بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ق — Surah Qaf
آیت نمبر 24
کل آیات: 45
قرآن کریم ق آیت 24
آیت نمبر: 24 — سورۃ ق islamicurdubooks.com ↗
اَلۡقِیَا فِیۡ جَہَنَّمَ کُلَّ کَفَّارٍ عَنِیۡدٍ ﴿ۙ۲۴﴾
حکم دیا گیا "پھینک دو جہنم میں ہر گٹے کافر کو جو حق سے عناد رکھتا تھا
ڈال دو جہنم میں ہر کافر سرکش کو
حکم ہوگا تم دونوں جہنم میں ڈال دو ہر بڑے ناشکرے ہٹ دھرم کو،
تم دونوں جہنم میں جھونک دو ہر بڑے کافر کو جو(حق سے) عناد رکھتا تھا۔
جہنم میں پھینک دو تم دونوں (فرشتے) ہر زبردست ناشکرے کو، جو بہت عناد رکھنے والا ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہمارے اعمال کے گواہ ٭٭

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہو رہا ہے کہ جو فرشتہ ابن آدم کے اعمال پر مقرر ہے وہ اس کے اعمال کی شہادت دے گا اور کہے گا کہ یہ ہے میرے پاس تفصیل بلا کم و کاست حاضر ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ اس فرشتے کا کلام ہو گا جسے سائق کہا گیا ہے جو اس کو محشر میں لے آیا تھا۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ وہ اس فرشتے پر بھی اور گواہی دینے والے فرشتے دونوں پہ مشتمل ہے اب اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے عدل و انصاف سے کرے گا۔ «القیا» تثنیہ کا صیغہ ہے بعض نحوی کہتے ہیں کہ بعض عرب واحد کو «تثنیہ» کر دیا کرتے ہیں جیسے کہ حجاج کا مقولہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جلاد سے کہتا تھا «اضربا عنقہ» تم دونوں اس کی گردن مار دو حالانکہ جلاد ایک ہی ہوتا تھا۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اس کی شہادت میں عربی کا ایک شعر بھی پیش کیا ہے ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:422/11] ‏‏‏‏ بعض کہتے ہیں کہ دراصل یہ نون تاکید ہے جس کی تسہیل الف کی طرف کر لی ہے لیکن یہ بعید ہے اس لیے کہ ایسا تو وقف کی حالت میں ہوتا ہے بظاہر یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب اوپر والے دونوں فرشتوں سے ہو گا، لانے والے فرشتے نے اسے حساب کے لیے پیش کیا اور گواہی دینے والے نے گواہی دے دی تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو حکم دے گا کہ اسے جہنم کی آگ میں ڈال دو جو بدترین جگہ ہے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 24تا26) {اَلْقِيَا فِيْ جَهَنَّمَ كُلَّ كَفَّارٍ عَنِيْدٍ …:} اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں سے فرمائے گا کہ ہر ایسے شخص کو جہنم میں پھینک دو جو سخت ناشکرا، بہت عناد رکھنے والا، خیر کو بہت روکنے والا، حد سے گزرنے والا اور شک کرنے والا ہے، جس نے اللہ کے ساتھ اور معبود بنا رکھا تھا، سو اسے شدید عذاب میں پھینک دو۔ اس میں اسے جہنم میں پھینکنے کے فیصلے کے ساتھ اس فیصلے کی وجہ اور اس کے دلائل بھی بیان فرما دیے ہیں اور یہ بھی کہ صرف ایک کو نہیں بلکہ ان جرائم کے مرتکب تمام مجرموں کو جہنم میں پھینک دو۔
← پچھلی آیت (23) پوری سورۃ اگلی آیت (25) →