بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ق — Surah Qaf
آیت نمبر 9
کل آیات: 45
قرآن کریم ق آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ ق islamicurdubooks.com ↗
وَ نَزَّلۡنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَکًا فَاَنۡۢبَتۡنَا بِہٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الۡحَصِیۡدِ ۙ﴿۹﴾
اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا، پھر اس سے باغ اور فصل کے غلے
اور ہم نے آسمان سے بابرکت پانی برسایا اور اس سے باغات اور کٹنے والے کھیت کے غلے پیدا کیے
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا تو اس سے باغ اُگائے اور اناج کہ کاٹا جاتا ہے
اور ہم نے آسمان سے برکت والا پانی اتارا اور اس سے باغات اور کاٹے جانے والی کھیتی کا غلہ اگایا۔
اور ہم نے آسمان سے ایک بہت بابرکت پانی اتارا، پھر ہم نے اس کے ساتھ باغات اور کاٹی جانے والی (کھیتی) کے دانے اگائے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اللہ کے محیر العقول شاہکار ٭٭

یہ لوگ جس چیز کو ناممکن خیال کرتے تھے پروردگار عالم اس سے بھی بہت زیادہ بڑھے چڑھے ہوئے اپنی قدرت کے نمونے پیش کر رہا ہے کہ آسمان کو دیکھو اس کی بناوٹ پر غور کرو اس کے روشن ستاروں کو دیکھو اور دیکھو کہ اتنے بڑے آسمان میں ایک سوراخ، ایک چھید، ایک شگاف، ایک دراڑ نہیں۔ چنانچہ سورۃ تبارک میں فرمایا «الَّذِيْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا مَا تَرٰى فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ فَارْجِعِ الْبَصَرَ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ» ۱؎ [67-الملك:3] ‏‏‏‏، ’ اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان اوپر تلے پیدا کئے، تو اللہ کی اس صفت میں کوئی خلل نہ دیکھے گا، تو پھر نگاہ ڈال کر دیکھ لے کہیں تجھ کو کوئی خلل نظر آتا ہے؟ ‘ پھر باربار غور کر اور دیکھ تیری نگاہ نامراد اور عاجز ہو کر تیری طرف لوٹ آئے گی۔ پھر فرمایا زمین کو ہم نے پھیلا دیا اور بچھا دیا اور اس میں پہاڑ جما دئیے تاکہ ہل نہ سکے کیونکہ وہ ہر طرف سے پانی سے گھری ہوئی ہے اور اس میں ہر قسم کی کھیتیاں، پھل، سبزے اور قسم قسم کی چیزیں اگا دیں جیسے اور جگہ ہے «وَمِن كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ» ۱؎ [51-الذاريات:49] ‏‏‏‏ ’ ہر چیز کو ہم نے جوڑ جوڑ پیدا کیا تاکہ تم نصیحت و عبرت حاصل کرو۔ ‘ «بھیج» کے معنی خوشنما، خوش منظر، بارونق۔

پھر فرمایا آسمان و زمین اور ان کے علاوہ قدرت کے اور نشانات , دانائی اور بینائی کا ذریعہ ہیں ہر اس شخص کے لیے جو اللہ سے ڈرنے والا اور اللہ کی طرف رغبت کرنے والا ہو۔ پھر فرماتا ہے ہم نے نفع دینے والا پانی آسمان سے برسا کر اس سے باغات بنائے اور وہ کھیتیاں بنائیں جو کاٹی جاتی ہیں اور جن کے اناج کھلیان میں ڈالے جاتے ہیں اور اونچے اونچے کھجور کے درخت اگا دئیے جو بھرپور میوے لادتے اور لدے رہتے ہیں یہ مخلوق کی روزیاں ہیں اور اسی پانی سے ہم نے مردہ زمین کو زندہ کر دیا وہ لہلہانے لگی اور خشکی کے بعد تروتازہ ہو گئی۔ اور چٹیل سوکھے میدان سرسبز ہو گئے۔ یہ مثال ہے موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کی اور ہلاکت کے بعد آباد ہونے کی یہ نشانیاں جنہیں تم روزمرہ دیکھ رہے ہو کیا تمہاری رہبری اس امر کی طرف نہیں کرتیں؟ کہ اللہ مردوں کے جلانے پر قادر ہے چنانچہ اور آیت میں ہے «لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ» ۱؎ [40-غافر:57] ‏‏‏‏ یعنی ’ آسمان و زمین کی پیدائش انسانی پیدائش سے بہت بڑی ہے۔ ‘ اور آیت میں ہے «اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى بَلٰٓي اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [46-الأحقاف:33] ‏‏‏‏ یعنی ’ کیا وہ نہیں دیکھتے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کر دیا اور ان کی پیدائش سے نہ تھکا , کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو جلا دے؟ بیشک وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘ اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنَّكَ تَرَى الْاَرْضَ خَاشِعَةً فَاِذَآ اَنْزَلْنَا عَلَيْهَا الْمَاءَ اهْتَزَّتْ وَرَبَتْ اِنَّ الَّذِيْٓ اَحْيَاهَا لَمُحْىِ الْمَوْتٰى اِنَّهٗ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ۱؎ [41-فصلت:39] ‏‏‏‏ ’ یعنی تو دیکھتا ہے کہ زمین بالکل خشک اور بنجر ہوتی ہے، ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں، جس سے وہ لہلہانے اور پیداوار اگانے لگتی ہے، کیا یہ میری قدرت کی نشانی نہیں بتاتی؟ کہ جس ذات نے اسے زندہ کر دیا، وہ مردوں کے جلانے پر بلا شک و شبہ قادر ہے، یقینًا وہ تمام تر چیزوں پر قدرت رکھتی ہے۔ ‘

📖 احسن البیان

9۔ 1 کٹنے والے غلے سے مراد وہ کھیتیاں مراد ہیں جن سے گندم مکڑی جوار باجرہ دالیں اور چاول وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کا ذخیرہ کرلیا جاتا ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ {وَ نَزَّلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً مُّبٰرَكًا:” مَآءً مُّبٰرَكًا “} وہ پانی جس میں بہت برکت یعنی خیرِ کثیر رکھی گئی ہے۔ یہاں باب مفاعلہ مشارکت کے لیے نہیں بلکہ مبالغہ کے لیے ہے۔ جس پانی کو اللہ تعالیٰ مبارک فرمائے اس کی خیر کی کثرت کا کیا اندازہ ہو سکتا ہے۔ موت کے بعد زندگی کے اثبات کے لیے زمین و آسمان اور ان کے درمیان کی چیزوں کی پیدائش کا ذکر کرنے کے بعد اب بارش کا اور اس کی برکت سے زمین سے پیدا ہونے والی چیزوں کا ذکر فرمایا۔ مقصود اس سے بھی موت کے بعد زندگی کا اثبات ہے، چنانچہ آخر میں فرمایا: «كَذٰلِكَ الْخُرُوْجُ» ‏‏‏‏ [ قٓ: ۱۱ ] ”اسی طرح (دوبارہ زندہ ہو کر) نکلنا ہے۔“ آسمان سے پانی اتارنے کے لیے باب تفعیل {” نَزَّلْنَا “} استعمال فرمایا جس میں تدریج ہوتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بارش کے قطروں کے بجائے کروڑوں اربوں ٹن پانی دفعتاً گرا دے تو زمین پر کوئی چیز باقی ہی نہ رہے۔ ➋ {فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ جَنّٰتٍ وَّ حَبَّ الْحَصِيْدِ: ”حَصَدَ يَحْصُدُ حَصْدًا وَ حِصَادًا“} (ن) کھیتی کاٹنا۔ {” الْحَصِيْدِ “} بمعنی {”اَلْمَحْصُوْدُ“} کاٹی ہوئی کھیتی۔ بارش سے پیدا ہونے والی چیزیں دو قسم کی ہیں، کچھ وہ جن کے درخت باقی رہتے ہیں اور ان کے پھل پھول، گوند، پتوں، ٹہنیوں اور لکڑی وغیرہ سے فائدہ اٹھایا جاتا ہے اور کچھ وہ جنھیں کاٹ کر ان سے غلہ، دالیں، سبزیاں، ادویات اور بے شمار مفید چیزیں حاصل کی جاتی ہیں۔ یہاں خصوصاً پھل دار درختوں اور غلہ جات کا ذکر فرمایا، کیونکہ یہ دوسری اشیاء پر برتری رکھتے ہیں اور انسان اور اس کے پالتو جانوروں کی خوراک بنتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏مَتَاعًا لَّكُمْ وَ لِاَنْعَامِكُمْ» ‏‏‏‏ [ النازعات: ۳۳ ] ”تمھاری اور تمھارے چوپاؤں کی زندگی کے سامان کے لیے۔ “
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →