بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ ق — Surah Qaf
آیت نمبر 29
کل آیات: 45
قرآن کریم ق آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ ق islamicurdubooks.com ↗
مَا یُبَدَّلُ الۡقَوۡلُ لَدَیَّ وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿٪۲۹﴾
میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں"
میرے ہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ﻇلم کرنے واﻻ ہوں
میرے یہاں بات بدلتی نہیں اور نہ میں بندوں پر ظلم کروں،
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور نہ ہی میں بندوں پر ظلم کرنے والا ہوں۔
میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی اور میں بندوں پر ہرگز کوئی ظلم ڈھانے والا نہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر فرماتا ہے کہ ہر کافر اور ہر حق کے مخالف اور ہر حق کے نہ ادا کرنے والے اور ہر نیکی صلہ رحمی اور بھلائی سے خالی رہنے والے اور ہر حد سے گزر جانے والے خواہ وہ مال کے خرچ میں اسراف کرتا ہو، خواہ بولنے اور چلنے پھرنے میں اللہ کے احکام کی پرواہ نہ کرتا ہو اور ہر شک کرنے والے اور ہر اللہ کے ساتھ شرک کرنے والے کے لیے یہی حکم ہے کہ اسے پکڑ کر سخت عذاب میں ڈال دو۔ پہلے حدیث گزر چکی ہے کہ { جہنم قیامت کے دن لوگوں کے سامنے اپنی گردن نکالے گی اور باآواز بلند پکار کر کہے گی جسے تمام محشر کا مجمع سنے گا کہ میں تین قسم کے لوگوں پر مقرر کی گئی ہوں ہر سرکش حق کے مخالف کے لیے اور ہر مشرک کے لیے اور ہر تصویر بنانے والے کے لیے، پھر وہ ان سب سے لپٹ جائے گی۔ } مسند کی حدیث میں تیسری قسم کے لوگ وہ بتائے ہیں { جو ظالمانہ قتل کرنے والے ہوں۔} ۱؎ [مسند احمد:40/3:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر فرمایا اس کا ساتھی کہے گا، اس سے مراد شیطان ہے جو اس کے ساتھ موکل تھا یہ اس کافر کو دیکھ کر اپنی براءت کرے گا اور کہے گا کہ میں نے اسے نہیں بہکایا بلکہ یہ تو خود گمراہ تھا باطل کو از خود قبول کر لیتا تھا حق کا اپنے آپ مخالف تھا۔

جیسے دوسری آیت میں ہے کہ «وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللَّـهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلَّا أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلَا تَلُومُونِي وَلُومُوا أَنفُسَكُم مَّا أَنَا بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُم بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَا أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ۱؎ [14-إبراهيم:22] ‏‏‏‏ ’ شیطان جب دیکھے گا کہ کام ختم ہوا تو کہے گا اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں تو وعدہ خلاف ہوں ہی، میرا کوئی زور تو تم پر تھا ہی نہیں، میں نے تم سے کہا تم نے فوراً مان لیا، اب مجھے ملامت نہ کرو بلکہ اپنی جانوں کو ملامت کرو، نہ میں تمہیں کام دے سکوں گا، نہ تم میرے کام آ سکوں تم جو مجھے شریک بنا رہے تھے تو میں پہلے ہی سے ان کا انکاری تھا، ظالموں کے لیے المناک عذاب ہیں۔ ‘ پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ انسان سے اور اس کے ساتھی شیطان سے فرمائے گا کہ میرے سامنے نہ جھگڑو کیونکہ انسان کہہ رہا ہو گا کہ اللہ اس نے مجھے جبکہ میرے پاس نصیحت آ چکی گمراہ کر دیا اور شیطان کہے گا اللہ میں نے اسے گمراہ نہیں کیا، تو اللہ انہیں تو تو میں میں سے روک دے گا اور فرمائے گا، میں تو اپنی حجت ختم کر چکا رسولوں کی زبانی یہ سب باتیں تمہیں سنا چکا تھا، تمہیں کتابیں بھیج دی تھیں اور ہر ہر طریقہ سے ہر طرح سے تمہیں سمجھا بھجا دیا تھا، ہر شخص پر اتمام حجت ہو چکی اور ہر شخص اپنے گناہوں کا خود ذمہ دار ہے۔

📖 احسن البیان

29۔ 1 یعنی جو وعدے میں نے کئے تھے، ان کے خلاف نہیں ہوگا بلکہ ہر صورت میں پورے ہو نگے اور اسی اصول کے مطابق تمہارے لئے عذاب کا فیصلہ میری طرف سے ہوا ہے جس میں تبدیلی نہیں ہوسکتی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29) ➊ { مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ:} یعنی میں نے جو تمھیں جہنم میں ڈالنے کا فیصلہ کر دیا ہے وہ اب بدل نہیں سکتا۔ مزید دیکھیے سورئہ ص (۸۴، ۸۵) کی تفسیر۔ اس کی ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ میرے پاس کوئی بات کو بدل نہیں سکتا اور نہ یہاں کسی کا جھوٹ چل سکتا ہے، کیونکہ میں تمام باتیں جانتا ہوں۔ اس کے مطابق اشارہ قرین کے یہ کہنے کی طرف ہو گا: «مَاۤ اَطْغَيْتُهٗ» ‏‏‏‏ ”میں نے اسے سرکش نہیں بنایا۔“ (التسہیل) یعنی یہاں نہ مجرم کا جھوٹ چل سکتا ہے نہ اس کے قرین کا، دونوں ”کفار عنید“ ہیں اور ”کفار عنید“ جو بھی ہے اسے جہنم میں ڈالا جائے گا۔ ➋ { وَ مَاۤ اَنَا بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِيْدِ:} یعنی اگر میں نے پہلے نہ بتایا ہوتا اور تمھیں جہنم میں ڈالتا تو یہ شدید ظلم ہوتا جو میں اپنے بندوں پر کسی صورت کرنے والا نہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۱۸۲) اور سورئہ حج (۱۰)۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →