی عام عادت کو مدنظر رکھتے ہوئے فرمایا، ان کا ذرّہ ذرّہ ہمارے علم میں ہونے کے علاوہ اس کتاب میں بھی درج ہے جو خوب محفوظ رکھنے والی ہے۔ پھر ہمارے لیے ان ذرّات کو دوبارہ زندہ کرنا کیا مشکل ہے؟ {” كِتٰبٌ حَفِيْظٌ “} سے اکثر مفسرین نے لوحِ محفوظ مراد لی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی وہ سب کچھ لکھ دیا ہے جو آئندہ ہونے والا ہے، اس میں ان کے ہر ذرے کے متعلق بھی درج ہے کہ وہ کہاں ہو گا۔ {” كِتٰبٌ حَفِيْظٌ “} سے مراد ایسی کتاب بھی ہو سکتی ہے جس میں ہر انسان کا نام، اس کے اعمال اور اس پر زندگی میں اور موت کے بعد گزرنے والے تمام احوال ساتھ ساتھ درج ہوتے جاتے ہوں، حتیٰ کہ یہ بھی کہ مرنے کے بعد اس کے جسم کا کوئی بھی ذرہ کہاں کہاں منتقل ہوا اور کہاں موجود ہے۔ اس لیے قیامت کا انکار اس بنا پر درست نہیں کہ مٹی ہو جانے کے بعد وہ ذرّات کیسے جمع کیے جائیں گے۔ کفار کو دوبارہ زندگی کا یقین دلانے کے لیے {” كِتٰبٌ حَفِيْظٌ “} کا یہ مفہوم الفاظ کے زیادہ قریب ہے۔ (واللہ اعلم)
بَلۡ کَذَّبُوۡا بِالۡحَقِّ لَمَّا جَآءَہُمۡ فَہُمۡ فِیۡۤ اَمۡرٍ مَّرِیۡجٍ ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ اِن لوگوں نے تو جس وقت حق اِن کے پاس آیا اُسی وقت اُسے صاف جھٹلا دیا اِسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ انہوں نے سچی بات کو جھوٹ کہا ہے جبکہ وه ان کے پاس پہنچ چکی پس وه ایک الجھاؤ میں پڑ گئے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ انہوں نے حق کو جھٹلایا جب وہ ان کے پاس آیا تو وہ ایک مضطرب بے ثبات بات میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ (دراصل بات تو یہ ہے کہ) انہوں نے (دینِ) حق کو جھٹلایا جبکہ وہ ان کے پاسایا پس وہ ایک الجھی ہوئی بات میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انھوں نے سچ کو جھٹلادیا جب وہ ان کے پاس آیا۔ پس وہ ایک الجھے ہوئے معاملے میں ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ ق ٭٭

«ق» حروف ہجا سے ہے جو سورتوں کے اول میں آتے ہیں جیسے «ص، ن، الم، حم، طس» ، وغیرہ ہم نے ان کی پوری تشریح سورۃ البقرہ کی تفسیر میں شروع میں کر دی ہے۔ بعض سلف کا قول ہے کہ قاف ایک پہاڑ ہے زمین کو گھیرے ہوئے ہے، میں تو جانتا ہوں کہ دراصل یہ بنی اسرائیل کی خرافات میں سے ہے جنہیں بعض لوگوں نے لے لیا۔ یہ سمجھ کر کہ یہ روایت لینا مباح ہے گو تصدیق تکذیب نہیں کر سکتے۔

اہل کتاب کی موضوع روایتیں ٭٭

لیکن میرا خیال ہے کہ یہ اور اس جیسی اور روایتیں تو بنی اسرائیل کے بددینوں نے گھڑ لی ہوں گی تاکہ لوگوں پر دین کو خلط ملط کر دیں، آپ خیال کیجئے کہ اس امت میں باوجود یہ کہ علماء کرام اور حافظان عظام کی بہت بڑی دیندار مخلص جماعت ہر زمانے میں موجود ہے تاہم بددینوں نے بہت تھوڑی مدت میں موضوع احادیث تک گھڑ لیں۔

پس بنی اسرائیل جن پر مدتیں گزر چکیں، جو حفظ سے عاری تھے، جن میں نقادان فن موجود نہ تھے، جو کلام اللہ کو اصلیت سے ہٹا دیا کرتے تھے، جو شرابوں میں مخمور رہا کرتے تھے، جو آیات اللہ کو بدل ڈالا کرتے تھے، ان کا کیا ٹھیک ہے؟ پس حدیث نے جن روایات کو ان سے لینا مباح رکھا ہے یہ وہ ہیں جو کم از کم عقل و فہم میں تو آ سکیں، نہ وہ جو صریح خلاف عقل ہوں، سنتے ہی ان کے باطل اور غلط ہونے کا فیصلہ عقل کر دیتی ہو اور اس کا جھوٹ ہونا اتنا واضح ہو کہ اس پر دلیل لانے کی ضرورت نہ پڑے۔ پس مندرجہ بالا روایات بھی ایسی ہی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔ افسوس کہ بہت سلف و خلف نے اہل کتاب سے اس قسم کی حکایتیں قرآن مجید کی تفسیر میں وارد کر دی ہیں دراصل قرآن کریم ایسی بےسروپا باتوں کا کچھ محتاج نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

یہاں تک کہ امام ابو محمد عبدالرحمٰن بن ابوحاتم رازی رحمہ اللہ نے بھی یہاں ایک عجیب و غریب اثر بروایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وارد کر دیا ہے جو ازروے سند ثابت نہیں۔ اس میں ہے کہ { اللہ تبارک و تعالیٰ نے ایک سمندر پیدا کیا ہے جو اس ساری زمین کو گھیرے ہوئے ہے اور اس سمندر کے پچھے ایک پہاڑ ہے جو اس کو روکے ہوئے ہے اس کا نام قاف ہے، آسمان اور دنیا اسی پر اٹھا ہوا ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے اس پہاڑ کے پیچھے ایک زمین بنائی ہے جو اس زمین سے سات گنا بڑی ہے، پھر اس کے پیچھے ایک سمندر ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے، پھر اس کے پیچھے پہاڑ ہے جو اسے گھیرے ہوئے ہے اسے بھی قاف کہتے ہیں دوسرا آسمان اسی پر بلند کیا ہوا ہے اسی طرح سات زمینیں، سات سمندر، سات پہاڑ اور سات آسمان گنوائے۔ پھر یہ آیت پڑھی «وَّالْبَحْرُ يَمُدُّهٗ مِنْ بَعْدِهٖ سَبْعَةُ اَبْحُرٍ مَّا نَفِدَتْ كَلِمٰتُ اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ» ۱؎ [31-لقمان:27] ‏‏‏‏ } اس اثر کی اسناد میں انقطاع ہے۔ ۱؎ [ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏

علی بن ابوطلحہ جو روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کرتے ہیں اس میں ہے کہ «ق» اللہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «ق» بھی مثل «ص، ن، طس، الم» وغیرہ کے حروف ہجا میں سے ہے۔ پس ان روایات سے بھی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ فرمان ہونا اور بعید ہو جاتا ہے یہ بھی کہا گیا ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ کام کا فیصلہ کر دیا گیا ہے قسم اللہ کی اور «ق» کہہ کر باقی جملہ چھوڑ دیا گیا کہ یہ دلیل ہے محذوف پر۔ جیسے شاعر کہتا ہے۔ «قلت لھا قفی فقالت ق» لیکن یہ کہنا بھی ٹھیک نہیں۔ اس لیے کہ محذوف پر دلالت کرنے والا کلام صاف ہونا چاہیئے اور یہاں کون سا کلام ہے؟ جس سے اتنے بڑے جملے کے محذوف ہونے کا پتہ چلے۔ پھر اس کرم اور عظمت والے قرآن کی قسم کھائی جس کے آگے سے یا پیچھے سے باطل نہیں آ سکتا، جو حکمتوں اور تعریفوں والے اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ اس قسم کا جواب کیا ہے؟ اس میں بھی کئی قول ہیں۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ نے تو بعض نحویوں سے نقل کیا ہے کہ اس کا جواب «قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ وَعِندَنَا كِتَابٌ حَفِيظٌ» ۱؎ [50-ق:4] ‏‏‏‏ پوری آیت تک ہے۔ لیکن یہ بھی غور طلب ہے بلکہ جواب قسم کے بعد کا مضمون کلام ہے یعنی نبوت اور دوبارہ جی اٹھنے کا ثبوت اور تحقیق گو قسم لفظوں سے اس کا جواب نہ بتاتی ہو ایسا قرآن کی قسموں کے جواب میں اکثر ہے جیسے کہ سورۃ ص کی تفسیر کے شروع میں گزر چکا ہے، اسی طرح یہاں بھی ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ انہوں نے اس بات پر تعجب ظاہر کیا ہے کہ انہی میں سے ایک انسان کیسے رسول بن گیا؟ جیسے اور آیت میں ہے «اَكَان للنَّاسِ عَجَبًا اَنْ اَوْحَيْنَآ اِلٰى رَجُلٍ مِّنْھُمْ اَنْ اَنْذِرِ النَّاسَ وَبَشِّرِ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [10-يونس:2] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا لوگوں کو اس بات پر تعجب ہوا کہ ہم نے انہی میں سے ایک شخص کی طرف وحی بھیجی تاکہ تم لوگوں کو خبردار کر دے۔ ‘ یعنی دراصل یہ کوئی تعجب کی چیز نہ تھی اللہ جسے چاہے اپنے فرشتوں میں سے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے اور جسے چاہے انسانوں میں سے چن لیتا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد جینے کو بھی تعجب کی نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ جب ہم مر جائیں گے اور ہمارے جسم کے اجزا جدا جدا ہو کر، ریزہ ریزہ ہو کر، مٹی ہو جائیں گے اس کے بعد تو اسی ہئیت و ترکیب میں ہمارا دوبارہ جینا بالکل محال ہے اس کے جواب میں فرمان صادر ہوا کہ زمین ان کے جسموں کو جو کھا جاتی ہے اس سے بھی ہم غافل نہیں ہمیں معلوم ہے کہ ان کے ذرے کہاں گئے اور کس حالت میں کہاں ہیں؟ ہمارے پاس کتاب ہے جو اس کی حافظ ہے ہمارا علم ان سب معلومات پر مشتمل ہے اور ساتھ ہی کتاب میں محفوظ ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں یعنی ان کے گوشت، چمڑے، ہڈیاں اور بال جو کچھ زمین کھا جاتی ہے، ہمارے علم میں ہے۔ پھر پروردگار عالم ان کے اس محال سمجھنے کی اصل وجہ بیان فرما رہا ہے کہ دراصل یہ حق کو جھٹلانے والے لوگ ہیں اور جو لوگ اپنے پاس حق کے آ جانے کے بعد اس کا انکار کر دیں ان سے اچھی سمجھ ہی چھن جاتی ہے، «مریج» کے معنی ہیں مختلف، مضطرب، منکر اور خلط ملط کے جیسے فرمان ہے «اِنَّكُمْ لَفِيْ قَوْلٍ مُّخْتَلِفٍ» ۱؎ [51-الذاريات:8] ‏‏‏‏ یعنی ’ یقیناً تم ایک جھگڑے کی بات میں پڑے ہوئے ہو۔ ‘ نافرمانی وہی کرتا ہے جو بھلائی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
5۔ 1 یعنی ایسا معاملہ جو ان پر مشتبہ ہوگیا ہے، جس سے وہ ایک الجھاؤ میں پڑگئے ہیں، کبھی اسے جادوگر کہتے ہیں، کبھی شاعر اور کبھی غیب کی خبریں بتانے والا۔
(آیت 5) ➊ { بَلْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ:} یعنی صرف یہی نہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جنس میں سے رسول کی آمد کو اور دوبارہ زندہ کیے جانے کو عجیب قرار دیا، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ جب ان کے پاس حق آیا تو اسے سنتے ہی کسی غور و فکر کے بغیر جھٹلا دیا۔ ➋ { فَهُمْ فِيْۤ اَمْرٍ مَّرِيْجٍ: ”مَرَجَ الْأَمْرُ، أَيْ اِضْطَرَبَ وَالْتَبَسَ وَ فَسَدَ“اَمْرٍ مَّرِيْجٍ “} الجھا ہوا معاملہ۔ یعنی سوچے سمجھے بغیر جھٹلا دینے کے بعد اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن کے بارے میں ان کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ وہ انھیں جھٹلانے کا کیا جواز پیش کریں، اس لیے وہ کبھی ایک بات کرتے ہیں کبھی دوسری۔ ایک بات پر انھیں قرار نہیں ہے اور وہ سخت ذہنی الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔ کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر کہتے ہیں، کبھی کاہن، کبھی مجنون (پاگل) اور کبھی ساحر۔ اسی طرح قرآن کو کبھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا تصنیف کیا ہوا کلام کہتے ہیں، کبھی کہتے ہیں کہ کوئی عجمی شخص انھیں سکھا جاتا ہے اور کبھی اسے جادو کہہ دیتے ہیں۔ الغرض، ہر موقع پر کوئی نہ کوئی بات گھڑ لیتے ہیں۔
اَفَلَمۡ یَنۡظُرُوۡۤا اِلَی السَّمَآءِ فَوۡقَہُمۡ کَیۡفَ بَنَیۡنٰہَا وَ زَیَّنّٰہَا وَ مَا لَہَا مِنۡ فُرُوۡجٍ ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اچھا، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا، اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انہوں نے آسمان کو اپنے اوپر نہیں دیکھا؟ کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے اور زینت دی ہے اس میں کوئی شگاف نہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا انہوں نے اپنے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہم نے اسے کیسے بنایا اور سنوارا اور اس میں کہیں رخنہ نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انہوں نے آسمان کی طرف نہیں دیکھا جو ان کے اوپر ہے کہ ہم نے اسے کس طرح بنایا ہے؟ اور آراستہ کیا ہے جس میں کوئی رخنہ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا انھوں نے اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا کہ ہم نے کیسے اسے بنایا اور اسے سجایا اور اس میں کوئی درزیں نہیں ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
6۔ 1 یعنی بغیر ستون کے، جن کا اسے کوئی سہارا ہو۔ 6۔ 2 یعنی ستاروں سے مزین کیا۔ 6۔ 3 اسی طرح کوئی فرق و تفاوت بھی نہیں ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا ۭ مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ ۭ فَارْجِعِ الْبَصَرَ ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ ۝ ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَيْنِ يَنْقَلِبْ اِلَيْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّهُوَ حَسِيْرٌ ۝) 67۔ الملک:4-3)
(آیت 6) ➊ {اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا اِلَى السَّمَآءِ:} کفار نے جن چیزوں کو جھٹلایا ان میں سے ایک اہم چیز دوبارہ زندگی تھی، اس لیے یہاں سے اس کے کچھ مزید دلائل بیان فرمائے۔ {” اَفَلَمْ يَنْظُرُوْۤا “} میں ”نظر“ کا معنی اگرچہ غور و فکر بھی ہے، مگر اوّلین معنی دیکھنا ہے اور اس میں زیادہ زور ہے کہ ان مخلوقات کے دوبارہ زندگی پر دلالت کے لیے انھیں صرف آنکھوں کے ساتھ دیکھ لینا ہی کافی ہے۔ یعنی آسمانوں کا بنانا، انھیں ستاروں کے ساتھ سجانا اور زمین کو پیدا کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انھیں بنانے والا انسان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہے۔ دوسری جگہ یہی بات زیادہ صریح الفاظ میں بیان فرمائی ہے: «اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ لَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ يُّحْيَِۧ الْمَوْتٰى بَلٰۤى اِنَّهٗ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ‏‏‏‏ [ الأحقاف: ۳۳ ] ”اور کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ وہ اللہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور وہ ان کے پیدا کرنے سے تھکا نہیں، وہ اس بات پر قادر ہے کہ مردوں کو زندہ کر دے؟ کیوں نہیں! یقینا وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے۔“ ➋ { فَوْقَهُمْ:} یہ {” السَّمَآءِ “} سے حال ہے، یعنی ان کے لیے آسمان کو دیکھنا کچھ مشکل نہیں، نہ اس کے لیے کسی سفر کی ضرورت ہے، نہ دوربین یا کسی آلے کی، بس اوپر سر اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی اس عظیم مخلوق کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ➌ { كَيْفَ بَنَيْنٰهَا وَ زَيَّنّٰهَا:السَّمَآءِ “} سے مراد پورا عالم بالا ہے، جس میں فضا، چاند، تارے، سورج اور خیمے کی طرح چاروں طرف سے زمین کو گھیرے میں لیے ہوئے نیلا آسمان سبھی کچھ شامل ہے۔ {” كَيْفَ “} کے ساتھ انھیں بنانے اور مزین کرنے کی کیفیت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ان کی بلندی، ان کی عظمت، ان کی مضبوطی، خوب صورتی اور ان کا کسی بھی خرابی یا خامی سے پاک ہونا سب ایسی چیزیں ہیں جنھیں دیکھ کر آدمی حیران رہ جاتا ہے اور اسے یقین ہو جاتا ہے کہ انھیں بنانے والا ہر چیز پر قادر ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔ پھر آسمان، سورج، چاند اور ستاروں کے اس نظام کو دیکھنے اور ان پر غور و فکر کرنے میں لوگوں کے اپنی عقل اور علم کے لحاظ سے مختلف درجے ہیں، آیت میں تمام طبقات کے لیے ہدایت کی روشنی موجود ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے: ”اس نظام کو آدمی کسی آلے کے بغیر اپنی آنکھ ہی سے دیکھ لے تو اس پر حیرت طاری ہو جاتی ہے، لیکن اگر دور بین لگا لے تو ایک ایسی وسیع و عریض کائنات اس کے سامنے آتی ہے جو ناپیداکنار ہے۔ ہماری زمین سے لاکھوں گنا بڑے سیارے اس کے اندر گیندوں کی طرح گھوم رہے ہیں۔ ہمارے سورج سے ہزاروں درجہ زیادہ روشن تارے اس میں چمک رہے ہیں۔ ہمارا یہ پورا نظام شمسی اس کی صرف ایک کہکشاں (Galaxy) کے ایک کونے میں پڑا ہوا ہے۔ تنہا اسی ایک کہکشاں میں ہمارے سورج جیسے کم از کم تین ارب دوسرے تارے (ثوابت) موجود ہیں اور اب تک کا انسانی مشاہدہ ایسی دس لاکھ کہکشاؤں کا پتا دے رہا ہے۔ ان لاکھوں کہکشاؤں میں سے ہماری قریب ترین ہمسایہ کہکشاں اتنے فاصلے پر واقع ہے کہ اس کی روشنی ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ کی رفتار سے چل کر دس لاکھ سال میں زمین تک پہنچتی ہے۔ یہ تو کائنات کے صرف اس حصے کی وسعت کا حال ہے جو اب تک انسان کے علم اور مشاہدے میں آئی ہے، خدا کی خدائی کس قدر وسیع ہے اس کا کوئی اندازہ ہم نہیں کر سکتے۔ ہو سکتا ہے کہ انسان کی معلوم کائنات اس کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہ رکھتی ہو جو قطرے کو سمندر سے ہے۔ اس عظیم کارگاہ ہست و بود کو جو خدا وجود میں لایا ہے اس کے بارے میں زمین پر رینگنے والا یہ چھوٹا سا حیوان ناطق، جس کا نام انسان ہے، اگر یہ حکم لگائے کہ وہ اسے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا تو یہ اس کی اپنی ہی عقل کی تنگی ہے، کائنات کے خالق کی قدرت اس سے کیسے تنگ ہو جائے گی؟“ ➍ {وَ مَا لَهَا مِنْ فُرُوْجٍ:فُرُوْجٍ”فَرْجٌ“} کی جمع ہے، شگاف، دراڑ، درز۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ ملک (۳، ۴) کی تفسیر۔ تفہیم القرآن میں ہے: ”یعنی اپنی اس حیرت انگیز وسعت کے باوجود یہ عظیم الشان نظامِ کائنات ایسا مسلسل اور مستحکم ہے اور اس کی بندش اتنی چست ہے کہ اس میں کسی جگہ کوئی دراڑ یا شگاف نہیں اور اس کا تسلسل کہیں جا کر ٹوٹ نہیں جاتا۔ اس چیز کو ایک مثال سے اچھی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔ جدید زمانے کے ریڈیائی ہیئت دانوں نے ایک کہکشانی نظام کا مشاہدہ کیا ہے جسے وہ ”منبع ۳ ج ۲۹۵“ (Source3c,285) کے نام سے تعبیر کرتے ہیں۔ ان کے متعلق ان کا اندازہ یہ ہے کہ اس کی جو شعائیں اب ہم تک پہنچ رہی ہیں وہ چار ارب سال سے بھی زیادہ مدت پہلے اس میں سے روانہ ہوئی ہوں گی۔ اس بعید ترین فاصلے سے ان شعاعوں کا زمین تک پہنچنا آخر کیسے ممکن ہوتا اگر زمین اور اس کہکشاں کے درمیان کائنات کا تسلسل کسی جگہ سے ٹوٹا ہوا ہوتا اور اس کی بندش میں کہیں شگاف پڑا ہوا ہوتا۔ اللہ تعالیٰ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرکے دراصل یہ سوال آدمی کے سامنے پیش کرتا ہے کہ میری کائنات کے اس نظام میں جب تم ایک ذرا سے رخنے کی نشاندہی بھی نہیں کر سکتے تو میری قدرت میں اس کمزوری کا تصور تمھارے دماغ میں کہاں سے آ گیا کہ تمھاری مہلتِ امتحان ختم ہو جانے کے بعد تم سے حساب لینے کے لیے میں تمھیں پھر زندہ کرکے اپنے سامنے حاضر کرنا چاہوں تو نہ کر سکوں گا۔ یہ صرف امکانِ آخرت ہی کا ثبوت نہیں ہے بلکہ توحید کا ثبوت بھی ہے۔“
وَ الۡاَرۡضَ مَدَدۡنٰہَا وَ اَلۡقَیۡنَا فِیۡہَا رَوَاسِیَ وَ اَنۡۢبَتۡنَا فِیۡہَا مِنۡ کُلِّ زَوۡجٍۭ بَہِیۡجٍ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اگا دیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور زمین کو ہم نے بچھا دیا اور اس میں ہم نے پہاڑ ڈال دیئے ہیں اور اس میں ہم نے قسم قسم کی خوشنما چیزیں اگا دی ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور زمین کو ہم نے پھیلایا اور اس میں لنگر ڈالے (بھاری وزن رکھے) (ف۹۱۴ اور اس میں ہر بارونق جوڑا اُگایا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے زمین کو پھیلایا اور اس میں پہاڑ گاڑ دئیے اور اس میں ہر قِسم کی خوشنما چیزیں اگائیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور زمین، ہم نے اسے پھیلایا اور اس میں گڑے ہوئے پہاڑ رکھے اور اس میں خوبی والی ہر قسم اگائی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
7۔ 1 اور بعض نے زوج کے معنی جوڑا کیا ہے یعنی ہر قسم کی نباتات اور اشیا کو جوڑا جوڑا (نر مادہ) بنایا ہے بھیج کے معنی خوش منظر شاداب اور حسین
(آیت 7){ وَ الْاَرْضَ مَدَدْنٰهَا …: ” بَهِيْجٍ”بَهْجَةٌ“} سے صفت کا صیغہ ہے، خوبی والی۔ اس آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حجر (۱۹)، نحل (۱۵)، طٰہٰ (۵۳)، نمل (۶۰، ۶۱)، لقمان (۱۰)، زخرف (۱۰ تا ۱۴) اور مرسلات (۲۵ تا ۲۷)۔
تَبۡصِرَۃً وَّ ذِکۡرٰی لِکُلِّ عَبۡدٍ مُّنِیۡبٍ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لیے جو (حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
تاکہ ہر رجوع کرنے والے بندے کے لئے بینائی اور دانائی کا ذریعہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
سوجھ اور سمجھ ہر رجوع والے بندے کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
ہر اس بندے کی بصیرت اور یاددہانی کے لئے جو اپنے رب کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہر اس بندے کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو رجوع کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
8۔ 1 یعنی آسمان و زمین کی تخلیق اور دیگر اشیا کا مشاہدہ اور ان کی معرفت ہر اس شخص کے لئے بصیرت و دانائی اور عبرت و نصیحت کا باعث ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہے۔
(آیت 8){ تَبْصِرَةً وَّ ذِكْرٰى …: ” تَبْصِرَةً “} اور {” ذِكْرٰى “} یہ دونوں مفعول لہ ہیں، یعنی ہم نے یہ سب کچھ بنایا اور اس کا یہاں ذکر کیا ہے ہر اس آدمی کو دکھانے اور یاد دلانے کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے والا ہے، کیونکہ وہی ان سے نصیحت حاصل کرتا ہے۔ جو دھیان ہی نہ کرے اس کے لیے یہ سب کچھ بے فائدہ ہے: انّہے نوں بازار پھرایا، سارا شہر وکھایا آخر اُتے آکھن لگا کجھ نہیں نظری آیا ”یعنی اندھے کو بازار دکھایا اور سارے شہر کی سیر کروائی، مگر اس نے آخر میں یہی کہا کہ مجھے کچھ دکھائی نہیں دیا۔“
وَ نَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الۡحَصِیۡدِ ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغات اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اگایا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
9۔ 1 کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں مراد ہیں جن سے گندم مکڑی جوار باجرہ دالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کا ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔
(آیت 9) ➊ {وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا:” مَآءً مُّبٰرَكًا “} وہ پانی جس میں بہت برکت یعنی خیرِ کثیر رکھی گئی ہے۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے۔ جس پانی کو اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اس کی خیر کی کثرت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی کے اثبات کے لیے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد اب بارش کا اور اس کی برکت سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود اس سے بھی موت کے بعد زندگی کا اثبات ہے، چنانچہ آخر میں فرمایا: «كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ» ‏‏‏‏ [ قٓ: ۱۱ ] ”اسی طرح (دوبارہ زندہ ہو کر) نکلنا ہے۔“ آسمان سے پانی اتارنے کے لیے باب تفعیل {” نَزَّلْنَا “} استعمال فرمایا جس میں تدریج ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بارش کے قطروں کے بجائے کروڑوں اربوں ٹن پانی دفعتاً گرا دے تو زمین پر کوئی چیز باقی ہی نہ رہے۔ ➋ {فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِ: ”حَصَدَ يَحْصُدُ حَصْدًا وَ حِصَادًا“} (ن) کھیتی کاٹنا۔ {” الْحَصِيْدِ “} بمعنی {”اَلْمَحْصُوْدُ“} کاٹی ہوئی کھیتی۔ بارش سے پیدا ہونے والی چیزیں دو قسم کی ہیں، کچھ وہ جن کے درخت باقی رہتے ہیں اور ان کے پھل پھول، گوند، پتوں، ٹہنیوں اور لکڑی وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور کچھ وہ جنھیں کاٹ کر ان سے غلہ، دالیں، سبزیاں، ادویات اور بے شمار مفید چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہاں خصوصاً پھل دار درختوں اور غلہ جات کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اشیاء پر برتری رکھتے ہیں اور انسان اور اس کے پالتو جانوروں کی خوراک بنتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۳۳ ] ”تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔ “
وَ النَّخۡلَ بٰسِقٰتٍ لَّہَا طَلۡعٌ نَّضِیۡدٌ ﴿ۙ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کر دیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ بر تہ لگتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کھجوروں کے بلند وباﻻ درخت جن کے خوشے تہ بہ تہ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور کھجور کے لمبے درخت جن کا پکا گابھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور کھجور کے بلند وبالا درخت جن میں تہہ بہ تہہ خوشے لگتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور کھجوروں کے درخت لمبے لمبے، جن کے تہ بہ تہ خوشے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
10۔ 1 باسقات کے معنی طوالاً شاھقات، بلند وبالا طلع کھجور کا وہ گدرا گدرا پھل، جو پہلے پہل نکلتا ہے۔ نضید کے معنی تہ بہ تہ۔ باغات میں کھجور کا پھل بھی آجاتا ہے۔ لیکن اسے الگ سے بطور خاص ذکر کیا، جس سے کھجور کی وہ اہمیت واضح ہے جو اسے عرب میں حاصل ہے۔
(آیت 10) ➊ { وَ النَّخْلَ بٰسِقٰتٍ:النَّخْلَ “} اسم جنس ہے جو کھجور کے درختوں پر بولا جاتا ہے، زیادہ ہوں یا ایک۔ اگر کھجور کا ایک درخت ہو تو اسے {”نَخْلَةٌ“} کہتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «فَاَجَآءَهَا الْمَخَاضُ اِلٰى جِذْعِ النَّخْلَةِ» [ مریم:۲۳ ] ”پھر دردزہ اسے کھجور کے تنے کی طرف لے آیا۔“ {”بَسَقَ يَبْسُقُ بُسُوْقًا“(ن) ”اَلنَّخْلُ“} کھجور کے درختوں کا لمبا اور بلند ہونا۔ چنانچہ زمین پر پڑے ہوئے کھجور کے لمبے تنے کو ”باسق“ نہیں کہتے۔ ➋ { لَهَا طَلْعٌ نَّضِيْدٌ:طَلْعٌ “} کھجور کے پھل کا خوشہ جو شروع میں طلوع ہوتا ہے اور اس پر پردہ ہوتا ہے۔ {” نَضِيْدٌ “} بمعنی {”مَنْضُوْدٌ“} تہ بہ تہ۔ یعنی پردے کے اندر انار کے دانوں کی طرح کھجور کے دانوں کی ابتدا تہ بہ تہ قطاروں کی شکل میں ہوتی ہے، جب غلاف سے باہر نکل آئیں تو {” نَضِيْدٌ “} نہیں رہتے، بلکہ الگ الگ ہو جاتے ہیں۔
رِّزۡقًا لِّلۡعِبَادِ ۙ وَ اَحۡیَیۡنَا بِہٖ بَلۡدَۃً مَّیۡتًا ؕ کَذٰلِکَ الۡخُرُوۡجُ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا اِس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے) نکلنا بھی اِسی طرح ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
بندوں کی روزی کے لئے اور ہم نے پانی سے مرده شہر کو زنده کر دیا۔ اسی طرح (قبروں سے) نکلنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بندووں کی روزی کے لیے اور ہم نے اس سے مردہ شہر جِلایا یونہی قبروں سے تمہارا نکلنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
بندوں کی روزی کے لئے اور ہم اس مردہ زمین کو زندہ کرتے ہیں اسی طرح (مردوں کا) زمین سے نکلنا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
بندوں کو روزی دینے کے لیے اور ہم نے اس کے ساتھ ایک مردہ شہر کو زندہ کر دیا، اسی طرح نکلنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘
11۔ 1 یعنی جس طرح بارش سے مردہ زمین کو شاداب کردیتے ہیں، اسی طرح قیامت والے دن ہم قبروں سے انسانوں کو زندہ کر کے نکال لیں گے۔
(آیت 11){ وَ اَحْيَيْنَا بِهٖ بَلْدَةً مَّيْتًا كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ:} یعنی مرنے کے بعد دوبارہ زندہ اٹھنے میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ کیا تم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھتے کہ ایک زمین بارش نہ ہونے کی وجہ سے بنجر پڑی ہوتی ہے، جیسے اس میں زندگی کے کوئی آثار ہی نہیں، پھر یکایک بارش ہوتی ہے تو اس میں کھیتیاں لہلہانے لگتی ہیں اور درخت اگتے ہیں، گویا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو جاتی ہے۔ اسی طرح تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیے جاؤ گے۔
کَذَّبَتۡ قَبۡلَہُمۡ قَوۡمُ نُوۡحٍ وَّ اَصۡحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم، اور اصحاب الرس، اور ثمود
مولانا محمد جوناگڑھی
ان سے پہلے نوح کی قوم نے اور رس والوں نے اور ﺛمود نے
احمد رضا خان بریلوی
ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود
علامہ محمد حسین نجفی
ان سے پہلے نوح(ع) کی قوم، اصحابِ رس اور ثمود نے جھٹلایا۔
عبدالسلام بن محمد
ان سے پہلے نوح کی قوم نے جھٹلایا اور کنویں والوں نے اور ثمود نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔ سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] ‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔ سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }
12۔ 1 اصحاب الرس کی تعیین میں مفسرین کے درمیان بہت اختلاف ہے۔ امام ابن جریر طبری نے اس قول کو ترجیح دی ہے جس میں انہیں اصحاب اخدود قرار دیا گیا ہے، جس کا ذکر سورة بروج میں ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے ابن کثیر و فتح القدیر، (وَّعَادًا وَّثَمُــوْدَا۟ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًــۢا بَيْنَ ذٰلِكَ كَثِيْرًا) 25۔ الفرقان:38)
(آیت 12تا14) ➊ { كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوْحٍ …:} یعنی یہ آپ کو جھٹلانے والے پہلے لوگ نہیں جنھوں نے ہمارے کسی رسول کو جھٹلایا ہو، بلکہ اس سے پہلے کئی اقوام نے ہمارے رسولوں کو جھٹلایا اور ہمارے عذاب کا نشانہ بنے۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے والوں کے لیے تنبیہ ہے۔ آیت میں مذکور اکثر اقوام کا ذکر متعدد مقامات پر گزر چکا ہے۔ اصحاب الرس کا ذکر سورۂ فرقان (۳۸) میں، اصحاب الایکہ کا ذکر سورۂ حجر (۷۸) اور سورئہ شعراء (۱۷۶) میں اور قوم تبع کا ذکر سورۂ دخان (۳۷) میں دیکھیے۔ ➋ { كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ:} ان سب قوموں نے تمام رسولوں کو جھٹلا دیا، کیونکہ یہ سب نہ اپنی طرح کے کسی انسان کو رسول ماننے کے لیے تیار تھے اور نہ دوبارہ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونے کو۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو تمام رسولوں کو جھٹلانے والا قرار دیا۔ ➌ { فَحَقَّ وَعِيْدِ:وَعِيْدِ “} اصل میں {”وَعِيْدِيْ“} ہے۔ آیات کے فواصل کی مطابقت کے لیے یاء کو حذف کر دیا، دال پر کسرہ یاء کے حذف ہونے کی دلیل ہے، ورنہ {”حَقَّ“} کا فاعل ہونے کی وجہ سے {” وَعِيْدِ “} کے دال پر ضمہ ہونا چاہیے تھا۔
وَ عَادٌ وَّ فِرۡعَوۡنُ وَ اِخۡوَانُ لُوۡطٍ ﴿ۙ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور عاد، اور فرعون، اور لوطؑ کے بھائی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور عاد نے فرعون نے اور برادران لوط نے
احمد رضا خان بریلوی
اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں
علامہ محمد حسین نجفی
نیز عاد، فرعون، لوط(ع) کے بھائی۔
عبدالسلام بن محمد
اور عاد اور فرعون نے اور لوط کے بھائیوں نے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔ سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] ‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔ سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ اَصۡحٰبُ الۡاَیۡکَۃِ وَ قَوۡمُ تُبَّعٍ ؕ کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیۡدِ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور ایکہ والے، اور تبع کی قوم کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا، اور آخر کار میری وعید اُن پر چسپاں ہو گئی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ایکہ والوں نے تبع کی قوم نے بھی تکذیب کی تھی۔ سب نے پیغمبروں کو جھٹلایا پس میرا وعدہٴ عذاب ان پر صادق آگیا
احمد رضا خان بریلوی
اور بَن والوں اور تبع کی قوم نے ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا
علامہ محمد حسین نجفی
اور ایکہ والے اور تبع کی قوم ان سب نے پیغمبروں(ع) کو جھٹلایا آخر میری وعید کے مستحق ہو ئے۔
عبدالسلام بن محمد
اور درختوں کے جھنڈ والوں نے اور تبع کی قوم نے، ان سب نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہوگیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔ سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] ‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔ سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }
14۔ 1 اَصْحَاب الاءَیْکَۃِ کے لئے دیکھئے سورة الشعراء (وَمَآ اَنْتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَاِنْ نَّظُنُّكَ لَمِنَ الْكٰذِبِيْنَ 186؀ۚ) 26۔ الشعراء:186) کا حاشیہ۔ 14۔ 2 قَوْمُ تُبَعِ کے لئے دیکھئے سورة الدخان، (اَهُمْ خَيْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّــعٍ ۙ وَّالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۭ اَهْلَكْنٰهُمْ ۡ اِنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِيْنَ 37؀) 44۔ الدخان:37) کا حاشیہ۔ 14۔ 3 یعنی ان میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیغمبر کو جھٹلایا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہا جا رہا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قوم کی طرف سے تکذیب پر غمگین نہ، اس لیے کہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے یہی معاملہ کیا دوسرے اہل مکہ کو تنبیہ ہے کہ پچھلی قوموں نے انبیاء (علیہم السلام) کی تکذیب کی تو دیکھ لو ان کا انجام کیا ہوا؟ کیا تم بھی اپنے لیے یہی انجام چاہتے ہو اگر یہ انجام پسند نہیں کرتے تو تکذیب کا راستہ چھوڑو اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آؤ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ ازسرِنو پیدائش کے بارے میں شبہ میں مبتلا ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔ سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] ‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔ سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }
15۔ 1 کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ) 30۔ الروم:27) (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78؀ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79؀ۙ) 36۔ یس:79-78) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " ابن آدم مجھے یہ کہہ کر ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے " یعنی اگر مشکل ہے پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری (صحیح البخاری) 15۔ 2 یعنی یہ اللہ کی قدرت ہے کہ منکر نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔
(آیت 15) ➊ { اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ:} یہ خلاصہ اور نتیجہ ہے اس دلیل کا جس کی تفصیل سورت کے شروع سے آ رہی ہے کہ جب ہم نے اس وقت جب کچھ بھی نہیں تھا آسمان و زمین، بارش اور اوپر مذکور تمام چیزیں پیدا کر لیں اور ہمیں ان کے پیدا کرنے سے کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی تو کیا یہ بے چارہ انسان ضعیف البنیان ہی ایسی مخلوق ہے جسے پہلی دفعہ پیدا کرکے ہم تھک گئے ہیں اور اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے، حالانکہ ہمارا تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے اور دوبارہ زندگی تو پہلی دفعہ کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز سے کئی جگہ بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، یٰس (۷۸، ۷۹)، نازعات (۲۷) اور سورۂ ق (۳۸)۔ ➋ {بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ:} یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہم نے ہی پیدا کیا اور یہ کہ پہلی بار پیدا کرکے ہم تھک کر نہیں رہ گئے، لیکن اس کے باوجود انھیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کر سکیں گے یا نہیں، حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی دفعہ آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ وَ نَعۡلَمُ مَا تُوَسۡوِسُ بِہٖ نَفۡسُہٗ ۚۖ وَ نَحۡنُ اَقۡرَبُ اِلَیۡہِ مِنۡ حَبۡلِ الۡوَرِیۡدِ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں ابھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں ہم اس کی رگ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اس کے دل میں جو خیاﻻت اٹھتے ہیں ان سے ہم واقف ہیں اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیاده اس سے قریب ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آدمی کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم دل کی رگ سے بھی اس سے زیادہ نزدیک ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم وہ وسوسے جانتے ہیں جو اس کا نفس ڈالتا ہے اور ہم اس کی شہ رگ (حیات) سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلا شبہ یقینا ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم ان چیزوں کو جانتے ہیں جن کا وسوسہ اس کا نفس ڈالتاہے اور ہم اس کی رگ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دائیں اور بائیں دو فرشتے ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہی انسان کا خالق ہے اور اس کا علم تمام چیزوں کا احاطہٰ کئے ہوئے ہے یہاں تک کہ انسان کے دل میں جو بھلے برے خیالات پیدا ہوتے ہیں انہیں بھی وہ جانتا ہے۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے میری امت کے دل میں جو خیالات آئیں ان سے درگزر فرما لیا ہے جب تک کہ وہ زبان سے نہ نکالیں یا عمل نہ کریں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:2528] ‏‏‏‏ اور ہم اس کی رگ جان سے بھی زیادہ اس کے نزدیک ہیں یعنی ہمارے فرشتے اور بعض نے کہا ہے ہمارا علم۔ ان کی غرض یہ ہے کہ کہیں حلول اور اتحاد نہ لازم آ جائے جو بالاجماع اس رب کی مقدس ذات سے بعید ہے اور وہ اس سے بالکل پاک ہے لیکن لفظ کا اقتضاء یہ نہیں ہے اس لیے کہ «وانا» نہیں کہا بلکہ «ونحن» کہا ہے یعنی میں نہیں کہا بلکہ ہم کہا ہے۔ یہی لفظ اس شخص کے بارے میں کہے گئے ہیں جس کی موت قریب آ گئی ہو اور وہ نزع کے عالم میں ہو فرمان ہے «وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ» ۱؎ [56-الواقعة:85] ‏‏‏‏ یعنی ’ ہم تم سب سے زیادہ اس سے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھتے۔ ‘ یہاں بھی مراد فرشتوں کا اس قدر قریب ہونا ہے۔ جیسے فرمان ہے «اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَاِنَّا لَهٗ لَحٰفِظُوْنَ» ۱؎ [15-الحجر:9] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہم نے ذکر کو نازل فرمایا اور ہم ہی اس کے محافظ بھی ہیں ‘ فرشتے ہی ذکر قرآن کریم کو لے کر نازل ہوئے ہیں اور یہاں بھی مراد فرشتوں کی اتنی نزدیکی ہے جس پر اللہ نے انہیں قدرت بخش رکھی ہے۔ پس انسان پر ایک پہرا فرشتے کا ہوتا ہے اور ایک شیطان کا اسی طرح شیطان بھی جسم انسان میں اسی طرح پھرتا ہے جس طرح خون۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3107] ‏‏‏‏ جیسے کہ سچوں کے سچے اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔
1 6 ۔ 1 یعنی انسان جو کچھ چھپاتا اور دل میں مستور رکھتا ہے وہ سب ہم جانتے ہیں وسوسہ دل میں گزرنے والے خیالات کو کہا جاتا ہے جس کا علم اس انسان کے علاوہ کسی کو نہیں ہوتا لیکن اللہ ان وسوسوں کو بھی جانتا ہے اسی لیے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے میری امت سے دل میں گزرنے والے خیالات کو معاف فرما دیا ہے یعنی ان پر گرفت نہیں فرمائے گا جب تک وہ زبان سے ان کا اظہار یا ان پر عمل نہ کرے۔ البخاری کتاب الایمان۔ 16۔ 1 ورید شہ رگ یا رگ جان کو کہا جاتا ہے جس کے کٹنے سے موت واقع ہوجاتی ہے یہ رگ حلق کے ایک کنارے سے انسان کے کندھے تک ہوتی ہے ہم انسان کے بالکل بلکہ اتنے قریب ہیں کہ اس کے نفس کی باتوں کو بھی جانتے ہیں۔ امام ابن کثیر فرماتے ہیں کہ نَحْنُ سے مراد فرشتے ہیں۔ یعنی ہمارے فرشتے انسان کی رگ جان سے بھی قریب ہیں۔ کیونکہ انسان کے دائیں بائیں دو فرشتے ہر وقت موجود رہتے ہیں، وہ انسان کی ہر بات اور عمل کو نوٹ کرتے ہیں۔ اور بعض کے نزدیک رات اور دن کے فرشتے مراد ہیں۔ رات کے دو فرشتے الگ اور دن کے دو فرشتے الگ (فتح لقدیر)
(آیت 16) ➊ { وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَ نَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهٖ نَفْسُهٗ:} وسوسہ کا اصل معنی وہ ہلکی یا دبی ہوئی حرکت یا آواز ہے جو عام طور پر محسوس نہ ہوتی ہو۔ اس سے مراد وہ بات بھی ہوتی ہے جو بالکل آہستہ آواز سے کسی کے کان میں کہی جائے اور صرف اسی کو سنائی دے اور وہ بات بھی جو بغیر آواز کے کسی کے دل میں ڈال دی جائے، جیسے شیطان یا نفس انسان کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے۔ قیامت کے منکروں کے اس شبہ کا جواب کہ جب ہم مر کر مٹی ہو گئے تو دوبارہ کیسے زندہ کیے جائیں گے، اس سے پہلے گزر چکا ہے کہ ہم انسان کے مٹی ہو جانے والے ہر ذرے کو جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے، وہ نہ ہمارے علم سے باہر ہے اور نہ ہماری دسترس اور قدرت سے، ہم جب چاہیں گے اسے دوبارہ زندہ کر دیں گے، اب فرمایا خاک کے ذرّات کا وجود تو پھر بھی باقی رہتا ہے اور نظر آتا ہے، ہم تو انسان کی وہ چیزیں بھی جانتے ہیں جو اس سے بھی زیادہ مخفی ہیں اور بظاہر ان کا وجود بھی باقی نہیں رہتا، کیونکہ ہم نے انسان کو پیدا کیا ہے تو ہم سے بڑھ کر اسے کون جان سکتا ہے؟ فرمایا: «‏‏‏‏اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [الملک: ۱۴] ”کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا ہے اور وہی تو ہے جو نہایت باریک بین ہے، کامل خبر رکھنے والا ہے۔“ چنانچہ ہم اس کے اقوال و افعال ہی کو نہیں اس کی ان باتوں کو بھی جانتے ہیں جن کا خیال اور وسوسہ اس کا نفس اس کے دل میں ڈالتا ہے۔ سو ہم صرف اسے زندہ ہی نہیں کریں گے، بلکہ زندہ کرنے کے بعد اس کے تمام اعمال کا محاسبہ بھی کریں گے اور محاسبے کے لیے اگرچہ ہمارا علم ہی کافی ہے، مگر ہم نے حجت پوری کرنے کے لیے اس کے ہر قول و فعل کو فرشتوں کے ذریعے سے لکھ کر محفوظ کرنے کا بھی بندوبست کیا ہے۔ ➋ {وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيْدِ:الْوَرِيْدِ “} دل سے نکلنے والی رگ جس کے کٹنے سے انسان مر جاتا ہے۔ دل میں اس کا نام ”وتین“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ» ‏‏‏‏ [ الحاقۃ: ۴۶ ] ”پھر ہم اس کی جان کی رگ کاٹ دیتے۔“ اور گردن میں اس کا نام ”وريد “ ہے، جو {”وَرَدَ يَرِدُ“} سے {”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر ہے، کیونکہ خون دل سے اس میں وارد ہوتا ہے۔ {” حَبْلِ “} کا معنی بھی رگ ہے۔ {” حَبْلِ “} کی اضافت {” الْوَرِيْدِ “} کی طرف بیانیہ ہے، یعنی وہ رگ جو ورید ہے، جیسا کہ مسجد الجامع کی اضافت ہے۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: ”گردن کی رگ مراد ہے جس میں جان پھرتی ہے دل سے دماغ تک۔ اس کے کٹنے سے موت ہے۔“ ➌ ”ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں“ کیونکہ انسان کے جسم کے حصے تو ایک دوسرے کو چھپائے ہوئے ہوتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی۔ مفسر ابنِ کثیر نے یہاں {” نَحْنُ “} سے مراد فرشتے لیے ہیں، جیسا کہ سورۂ واقعہ کی آیت (۸۵): «وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَيْهِ مِنْكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُبْصِرُوْنَ» ‏‏‏‏ (اور ہم تم سے زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور لیکن تم نہیں دیکھتے) میں بعض ائمہ نے فرشتوں کا قریب ہونا مراد لیا ہے۔ اگرچہ اس معنی کی بھی گنجائش ہے، مگر الفاظ کے ظاہر کا تقاضا یہی ہے کہ یہ بات اللہ تعالیٰ اپنے متعلق فرما رہے ہیں اور اس بات کا یقین اور احساس کہ میرا رب میری رگِ جاں سے بھی زیادہ مجھ سے قریب ہے، انسان کو گناہوں کے ارتکاب سے زیادہ باز رکھنے والا اور اس سے محبت پیدا کرنے کا زیادہ باعث ہے۔ فتح البیان میں ہے، قشیری نے فرمایا: {” فِيْ هٰذِهِ الْآيَةِ هَيْبَةٌ وَ فَزَعٌ وَ خَوْفٌ لِقَوْمٍ وَ رَوْحٌ وَ أُنْسٌ وَ سُكُوْنُ قَلْبٍ لِقَوْمٍ “} ”اس آیت میں کچھ لوگوں کے لیے ہیبت، گھبراہٹ اور خوف کا اور کچھ لوگوں کے لیے راحت، انس اور سکونِ قلب کا سامان موجود ہے۔“ ➍ قرآن مجید نے صریح الفاظ میں اللہ تعالیٰ کا عرش پر ہونا بیان فرمایا ہے: «اَلرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوٰى» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۵ ] ”وہ بے حد رحم والا عرش پر بلند ہوا۔ “ پھر اس کا انسان کے قریب ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ بحث ان شاء اللہ سورۂ حدید کی آیت (۴): «‏‏‏‏وَ هُوَ مَعَكُمْ اَيْنَ مَا كُنْتُمْ» ‏‏‏‏ میں آئے گی۔
اِذۡ یَتَلَقَّی الۡمُتَلَقِّیٰنِ عَنِ الۡیَمِیۡنِ وَ عَنِ الشِّمَالِ قَعِیۡدٌ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
(اور ہمارے اس براہ راست علم کے علاوہ) دو کاتب اس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہر چیز ثبت کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس وقت دو لینے والے جا لیتے ہیں ایک دائیں طرف اور ایک بائیں طرف بیٹھا ہوا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جب اس سے لیتے ہیں دو لینے والے ایک داہنے بیٹھا اور ایک بائیں
علامہ محمد حسین نجفی
جبکہ دو اخذ کرنے والے (کراماً کاتبین) ایک دائیں جانب بیٹھا ہے اور دوسرا بائیں جانب (اور ہر چیز کو لکھ رہے ہیں)۔
عبدالسلام بن محمد
جب (اس کے ہر قول و فعل کو) دو لینے والے لیتے ہیں، جو دائیں طرف اور بائیں طرف بیٹھے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) ➊ {اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ:”تَلَقّٰي يَتَلَقّٰي“} (تفعّل) لینا، استقبال کرنا۔ {” يَتَلَقَّى “} اور {” الْمُتَلَقِّيٰنِ“} کا مفعول محذوف ہے: {”أَيْ جَمِيْعَ أَقْوَالِهٖ وَ أَفْعَالِهٖ۔“ ” اِذْ “} پچھلی آیت میں {” اَقْرَبُ “} کا ظرف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب انسان کے دائیں اور بائیں جانب بیٹھے ہوئے دو فرشتے اس کے ہر قول و فعل کو لے کر لکھ رہے ہوتے ہیں تو اس وقت ہم اس کی رگِ جاں سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتے ہیں اور اس کے دل میں آنے والے وسوسے اور سینے کے راز بھی خوب جانتے ہوتے ہیں۔ ➋ { ” قَعِيْدٌ “} بمعنی {”مُقَاعِدٌ“} ہے، جیسے {”جَلِيْسٌ“} بمعنی {”مُجَالِسٌ“} ہے۔ یعنی وہ انسان کے ساتھ لازم رہتے ہیں۔ {” قَعِيْدٌ “} (ساتھ بیٹھے ہوئے) کا لفظ ان کے بیدار اور ہشیار رہنے کی کیفیت کے بیان کے لیے ہے کہ وہ انسان سے سرزد ہونے والے کسی بھی قول یا فعل کو لکھنے کے لیے ہر وقت تیار بیٹھے ہیں، کسی لمحے بھی ان کے الگ ہونے یا غفلت یا نیند کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ ➌ یہاں ایک سوال ہے کہ فرشتے تو دو ہیں مگر ان کی کیفیت بیان کرنے کے لیے لفظ {” قَعِيْدٌ “} لایا گیا ہے جو واحد ہے، اسے تثنیہ بنا کر {”قَعِيْدَانِ“} کیوں نہیں کہا گیا؟ مفسرین نے اس کے دو جواب دیے ہیں، ایک یہ کہ اس سے مراد {”كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا “} ہے، یعنی ان دونوں میں سے ہر ایک تیار بیٹھا ہے۔ دوسرا یہ کہ {” قَعِيْدٌ”فَعِيْلٌ“} کے وزن پر صفت کا صیغہ ہے اور {”فَعِيْلٌ“ } اور {”فَعُوْلٌ“} واحد، تثنیہ، جمع اور مذکر و مؤنث سب کے لیے اسی طرح استعمال کر لیا جاتا ہے۔ دونوں جواب درست ہیں۔
مَا یَلۡفِظُ مِنۡ قَوۡلٍ اِلَّا لَدَیۡہِ رَقِیۡبٌ عَتِیۡدٌ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
(انسان) منھ سے کوئی لفﻆ نکال نہیں پاتا مگر کہ اس کے پاس نگہبان تیار ہے
احمد رضا خان بریلوی
کوئی بات وہ زبان سے نہیں نکالتا کہ اس کے پاس ایک محافظ تیار نہ بیٹھا ہو
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کوئی لفظ بھی نہیں بولتا مگر یہ کہ اس کے پاس نگران تیار موجود ہوتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کوئی بھی بات نہیں بولتا مگر اس کے پاس ایک تیار نگران ہوتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
18۔ 1 رَقِیْب محافظ، نگران اور انسان کے قول اور عمل کا انتظار کرنے والا عَتِیْد حاضر اور تیار۔
(آیت 18){ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَيْهِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ:رَقِيْبٌ “} نگرانی کرنے والا اور {” عَتِيْدٌ “} تیار۔ اس آیت کے مفہوم کے قریب یہ آیات ہیں: «‏‏‏‏وَ اِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ (10) كِرَامًا كَاتِبِيْنَ (11) يَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ» [ الانفطار: ۱۰ تا ۱۲ ] ”حالانکہ بلاشبہ تم پر یقینا نگہبان (مقرر) ہیں۔ جو بہت عزت والے ہیں، لکھنے والے ہیں۔ وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو۔ “ اگرچہ انسان کا ہر قول و فعل اور ارادہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے، مگر فرشتوں کے ذریعے سے کتابِ اعمال کی تیاری قیامت کے دن اس پر حجت قائم کرنے کے لیے ہے، فرمایا: «وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا (13) اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ‏‏‏‏ [ بني إسرائیل:۱۳، ۱۴ ] ”اور قیامت کے دن ہم اس کے لیے ایک کتاب نکالیں گے، جسے وہ کھولی ہوئی پائے گا۔اپنی کتاب پڑھ، آج تو خود اپنے آپ پر بطور محاسب بہت کافی ہے۔ “ آج کل آڈیو اور وڈیو کے ذریعے سے انسان کے تقریباً ہر قول و فعل کا مکمل نقشہ محفوظ کر لیا جاتا ہے۔ انسانی ایجادات کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو عطا کردہ صلاحیتوں کے ساتھ کوئی نسبت ہی نہیں ہو سکتی۔ اس کتاب کو دیکھ کر بندوں کا جو حال ہوگا وہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ کہف میں بیان فرمایا ہے: «وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا» ‏‏‏‏ [ الکھف: ۴۹ ] ”اور کتاب رکھی جائے گی، پس تو مجرموں کو دیکھے گا کہ اس سے ڈرنے والے ہوں گے جو اس میں ہوگا اور کہیں گے ہائے ہماری بربادی! اس کتاب کو کیا ہے، نہ کوئی چھوٹی بات چھوڑتی ہے اور نہ بڑی مگر اس نے اسے ضبط کر رکھا ہے، اور انھوں نے جو کچھ کیا اسے موجود پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ “
وَ جَآءَتۡ سَکۡرَۃُ الۡمَوۡتِ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ مَا کُنۡتَ مِنۡہُ تَحِیۡدُ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر دیکھو، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آ پہنچی، یہ وہی چیز ہے جس سے تو بھاگتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور آئی موت کی سختی حق کے ساتھ یہ ہے جس سے تو بھاگتا تھا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور موت کی بےہوشی حق کے ساتھ آپہنچی۔ یہی وہ چیز ہے جس سے تو گریز کرتا رہتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اور موت کی بے ہوشی حق کے ساتھ آئے گی۔ یہ ہے وہ جس سے تو بھاگتا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
19۔ 1 تَحِیْدُ، تَمِیْلُ عَنْہُ وَتَفِرُّتو اس موت سے بدکتا اور بھاگتا تھا۔
(آیت 19) ➊ { وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ:} یہ ذکرکرنے کے بعد کہ انسان جو کچھ کرتا ہے سب اللہ کو معلوم ہے اور انسان کی کتابِ اعمال میں بھی لکھا ہوا اور محفوظ ہے اور اس کے سامنے پیش آنے والا ہے، اب اس حقیقت کے انسان کے سامنے آنے کے دو وقت بیان فرمائے، پہلا موت کا وقت اور دوسرا قیامت کا وقت۔ اس آیت میں موت کا ذکر ہے، موت کی بے ہوشی سے مراد اس کی سختی اور شدت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں موت اور قیامت کے لیے ماضی کے صیغے استعمال فرمائے ہیں، یعنی {” وَ جَآءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ “} (اور موت کی بے ہوشی آ گئی) اور {” وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ “} (اور صور میں پھونکا گیا) حالانکہ یہ کام آئندہ ہونے والے ہیں، تو مقصد وہ نقشہ سامنے لانا اور یہ باور کروانا ہے کہ ان کا آنا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو وہ آ چکے۔ ➋ عائشہ رضی اللہ عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری وقت کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانی کا ایک پیالہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ اس میں ڈالتے اور انھیں چہرے پر پھیرتے جاتے تھے اور ساتھ یہ فرماتے تھے: [ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، إِنَّ لِلْمَوْتِ سَكَرَاتٍ ] [ بخاري، المغازي، باب مرض النبي صلی اللہ علیہ وسلم و وفاتہ: ۴۴۴۹ ] ”لا الٰہ الا اللہ، یقینا موت کی بہت سختیاں ہیں۔ “ ➌ { بِالْحَقِّ:} موت کی بے ہوشی کے حق کو لے کر آنے کا مطلب یہ ہے کہ جان نکلنے کی سختی کے ساتھ ہی وہ حقیقت سامنے آ جائے گی جس پر دنیا میں پردہ پڑا ہوا ہے اور آدمی آنکھوں سے دیکھ لے گا کہ رسولوں نے جو بات بتائی تھی وہ حق اور سچ تھی۔ ➍ { ذٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيْدُ: ”حَادَ يَحِيْدُ حَيْدَةً“} ({ بَاعَ يَبِيْعُ})کسی چیز سے کنی کترانا، بچ کر نکلنا، دور بھاگنا۔ ہر انسان ہی طبعی طور پر موت سے بھاگتا ہے، مگر اس سے چارہ نہیں اور نہ ہی انسان کی سدا زندہ رہنے کی خواہش پوری ہو سکتی ہے۔ دیکھیے سورئہ جمعہ (۸) اور احزاب (۱۶) کی تفسیر۔ یعنی یہ وہ حقیقت ہے جس کا سامنا کرنے سے تو پہلو تہی کرتا اور کنی کتراتا تھا اور چاہتا تھا کہ اس سے بچ کر اپنی من مانی کرتا رہے۔
وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡوَعِیۡدِ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پھر صور پھونکا گیا، یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلایا جاتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور صور پھونک دیا جائے گا۔ وعدہٴ عذاب کا دن یہی ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور صُور پھونکا گیا یہ ہے وعدہٴ عذاب کا دن
علامہ محمد حسین نجفی
اور صور پھونکا جائے گا یہی وعید کا دن ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور صور میں پھونکا جا ئے گا، یہی عذاب کے وعدے کا دن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 20) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ …:} موت کے بعد یہ دوسرا موقع ہے جب انسان کے سامنے یہ حقیقت کھل کر آ جائے گی کہ وہ جو کچھ کرتا تھا سب اللہ تعالیٰ کے علم میں تھا اور کرامًا کاتبین کے ذریعے سے محفوظ ہو رہا تھا۔ یہاں صور میں پھونکے جانے سے مراد دوسری دفعہ پھونکا جانا ہے، جب ہر آدمی قبر سے نکل کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہو جائے گا۔ ”وعيد“ دھمکی اور سزا کے وعدے کو کہتے ہیں، یعنی تمھیں نافرمانی پر جو وعید سنائی گئی تھی یہ اس کے پورے ہونے کا دن ہے۔ ”نفخ صور“ کے لیے دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۷ تا ۵۱)، طٰہٰ (۱۰۲)، حج (۱)، یٰس (۵۱) اور سورۂ زمر (۶۸)۔
وَ جَآءَتۡ کُلُّ نَفۡسٍ مَّعَہَا سَآئِقٌ وَّ شَہِیۡدٌ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہر شخص اِس حال میں آ گیا کہ اُس کے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ایک ﻻنے واﻻ ہوگا اور ایک گواہی دینے واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
اور ہر جان یوں حاضر ہوئی کہ اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہر شخص اس طرح آئے گا کہ اس کے ساتھ ہانکنے والا اور ایک گواہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ہر شخص آئے گا، اس کے ساتھ ایک ہانکنے والا اور ایک گواہی دینے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
21۔ 1 سَائِق (ہانکنے والا) اور شھید (گواہ) کے بارے میں اختلاف ہے۔ امام طبری کے نزدیک دو فرشتے ہیں۔ ایک انسان کو محشر تک ہانک کر لانے والا اور دوسرا گواہی دینے والا۔
(آیت 21) {وَ جَآءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَهَا سَآىِٕقٌ وَّ شَهِيْدٌ:” سَآىِٕقٌ “ ” سَاقَ يَسُوْقُ سَوْقًا “} سے اسم فاعل ہے، ہانکنے والا جو جانوروں کو یا کسی گروہ کو ہانک کر کسی جگہ پہنچاتا ہے۔ {” شَهِيْدٌ “} شہادت دینے والا۔ یعنی قبر سے نکلتے ہی ہر کافر کے ساتھ ایک فرشتہ ہانکنے والا ہو گا جو اسے ہانک کر محشر کی طرف لے جائے گا اور ایک اس کے اعمالِ بد کی شہادت دینے والا ہو گا۔ یہ فرشتہ کراماً کاتبین میں سے بھی ہو سکتا ہے جو اس کا نامۂ اعمال لے کر شہادت کے لیے حاضر ہو گا۔ گویا مجرم بھی حاضر ہو گا اور اس کے خلاف مکمل شہادتیں بھی حاضر ہوں گی۔ {” كُلُّ نَفْسٍ “} سے مراد یہاں ہر کافر و مشرک ہے، کیونکہ اس اہانت اور تذلیل کے ساتھ کفار ہی کو لے جایا جائے گا۔ بعد کی آیات سے بھی یہ بات واضح ہو رہی ہے۔
لَقَدۡ کُنۡتَ فِیۡ غَفۡلَۃٍ مِّنۡ ہٰذَا فَکَشَفۡنَا عَنۡکَ غِطَآءَکَ فَبَصَرُکَ الۡیَوۡمَ حَدِیۡدٌ ﴿۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً تو اس سے غفلت میں تھا لیکن ہم نے تیرے سامنے سے پرده ہٹا دیا پس آج تیری نگاه بہت تیز ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک تو اس سے غفلت میں تھا تو ہم نے تجھ پر سے پردہ اٹھایا تو آج تیری نگاہ تیز ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اے غا فل) تو اس دن سے غفلت میں رہا تو (آج) ہم نے تیری آنکھوں سے تیرا پردہ ہٹا دیا سو آج تیری نگاہ بڑی تیز ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا تو اس سے بڑی غفلت میں تھا، سو ہم نے تجھ سے تیرا پردہ دور کر دیا، تو تیری نگاہ آج بہت تیز ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اس لیے اس کے بعد ہی فرمایا کہ دو فرشتے جو دائیں بائیں بیٹھے ہیں، وہ تمہارے اعمال لکھ رہے ہیں، ابن آدم کے منہ سے جو کلمہ نکلتا ہے، اسے محفوظ رکھنے والے اور اسے نہ چھوڑنے والے اور فوراً لکھ لینے والے فرشتے مقرر ہیں۔ جیسے فرمان ہے «وَاِنَّ عَلَيْكُمْ لَحٰفِظِيْنَ كِرَامًا كَاتِبِينَ يَعْلَمُونَ مَا تَفْعَلُونَ» ۱؎ [82-الإنفطار:12-10] ‏‏‏‏ ’ تم پر محافظ ہیں بزرگ فرشتے جو تمہارے فعل سے باخبر ہیں اور لکھنے والے ہیں ‘ حسن اور قتادہ رحمہما اللہ تو فرماتے ہیں یہ فرشتے ہر نیک و بد عمل لکھ لیا کرتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے دو قول ہیں ایک تو یہی ہے دوسرا قول آپ کا یہ ہے کہ ثواب و عذاب لکھ لیا کرتے ہیں۔ لیکن آیت کے ظاہری الفاظ پہلے قول کی ہی تائید کرتے ہیں کیونکہ فرمان ہے جو لفظ نکلتا ہے اس کے پاس محافظ تیار ہیں۔

مسند احمد میں ہے انسان ایک کلمہ اللہ کی رضا مندی کا کہہ گزرتا ہے جسے وہ کوئی بہت بڑا اجر کا کلمہ نہیں جانتا لیکن اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اپنی رضا مندی اس کے لیے قیامت تک کی لکھ دیتا ہے۔ اور کوئی برائی کا کلمہ، ناراضگی اللہ کا اسی طرح بےپرواہی سے کہہ گزرتا ہے جس کی وجہ سے اللہ اپنی ناراضی اس پر اپنی ملاقات کے دن تک کی لکھ دیتا ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2319،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث نے مجھے بہت سی باتوں سے بچا لیا۔ ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن بتلاتے ہیں احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں دائیں طرف والا نیکیاں لکھتا ہے اور یہ بائیں طرف والے پر امین ہے۔ جب بندے سے کوئی خطا ہو جاتی ہے تو یہ کہتا ہے ٹھہر جا اگر اس نے اسی وقت توبہ کر لی تو اسے لکھنے نہیں دیتا اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ لکھ لیتا ہے۔ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

امام حسن بصری رحمہ اللہ اس آیت کی تلاوت کر کے فرماتے تھے اے ابن آدم تیرے لیے صحیفہ کھول دیا گیا ہے اور دو بزرگ فرشتے تجھ پر مقرر کر دئیے گئے ہیں، ایک تیرے دائیں دوسرا بائیں، دائیں طرف والا تو تیری نیکیوں کی حفاظت کرتا ہے اور بائیں طرف والا برائیوں کو دیکھتا رہتا ہے اب تو جو چاہے عمل کر کمی کر یا زیادتی کر جب تو مرے گا تو یہ دفتر لپیٹ دیا جائے گا اور تیرے ساتھ تیری قبر میں رکھ دیا جائے گا اور قیامت کے دن جب تو اپنی قبر سے اٹھے گا تو یہ تیرے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «وَكُلَّ إِنسَانٍ أَلْزَمْنَاهُ طَائِرَهُ فِي عُنُقِهِ وَنُخْرِجُ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كِتَابًا يَلْقَاهُ مَنشُورًا» * «اقْرَأْ كِتَابَكَ كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14-13] ‏‏‏‏ ’ ہر انسان کی شامت اعمال کی تفصیل ہم نے اس کے گلے لگا دی ہے اور ہم قیامت کے دن اس کے سامنے نامہ اعمال کی ایک کتاب پھینک دیں گے جسے وہ کھلی ہوئی پائے گا پھر اس سے کہیں گے کہ اپنی کتاب پڑھ لے آج تو خود ہی اپنا حساب لینے کو کافی ہے۔ ‘ پھر حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: اللہ کی قسم! اس نے بڑا ہی عدل کیا جس نے خود تجھے ہی تیرا محاسب بنا دیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں جو کچھ تو بھلا برا کلمہ زبان سے نکالتا ہے وہ سب لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ تیرا یہ کہنا بھی کہ میں نے کھایا، میں نے پیا، میں گیا، میں آیا، میں نے دیکھا۔ پھر جمعرات والے دن اس کے اقوال و افعال پیش کئے جاتے ہیں خیر و شر باقی رکھ لی جاتی ہے اور سب کچھ مٹا دیا جاتا ہے یہی معنی ہیں فرمان باری تعالیٰ شانہ کے «يَمْحُو اللَّـهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِندَهُ أُمُّ الْكِتَابِ» ’ اللہ جو چاہے مٹا دے اور جو چاہے ثابت رکھے، لوح محفوظ اسی کے پاس ہے ‘ ۱؎ [13-الرعد:39] ‏‏‏‏ امام احمد رحمہ اللہ کی بابت مروی ہے کہ آپ اپنے مرض الموت میں کراہ رہے تھے تو آپ کو معلوم ہوا کہ طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرشتے اسے بھی لکھتے ہیں چنانچہ آپ نے کراہنا بھی چھوڑ دیا اللہ آپ پر اپنی رحمت نازل فرمائے اپنی موت کے وقت تک اف بھی نہ کی۔

پھر فرماتا ہے، اے انسان! موت کی بیہوشی یقینًا آئے گی اس وقت وہ شک دور ہو جائے گا جس میں آج کل تو مبتلا ہے، اس وقت تجھ سے کہا جائے گا کہ یہی ہے جس سے تو بھاگتا پھرتا تھا، اب وہ آ گئی، تو کسی طرح اس سے نجات نہیں پا سکتا، نہ بچ سکتا ہے، نہ اسے روک سکتا ہے، نہ اسے دفع کر سکتا ہے، نہ ٹال سکتا ہے، نہ مقابلہ کر سکتا ہے، نہ کسی کی مدد و سفارش کچھ کام آ سکتی ہے۔ صحیح یہی ہے کہ یہاں خطاب مطلق انسان سے ہے اگرچہ بعض نے کہا ہے کافر سے ہے اور بعض نے کچھ اور بھی کہا ہے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں میں اپنے والد کے آخری وقت میں آپ کے سرہانے بیٹھی تھی آپ پر غشی طاری ہوئی، تو میں نے یہ بیت پڑھا «من لا یزال دمعہ مقننعا» *** «فانہ لا بد مرۃ مدفوق» مطلب یہ ہے کہ جس کے آنسو ٹھہرے ہوئے ہیں وہ بھی ایک مرتبہ ٹپک پڑیں گے۔ تو آپ نے اپنا سر اٹھا کر کہا پیاری بچی یوں نہیں بلکہ جس طرح اللہ نے فرمایا «وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذَلِكَ مَا كُنتَ مِنْهُ تَحِيدُ» ۱؎ [50-ق:19] ‏‏‏‏ } ’ اور موت کی بے ہوشی حق لے کر آ پہنچی، یہی ہے جس سے تو بدکتا پھرتا تھا ‘۔ اور روایت میں بیت کا پڑھنا اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمانا مروی ہے کہ یوں نہیں بلکہ یہ آیت پڑھو۔ اس اثر کے اور بھی بہت سے طریق ہیں جنہیں میں نے سیرۃ الصدیق رضی اللہ عنہ میں آپ کی وفات کے بیان میں جمع کر دیا ہے۔

صحیح حدیث میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب موت کی غشی طاری ہونے لگی تو آپ اپنے چہرہ مبارک سے پسینہ پونچھتے جاتے اور فرماتے جاتے: ”سبحان اللہ موت کی بڑی سختیاں ہیں“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4449] ‏‏‏‏ اس آیت کے پچھلے جملے کی تفسیر دو طرح کی گئی ہے ایک تو یہ کہ «ما» موصولہ ہے یعنی یہ وہی ہے جسے تو بعید از مکان جانتا تھا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہاں «ما» نافیہ ہے تو معنی یہ ہوں گے کہ یہ وہ چیز ہے جس کے جدا کرنے کی، جس سے بچنے کی تجھے قدرت نہیں تو اس سے ہٹ نہیں سکتا۔ معجم کبیر طبرانی میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اس شخص کی مثال جو موت سے بھاگتا ہے اس لومڑی جیسی ہے جس سے زمین اپنا قرضہ طلب کرنے لگی اور یہ اس سے بھاگنے لگی، بھاگتے بھاگتے جب تھک گئی اور بالکل چکنا چور ہو گئی تو اپنے بھٹ میں جا گھسی، زمین چونکہ وہاں بھی موجود تھی اس نے لومڑی سے کہا: میرا قرض دے تو یہ وہاں سے پھر بھاگی سانس پھولا ہوا تھا حال برا ہو رہا تھا آخر یونہی بھاگتے بھاگتے بےدم ہو کر مر گئی“ }۔ ۱؎ [طبرانی:6922:ضعیف] ‏‏‏‏ الغرض جس طرح اس لومڑی کو زمین سے بھاگنے کی راہیں بند تھیں اسی طرح انسان کو موت سے بچنے کے راستے بند ہیں اس کے بعد صور پھونکے جانے کا ذکر ہے جس کی پوری تفسیر والی حدیث گزر چکی ہے۔

اور حدیث میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”میں کس طرح راحت و آرام حاصل کر سکتا ہوں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور منہ میں لے لیا ہے اور گردن جھکائے حکم اللہ کا انتظار کر رہا ہے کہ کب حکم ملے اور کب وہ پھونک دے صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: پھر یا رسول اللہ! ہم کیا کہیں آپ نے فرمایا کہو «حَسْبُنَا اللَّـهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ» ’ ہمیں اللہ کافی ہے اور وه بہت اچھا کارساز ہے ‘“ } ۱؎ [3-آل عمران:173] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3243،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے ہر شخص کے ساتھ ایک فرشتہ تو میدان محشر کی طرف لانے والا ہو گا اور ایک فرشتہ اس کے اعمال کی گواہی دینے والا ہو گا۔ ظاہر آیت یہی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ بھی اسی کو پسند فرماتے ہیں۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تلاوت منبر پر کی اور فرمایا: ایک چلانے والا جس کے ہمراہ یہ میدان محشر میں آئے گا اور ایک گواہ ہو گا جو اس کے اعمال کی شہادت دے گا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «سائق» سے مراد فرشتہ ہے اور شہید سے مراد عمل ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا قول ہے «سائق» فرشتوں میں سے ہوں گے اور «شہید» سے مراد خود انسان ہے جو اپنے اوپر آپ گواہی دے گا، پھر اس کے بعد کی آیت میں جو خطاب ہے اس کی نسبت تین قول ہیں، ایک تو یہ کہ یہ خطاب کافر سے ہو گا، دوسرا یہ کہ اس سے مراد عام انسان ہیں نیک و بد سب، تیسرا یہ کہ اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:420/11] ‏‏‏‏ دوسرے قول کی توجیہ یہ ہے کہ آخرت اور دنیا میں وہی نسبت ہے جو بیداری اور خواب میں ہے اور تیسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قرآن کی وحی سے پہلے غفلت میں تھا۔ ہم نے یہ قرآن نازل فرما کر تیری آنکھوں پر سے پردہ ہٹا دیا اور تیری نظر قوی ہو گئی۔ لیکن الفاظ قرآنی سے تو ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد عام ہے یعنی ہر شخص سے کہا جائے گا کہ تو اس دن سے غافل تھا اس لیے کہ قیامت کے دن ہر شخص کی آنکھیں خوب کھل جائیں گی یہاں تک کہ کافر بھی استقامت پر ہو جائے گا لیکن یہ استقامت اسے نفع نہ دے گی۔ جیسے فرمان باری ہے «أَسْمِعْ بِهِمْ وَأَبْصِرْ يَوْمَ يَأْتُونَنَا لَـكِنِ الظَّالِمُونَ الْيَوْمَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ» [19-مريم:38] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا خوب دیکھنے سننے والے ہوں گے اس دن جبکہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے، لیکن آج تو یہ ﻇالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں ‘ اور آیت میں ہے «وَلَوْ تَرَى إِذِ الْمُجْرِمُونَ نَاكِسُو رُءُوسِهِمْ عِندَ رَبِّهِمْ رَبَّنَا أَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا إِنَّا مُوقِنُونَ» ۱؎ [32-السجدة:12] ‏‏‏‏ یعنی ’ کاش کہ آپ دیکھتے جب کہ گناه گار لوگ اپنے رب تعالیٰ کے سامنے سر جھکائے ہوئے ہوں گے، کہیں گے اے ہمارے رب! ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب تو ہمیں واپس لوٹا دے ہم نیک اعمال کریں گے ہم یقین کرنے والے ہیں ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 22) ➊ {لَقَدْ كُنْتَ فِيْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا:غَفْلَةٍ “} میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی غفلت“ کیا گیا ہے۔ یہاں یہ الفاظ محذوف ہیں کہ ”ہر کافر و مشرک سے کہا جائے گا کہ…۔“ یہ آیت بھی دلیل ہے کہ {” كُلُّ نَفْسٍ “} سے مراد کفار ہیں، کیونکہ وہی آخرت سے غافل ہیں، مومن تو آخرت کا یقین رکھتے ہیں اور اس کی فکر میں رہتے ہیں۔ کفار کو یہ بات ذلیل کرنے کے لیے طنز کے طور پر کہی جائے گی۔ ➋ { فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَآءَكَ …:} یعنی تیری آنکھوں پر پڑا ہوا غفلت کا پردہ، جس کی وجہ سے تو آخرت کا انکار کرتا تھا، وہ پردہ اب ہم نے دور کر دیا ہے، اس لیے تیری نظر تیز ہو چکی ہے اور تو اپنی آنکھوں کے ساتھ ان تمام حقیقتوں کو دیکھ سکتا ہے جن کا انکار کر تا تھا۔
وَ قَالَ قَرِیۡنُہٗ ہٰذَا مَا لَدَیَّ عَتِیۡدٌ ﴿ؕ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جو میری سپردگی میں تھا حاضر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کا ہم نشین (فرشتہ) کہے گا یہ حاضر ہے جو کہ میرے پاس تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور اس کا ہمنشین فرشتہ بولا یہ ہے جو میرے پاس حاضر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس کا (زندگی بھر کا) ساتھی کہے گا کہ جو میرے پاس تھا وہ حاضر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس کا ساتھی (فرشتہ) کہے گا یہ ہے وہ جو میرے پاس تیار ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
23۔ 1 یعنی فرشتہ انسان کا سارا ریکارڈ سامنے رکھ دے گا اور کہے گا کہ یہ تیری فرد عمل ہے کو جو میرے پاس تھی۔
(آیت 23){ وَ قَالَ قَرِيْنُهٗ هٰذَا مَا لَدَيَّ عَتِيْدٌ: ”قَرِيْنٌ“} ساتھی۔ یعنی وہ فرشتہ جو اسے ہانک کر محشر میں لانے پر مقرر تھا کہے گا، اے رب! وہ مجرم جسے لانے پر تو نے مجھے مقرر فرمایا تھا یہ میرے پاس حاضری کے لیے تیار ہے اور وہ فرشتہ جو شہادت کے لیے ساتھ تھا کہے گا، اس کے متعلق جس جس شہادت کی ضرورت ہے وہ یہ ہے جو میرے پاس تیار ہے۔
اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
حکم دیا گیا "پھینک دو جہنم میں ہر گٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو
احمد رضا خان بریلوی
حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،
علامہ محمد حسین نجفی
تم دونوں جہنم میں جھونک دو ہر بڑے کافر کو جو(حق سے) عناد رکھتا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جہنم میں پھینک دو تم دونوں (فرشتے) ہر زبردست ناشکرے کو، جو بہت عناد رکھنے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 24تا26) {اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ …:} اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں پھینک دو جو سخت ناشکرا، بہت عناد رکھنے والا، خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا اور شک کرنے والا ہے، جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، سو اسے شدید عذاب میں پھینک دو۔ اس میں اسے جہنم میں پھینکنے کے فیصلے کے ساتھ اس فیصلے کی وجہ اور اس کے دلائل بھی بیان فرما دیے ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک کو نہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکب تمام مجرموں کو جہنم میں پھینک دو۔
مَّنَّاعٍ لِّلۡخَیۡرِ مُعۡتَدٍ مُّرِیۡبِۣ ﴿ۙ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
خیر کو روکنے والا اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا، شک میں پڑا ہوا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
جو نیک کام سے روکنے واﻻ حد سے گزر جانے واﻻ اور شک کرنے واﻻ تھا
احمد رضا خان بریلوی
جو بھلائی سے بہت روکنے والا حد سے بڑھنے والا شک کرنے والا
علامہ محمد حسین نجفی
جو نیکی و خیرات سے بڑا روکنے والا، حد سے بڑھنے والا اور شک کرنے والا اور دوسروں کو شک میں ڈالنے والا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جو خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا، شک کرنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
الَّذِیۡ جَعَلَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـہًا اٰخَرَ فَاَلۡقِیٰہُ فِی الۡعَذَابِ الشَّدِیۡدِ ﴿۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کو خدا بنائے بیٹھا تھا ڈال دو اُسے سخت عذاب میں"
مولانا محمد جوناگڑھی
جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا تھا پس اسے سخت عذاب میں ڈال دو
احمد رضا خان بریلوی
جس نے اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ٹھہرایا تم دونوں اسے سخت عذاب میں ڈالو،
علامہ محمد حسین نجفی
جس نے اللہ کے ساتھ اوروں کو بھی خدا بنا رکھا تھا۔ پس اس کو سخت عذاب میں جھونک دو۔
عبدالسلام بن محمد
جس نے اللہ کے ساتھ دوسرا معبود بنا لیا، سو دونوں اسے بہت سخت عذاب میں ڈال دو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
2 6 ۔ 1 اللہ تعالیٰ اس فرد عمل کی روشنی میں انصاف اور فیصلہ فرمائے گا القیا سے الشدید تک اللہ کا قول ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
قَالَ قَرِیۡنُہٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطۡغَیۡتُہٗ وَ لٰکِنۡ کَانَ فِیۡ ضَلٰلٍۭ بَعِیۡدٍ ﴿۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس کے ساتھی نے عرض کیا "خداوندا، میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا بلکہ یہ خود ہی پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کا ہمنشین (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب! میں نے اسے گمراه نہیں کیا تھا بلکہ یہ خود ہی دور دراز کی گمراہی میں تھا
احمد رضا خان بریلوی
اس کے ساتھی شیطان نے کہا ہمارے رب میں نے اسے سرکش نہ کیا ہاں یہ آپ ہی دور کی گمراہی میں تھا
علامہ محمد حسین نجفی
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے پروردگار! میں نے تو اسے سرکش نہیں بنایا تھا مگر وہ خود ہی سخت گمراہی میں تھا۔
عبدالسلام بن محمد
اس کا ساتھی (شیطان) کہے گا اے ہمارے رب !میں نے اسے سر کش نہیں بنایا اور لیکن وہ خود ہی دور کی گمراہی میں تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
27۔ 1 اس لئے اس نے فوراً میری بات مان لی، اگر یہ تیرا مخلص بندہ ہوتا تو میرے بہکاوے میں ہی نہ آتا۔ یہاں قرین سے مراد شیطان ہے۔
(آیت 27) {قَالَ قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ …:} کافر جب یہ حکم سنے گا تو کہے گا، اے میرے رب! میرا کوئی گناہ نہیں، مجھے تو میرے قرین (ساتھی) نے گمراہ کیا۔ اس کے جواب میں اس کا قرین (ساتھی) کہے گا، اے ہمارے رب! میں نے اسے سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود ہی بہت دور کی گمراہی میں مبتلا تھا، میں نے اس پر کوئی زبردستی نہیں کی۔اگر یہ خود انتہائی گمراہ نہ ہوتا تو میرے کہنے سے کبھی سرکشی اختیار نہ کرتا۔ ”قرین“ سے مراد وہ شیطان بھی ہے جو انسان کے ساتھ رہ کر اسے گمراہ کرتا رہتا ہے اور انسانوں میں سے برے ساتھی بھی جو اسے برائی کا درس دیتے اور اس پر ابھارتے رہتے ہیں۔ قیامت کے دن جب مجرم یہ بہانہ بنائے گا کہ ان لوگوں نے مجھے گمراہ کیا تو وہ اس سے صاف براء ت کا اظہار کر دیں گے۔ ان گمراہ کرنے والے شیاطین الانس و الجن کے اپنے گمراہ کردہ لوگوں سے بری ہونے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۶۷)، اعراف، (۳۸، ۳۹)، ابراہیم (۲۱)، سبا (۳۱ تا ۳۳) اور سورۂ ص (۵۵ تا ۶۱)۔
قَالَ لَا تَخۡتَصِمُوۡا لَدَیَّ وَ قَدۡ قَدَّمۡتُ اِلَیۡکُمۡ بِالۡوَعِیۡدِ ﴿۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جواب میں ارشاد ہوا "میرے حضور جھگڑا نہ کرو، میں تم کو پہلے ہی انجام بد سے خبردار کر چکا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
حق تعالیٰ فرمائے گا بس میرے سامنے جھگڑنے کی بات مت کرو میں تو پہلے ہی تمہاری طرف وعید (وعدہٴ عذاب) بھیج چکا تھا
احمد رضا خان بریلوی
فرمائے گا میرے پاس نہ جھگڑو میں تمہیں پہلے ہی عذاب کا ڈر سنا چکا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
ارشاد ہوگا میرے سامنے جھگڑا نہ کرو اور میں نے تو تمہیں پہلے عذاب سے ڈرایا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
فرمایا میرے پاس جھگڑا مت کرو، حالانکہ میں نے تو تمھاری طرف ڈرانے کا پیغام پہلے بھیج دیا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
28۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ کافروں اور ان کے ہم نشین شیطانوں کو کہے گا کہ یہاں موقف حساب یا عدالت انصاف میں لڑنے جھگڑنے کی ضرورت نہیں نہ اس کا کوئی فائدہ ہی ہے، میں نے پہلے ہی رسولوں اور کتابوں کے ذریعے سے وعیدوں سے تم کو آگاہ کردیا تھا۔
(آیت 28) {قَالَ لَا تَخْتَصِمُوْا لَدَيَّ وَ قَدْ قَدَّمْتُ اِلَيْكُمْ بِالْوَعِيْدِ:} اللہ تعالیٰ ان کا جھگڑا سن کر فرمائے گا، اب یہاں میرے پاس مت جھگڑو، اس جھگڑے سے تمھیں کچھ حاصل نہیں ہو گا، کیونکہ میں نے تو تمھیں پہلے ہی رسول بھیج کر نافرمانی کی سزا سے آگاہ کر دیا تھا، مگر تم نے پروا نہیں کی، اب اپنے کفر و عناد کی سزا بھگتو۔
مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں"
مولانا محمد جوناگڑھی
میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں
احمد رضا خان بریلوی
میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،
علامہ محمد حسین نجفی
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔
عبدالسلام بن محمد
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔
29۔ 1 یعنی جو وعدے میں نے کئے تھے، ان کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ ہر صورت میں پورے ہو نگے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لئے عذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔
(آیت 29) ➊ { مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ:} یعنی میں نے جو تمھیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کر دیا ہے وہ اب بدل نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورئہ ص (۸۴، ۸۵) کی تفسیر۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ میرے پاس کوئی بات کو بدل نہیں سکتا اور نہ یہاں کسی کا جھوٹ چل سکتا ہے، کیونکہ میں تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے مطابق اشارہ قرین کے یہ کہنے کی طرف ہو گا: «مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ» ‏‏‏‏ ”میں نے اسے سرکش نہیں بنایا۔“ (التسہیل) یعنی یہاں نہ مجرم کا جھوٹ چل سکتا ہے نہ اس کے قرین کا، دونوں ”کفار عنید“ ہیں اور ”کفار عنید“ جو بھی ہے اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} یعنی اگر میں نے پہلے نہ بتایا ہوتا اور تمھیں جہنم میں ڈالتا تو یہ شدید ظلم ہوتا جو میں اپنے بندوں پر کسی صورت کرنے والا نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۸۲) اور سورئہ حج (۱۰)۔
یَوۡمَ نَقُوۡلُ لِجَہَنَّمَ ہَلِ امۡتَلَاۡتِ وَ تَقُوۡلُ ہَلۡ مِنۡ مَّزِیۡدٍ ﴿۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن جبکہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن ہم دوزخ سے پوچھیں گے کیا تو بھر چکی؟ وه جواب دے گی کیا کچھ اور زیاده بھی ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
جس دن ہم جہنم سے فرمائیں گے کیا تو بھر گئی وہ عرض کرے گی کچھ اور زیادہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ دن یاد کرو جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی ہے؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے؟
عبدالسلام بن محمد
جس دن ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی؟ اور وہ کہے گی کیا کچھ مزید ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
30۔ 1 اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ (لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ 13؀) 32۔ السجدہ:13)۔ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا اس وعدے کا جب ایفا ہوجائے گا اور اللہ تعالیٰ کافر جن و انس کو جہنم میں ڈال دے گا، تو جہنم سے پوچھے گا کہ تو بھر گئی ہے یا نہیں؟ وہ جواب دے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یعنی اگرچہ بھر گئی ہوں لیکن یا اللہ تیرے دشمنوں کے لئے میرے دامن اب بھی گنجائش ہے۔
(آیت 30) {يَوْمَ نَقُوْلُ لِجَهَنَّمَ هَلِ امْتَلَاْتِ …:} یعنی یہ سب کچھ اس دن واقع ہو گا جب ہم جہنم سے کہیں گے کیا تو بھر گئی۔ اس کی سب سے صحیح تفسیر وہ ہے جو انس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُلْقٰی فِي النَّارِ وَ تَقُوْلُ هَلْ مِنْ مَّزِيْدٍ حَتّٰی يَضَعَ قَدَمَهُ فَتَقُوْلُ قَطْ قَطْ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ قٓ، باب قولہ: «‏‏‏‏وتقول ھل من مزید» : ۴۸۴۸ ] ”جہنم میں لوگ ڈالے جائیں گے اور وہ یہی کہتی رہے گی، کیا کچھ اور بھی ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھ دے گا تو وہ کہہ اٹھے گی، بس بس۔“ بعض لوگوں کے کہنے کے مطابق جہنم یہ بات زبان حال سے کہے گی، مگر اس تاویل کی ضرورت وہاں ہوتی ہے جہاں حقیقت ممکن نہ ہو اور یہاں تو ہر چیز کو اللہ تعالیٰ نے زبان دے رکھی ہے جس کی بولی اگر ہم نہیں سمجھتے تو پیدا کرنے والا خوب سمجھتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ» [ بني إسرائیل: ۴۴ ] ”اور کوئی بھی چیز نہیں مگر اس کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتی ہے اور لیکن تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے۔“ اور فرمایا: «وَ قَالُوْا لِجُلُوْدِهِمْ لِمَ شَهِدْتُّمْ عَلَيْنَا١ؕ قَالُوْۤا اَنْطَقَنَا اللّٰهُ الَّذِيْۤ اَنْطَقَ كُلَّ شَيْءٍ» ‏‏‏‏ [ حٰمٓ السجدۃ: ۲۱ ] ”اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا۔“
وَ اُزۡلِفَتِ الۡجَنَّۃُ لِلۡمُتَّقِیۡنَ غَیۡرَ بَعِیۡدٍ ﴿۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جنت پرہیزگاروں کے لئے بالکل قریب کر دی جائے گی ذرا بھی دور نہ ہوگی
احمد رضا خان بریلوی
اور پاس لائی جائے گی جنت پرہیزگاروں کے کہ ان سے دور نہ ہوگی
علامہ محمد حسین نجفی
اور جنت پرہیزگاروں کے قریب کر دی جائے گی اور دور نہیں ہوگی۔
عبدالسلام بن محمد
اور جنت پر ہیز گاروں کے لیے قریب کر دی جائے گی، جو کچھ دور نہ ہوگی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
31۔ 1 اور بعض نے کہا ہے کہ قیامت جس روز جنت قریب کردی جائے گے دور نہیں ہے کیونکہ وہ لامحالہ واقع ہو کر رہے گی اور کل ما ہوات فھو قریب اور جو بھی آنے والی چیز ہے وہ قریب ہی ہے دور نہیں (ابن کثیر)
(آیت 31) {وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَ غَيْرَ بَعِيْدٍ:} قرآن کے عام اُسلوب کے مطابق جہنمیوں کے ساتھ اہلِ جنت کا ذکر بھی فرمایا۔ یعنی متقی لوگوں کی تکریم کے لیے جنت ان کے قریب لائی جائے گی، تاکہ انھیں چلنے کی تکلیف نہ اٹھانا پڑے۔ {” غَيْرَ بَعِيْدٍ “} کا لفظ تاکید کے لیے ہے، جیسے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهٗ وَ مَا هَدٰى» ‏‏‏‏ [ طٰہٰ: ۷۹ ] ”اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ کیا اور سیدھے راستے پر نہ ڈالا۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی دعا میں فرمایا: [ نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَيْرَ آجِلٍ ] [ أبو داوٗد، صلاۃ الاستسقاء، باب رفع الیدین في الاستسقاء: ۱۱۶۹ ] ”(اے اللہ! وہ بارش) نفع آور ہو، کسی ضرر کا باعث نہ بنے اور جلدی آئے، دیر نہ کرے۔“
ہٰذَا مَا تُوۡعَدُوۡنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیۡظٍ ﴿ۚ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ارشاد ہوگا "یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ ہے جس کا تم سے وعده کیا جاتا تھا ہر اس شخص کے لئے جو رجوع کرنے واﻻ اور پابندی کرنے واﻻ ہو
احمد رضا خان بریلوی
یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو ہر رجوع لانے والے نگہداشت والے کے لیے
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (جنت) وہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا (تم میں سے) ہر اس شخص کے لئے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا (اور حدودِ الٰہی) کی بڑی حفاظت کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع والا، خوب حفاظت کرنے والا ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
32۔ 1 یعنی اہل ایمان جب جنت کا اور اس کی نعمتوں کا قریب سے مشاہدہ کریں گے تو کہا جائے گا کہ یہی وہ جنت ہے جس کا وعدہ ہر اواب اور حفیظ سے کیا گیا تھا اواب، بہت رجوع کرنے والا یعنی اللہ کی (طرف کثرت سے توبہ استغفار اور تسبیح و ذکر الٰہی کرنے والا خلوت میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے ان سے توبہ کرنے والا، یا اللہ کے حقوق اور اس کی نعمتوں کو یاد رکھنے والا یا اللہ کے اوامر نواہی کو یاد رکھنے والا گیا تھا۔ فتح القدیر
(آیت 32) {هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِكُلِّ اَوَّابٍ حَفِيْظٍ:” اَوَّابٍ”آبَ يَؤُوْبُ أَوْبًا“} (ن) سے مبالغے کا صیغہ ہے، بہت رجوع کرنے والا، جو ہر معاملے میں اللہ کی طرف بہت رجوع کرے اور کوئی قدم اپنی خواہش کی بنا پر نہ اٹھائے، اسی طرح ہر لغزش کے بعد اللہ کی طرف رجوع کرکے توبہ و استغفار کرے۔ {” حَفِيْظٍ “} جو اللہ کے احکامات کی خوب حفاظت اور پابندی کرنے والا ہو۔ یعنی جنتیوں سے کہا جائے گا کہ یہ ہے وہ جنت جس کا تم سے ہر ایسے شخص کے لیے وعدہ کیا جاتا تھا جو اللہ کی طرف بہت رجوع کرنے والا، اس کے احکام کی خوب پابندی کرنے والا ہو۔
مَنۡ خَشِیَ الرَّحۡمٰنَ بِالۡغَیۡبِ وَ جَآءَ بِقَلۡبٍ مُّنِیۡبِۣ ﴿ۙ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو بے دیکھے رحمٰن سے ڈرتا تھا، اور جو دل گرویدہ لیے ہوئے آیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو رحمٰن کا غائبانہ خوف رکھتا ہو اور توجہ واﻻ دل ﻻیا ہو
احمد رضا خان بریلوی
جو رحمن سے بے دیکھے ڈرتا ہے اور رجوع کرتا ہوا دل لایا
علامہ محمد حسین نجفی
جو بِن دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرتا ہے اور ایسے دل کے ساتھایا ہے جو (خدا کی طرف) رجوع کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جو رحمان سے بغیر دیکھے ڈر گیا اور رجوع کرنے والا دل لے کر آیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
33۔ 1 مُنِیْبِ، اللہ کی طرف رجوع کرنے والا اور اس کا اطاعت گزار دل۔ یا بمعی سلیم، شرک و مصیت کی نجاستوں سے پاک دل۔
(آیت 33) ➊ { مَنْ خَشِيَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَيْبِ:} یعنی رحمان کو دیکھے بغیر اس سے ڈرتا ہے اور اس وقت بھی ڈرتا ہے جب وہ لوگوں سے غائب ہوتا ہے، کوئی اس کے پاس نہیں ہوتا۔ یہاں ایک سوال ہے کہ خشیت کے ساتھ لفظ ”رحمان“ لانے میں کیا حکمت ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رحمان کا لفظ لانے میں اس شخص کی تعریف مقصود ہے کہ وہ اللہ کی رحمت اور اس کے معاف کر دینے کی صفت کا علم رکھنے کے باوجود اس سے ڈرتا ہے۔ (زمخشری) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِيْ ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلاَّ ظِلُّهُ ] ”سات آدمی ہیں جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں جگہ دے گا جب اس کے سائے کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔“ ان میں سے پانچویں کے بارے میں فرمایا: [ وَ رَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ مَنْصِبٍ وَجَمَالٍ فَقَالَ إِنِّيْ أَخَافُ اللّٰهَ ] ”اور وہ آدمی ہے جسے اونچے حسب اور جمال والی عورت نے دعوت دی تو اس نے کہا میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔“ اور آخر میں فرمایا: [ وَ رَجُلٌ ذَكَرَ اللّٰهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ ] [ بخاري، الزکاۃ، باب الصدقۃ بالیمین: ۱۴۲۳ ] ”اور ایک وہ آدمی جس نے اکیلے ہونے کی حالت میں اللہ کو یاد کیا تو اس کی آنکھیں بہ پڑیں۔“ ➋ { وَ جَآءَ بِقَلْبٍ مُّنِيْبٍ:} یعنی اس کے دل کا رجوع اللہ ہی کی طرف رہتا ہے۔
ادۡخُلُوۡہَا بِسَلٰمٍ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُلُوۡدِ ﴿۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
داخل ہو جاؤ جنت میں سلامتی کے ساتھ" وہ دن حیات ابدی کا دن ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
تم اس جنت میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ۔ یہ ہمیشہ رہنے کا دن ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان سے فرمایا جائے گا جنت میں جاؤ سلامتی کے ساتھ یہ ہمیشگی کا دن ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تم اس(جنت) میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ یہ (حیاتِ) ابدی کا دن ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس میں سلامتی کے ساتھ داخل ہو جاؤ، یہی ہمیشہ رہنے کا دن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34){ ادْخُلُوْهَا بِسَلٰمٍ …:} یعنی ان کی عزت افزائی کے لیے کہا جائے گا کہ سلام کے ساتھ اس میں داخل ہو جاؤ۔ سلام کا مطلب یہ ہے کہ ہر قسم کے خوف، غم اور فکر سے سلامت رہ کر اس میں داخل ہو جاؤ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اس میں اس حال میں داخل ہو جاؤ کہ تم پر فرشتوں اور پروردگار کی طرف سے سلام ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِيْمٍ» [ یٰسٓ: ۵۸ ] ”سلام ہو۔ اس رب کی طرف سے کہا جائے گا جو بے حد مہربان ہے۔ “ اب تم ہمیشہ یہاں رہو گے، کبھی اس سے نکالے نہیں جاؤ گے۔
لَہُمۡ مَّا یَشَآءُوۡنَ فِیۡہَا وَلَدَیۡنَا مَزِیۡدٌ ﴿۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ ان کے لیے ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ وہاں جو چاہیں انھیں ملے گا (بلکہ) ہمارے پاس اور بھی زیاده ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے لیے ہے اس میں جو چاہیں اور ہمارے پاس اس سے بھی زیادہ ہے
علامہ محمد حسین نجفی
وہاں ان کیلئے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے اور ہمارے پاس تو (ان کے لئے) اور بھی زیادہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے لیے جو کچھ وہ چاہیں گے اس میں ہو گا اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
متکبر اور متجبر کا ٹھکانہ ٭٭

چونکہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا جہنم سے وعدہ ہے کہ اسے پر کر دے گا اس لیے قیامت کے دن جو جنات اور انسان اس کے قابل ہوں گے انہیں اس میں ڈال دیا جائے گا اور اللہ تبارک وتعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ اب تو تو پر ہو گئی؟ اور یہ کہے گی کہ اگر کچھ اور گنہگار باقی ہوں تو انہیں بھی مجھ میں ڈال دو۔ صحیح بخاری شریف میں اس آیت کی تفسیر میں یہ حدیث ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جہنم میں گنہگار ڈالے جائیں گے اور وہ زیادتی طلب کرتی رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس پر رکھے گا پس وہ کہے گی بس بس“ }۔ [صحیح بخاری:4848] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ { اس وقت یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی تیری عزت و کرم کی قسم، بس بس اور جنت میں جگہ بچ جائے گی یہاں تک کہ ایک نئی مخلوق پیدا کر کے اللہ تعالیٰ اس جگہ کو آباد کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2848] ‏‏‏‏ صحیح بخاری میں ہے { جنت اور دوزخ میں ایک مرتبہ گفتگو ہوئی، جہنم نے کہا کہ میں ہر متکبر اور ہر متجبر کے لیے مقرر کی گئی ہوں اور جنت نے کہا میرا یہ حال ہے کہ مجھ میں کمزور لوگ اور وہ لوگ جو دنیا میں ذی عزت نہ سمجھے جاتے تھے وہ داخل ہوں گے۔ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا تو میری رحمت ہے، اپنے بندوں میں سے جسے چاہوں گا اس رحمت کے ساتھ نواز دوں گا اور جہنم سے فرمایا تو میرا عذاب ہے تیرے ساتھ میں جسے چاہوں گا عذاب کروں گا۔ ہاں تم دونوں بالکل بھر جاؤ گی، تو جہنم تو نہ بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھے گا، اب وہ کہے گی بس بس بس۔ اس وقت وہ بھر جائے گی اور اس کے سب جوڑ آپس میں سمٹ جائیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ ہاں جنت میں جو جگہ بچ رہے گی اس کے بھرنے کے لیے اللہ عزوجل اور مخلوق پیدا کرے گا۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4850] ‏‏‏‏ مسند احمد کی حدیث میں جہنم کا قول یہ ہے کہ { مجھ میں جبر کرنے والے، تکبر کرنے والا بادشاہ اور شریف لوگ داخل ہوں گے اور جنت نے کہا مجھ میں کمزور ضعیف فقیر مسکین داخل ہوں گے۔ } ۱؎ [مسند احمد:13/3:صحیح] ‏‏‏‏

مسند ابو یعلیٰ میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ مجھے اپنی ذات قیامت کے دن دکھائے گا، میں سجدے میں گر پڑوں گا، اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہو گا، پھر میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریفیں کروں گا کہ وہ اس سے خوش ہو جائے گا، پھر مجھے شفاعت کی اجازت دی جائے گی، پھر میری امت جہنم کے اوپر کے پل سے گزرنے لگے گی، بعض تو نگاہ کی سی تیزی سے گزر جائیں گے بعض تیر کی طرح پار ہو جائیں گے، بعض تیز گھوڑوں سے زیادہ تیزی سے پار ہو جائیں گے یہاں تک کہ ایک شخص گھٹنوں چلتا ہوا گزر جائے گا اور یہ مطابق اعمال ہو گا اور جہنم زیادتی طلب کر رہی ہو گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس میں اپنا قدم رکھے گا پس یہ سمٹ جائے گی اور کہے گی بس بس اور میں حوض میں ہوں گا۔‏‏‏‏“ لوگوں نے کہا: حوض کیا ہے؟ فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید شہد سے زیادہ میٹھا ہے اور برف سے زیادہ ٹھنڈا ہے اور مشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ اس پر برتن آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں جسے اس کا پانی مل گیا وہ کبھی پیاسا نہ ہو گا اور جو اس سے محروم رہ گیا اسے کہیں سے پانی نہیں ملے گا جو سیراب کر سکے۔ } ۱؎ [ذکرہ ابن حجر فی المطالب العالیہ:383/4:ضعیف و موضوع] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں کوئی مکان ہے کہ مجھ میں زیادتی کی جائے؟ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ کہے گی کیا مجھ میں ایک کے بھی آنے کی جگہ ہے؟ میں بھر گئی۔

مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس میں جہنمی ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ وہ کہے گی میں بھر گئی اور کہے گی کہ کیا مجھ میں زیادہ کی گنجائش ہے؟ امام ابن جریر رحمہ اللہ پہلے قول کو ہی اختیار کرتے ہیں اس دوسرے قول کا مطلب یہ ہے کہ گویا ان بزرگوں کے نزدیک یہ سوال اس کے بعد ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اپنا قدم اس میں رکھ دے، اب جو اس سے پوچھے گا کہ کیا تو بھر گئی تو وہ جواب دے گی کہ کیا مجھ میں کہیں بھی کوئی جگہ باقی رہی ہے جس میں کوئی آ سکے؟ یعنی باقی نہیں رہی پر ہو گئی۔ عوفی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا یہ اس وقت ہو گا جبکہ اس میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی جگہ باقی نہ رہے گی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

پھر فرماتا ہے جنت قریب کی جائے گی یعنی قیامت کے دن جو دور نہیں ہے اس لیے کہ جس کا آنا یقینی ہو وہ دور نہیں سمجھا جاتا۔ «اواب» کے معنی رجوع کرنے والا، توبہ کرنے والا، گناہوں سے رک جانے والا۔ «حفیظ» کے معنی وعدوں کا پابند۔ عبید بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں «اواب حفیظ» وہ ہے جو کسی مجلس میں بیٹھ کر نہ اٹھے جب تک کہ استغفار نہ کر لے۔ جو رحمان سے بن دیکھے ڈرتا رہے یعنی تنہائی میں بھی خوف اللہ رکھے۔ حدیث میں ہے { وہ بھی قیامت کے دن عرش اللہ کا سایہ پائے گا جو تنہائی میں اللہ کو یاد کرے اور اس کی آنکھیں بہہ نکلیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:660] ‏‏‏‏ اور قیامت کے دن اللہ کے پاس دل سلامت لے کر جائے۔ جو اس کی جانب جھکنے والا ہو۔ اس میں یعنی جنت میں چلے جاؤ اللہ کے تمام عذابوں سے تمہیں سلامتی مل گئی اور یہ بھی مطلب ہے کہ فرشتے ان پر سلام کریں گے یہ «خلود» کا دن ہے۔ یعنی جنت میں ہمیشہ کے لیے جا رہے ہو جہاں کبھی موت نہیں۔ یہاں سے کبھی نکال دئیے جانے کا خطرہ نہیں جہاں سے تبدیلی اور ہیر پھیر نہیں۔ پھر فرمایا یہ وہاں جو چاہیں گے پائیں گے بلکہ اور زیادہ بھی۔ کثیر بن مرہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں مزید یہ بھی کہ اہل جنت کے پاس سے ایک بادل گزرے گا جس میں سے ندا آئے گی کہ تم کیا چاہتے ہو؟ جو تم چاہو میں برساؤں، پس یہ جس چیز کی خواہش کریں گے اس سے برسے گی۔

کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر میں اس مرتبہ پر پہنچا اور مجھ سے سوال ہوا تو میں کہوں گا کہ خوبصورت خوش لباس نوجوان کنواریاں برسائی جائیں۔ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمہارا جی جس پرند کو کھانے کو چاہے گا وہ اسی وقت بھنا بھنایا موجود ہو جائے گا“ }۔ مسند احمد میں ہے کہ { اگر جنتی اولاد چاہے گا تو ایک ہی ساعت میں حمل اور بچہ اور بچے کی جوانی ہو جائے گی }۔ امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن غریب بتلاتے ہیں اور ترمذی میں یہ بھی ہے کہ جس طرح یہ چاہے گا ہو جائے گا۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2562،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ اور آیت میں ہے «لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ» ۱؎ [10-يونس:26] ‏‏‏‏ صہیب بن سنان رومی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس زیادتی سے مراد اللہ کریم کے چہرے کی زیارت ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ہر جمعہ کے دن انہیں دیدار باری تعالیٰ ہو گا یہی مطلب مزید کا ہے۔ مسند شافعی میں ہے { جبرائیل علیہ السلام ایک سفید آئینہ لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے جس کے بیچوں بیچ ایک نکتہ تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: یہ جمہ کا دن ہے جو خاص آپ کو اور آپ کی امت کو بطور فضیلت کے عطا فرمایا گیا ہے۔ سب لوگ اس میں آپ کے پیچھے ہیں یہود بھی اور نصاریٰ بھی آپ کے لیے اس میں بہت کچھ خیر و برکت ہے اس میں ایک ایسی ساعت ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ سے جو مانگا جائے گا مل جاتا ہے ہمارے یہاں اس کا نام «یوم المزید» ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ فرمایا: تیرے رب نے جنت الفردوس میں ایک کشادہ میدان بنایا ہے جس میں مشکی ٹیلے ہیں، جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ جن جن فرشتوں کو چاہے اتارتا ہے، اس کے اردگرد نوری منبر ہوتے ہیں جن پر انبیاء علیہم السلام رونق افروز ہوتے ہیں، یہ منبر سونے کے ہیں، جس پر جڑاؤ جڑے ہوئے ہیں شہداء اور صدیق لوگ ان کے پیچھے ان مشکی ٹیلوں پر ہوں گے۔ اللہ عزوجل فرمائے گا میں نے اپنا وعدہ تم سے سچا کیا اب مجھ سے جو چاہو مانگو پاؤ گے۔ یہ سب کہیں گے ہمیں تیری خوشی اور رضا مندی مطلوب ہے، اللہ فرمائے گا یہ تو میں تمہیں دے چکا میں تم سے راضی ہو گیا، اس کے سوا بھی تم جو چاہو گے، پاؤ گے اور میرے پاس اور زیادہ ہے۔ پس یہ لوگ جمعہ کے خواہشمند رہیں گے کیونکہ انہیں بہت سی نعمتیں اسی دن ملتی ہیں یہی دن ہے جس دن تمہارا رب عرش پر مستوی ہوا اسی دن آدم پیدا کئے گئے اور اسی دن قیامت آئے گی۔ } ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:229/7:ضعیف] ‏‏‏‏ اسی طرح اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے کتاب الام کی کتاب الجمعہ میں بھی وارد کیا ہے امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس آیت کی تفسیر کے موقعہ پر ایک بہت بڑا اثر وارد کیا ہے جس میں بہت سی باتیں غریب ہیں۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جنتی ستر سال تک ایک ہی طرف متوجہ بیٹھا رہے گا پھر ایک حور آئے گی جو اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کرے گی وہ اتنی خوبصورت ہو گی کہ اس کے رخسار میں اسے اپنی شکل اس طرح نظر آئے گی جیسے آب دار آئینے میں وہ جو زیورات پہنے ہوئے ہو گی ان میں کا ایک ایک ادنیٰ موتی ایسا ہو گا کہ اس کی جوت سے ساری دنیا منور ہو جائے، وہ سلام کرے گی یہ جواب دے کر پوچھے گا تم کون ہو؟ وہ کہے گی میں ہوں جسے قرآن میں «مزید» کہا گیا تھا۔ اس پر ستر حلے ہوں گے تاہم اس کی خوبصورتی اور چمک دمک اور صفائی کی وجہ سے باہر ہی سے اس کی پنڈلی کا گودا تک نظر آئے گا اس کے سر پر جڑاؤ تاج ہو گا جس کا ادنیٰ موتی مشرق مغرب کو روشن کر دینے کے لیے کافی ہے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:75/3:ضعیف] ‏‏‏‏
35۔ 1 اس سے مراد رب تعالیٰ کا دیدار ہے جو اہل جنت کو نصیب ہوگا۔ (لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ) 10۔ یونس:26)۔
(آیت 35) ➊ {لَهُمْ مَّا يَشَآءُوْنَ فِيْهَا:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حم السجدہ (۳۱) اور سورئہ زخرف (۷۱)۔ ➋ { وَ لَدَيْنَا مَزِيْدٌ:} یعنی جو کچھ وہ چاہیں گے وہ بھی ملے گا اور ہمارے پاس مزید بھی بہت کچھ ہے، جس میں وہ چیزیں ہیں جن کا خیال تک کسی کو نہیں آیا۔ (دیکھیے سجدہ: ۱۷) اور سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دیدار بھی۔ دیکھیے سورۂ یونس (۲۶)۔
وَ کَمۡ اَہۡلَکۡنَا قَبۡلَہُمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ ہُمۡ اَشَدُّ مِنۡہُمۡ بَطۡشًا فَنَقَّبُوۡا فِی الۡبِلَادِ ؕ ہَلۡ مِنۡ مَّحِیۡصٍ ﴿۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے بہت زیادہ طاقتور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو انہوں نے چھان مارا تھا پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پا سکے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور ان سے پہلے بھی ہم بہت سی امتوں کو ہلاک کر چکے ہیں جو ان سے طاقت میں بہت زیاده تھیں وه شہروں میں ڈھونڈھتے ہی ره گئے، کہ کوئی بھاگنے کا ٹھکانہ ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور ان سے پہلے ہم نے کتنی سنگتیں (قومیں) ہلاک فرمادیں کہ گرفت میں ان سے سخت تھیں تو شہروں میں کاوشیں کیں ہے کہیں بھاگنے کی جگہ
علامہ محمد حسین نجفی
اور ہم (کفارِ مکہ) سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو قوت و طاقت میں ان سے زیادہ طاقتور تھیں وہ (مختلف) شہروں میں گھو متے پھرتے تھے تو ان کو کوئی جائے پناہ ملی؟
عبدالسلام بن محمد
اور ہم نے ان سے پہلے کتنی ہی نسلیں ہلاک کر دیں، جو پکڑنے میں ان سے زیادہ سخت تھیں۔ پس انھوں نے شہروں کو چھان مارا، کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏‏‏‏ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ ’ یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے ‘ اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:27] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ ‘ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

مسند احمد میں ہے ہم { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ }۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» ۱؎ [20-طه:130] ‏‏‏‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:554] ‏‏‏‏ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ یعنی ’ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے ‘، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» ، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ» ، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:841] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:49] ‏‏‏‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ } ۱؎ [50-ق:40] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1198] ‏‏‏‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
36۔ 1 (فَنقبُوْفِی الْبِلَادِ) (شہروں میں چلے پھرے) کا ایک مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ وہ اہل مکہ سے زیادہ تجارت و کاروبار کے لئے مختلف شہروں میں پھرتے تھے۔ لیکن ہمارا عذاب آیا تو انہیں کہیں پناہ اور راہ فرار نہ ملی۔
(آیت 36) ➊ {وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ …:” فَنَقَّبُوْا “} نقب کا معنی سوراخ ہے۔ {”نَقَبَ (ن) فِي الْأَرْضِ“} زمین میں گھوما پھرا۔ {”نَقَّبَ تَنْقِيْبًا“} (تفعیل) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، خوب گھوما پھرا۔ نقب (سوراخ) کی مناسبت سے {” فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ “} کا ترجمہ کیا گیا ہے: ”پس انھوں نے شہروں کو چھان مارا۔“ اس سے پہلے کفار کو آخرت میں دیے جانے والے عذاب کا ذکر فرمایا، درمیان میں ایمان والوں کے حسن انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب کفار کو دنیا میں دیے جانے والے ہولناک عذابوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود کفار کو ڈرانا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو تسلی دلانا ہے کہ وہ کفار کی شان و شوکت سے مرعوب نہ ہوں۔ ➋ یعنی ہم نے ان کفار سے پہلے بہت سی نسلیں ہلاک کر دیں جو گرفت میں ان سے بہت سخت اور ان سے زیادہ قوت والی تھیں، جیسا کہ قومِ نوح، عاد، ثمود اور قومِ فرعون وغیرہ۔ تو ان کے مقابلے میں ان بے چاروں کی کیا بساط ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ روم (۹)۔ ➌ {فَنَقَّبُوْا فِي الْبِلَادِ:} یعنی وہ اہلِ مکہ سے تجارت اور کاروبار میں بھی بہت آگے تھے، چنانچہ انھوں نے اس مقصد کے لیے دنیا کے شہروں کو چھان مارا تھا۔ بعض اہلِ علم نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ اپنے ملک ہی پر قوت و گرفت نہیں رکھتے تھے بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی جاگھسے تھے۔ ➍ {هَلْ مِنْ مَّحِيْصٍ:مَحِيْصٍ”حَاصَ يَحِيْصُ حَيْصًا“} سے ظرف ہے، بھاگنے کی جگہ۔ یعنی جب ان پر عذاب آیا تو وہ اس سے بھاگنے کی جگہ ڈھونڈتے پھرے کہ کیا بھاگنے کی کوئی جگہ ہے، مگر انھیں کہیں جائے پناہ نہ ملی۔
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَذِکۡرٰی لِمَنۡ کَانَ لَہٗ قَلۡبٌ اَوۡ اَلۡقَی السَّمۡعَ وَ ہُوَ شَہِیۡدٌ ﴿۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو، یا جو توجہ سے بات کو سنے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس میں ہر صاحب دل کے لئے عبرت ہے اور اس کے لئے جو دل سے متوجہ ہو کر کان لگائے اور وه حاضر ہو
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس میں نصیحت ہے اس کے لیے جو دِل رکھتا ہو یا کان لگائے اور متوجہ ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اس میں بڑی عبرت و نصیحت ہے اس کے لئے جس کے پاس دل ہویا حضورِ قلب سے کان لگائے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ اس میں اس شخص کے لیے یقینا نصیحت ہے جس کا کوئی دل ہو، یا کان لگائے، اس حال میں کہ وہ (دل سے) حاضر ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏‏‏‏ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ ’ یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے ‘ اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:27] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ ‘ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

مسند احمد میں ہے ہم { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ }۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» ۱؎ [20-طه:130] ‏‏‏‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:554] ‏‏‏‏ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ یعنی ’ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے ‘، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» ، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ» ، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:841] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:49] ‏‏‏‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ } ۱؎ [50-ق:40] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1198] ‏‏‏‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
37۔ 1 یعنی دل بیدار، جو غور و فکر کر کے حقائق کا ادراک کرلے۔ 37۔ 2 یعنی توجہ سے وہ وحی الٰہی سنے جس میں گزشتہ امتوں کے واقعات بیان کئے گئے ہیں۔ 37۔ 3 یعنی قلب اور دماغ کے لحاظ سے حاضر ہو۔ اس لئے کہ جو بات ہی کو نہ سمجھے، وہ موجود ہوتے ہوئے بھی ایسے ہے جیسے نہیں۔
(آیت 37){ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَذِكْرٰى لِمَنْ كَانَ لَهٗ قَلْبٌ …:” قَلْبٌ “} نکرہ ہے، اس لیے ترجمہ ”کوئی دل“ کیا گیا ہے۔ نصیحت حاصل کرنے کے دو ہی ذریعے ہیں، یا تو آدمی خود غور و فکر کرے اور عقل سے کام لے یا کسی خیر خواہ کی بات توجہ سے سن کر اس پر عمل کر لے۔ یعنی اس سورت میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے اس سے نصیحت وہی حاصل کر سکتا ہے جو کوئی دل رکھتا ہو جس کے ساتھ اس پر غور و فکر کرے۔ ”کوئی دل“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ دل کے ساتھ معمولی سا غور و فکر بھی کرے، یا دل کی حاضری کے ساتھ ان آیات کو سن لے۔ مگر کفار کا حال یہ ہے: «لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا يَفْقَهُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اَعْيُنٌ لَّا يُبْصِرُوْنَ بِهَا وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا يَسْمَعُوْنَ بِهَا» [ الأعراف: ۱۷۹ ] ”ان کے دل ہیں جن کے ساتھ وہ سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے نہیں۔“ اور قیامت کے دن وہ خود تسلیم کریں گے: «‏‏‏‏لَوْ كُنَّا نَسْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِيْۤ اَصْحٰبِ السَّعِيْرِ» [ الملک: ۱۰ ] ”اگر ہم سنتے ہوتے یا سمجھتے ہوتے تو ہم بھڑکتی ہوئی آگ والوں میں سے نہ ہوتے۔ “
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ٭ۖ وَّ مَا مَسَّنَا مِنۡ لُّغُوۡبٍ ﴿۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کر دیا اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ اس کے درمیان ہے سب کو (صرف) چھ دن میں پیدا کر دیا اور ہمیں تکان نے چھوا تک نہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور بیشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ دن میں بنایا، اور تکان ہمارے پاس نہ آئی
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے کو چھ دن میں پیدا کیا ہے اور ہم کو تھکان نے چھوا تک نہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور بلاشبہ یقینا ہم نے آسمانوں اور زمین کواور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے نہیں چھوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏‏‏‏ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ ’ یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے ‘ اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:27] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ ‘ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

مسند احمد میں ہے ہم { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ }۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» ۱؎ [20-طه:130] ‏‏‏‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:554] ‏‏‏‏ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ یعنی ’ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے ‘، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» ، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ» ، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:841] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:49] ‏‏‏‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ } ۱؎ [50-ق:40] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1198] ‏‏‏‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38) ➊ {وَ لَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَيْنَهُمَا فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ …:} قیامت کی دلیل کے طور پر آسمان و زمین کے پیدا کرنے کا دوبارہ ذکر فرمایا کہ بلاشبہ یقینا ہم نے یہ سارے آسمان اور زمین چھ دن میں پیدا کیے اور ہمیں کسی قسم کی تھکاوٹ نے چھوا تک نہیں، تو ہم انسان کو دوبارہ کیوں زندہ نہیں کر سکتے؟ یہی بات پہلے فرمائی تھی: «‏‏‏‏اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ» ‏‏‏‏ [ قٓ: ۱۵ ] ”تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟“ دوبارہ اس لیے ذکر فرمائی کہ بار بار دہرانے سے بات ذہن میں بیٹھ جاتی ہے۔ ➋ {وَ مَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ:} اس میں یہود و نصاریٰ کا ردّ بھی ہے جنھوں نے اللہ تعالیٰ پر بہتان باندھا کہ اس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا اور ساتویں دن آرام کیا۔ کتاب مقدس میں تورات کے سفر التکوین (۲:۲) کے الفاظ ہیں: {”فَاسْتَرَاحَ فِي الْيَوْمِ السَّابِعِ“} یعنی ”ساتویں دن میں آرام کیا۔“
فَاصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ سَبِّحۡ بِحَمۡدِ رَبِّکَ قَبۡلَ طُلُوۡعِ الشَّمۡسِ وَ قَبۡلَ الۡغُرُوۡبِ ﴿ۚ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پس اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو، طلوع آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس یہ جو کچھ کہتے ہیں آپ اس پر صبر کریں اور اپنے رب کی تسبیح تعریف کے ساتھ بیان کریں سورج نکلنے سے پہلے بھی اور سورج غروب ہونے سے پہلے بھی
احمد رضا خان بریلوی
تو ان کی باتوں پر صبر کرو اور اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو سورج چمکنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ لوگ جو کچھ کہتے ہیں اس پر صبر کیجئے اور سورج کے طلوع و غروب سے پہلے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ تسبیح کیجئے۔
عبدالسلام بن محمد
سو اس پر صبر کر جو وہ کہتے ہیں اور سورج طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏‏‏‏ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ ’ یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے ‘ اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:27] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ ‘ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

مسند احمد میں ہے ہم { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ }۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» ۱؎ [20-طه:130] ‏‏‏‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:554] ‏‏‏‏ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ یعنی ’ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے ‘، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» ، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ» ، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:841] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:49] ‏‏‏‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ } ۱؎ [50-ق:40] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1198] ‏‏‏‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
39۔ 1 یعنی صبح وشام اللہ کی تسبیح بیان کرو یا عصر اور فجر کی نماز پڑھنے کی تاکید ہے۔
(آیت 40،39) ➊ {فَاصْبِرْ عَلٰى مَا يَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ طہٰ (۱۳۰) کی تفسیر۔ ➋ {وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ:} صحیح بخاری میں ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ أَمَرَهُ أَنْ يُسَبِّحَ فِيْ أَدْبَارِ الصَّلَوَاتِ كُلِّهَا يَعْنِيْ قَوْلَهُ: «وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ» ‏‏‏‏ ] [ بخاري، التفسیر، باب قولہ: «‏‏‏‏و سبح بحمد ربک…» : ۴۸۵۲ ] {” وَ اَدْبَارَ السُّجُوْدِ “} کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ آپ تمام نمازوں کے بعد تسبیح پڑھا کریں۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس(۳۳) دفعہ سبحان اللہ، تینتیس(۳۳) دفعہ الحمد للہ اور تینتیس (۳۳) دفعہ اللہ اکبر کہے تو یہ ننانوے(۹۹) ہو گئے اور سو (۱۰۰) پورا کرنے کے لیے کہے: [ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيْكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلٰی كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ] تو اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، خواہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔“ [ مسلم، المساجد، باب استحباب الذکر بعد الصلاۃ…: ۵۹۷ ]
وَ مِنَ الَّیۡلِ فَسَبِّحۡہُ وَ اَدۡبَارَ السُّجُوۡدِ ﴿۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور رات کے وقت پھر اُس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور رات کے وقت بھی تسبیح کریں اور نماز کے بعد بھی
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ رات گئے اس کی تسبیح کرو اور نمازوں کے بعد
علامہ محمد حسین نجفی
اور رات کے کچھ حصے میں اس کی تسبیح کیجئے اور (نمازوں کا) سجدہ کرنے کے بعد بھی۔
عبدالسلام بن محمد
اور رات کے کچھ حصے میں پھر اس کی تسبیح کر اور سجدے کے بعد کے اوقات میں بھی ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بےسود کوشش ٭٭

ارشاد ہوتا ہے کہ یہ کفار تو کیا چیز ہیں؟ ان سے بہت زیادہ قوت و طاقت اور اسباب تعداد کے لوگوں کو اسی جرم پر ہم تہ و بالا کر چکے ہیں جنہوں نے شہروں میں اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں، زمین میں خوب فساد کیا، لمبے لمبے سفر کرتے تھے، ہمارے عذاب دیکھ کر بچنے کی جگہ تلاش کرنے لگے، مگر یہ کوشش بالکل بےسود تھی، اللہ کی قضاء و قدر اور اس کی پکڑ دھکڑ سے کون بچ سکتا تھا؟ پس تم بھی یاد رکھو کہ جس وقت میرا عذاب آ گیا، بغلیں جھانکتے رہ جاؤ گے اور بھوسی کی طرح اڑا دئیے جاؤ گے۔ ہر عقلمند کے لیے اس میں کافی عبرت ہے اگر کوئی ایسا بھی ہو جو سمجھ داری کے ساتھ کان لگائے وہ بھی اس میں بہت کچھ پا سکتا ہے، یعنی دل کو حاضر کر کے کانوں سے سنے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:433/11] ‏‏‏‏ پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس نے آسمانوں کو اور زمین کو اور اس کے درمیان کی چیزوں کو چھ روز میں پیدا کیا اور وہ تھکا نہیں، اس میں بھی موت کے بعد کی زندگی پر اللہ کے قادر ہونے کا ثبوت ہے کہ جو ایسی بڑی مخلوق کو اولاً پیدا کر چکا ہے اس پر مردوں کو جلانا کیا بھاری ہے؟ قتادۃ رحمہ اللہ کا فرمان ہے کہ ملعون یہود کہتے تھے کہ چھ دن میں مخلوق کو رچا کر خالق نے ساتوں روز آرام کیا اور یہ دن ہفتہ کا تھا اس کا نام ہی انہوں نے «یوم الراحت» رکھ چھوڑا تھا۔

پس اللہ تعالیٰ نے ان کے اس واہی خیال کی تردید کی کہ ہمیں تھکن ہی نہ تھی آرام کیسا؟ جیسے اور آیت میں ہے «أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّـهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقَادِرٍ عَلَى أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَى بَلَى إِنَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ ’ یعنی کیا انہوں نے نہیں دیکھا؟ کہ اللہ وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا وہ مردوں کے جلانے پر قادر نہیں؟ ہاں کیوں نہیں وہ تو ہر چیز پر قادر ہے ‘ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ ’ البتہ آسمان و زمین کی پیدائش لوگوں کی پیدائش سے بہت بڑی ہے ‘ اور آیت میں ہے «ءَاَنْتُمْ اَشَدُّ خَلْقًا اَمِ السَّمَاءُ بَنٰىهَا» ۱؎ [79-النازعات:27] ‏‏‏‏ ’ کیا تمہاری پیدائش زیادہ مشکل ہے یا آسمان کی، اسے اللہ نے بنایا ہے۔ ‘ پھر فرمان ہوتا ہے کہ یہ جھٹلانے اور انکار کرنے والے جو کہتے ہیں اسے صبر سے سنتے رہو اور انہیں مہلت دو ان کو چھوڑ دو اور سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے اور رات کو اللہ کی پاکی اور تعریف کیا کرو۔ معراج سے پہلے صبح اور عصر کی نماز فرض تھی اور اس کے بعد آپ کی امت سے اس کا وجوب منسوخ ہو گیا اس کے بعد معراج والی رات پانچ نمازیں فرض ہوئیں جن میں فجر اور عصر کی نمازیں جوں کی توں رہیں۔ پس سورج نکلنے سے پہلے اور ڈوبنے سے پہلے مراد فجر کی اور عصر کی نماز ہے۔

مسند احمد میں ہے ہم { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے چودہویں رات کے چاند کو دیکھا اور فرمایا: ”تم اپنے رب کے سامنے پیش کئے جاؤ گے اور اسے اس طرح دیکھو گے جیسے اس چاند کو دیکھ رہے، وہ جس کے دیکھنے میں کوئی دھکا پیلی نہیں، پس اگر تم سے ہو سکے تو خبردار سورج نکلنے سے پہلے کی اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نمازوں سے غافل نہ ہو جایا کرو“ }۔ پھر آپ نے آیت «وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ غُرُوبِهَا وَمِنْ آنَاءِ اللَّيْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضَى» ۱؎ [20-طه:130] ‏‏‏‏ پڑھی یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:554] ‏‏‏‏ رات کو بھی اس کی تسبیح بیان کر یعنی نماز پڑھ جیسے فرمایا «وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَّكَ عَسَى أَن يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» ۱؎ [17-الإسراء:79] ‏‏‏‏ یعنی ’ رات کو تہجد کی نماز پڑھا کر یہ زیادتی خاص تیرے لیے ہی ہے، تجھے تیرا رب مقام محمود میں کھڑا کرنے والا ہے ‘، سجدوں کے پیچھے سے بقول سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نماز کے بعد اللہ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ بخاری و مسلم میں ابوہریرہ سے مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مفلس مہاجر آئے اور کہا یا رسول اللہ! مالدار لوگ بلند درجے اور ہمیشہ والی نعمتیں حاصل کر چکے آپ نے فرمایا: ”یہ کیسے؟“، جواب دیا کہ ہماری طرح نماز روزہ بھی تو وہ بھی کرتے ہیں لیکن وہ صدقہ دیتے ہیں جو ہم نہیں دے سکتے وہ غلام آزاد کرتے ہیں جو ہم نہیں کر سکتے آپ نے فرمایا: ”آؤ تمہیں ایک ایسا عمل بتلاؤں کہ جب تم اسے کرو تو سب سے آگے نکل جاؤ اور تم سے افضل کوئی نہ نکلے لیکن جو اس عمل کو کرے۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ «سبحان اللہ» ، تینتیس مرتبہ «الحمداللہ» ، تینتیس مرتبہ «اللہ اکبر» پڑھ لیا کرو“، پھر وہ آئے اور کہا یا رسول اللہ! ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی آپ کی اس حدیث کو سنا اور وہ بھی اس عمل کو کرنے لگے۔ آپ نے فرمایا: ”پھر یہ تو اللہ کا فضل ہے جسے چاہے دے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:841] ‏‏‏‏ دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے مراد مغرب کے بعد کی دو رکعت ہیں۔ سیدنا عمر، سیدنا علی، سیدنا حسن بن علی، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہم کا یہی فرمان ہے اور یہی قول ہے مجاہد عکرمہ شعبی نخعی قتادہ رحمہ اللہ علیہم وغیرہ کا۔ مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر فرض نماز کے بعد دو رکعت پڑھا کرتے تھے بجز فجر اور عصر کی نماز کے، عبدالرحمٰن رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہر نماز کے پیچھے۔ [مسند احمد:124/1:ضعیف] ‏‏‏‏

ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گزاری آپ نے فجر کے فرضوں سے پہلے دو ہلکی رکعت ادا کیں، پھر گھر سے نماز کیلئے نکلے اور فرمایا: ”اے ابن عباس! فجر کے پہلے کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاِدْبَار النُّجُوْمِ» ۱؎ [52-الطور:49] ‏‏‏‏ ہیں اور مغرب کے بعد کی دو رکعت «وَمِنَ الَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَاَدْبَار السُّجُوْدِ» ہیں۔ } ۱؎ [50-ق:40] ‏‏‏‏ ۱؎ [سنن ترمذي:3275،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ اسی رات کا ذکر ہے جس رات سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے تہجد کی نماز کی تیرہ رکعت آپ کی اقتداء میں ادا کی تھیں اور اس رات آپ کی خالہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کی باری تھی۔ لیکن اوپر جو بیان ہوا یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور امام ترمذی رحمہ اللہ اسے غریب بتلاتے ہیں ہاں اصل حدیث تہجد کی تو بخاری و مسلم میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:1198] ‏‏‏‏ ممکن ہے کہ پچھلا کلام سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا اپنا ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
40۔ 1 یعنی رات کے کچھ حصے میں بھی اللہ کی تسبیح کریں یا رات کی نماز (تہجد) پڑھیں جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ' رات کو اٹھ کر نماز پڑھیں جو آپ کے لئے مزید ثواب کا باعث ہے۔ 40۔ 2 یعنی اللہ کی تسبیح کریں بعض نے اس سے تسبیحات مراد لی ہے، جن کے پڑھنے کی تاکید نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرض نمازوں کے بعد فرمائی ہے مثلاً 33 مرتبہ سُبْحَان اللہ 33 مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلّٰلہ اور 34 مرتبہ اللّٰہ اَکْبَرْ وغیرہ
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ اسۡتَمِعۡ یَوۡمَ یُنَادِ الۡمُنَادِ مِنۡ مَّکَانٍ قَرِیۡبٍ ﴿ۙ۴۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور سنو، جس دن منادی کرنے والا (ہر شخص کے) قریب ہی سے پکارے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سن رکھیں کہ جس دن ایک پکارنے واﻻ قریب ہی کی جگہ سے پکارے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور کان لگا کر سنو جس دن پکارنے والا پکارے گا ایک پاس جگہ سے
علامہ محمد حسین نجفی
اور غور سے سنو اس دن کا حال جب ایک منادی بہت قریب سے ندا دے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور کان لگا کر سن جس دن پکارنے والا ایک قریب جگہ سے پکارے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔ فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ‏‏‏‏ ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘ اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ‏‏‏‏ ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔ اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ‏‏‏‏ ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘ اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏‏‏‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
41۔ 1 یعنی قیامت کے جو احوال وحی کے ذریعے سے بیان کئے جا رہے ہیں، انہیں توجہ سے سنیں۔ 41۔ 2 یہ پکارنے والا اسرافیل فرشتہ ہوگا یا جبرائیل اور یہ ندا وہ ہوگی جس سے لوگ میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ یعنی نفخہ ثانیہ۔ 41۔ 3 اس سے بعض نے صخرہ بیت المقدس مراد لیا ہے، کہتے ہیں یہ آسمان کے قریب ترین جگہ ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شخص یہ آوازیں اس طرح سنے گا جیسے اس کے قریب سے ہی آواز آرہی ہے (فتح القدیر)
(آیت 41) ➊ {وَ اسْتَمِعْ …:} پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے کفار کی بے ہودہ گوئی پر صبر اور اپنی تسبیح و تحمید کا حکم دیا، اس آیت میں آپ کی تسلی کے لیے قیامت کے دن کا ذکر فرمایا کہ تھوڑا صبر کریں ان کی جزا کے لیے قیامت کا دن آیا ہی چاہتا ہے۔ ابن عطیہ نے {” اسْتَمِعْ “} کا معنی {” اِنْتَظِرْ “} کیا ہے، یعنی صبر کے ساتھ اس دن کا انتظار کریں…۔ اگر اس کا لفظی معنی ”کان لگا کر سن“ کیا جائے تو اس سے مراد بھی آپ کو تسلی دینا ہے کہ قیامت اتنی قریب ہے گویا اس میں پکارنے والے کی منادی کی آواز آپ کے کانوں میں آ رہی ہے۔ زمخشری نے فرمایا: {” وَ اسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ “} کا مطلب یہ ہے کہ کان لگا کر سن قیامت کے دن کا حال جو میں تمھیں بتانے لگا ہوں۔“ ➋ { يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ:} اس سے مراد صور میں دوسری دفعہ پھونکے جانے کا وقت ہے، جب فرشتہ صور میں پھونک مار کر سب لوگوں کو قبروں سے نکل کر محشر میں جمع ہو جانے کے لیے آواز دے گا۔ دیکھیے سورۂ قمر (۶ تا ۸)۔ ➌ { مِنْ مَّكَانٍ قَرِيْبٍ:} یعنی قبروں میں پڑے ہوئے ہر شخص کو وہ آواز بالکل قریب سے آتی ہوئی سنائی دے گی۔ موجودہ سائنسی ایجادات سے یہ بات سمجھنا بہت آسان ہو گیا ہے۔
یَّوۡمَ یَسۡمَعُوۡنَ الصَّیۡحَۃَ بِالۡحَقِّ ؕ ذٰلِکَ یَوۡمُ الۡخُرُوۡجِ ﴿۴۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سن رہے ہوں گے، وہ زمین سے مُردوں کے نکلنے کا دن ہو گا
مولانا محمد جوناگڑھی
جس روز اس تند وتیز چیﺦ کو یقین کے ساتھ سن لیں گے، یہ دن ہوگا نکلنے کا
احمد رضا خان بریلوی
جس دن چنگھاڑ سنیں گے حق کے ساتھ، یہ دن ہے قبروں سے باہر آنے کا،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن سب لوگ ایک زوردار آواز کو بالیقین سنیں گے وہی دن (قبروں سے) نکلنے کا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ چیخ کو حق کے ساتھ سنیں گے، یہ نکلنے کا دن ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔ فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ‏‏‏‏ ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘ اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ‏‏‏‏ ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔ اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ‏‏‏‏ ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘ اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏‏‏‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
42۔ 1 یعنی یہ چیخ یعنی نفخہ قیامت یقینا ہوگا جس میں یہ دنیا میں شک کرتے تھے۔ اور یہی دن قبروں سے زندہ ہو کر نکلنے کا ہوگا۔
(آیت 42){ يَّوْمَ يَسْمَعُوْنَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ …:} یعنی تمام لوگ وہ ہولناک آواز سنیں گے۔ {” بِالْحَقِّ “} کا مطلب یہ ہے کہ یہ بات مجازاً نہیں کہی جا رہی بلکہ وہ اس ہولناک چیخ کو حقیقتاً، فی الواقع اور یقینا سنیں گے۔ یہ بات اتنی تاکید کے ساتھ اس لیے فرمائی کہ کفار اس کا انکار کرتے تھے اور اسے ناممکن قرار دیتے تھے۔
اِنَّا نَحۡنُ نُحۡیٖ وَ نُمِیۡتُ وَ اِلَیۡنَا الۡمَصِیۡرُ ﴿ۙ۴۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہماری طرف ہی اُس دن سب کو پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم ہی جلاتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ پھر کر آنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک ہم جِلائیں اور ہم ماریں اور ہماری طرف پھرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً ہم ہی جِلاتے ہیں ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف سب کی بازگشت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی مارتے ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔ فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ‏‏‏‏ ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘ اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ‏‏‏‏ ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔ اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ‏‏‏‏ ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘ اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏‏‏‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
43۔ 1 یعنی دنیا میں موت سے ہمکنار کرنا اور آخرت میں زندہ کردینا، یہ ہمارا ہی کام ہے، اس میں کوئی ہمارا شریک نہیں ہے۔ 43۔ 2 وہاں ہم ہر شخص کو اس کے عملوں کے مطابق جزا دیں گے۔
(آیت 43){ اِنَّا نَحْنُ نُحْيٖ وَ نُمِيْتُ …:} یعنی دنیا میں مسلسل زندگی اور موت کا سلسلہ صرف ہمارے ہاتھ میں ہے، کسی اور کا اس میں کوئی دخل نہیں۔ چنانچہ ہم بے شمار لوگوں کو زندگی بخشتے ہیں اور موت دے دیتے ہیں، پھر اور لوگوں کو زندگی عطا کرتے ہیں اور موت بھی دیتے ہیں۔ اسی طرح لاتعداد مخلوقات پیدا ہوتی اور مرتی چلی جا رہی ہیں اور آخر کار ان سب کو ہماری طرف ہی واپس آنا ہے۔
یَوۡمَ تَشَقَّقُ الۡاَرۡضُ عَنۡہُمۡ سِرَاعًا ؕ ذٰلِکَ حَشۡرٌ عَلَیۡنَا یَسِیۡرٌ ﴿۴۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کر تیز تیز بھاگے جا رہے ہوں گے یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن زمین پھٹ جائے گی اور یہ دوڑتے ہوئے (نکل پڑیں گے) یہ جمع کر لینا ہم پر بہت ہی آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن زمین ان سے پھٹے گی تو جلدی کرتے ہوئے نکلیں گے یہ حشر ہے ہم کو آسان،
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن زمین ان پر پھٹ جائے گی اور وہ تیز تیز برآمد ہوں گے یہ حشر (جمع کرنا) ہمارے لئے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن زمین ان سے پھٹے گی، اس حال میں کہ وہ تیز دوڑنے والے ہوں گے، یہ ایسا اکٹھا کرنا ہے جو ہمارے لیے نہایت آسان ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔ فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ‏‏‏‏ ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘ اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ‏‏‏‏ ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔ اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ‏‏‏‏ ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘ اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏‏‏‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
44۔ 1 یعنی اس آواز دینے والے کی طرف دوڑیں گے، جس نے آواز دی ہوگی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب زمین پھٹے گی تو سب سے پہلے زندہ ہو کر نکلنے والا میں ہوں گا۔ انا اول من تشق عنہ الارض۔
(آیت 44) ➊ {يَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا:سِرَاعًا”سَرِيْعٌ“} کی جمع ہے۔ {” يَوْمَ “ ” وَ اِلَيْنَا الْمَصِيْرُ “} کا ظرف ہے، یعنی ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے اس دن جب زمین ان سے پھٹے گی اور وہ اس سے نکل کر تیزی سے دوڑتے ہوئے نکلیں گے۔ ➋ { ذٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيْرٌ:} یہ کفار کی اس بات کا جواب ہے کہ جب ہم مر کر مٹی ہو چکے تو کیا اس وقت ہمیں زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے گا؟ یہ تو عقل سے بعید اور ناممکن ہے۔ فرمایا یہ حشر یعنی سب اگلے پچھلے انسانوں کو ایک آواز کے ساتھ اکٹھا کر لینا ہمارے لیے بالکل آسان ہے۔
نَحۡنُ اَعۡلَمُ بِمَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ مَاۤ اَنۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِجَبَّارٍ ۟ فَذَکِّرۡ بِالۡقُرۡاٰنِ مَنۡ یَّخَافُ وَعِیۡدِ ﴿٪۴۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، جو باتیں یہ لوگ بنا رہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے بس تم اِس قرآن کے ذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کر دو جو میری تنبیہ سے ڈرے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہم بخوبی جانتے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں، تو آپ قرآن کے ذریعے انہیں سمجھاتے رہیں جو میرے وعید (ڈرانے کے وعدوں) سے ڈرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہم خوب جان رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں اور کچھ تم ان پر جبر کرنے والے نہیں تو قرآن سے نصیحت کرو اسے جو میری دھمکی سے ڈرے،
علامہ محمد حسین نجفی
جو کچھ لوگ کہتے ہیں ہم خوب جانتے ہیں اور آپ(ص) ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ(ص) قرآن کے ذریعہ سے اسے نصیحت کریں جو میری تہدید سے ڈرے۔
عبدالسلام بن محمد
ہم اسے زیادہ جاننے والے ہیں جو یہ کہتے ہیں اور توان پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں، سو قرآن کے ساتھ اس شخص کو نصیحت کر جو میرے عذاب کے وعدے سے ڈرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہم سب قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے ٭٭

سیدنا کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ ایک فرشتے کو حکم دے گا کہ بیت المقدس کے پتھر پر کھڑا ہو کر یہ آواز لگائے کہ اے سڑی گلی ہڈیوں اور اے جسم کے متفرق اجزاؤ، اللہ تمہیں جمع ہو جانے کا حکم دیتا ہے تاکہ تمہارے درمیان فیصلہ کر دے، پس مراد اس سے صور ہے، یہ حق اس شک و شبہ اور اختلاف کو مٹا دے گا جو اس سے پہلے تھا یہ قبروں سے نکل کھڑے ہونے کا دن ہو گا، ابتداء پیدا کرنا پھر لوٹانا اور تمام خلائق کو ایک جگہ لوٹانا یہ ہمارے ہی بس کی بات ہے۔ اس وقت ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ ہم دیں گے تمام بھلائی برائی کا عوض ہر ہر شخص کو پا لے گا زمین پھٹ جائے گی اور سب جلدی جلدی اٹھ کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برسائے گا، جس سے مخلوقات کے بدن اگنے لگیں گے جس طرح کیچڑ میں پڑا ہوا دانہ بارش سے اگ جاتا ہے۔ جب جسم کی پوری نشوونما ہو جائے گی تو اللہ تعالیٰ اسرافیل کو صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ تمام روحیں صور کے سوراخ میں ہوں گی، ان کے صور پھونکتے ہی روحیں آسمان کے درمیان پھرنے لگ جائیں گی، اس وقت اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے عزت و جلال کی قسم ہر روح اپنے اپنے جسم میں چلی جائے جسے اس نے دنیا میں آباد رکھا تھا۔ پس ہر روح اپنے اپنے اصلی جسم میں جا ملے گی اور جس طرح زہریلے جانور کا اثر چوپائے کے رگ و ریشہ میں بہت جلد پہنچ جاتا ہے اس طرح اس جسم کے رگ و ریشے میں فوراً روح دوڑ جائے گی اور «مُّهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَـٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ» ۱؎ [54-القمر:8] ‏‏‏‏ ساری مخلوق اللہ کے فرمان کے ماتحت دوڑتی ہوئی جلد از جلد میدان محشر میں حاضر ہو جائے گی یہ وقت ہو گا جو کافروں پر بہت ہی سخت ہو گا۔ فرمان باری ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:52] ‏‏‏‏ یعنی ’ جس دن وہ تمہیں پکارے گا تم اس کی تعریفیں کرتے ہوئے جواب دو گے اور سمجھتے ہو گے کہ تم بہت ہی کم ٹھہرے ‘۔

صحیح مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے پہلے میری قبر کی زمین شق ہو گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2278-3] ‏‏‏‏ فرماتا ہے کہ یہ دوبارہ کھڑا کرنا ہم پر بہت ہی سہل اور بالکل آسان ہے جیسے اللہ جل جلالہ نے فرمایا «وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ» ۱؎ [54-القمر:50] ‏‏‏‏ ’ یعنی ہمارا حکم اس طرح یکبارگی ہو جائے گا جیسے آنکھ کا جھپکنا ‘۔ اور آیت میں ہے «مَا خَلْقُكُمْ وَلَا بَعْثُكُمْ اِلَّا كَنَفْسٍ وَّاحِدَةٍ اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ بَصِيْرٌ» ۱؎ [31-لقمان:28] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم سب کا پیدا کرنا اور پھر مارنے کے بعد زندہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے اللہ تعالیٰ ایک شخص کو سننے دیکھنے والا ہے۔ ‘ پھر جناب باری کا ارشاد ہوتا ہے کہ اے نبی! یہ جو کچھ کہہ رہے ہیں ہمارے علم سے باہر نہیں تو اسے اہمیت نہ دے ہم خود نپٹ لیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ» * «فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُن مِّنَ السَّاجِدِينَ» * «وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ» ۱؎ [15-الحجر:99-97] ‏‏‏‏ ’ واقعی ہمیں معلوم ہے کہ یہ لوگ جو باتیں بناتے ہیں، اس سے آپ تنگ دل ہوتے ہیں، سو اس کا علاج یہ ہے کہ آپ اپنے پروردگار کی پاکی اور تعریف کرتے رہئیے اور نمازوں میں رہئیے اور موت آ جانے تک اپنے رب کی عبادت میں لگے رہئیے۔ ‘ پھر فرماتا ہے تو انہیں ہدایت پر جبرًا نہیں لا سکتا، نہ ہم نے تجھے اس کا مکلف بنایا ہے۔ یہ بھی معنی ہیں کہ ان پر جبر نہ کرو، لیکن پہلا قول اولیٰ ہے کیونکہ الفاظ میں یہ نہیں کہ تم ان پر جبر نہ کرو بلکہ یہ ہے کہ تم ان پر جبار نہیں ہو یعنی آپ مبلغ ہیں تبلیغ کر کے اپنے فریضے سے سبکدوش ہو جائیے۔ جبر معنی میں اجبر کے بھی آتا ہے۔ آپ نصیحت کرتے رہیے جس کے دل میں خوف اللہ ہے جو اس کے عذابوں سے ڈرتا ہے اور اس کی رحمتوں کا امیدوار ہے وہ ضرور اس تبلیغ سے نفع اٹھائے گا اور راہ راست پر آ جائے گا جیسے فرمایا ہے «وَاِنْ مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِيْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ یعنی تجھ پر صرف پہنچا دینا ہے حساب تو ہمارے ذمے ہے ‘ اور آیت میں ہے «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22-21] ‏‏‏‏ ’ تو نصیحت کرنے والا ہے کچھ ان پر داروغہ نہیں ‘۔ اور جگہ ہے «لَّيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَـكِنَّ اللَّهَ يَهْدِى مَن يَشَآءُ» ۱؎ [2-البقرة:272] ‏‏‏‏ ’ تمہارے ذمہ ان کی ہدایت نہیں بلکہ اللہ جسے چاہے ہدایت کرتا ہے ‘ اور جگہ ہے «اِنَّكَ لَا تَهْدِيْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ اَعْلَمُ بالْمُهْتَدِيْنَ» ۱؎ [28-القصص:56] ‏‏‏‏ ’ یعنی تم جسے چاہو ہدایت نہیں دے سکتے بلکہ اللہ جسے چاہے راہ راست پر لا کھڑا کرتا ہے ‘ اسی مضمون کو یہاں بھی بیان فرمایا ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ اس آیت کو سن کر یہ دعا کرتے «اللھم اجعلنا ممن یخاف وعیدک ویرجو موعدک یا بار یا رحیم» ‏‏‏‏ یعنی اے اللہ! تو ہمیں ان میں سے کر جو تیری سزاؤں کے ڈراوے سے ڈرتے ہیں اور تیری نعمتوں کے وعدے کی امید لگائے ہوئے ہیں، اے بہت زیادہ احسان کرنیوالے اور اے بہت زیادہ رحم کرنے والے۔ سورۃ ق کی تفسیر ختم ہوئی۔ «والحمدللہ وحدہ وحسبنا اللہ ونعم الوکیل»
45۔ 1 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کے مکلف نہیں ہیں کہ ایمان لانے پر مجبور کریں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام صرف تبلیغ و دعوت ہے، وہ کرتے رہیں۔ 45۔ 2 یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت ذکر سے وہی نصیحت حاصل کرے گا جو اللہ سے اور اس کی سزا کی دھمکیوں سے ڈرتا اور اس کے وعدوں پر یقین رکھتا ہوگا اسی لئے حضرت قتادہ یہ دعا فرماتے ' اے اللہ ہمیں ان لوگوں میں سے کر جو تیری وعیدوں سے ڈرتے اور تیرے وعدوں کی امید رکھتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے رحم فرمانے والے۔
(آیت 45) ➊ { نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَقُوْلُوْنَ:} یہ جملہ کفار کے لیے وعید اور دھمکی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تسلی و تشفی کا باعث ہے۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ:} یعنی آپ کا کام یہ نہیں کہ انھیں زبردستی مسلمان بنا لیں، آپ کا کام صرف پیغام پہنچانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌ (21) لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَۜيْطِرٍ» [ الغاشیۃ: 22،21 ] ” تو صرف نصیحت کرنے والا ہے۔ تو ہرگز ان پر کوئی مسلط کیا ہوا نہیں ہے۔ “ ➌ {فَذَكِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ يَّخَافُ وَعِيْدِ:وَعِيْدِ “} اصل میں {”وَعِيْدِيْ“} ہے، میری وعید۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ دوسروں کو نصیحت نہ کریں، بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ کی نصیحت سے فائدہ وہی اٹھائے گا جو میری وعید سے ڈرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ» ‏‏‏‏ [ فاطر: ۱۸ ] ”تو تو صرف ان لوگوں کو ڈراتا ہے جو دیکھے بغیر اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔“