بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ق — Surah Qaf
آیت نمبر 15
کل آیات: 45
قرآن کریم ق آیت 15
آیت نمبر: 15 — سورۃ ق islamicurdubooks.com ↗
اَفَعَیِیۡنَا بِالۡخَلۡقِ الۡاَوَّلِ ؕ بَلۡ ہُمۡ فِیۡ لَبۡسٍ مِّنۡ خَلۡقٍ جَدِیۡدٍ ﴿٪۱۵﴾
کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں
کیا ہم پہلی بار کے پیدا کرنے سے تھک گئے؟ بلکہ یہ لوگ نئی پیدائش کی طرف سے شک میں ہیں
تو کیا ہم پہلی بار بناکر تھک گئے بلکہ وہ نئے بننے سے شبہ میں ہیں،
کیا ہم پہلی بار کی پیدائش سے تھک گئے ہیں؟ (ایسا نہیں ہے) بلکہ یہ لوگ ازسرِنو پیدائش کے بارے میں شبہ میں مبتلا ہیں۔
تو کیا ہم پہلی دفعہ پیدا کرنے کے ساتھ تھک کر رہ گئے ہیں؟ بلکہ وہ ایک نئے پیدا کیے جانے کے متعلق شک میں مبتلا ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

شامت اعمال ٭٭

اللہ تعالیٰ اہل مکہ کو ان عذابوں سے ڈرا رہا ہے جو ان جیسے جھٹلانے والوں پر ان سے پہلے آچکے ہیں، جیسے کہ نوح علیہ السلام کی قوم جنہیں اللہ تعالیٰ نے پانی میں غرق کر دیا اور اصحاب «رس» جن کا پورا قصہ سورۃ الفرقان کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور ثمود اور عاد اور امت لوط جسے زمین میں دھنسا دیا اور اس زمین کو سڑا ہوا دلدل بنا دیا یہ سب کیا تھا؟ ان کے کفر، ان کی سرکشی، اور مخالفت حق کا نتیجہ تھا اصحاب ایکہ سے مراد قوم شعیب ہے (‏‏‏‏علیہ الصلوۃ والسلام) اور قوم تبع سے مراد یمانی ہیں۔ سورۃ الدخان میں ان کا واقعہ بھی گزر چکا ہے اور وہیں اس کی پوری تفسیر ہے یہاں دوہرانے کی ضرورت نہیں۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ان تمام امتوں نے اپنے رسولوں کی تکذیب کی تھی اور عذاب اللہ سے ہلاک کر دئیے گئے یہی اللہ کا اصول جاری ہے۔ یہ یاد رہے کہ ایک رسول کا جھٹلانے والا تمام رسولوں کا منکر ہے۔

جیسے اللہ عزوجل و علا کا فرمان ہے «كَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ الْمُرْسَلِيْنَ» ۱؎ [26-الشعراء:105] ‏‏‏‏ ’ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا ‘ حالانکہ ان کے پاس صرف نوح علیہ السلام ہی آئے تھے، پس دراصل یہ تھے ایسے کہ اگر ان کے پاس تمام رسول آ جاتے تو یہ سب کو جھٹلاتے، ایک کو بھی نہ مانتے، سب کی تکذیب کرتے، ایک کی بھی تصدیق نہ کرتے، ان سب پر اللہ کے عذاب کا وعدہ ان کے کرتوتوں کی وجہ سے ثابت ہو گیا اور صادق آ گیا۔ پس اہل مکہ اور دیگر مخاطب لوگوں کو بھی اس بدخصلت سے پرہیز کرنا چاہیئے کہیں ایسا نہ ہو کہ عذاب کا کوڑا ان پر بھی برس پڑے، کیا جب یہ کچھ نہ تھے ان کا بسانا ہم پر بھاری پڑا تھا؟ جو اب دوبارہ پیدا کرنے کے منکر ہو رہے ہیں، ابتداء سے تو اعادہ بہت ہی آسان ہوا کرتا ہے۔ جیسے فرمان ہے «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ وَلَهُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَهُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ یعنی ’ ابتداءً اسی نے پیدا کیا ہے اور دوبارہ بھی وہی اعادہ کرے گا اور یہ اس پر بہت آسان ہے ‘۔ سورۃ یٰسین میں فرمان الٰہی جل جلالہ گزر چکا کہ «وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِيمٌ» ۱؎ [36-يس:79-78] ‏‏‏‏ ’ یعنی اپنی پیدائش کو بھول کر ہمارے سامنے مثالیں بیان کرنے لگا اور کہنے لگا، بوسیدہ سڑی گلی ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟ ان کو تو جواب دے کہ وہ جس نے انہیں پہلی بار پیدا کیا اور تمام خلق کو جانتا ہے۔ ‘ صحیح حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے بنی آدم ایذاء دیتا ہے جب یہ کہتا ہے کہ اللہ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کر سکتا حالانکہ پہلی دفعہ پیدا کرنا دوبارہ پیدا کرنے سے کچھ آسان نہیں۔ }

📖 احسن البیان

15۔ 1 کہ قیامت والے دن دوبارہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ جب پہلی مرتبہ پیدا کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں تھا تو دوبارہ زندہ کرنا تو پہلی مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان ہے۔ جیسے دوسرے مقام پر فرمایا (وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ) 30۔ الروم:27) (وَضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّنَسِيَ خَلْقَهٗ ۭ قَالَ مَنْ يُّـحْيِ الْعِظَامَ وَهِىَ رَمِيْمٌ 78؀ قُلْ يُحْيِيْهَا الَّذِيْٓ اَنْشَاَهَآ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۭ وَهُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِـيْمُۨ 79؀ۙ) 36۔ یس:79-78) میں بھی یہ مضمون بیان کیا گیا ہے۔ اور حدیث قدسی میں ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے " ابن آدم مجھے یہ کہہ کر ایذا پہنچاتا ہے کہ اللہ مجھے ہرگز دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں ہے جس طرح اس نے پہلی مرتبہ مجھے پیدا کیا۔ حالانکہ پہلی مرتبہ پیدا کرنا دوسری مرتبہ پیدا کرنے سے زیادہ آسان نہیں ہے " یعنی اگر مشکل ہے پہلی مرتبہ پیدا کرنا نہ کہ دوسری (صحیح البخاری) 15۔ 2 یعنی یہ اللہ کی قدرت ہے کہ منکر نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہیں قیامت کے وقوع اور اس میں دوبارہ زندگی کے بارے میں ہی شک ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 15) ➊ { اَفَعَيِيْنَا بِالْخَلْقِ الْاَوَّلِ:} یہ خلاصہ اور نتیجہ ہے اس دلیل کا جس کی تفصیل سورت کے شروع سے آ رہی ہے کہ جب ہم نے اس وقت جب کچھ بھی نہیں تھا آسمان و زمین، بارش اور اوپر مذکور تمام چیزیں پیدا کر لیں اور ہمیں ان کے پیدا کرنے سے کوئی تھکاوٹ لاحق نہیں ہوئی تو کیا یہ بے چارہ انسان ضعیف البنیان ہی ایسی مخلوق ہے جسے پہلی دفعہ پیدا کرکے ہم تھک گئے ہیں اور اسے دوبارہ زندہ نہیں کر سکتے، حالانکہ ہمارا تخلیق کا عمل مسلسل جاری ہے اور دوبارہ زندگی تو پہلی دفعہ کے مقابلے میں معمولی بات ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ نے مختلف انداز سے کئی جگہ بیان فرمائی ہے، دیکھیے سورۂ روم (۲۷)، یٰس (۷۸، ۷۹)، نازعات (۲۷) اور سورۂ ق (۳۸)۔ ➋ {بَلْ هُمْ فِيْ لَبْسٍ مِّنْ خَلْقٍ جَدِيْدٍ:} یعنی یہ اس چیز کے منکر نہیں ہیں کہ ان کو پہلی بار ہم نے ہی پیدا کیا اور یہ کہ پہلی بار پیدا کرکے ہم تھک کر نہیں رہ گئے، لیکن اس کے باوجود انھیں شک ہے کہ ہم دوبارہ بھی پیدا کر سکیں گے یا نہیں، حالانکہ معمولی غور و فکر سے یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ اگر ہمیں دشواری پیش آتی تو پہلی دفعہ آتی، دوسری بار پیدا کرنے کا کام تو پہلی بار کی بہ نسبت کہیں آسان ہے۔
← پچھلی آیت (14) پوری سورۃ اگلی آیت (16) →