اے نبیؐ، جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں "ہم گواہی دیتے ہیں کہ آ پ یقیناً اللہ کے رسول ہیں" ہاں، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اُس کے رسول ہو، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کے گواه ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں، اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول ہیں۔ اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جب منافق تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ حضور بیشک یقیناً اللہ کے رسول ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ تم اس کے رسول ہو، اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق ضرور جھوٹے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) جب منافق لوگ آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بےشک آپ اللہ کے رسول(ص) ہیں اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اس کے رسول(ص) ہیں لیکن اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق بالکل جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جب منافق تیرے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیںہم شہادت دیتے ہیںکہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو یقینا اس کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقین کی قسمیں کھانا ٭٭
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ ’ گو یہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر دراصل دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہٰذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لیے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں ‘۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار رہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بداعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔ ضحاک رحمہ الله کی قرأت میں «أَيْمَانَهُمْ» الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لیے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آ گئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہو چکی ہے، بظاہر تو خوش رو، خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کر لیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے۔ اور جگہ ہے «أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:19] الخ، ’ تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گزرتے ہیں یہ بے ایمان ہیں، ان کے اعمال غارت ہیں، اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آ جانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بے راہی پر چل رہے ہیں؟
تیرے پاس جب منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم اس بات کے گواہ ہیں کہ بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں (1) اور اللہ جانتا ہے کہ یقیناً آپ اللہ کے رسول ہیں (2) اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعًا جھوٹے ہیں (3)
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورۂ جمعہ اور سورۂ منافقون پڑھا کرتے تھے۔ [ مسلم، الجمعۃ، باب ما یقرأ في صلاۃ الجمعۃ: ۸۷۷ ] (آیت 1) ➊ {اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ: ” الْمُنٰفِقُوْنَ “ ”اَلنَّافِقَاءُ“} سے مشتق ہے جو ”یربوع“ (چوہے سے ملتے جلتے ایک جنگلی جانور) کے بل کا ایک منہ ہوتا ہے، وہ اسے اس طرح بناتا ہے کہ اس جگہ مٹی کی صرف اتنی تہ رہنے دیتا ہے کہ سر مارے تو کھل جائے، اس منہ کو وہ چھپا کر رکھتا ہے اور دوسرا منہ ظاہر کر دیتا ہے۔ منافق بھی چونکہ اپنا کفر چھپاتا اور ایمان ظاہر کرتا ہے، اس لیے اس کا یہ نام رکھا گیا ہے۔ یہ ایک خالص اسلامی اصطلاح ہے، مراد اس سے عبداللہ بن اُبی اور اس کے ساتھی ہیں۔ ➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری سے کچھ عرصہ پہلے اوس اور خزرج کے درمیان ہونے والی جنگ بعاث میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے، ابھی وہ سوچ ہی رہے تھے کہ وہ اپنا ایک متفقہ سردار مقرر کر لیں، بلکہ طے کر چکے تھے کہ عبداللہ بن اُبی کی باقاعدہ تاج پوشی کر کے اسے اپنا سردار بنا لیں۔ اسی اثنا میں چند سعادت مند حج کے لیے مکہ گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت پر مسلمان ہوگئے۔ اگلے دو سالوں میں مزید لوگوں نے جا کر بیعت کی اور آخری بار انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ آنے کی دعوت دی۔ ان سالوں میں مدینہ کے ہر گھر میں اسلام پہنچ چکا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر اوس و خزرج کے بااثر لوگوں سمیت ان کی اکثریت مسلمان ہوگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے عبداللہ بن اُبی اور اس کے حامیوں کی سرداری کی امید ناکام ہوئی تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے شدید دشمن بن گئے۔ کچھ مدت تک تو وہ کھلم کھلا عداوت کا اظہار کرتے رہے، مگر بدر کی عظیم الشان فتح کے بعد ان کے پاس مدینہ میں رہنے کے لیے مسلمان ہونے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا تو وہ مسلمان ہوگئے، حتیٰ کہ عبداللہ بن اُبی بھی مسلمان ہوگیا، مگر ان کا اسلام صرف جان بچانے کے لیے اور وہ فوائد حاصل کرنے کے لیے تھا جو مسلمانوں کو عزت و قوت اور فتح و غنیمت کی صورت میں حاصل تھے۔ یہ لوگ نمازیں پڑھتے، روزے رکھتے، زکوٰۃ دیتے اور جہاں غنیمت کی امید ہوتی جہاد میں بھی جاتے تھے، مگر دل سے اب بھی ایمان نہیں لائے تھے بلکہ ہر موقع پر انھوں نے مسلمانوں کو دھوکا دیا اور نقصان پہنچایا۔ جنگ احد میں یہ لوگ لشکر کا تیسرا حصہ لے کر میدان جنگ سے واپس چلے گئے۔ بنو نضیر، بنو قریظہ اور خیبر والوں کو جنگ پر اور مسلمانوں کے خلاف ڈٹ جانے پر ابھارتے رہے، خندق اور دوسرے مواقع پر انھوں نے کفار کے ساتھ ساز باز رکھی اور جب موقع ملتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، مسلمانوں اور اسلام کے متعلق گستاخانہ باتیں کرتے، جیسا کہ اگلی آیات میں آ رہا ہے۔ لیکن جب ایسی باتیں سامنے آنے پر ان سے باز پرس کی جاتی تو وہ قسمیں کھا جاتے کہ ہم مسلمان ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کا رسول مانتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی گستاخیوں سے درگزر فرماتے رہے، کیونکہ یہ لوگ کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکے تھے اور مخلص مسلمانوں کے عزیز اور رشتہ دار بھی تھے۔ اگر آپ انھیں قتل کرتے تو بہت سی بدگمانیاں پیدا ہونے کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ سب کچھ برداشت کرتے رہے، حتیٰ کہ آخر کار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صبر و ضبط اور عفو و حلم کی وجہ سے ان کی حقیقت کھل کر سب کے سامنے آگئی اور وہ مخلص مسلمانوں کی نگاہ میں بالکل بے قدر و قیمت ہو کر رہ گئے، ان کا کوئی اعتبار باقی نہ رہا۔ ان کا کچھ حال سورۂ بقرہ (۸ تا ۲۰)، آل عمران، نساء، مائدہ، توبہ، احزاب اور دوسرے مقامات پر گزر چکا ہے۔ ➌ {قَالُوْا نَشْهَدُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ: ”إِنَّ“} اور ”لام تاکید“ عموماً قسم کے جواب میں آتے ہیں اور قسم جیسی تاکید کا فائدہ دیتے ہیں۔ شہادت اس بات کی خبر دینے کو کہتے ہیں جس کا دل سے یقین ہو۔ منافقین کی عادت تھی کہ وہ قسمیں کھا کر اپنی وفاداری کا یقین دلانے کی کوشش کرتے رہتے تھے، جب کہ مخلص مسلمانوں کو اس کی ضرورت ہی نہیں پڑتی تھی۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۶۲)، توبہ (96،74،62،56) اور سورۂ مجادلہ (۱۸) کی تفسیر۔ ➍ {وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ …:} یہ منافقین کا قول نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، اس لیے اگر وقف کرنا ہو تو {” اِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ “} پر کرنا چاہیے، آیت شروع کر کے {” اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ “} پر وقف سے وہم پڑھتا ہے کہ یہ دونوں جملے منافقین کا قول ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق فرمائی کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں تو یہ کیوں فرمایا کہ اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں اور منافق جھوٹے کس طرح ہوئے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ ان کا یہ کہنا جھوٹ نہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، بلکہ یہ سچ ہے اور اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اس کی تصدیق فرمائی کہ {” وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ “} یعنی اللہ جانتا ہے کہ بلاشبہ آپ یقینا اس کے رسول ہیں، منافقین کو جھوٹا اس لیے فرمایا کہ انھوں نے کہا کہ ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، حالانکہ وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتے بلکہ یہ بات صرف زبان سے کہہ رہے ہوتے ہیں، دل سے وہ آپ کو اس کا رسول نہیں مانتے۔ شہادت میں سچے وہ تب ہوتے جب وہ دل اور زبان دونوں سے آپ کی رسالت کا اقرار کرتے۔ زمخشری نے فرمایا کہ اگر درمیان میں جملہ {” وَ اللّٰهُ يَعْلَمُ اِنَّكَ لَرَسُوْلُهٗ “} نہ ہوتا تو کلام اس طرح ہونا تھا: {”إِذَا جَاءَكَ الْمُنَافِقُوْنَ قَالُوْا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُوْلُ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِيْنَ لَكَاذِبُوْنَ“} ”جب تیرے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں ہم شہادت دیتے ہیں کہ بلاشبہ تو یقینا اللہ کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ بلاشبہ یہ منافق یقینا جھوٹے ہیں“ لیکن اس سے وہم پڑ سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ انھیں اس بات میں جھوٹا کہہ رہے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں، اس لیے درمیان میں یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ یقینا اللہ کے رسول ہیں، پھر فرمایا اور اللہ تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں، یعنی ان کا یہ کہنا جھوٹ ہے کہ ہم شہادت دیتے ہیں۔
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اِس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں کیسی بری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اللہ کی راه سے رک گئے بیشک برا ہے وه کام جو یہ کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال ٹھہرالیا تو اللہ کی راہ سے روکا بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس اس طرح وہ خود اللہ کی راہ سے رکتے ہیں اور دوسروں کو روکتے ہیں بیشک بہت برا ہے وہ کام جو یہ کر رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا۔ یقینا یہ لوگ جو کچھ کرتے رہے ہیں برا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقین کی قسمیں کھانا ٭٭
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ ’ گو یہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر دراصل دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہٰذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لیے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں ‘۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار رہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بداعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔ ضحاک رحمہ الله کی قرأت میں «أَيْمَانَهُمْ» الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لیے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آ گئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہو چکی ہے، بظاہر تو خوش رو، خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کر لیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے۔ اور جگہ ہے «أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:19] الخ، ’ تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گزرتے ہیں یہ بے ایمان ہیں، ان کے اعمال غارت ہیں، اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آ جانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بے راہی پر چل رہے ہیں؟
2۔ 1 یعنی وہ قسم کھا کر کہتے ہیں کہ وہ تمہاری طرح مسلمان ہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں انہوں نے اپنی اس قسم کو ڈھال بنا رکھا ہے۔ اس کے ذریعے سے وہ تم سے بچے رہتے ہیں اور کافروں کی طرح یہ تمہاری تلواروں کی زد میں نہیں آتے۔ 2۔ 2 دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ انہوں نے شک و شبہات پیدا کرکے لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکا۔
(آیت 2){ اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ مجادلہ کی آیت (۱۶) کی تفسیر۔ {” سَبِيْلِ اللّٰهِ “} سے مراد اسلام بھی ہے اور جہاد بھی۔
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہے کہ یہ پہلے (بظاہر) ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر (گویا) مہر لگا دی گئی ہے لہذا وہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقین کی قسمیں کھانا ٭٭
اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ ’ گو یہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر دراصل دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہٰذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لیے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں ‘۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار رہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بداعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔ ضحاک رحمہ الله کی قرأت میں «أَيْمَانَهُمْ» الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لیے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آ گئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہو چکی ہے، بظاہر تو خوش رو، خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کر لیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے۔ اور جگہ ہے «أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:19] الخ، ’ تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گزرتے ہیں یہ بے ایمان ہیں، ان کے اعمال غارت ہیں، اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آ جانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بے راہی پر چل رہے ہیں؟
3۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ منافقین بھی صریح کافر ہیں۔
(آیت 3) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا:” ذٰلِكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا مومن ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانا اور اللہ کی راہ سے روکنا وغیرہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا۔ ایمان لا کر کفر تین طرح سے ہے، ایک یہ کہ وہ ظاہر میں ایمان لائے اور مسلمان ہوگئے مگر دل میں کافر ہی رہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس آئے تو ایمان کی شہادت دی، پھر کفار کے پاس گئے تو انھیں اپنے کفر کا یقین دلایا، جیسا کہ فرمایا: «وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ» [ البقرۃ: ۱۴ ] ”اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کی طرف اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بے شک ہم تمھارے ساتھ ہیں۔“ منافقین کی اکثریت ایسی ہی تھی اور ایک یہ کہ ان میں سے بعض شروع میں تو صحیح ایمان لائے، پھر دنیوی اغراض کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین میں سے جو لوگ تائب ہوئے اور ان کا اسلام خالص ہوا وہ اس گروہ سے تھے۔ ➋ {فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ:} یعنی ان کے ایمان لانے کے بعد کفر کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی تو وہ نہ دنیا اور آخرت میں نفاق کے نقصان کو سمجھتے ہیں نہ انھیں اس پر کوئی شرمندگی ہوتی ہے اور نہ ہی توبہ کی توفیق ملتی ہے۔
اِنہیں دیکھو تو اِن کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب تو انہیں دیکھے ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب آپ(ص) انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم (اور ان کے قد و قا مت) آپ(ص) کو اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں گے تو آپ(ص) ان کی بات (توجہ) سے سنیں گے (مگر وہ عقل و ایمان سے خالی ہیں) گویا (کھوکھلی) لکڑیاں ہیں جو (دیوار وغیرہ سے) ٹیک لگا دی گئی ہیں وہ ہر چیخ کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہی (اصلی) دشمن ہیں ان سے بچ کے رہو اللہ ان کو غارت کرے یہ کہاں الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کرے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
علامات منافقین ٭٭
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:293/2:ضعیف]
4۔ 1 یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔ 4۔ 2 یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔ 4۔ 3 یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم اور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ 4۔ 4 یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی یا گھبرا اٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہو رہا۔
(آیت 4) ➊ {وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ:} اکثر منافقین خوش حال، صاحب حیثیت، تیز طرار اور ہوشیار لوگ تھے، ان کی خوش حالی اور مال کی حرص ہی ان کے نفاق کا باعث تھی۔ ان کا سردار عبداللہ بن اُبی معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا اور دیکھنے میں بھی بڑا خوب صورت، لمبے قد والا اور جسیم تھا۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا: [ كَانُوْا رِجَالاً أَجْمَلَ شَيْءٍ ] [ بخاري: ۴۹۰۳ ] ”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔“ مزید تفصیل آگے آیت (۷) کی تفسیر میں دیکھیے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) عباس مدینہ میں تھے، انصار نے انھیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا مگر انھیں عبداللہ بن اُبی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص نہ ملی جو ان کے جسم پر پوری آتی ہو، چنانچہ انھوں نے وہی ان کو پہنا دی۔ [ نسائي، الجنائز، باب القمیص في الکفن: ۱۹۰۳، وقال الألباني صحیح ] اہل علم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن اُبی کی وفات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص جو پہنائی اس پر دوسری مصلحتوں کے علاوہ اس احسان کا بدلا اتارنا بھی مقصود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں {” فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ “} کے الفاظ کے ساتھ منافقین کی ناسمجھی بیان کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ اے مخاطب! جب تو انھیں دیکھے تو ڈیل ڈول اور خوبصورتی کی وجہ سے ان کے جسم تجھے بہت اچھے دکھائی دیں گے اور اگر وہ بات کریں تو ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ تو ان کی بات سنتا ہی رہ جائے۔ ان کی چرب زبانی کا ذکر سورۂ بقرہ (۲۰۴) میں بھی آیا ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے{” وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ “} میں مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا ہے، مگر بہتر ہے کہ اسے ہر مخاطب کے لیے عام رکھا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو شروع سے انھیں دیکھتے آ رہے تھے۔ ➋ ظاہر ہے کہ {” اِذَا رَاَيْتَهُمْ “} (جب تو انھیں دیکھے) سے عبداللہ بن اُبی اور اس جیسے منافق مراد ہیں، کیونکہ تمام منافق تو حسین و جمیل نہیں تھے اور نہ ہی ایسے فصیح و بلیغ تھے۔ (التسہیل) ➌ {كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ: ” خُشُبٌ “ ”خَشَبَةٌ “} کی جمع ہے، لکڑیاں۔ اس وزن کی یہ جمع بہت کم آتی ہے۔ مفسرین نے اس کی نظیر {” ثَمَرَةٌ “} کی جمع {” ثُمُرٌ “} لکھی ہے۔ {” مُسَنَّدَةٌ “} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھی ہوئی۔ یعنی جیسے لکڑیوں میں طول و عرض اور خوبصورتی کے باوجود عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ آدمی ہیں، بلکہ یوں سمجھیں کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں، گو بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حسین و جمیل اور جسیم و عریض ہونے کے باوجود ان سے کسی نفع کی امید نہیں، جس طرح کار آمد لکڑی چھت، دروازے یا کھڑکیوں میں یا کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے، مگر بے کار لکڑیوں کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ➍ { يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ:} اس میں ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچا ہے کہ جوں ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے یا شور اٹھتا ہے تو وہ اسے اپنے آپ پر پڑنے والی اُفتاد ہی سمجھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کفار کا حملہ ہو گیا ہو جس میں ہمیں لڑنا پڑے اور اس میں ہماری موت ہو۔ (دیکھیے احزاب: ۱۹) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ہمارے خبث باطن کا پتا چل گیا ہو اور ہمارے خلاف کارروائی کا حکم آگیا ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رسوا کرنے والی یا ہمارے قتل کے حکم والی کوئی آیت یا سورت اتری ہو۔ (دیکھیے توبہ: ۶۴) ➎ { هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ: ” الْعَدُوُّ “} خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ تمھارے اصل دشمن یہی ہیں، کیونکہ کھلم کھلا کفار کی عداوت ظاہر ہے جس سے بچاؤ آسان ہے، یہ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں جو مسلمان بن کر ہر وقت تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کی عداوت زیادہ خطر ناک ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اس لیے ان سے ہوشیار رہیں۔ ➏ {قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یہ بد دعا کا کلمہ ہے، اللہ انھیں ہلاک کرے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے، وہ تو جو چاہے کر سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان کے حق میں لوگوں کی زبان پر آنے والی بد دعا نقل کی گئی ہے۔ مراد ان کی مذمت ہے۔ ➐ {اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود ایمان چھوڑ کر یہ لوگ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تاکہ اللہ کا رسول تمہارے لیے مغفرت کی دعا کرے، تو سر جھٹکتے ہیں اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رکتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آؤ تمہارے لیے اللہ کے رسول استغفار کریں تو اپنے سر مٹکاتے ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ وه تکبر کرتے ہوئے رک جاتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اور جب ان سے کہا جائے کہ آؤ رسول اللہ تمہارے لیے معافی چاہیں تو اپنے سر گھماتے ہیں اور تم انہیں دیکھو کہ غور کرتے ہوئے منہ پھیر لیتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اور جب ان سے کہاجائے کہ آؤ اللہ کا پیغمبر تمہارے لئے مغفرت طلب کرے تو وہ اپنا سر پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھیں گے کہ وہ تکبر کرتے ہو ئے (آنے سے) رک جاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اور جب ان سے کہا جائے آؤ اللہ کا رسول تمھارے لیے بخشش کی دعا کرے تو وہ اپنے سر پھیر لیتے ہیں اور تو انھیں دیکھے گا کہ وہ منہ پھیر لیں گے، اس حال میں کہ وہ تکبر کرنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافقوں کی محرومی سعادت کے اسباب ٭٭
ملعون منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ ان کے گناہوں پر جب ان سے سچے مسلمان کہتے ہیں کہ آؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے استغفار کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاے گناہ معاف فرما دے گا تو یہ تکبر کے ساتھ سر ہلانے لگتے ہیں اور اعراض کرتے ہیں اور رک جاتے ہیں اور اس بات کو حقارت کے ساتھ رد کر دیتے ہیں، اس کا بدلہ یہی ہے کہ اب ان کے لیے بخشش کے دروازے بند ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا استغفار بھی انہیں کچھ نفع نہ دے گا، بھلا ان فاسقوں کی قسمت میں ہدیات کہاں؟ ‘ سورۃ براۃ میں بھی اسی مضمون کی آیت گزر چکی ہے اور وہیں اس کی تفسیر اور ساتھ ہی اس کے متعلق کی حدیثیں بھی بیان کر دی گئی ہیں۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ سفیان راوی نے اپنا منہ دائیں جانب پھیر لیا تھا اور غضب و تکبر کے ساتھ ترچھی آنکھ سے گھور کر دکھایا تھا اسی کا ذکر اس آیت میں ہے اور سلف میں سے اکثر حضرات کا فرمان ہے کہ یہ سب کا سب بیان عبداللہ بن ابی بن سلول کا ہے جیسے کہ عنقریب آ رہا ہے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
5۔ 1 یعنی استغفار سے اعراض کرتے ہوئے اپنے سروں کو موڑ لیتے ہیں۔ 5۔ 2 یعنی کہنے والے کی بات سے منہ موڑ لیں گے یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اعراض کرلیں گے۔
(آیت 5) ➊ {وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا يَسْتَغْفِرْ لَكُمْ …: ” لَوَّوْا “ ”لَوٰي يَلْوِيْ لَيًّا“} (ض) (پھیرنا) سے باب تفعیل ہے، جس سے سر پھیرنے میں مبالغہ یا اس کا تکرار مقصود ہے۔ آیت (۷) میں اس کا سبب نزول آ رہا ہے۔ ➋ {وَ رَاَيْتَهُمْ يَصُدُّوْنَ وَ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ: ”صَدَّ يَصُدُّ صَدًّا وَ صُدُوْدًا “ (ن)”صَدًّا “} (لازم) روکنا اور {” وَصُدُوْدًا “} (متعدی) اعراض کرنا، منہ پھیر لینا۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر معذرت کر لینے کی ترغیب پر تم انھیں دیکھو گے کہ وہ تکبر کرتے ہوئے منہ پھیر لیں گے۔
اے نبیؐ، تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دعا کرو یا نہ کرو، ان کے لیے یکساں ہے، اللہ ہرگز انہیں معاف نہ کرے گا، اللہ فاسق لوگوں کو ہرگز ہدایت نہیں دیتا
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے حق میں آپ کا استغفار کرنا اور نہ کرنا دونوں برابر ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہر گز نہ بخشے گا۔ بیشک اللہ تعالیٰ (ایسے) نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
ان پر ایک سا ہے تم ان کی معافی چاہو یا نہ چاہو، اللہ انہیں ہر گز نہ بخشے گا بیشک اللہ فاسقوں کو راہ نہیں دیتا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کیلئے برابر ہے کہ آپ ان کیلئے مغفرت طلب کریں یا طلب نہ کریں اللہ ہرگز ان کو نہیں بخشے گا بےشک اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا (اورانہیں منزلِ مقصود تک نہیں پہنچاتا)۔
عبدالسلام بن محمد
ان پر برابر ہے کہ تو ان کے لیے بخشش کی دعا کرے، یا ان کے لیے بخشش کی دعا نہ کرے، اللہ انھیں ہرگز معاف نہیں کرے گا، بے شک اللہ نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبداللہ بن ابی۔رئیس المنافقین ٭٭
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنی قوم کا بڑا اور شریف شخص تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتے تھے تو یہ کھڑا ہو جاتا تھا اور کہتا، تھا لوگو! یہ ہیں اللہ کے رسول جو تم میں موجود ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارا کرام کیا اور تمہیں عزت دی اب تم پر فرض ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرو اور آپ کی عزت و تکریم کرو آپ کا فرمان سنو اور جو فرمائیں بجا لاؤ یہ کہہ کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ احد کے میدان میں اس کا نفاق کھل گیا اور یہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی نافرمانی کر کے تہائی لشکر کو لے کر مدینہ کو واپس لوٹ آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے اور مدینہ میں مع الخیر تشریف لائے جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو حسب عادت یہ آج بھی کھڑا ہوا اور کہنا چاہتا ہی تھا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ادھر ادھر سے کھڑے ہو گئے اور اس کے کپڑے پکڑ کر کہنے لگے، دشمن اللہ بیٹھ جا، تو اب یہ کہنے کا منہ نہیں رکھتا، تو نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں، اب تو اس کا اہل نہیں کہ زبان سے جو جی میں آئے بک دے۔ یہ ناراض ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر نکل گیا اور کہتا جاتا تھا کہ گویا میں کسی بدیات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا میں تو اس کا کام اور مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا جو چند اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین مجھ پر اچھل کر آ گئے مجھے گھسیٹنے لگے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے گویا کہ میں کسی بڑی بات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا حالانکہ میری نیت یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تائید کروں انہوں نے کہا خیر اب تم واپس چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اللہ سے بخشش چاہیں گے اس نے کہا مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:69/3:مرسل]
قتادہ رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے واقعہ یہ تھا کہ اسی کی قوم کے ایک نوجوان مسلمان نے اس کی ایسی ہی چند بری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا تو یہ صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھا گیا، انصاریوں نے صحابی کو ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جھوٹا سمجھا اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس منافق کی جھوٹی قسموں اور اس نوجوان صحابی کی سچائی کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اب اس سے کہا گیا کہ تو چل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرا تو اس نے انکار کے لہجے میں سر ہلا دیا اور نہ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34160:مرسل]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جس منزل میں اترتے وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک نماز نہ پڑھ لیں، غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عبداللہ بن ابی کہہ رہا ہے کہ ہم عزت والے ان ذلت والوں کو مدینہ پہنچ کر نکال دیں گے پس آپ نے آخری دن میں اترنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔ اسے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنی خطا کی معافی اللہ سے طلب کر اس کا بیان اس آیت میں ہے، اس کی اسناد سعید بن جبیر تک صحیح ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے اس میں نظر ہے بلکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول تو اس غزوہ میں تھا ہی نہیں بلکہ لشکر کی ایک جماعت کو لے کر یہ تو لوٹ گیا تھا۔ کتب سیر و مغازی کے مصنفین میں تو یہ مشہور ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے چنانچہ اس قصہ میں محمد بن حییٰ بن حبان اور عبداللہ بن ابوبکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جگہ قیام تھا، وہاں جھجاہ بن سعید غفاری اور سنان بن یزید کا پانی کے ازدہام پر کچھ جھگڑا ہو گیا، جھجاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کارندے تھے، جھگڑے نے طول پکڑا سنان نے انصاریوں کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور جھجاہ نے مہاجرین کو اس وقت زید بن ارقم وغیرہ انصاری کی ایک جماعت عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا، لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اللہ کی قسم! ہماری اور ان قریشویں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کرتا کہ تجھے ہی کاٹے، اللہ کی قسم! اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بے مقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال آدھوں آدھ حصہ دیا اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آ کر مدینہ سے نکل بھاگیں گے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ تمام باتیں سنیں آپ اس وقت بہت کم عمر تھے سیدھے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کل واقعہ بیان فرمایا اس وقت آپ کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے غضبناک ہو کر فرمانے لگے یا رسول اللہ! عباد بن بشیر کو حکم فرمایئے کہ اس کی گردن الگ کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو لوگوں میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کی گردنیں مارتے ہیں یہ ٹھیک نہیں جاؤ لوگوں میں کوچ کی منادی کر دو۔“ عبداللہ بن ابی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی گفتگو کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گیا تو بہت سٹ پٹایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر معذرت اور حیلے حوالے تاویل اور تحریف کرنے لگا اور قسمیں کھا گیا کہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا، چونکہ یہ شخص اپنی قوم میں ذی عزت اور باوقعت تھا اور لوگ بھی کہنے لگے اے اللہ کے رسول! شاید اس بچے نے ہی غلطی کی ہو اسے وہم ہو گیا ہو واقعہ ثابت تو ہوتا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے جلدی ہی کوچ کے وقت سے پہلے ہی تشریف لے چلے راستے میں اسید بن نضیر رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے آپ کی شان نبوت کے قابل با ادب سلام کیا پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آج کیا بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی آپ نے کوچ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ساتھی ابن ابی نے کیا کہا، وہ کہتا ہے کہ مدینہ جا کر ہم عزیز ان ذلیلوں کو نکال دیں گے“، اسید نے کہا یا رسول اللہ! عزت والے آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے یا رسول اللہ! آپ اس کی ان باتوں کا خیال بھی نہ فرمایئے، دراصل یہ بہت جلا ہوا ہے سنئیے، اہل مدینہ نے اسے سردار بنانے پر اتفاق کر لیا تھا تاج تیار ہو رہا تھا کہ اللہ رب العزت آپ کو لایا اس کے ہاتھ سے ملک نکل گیا پس یہ چراغ پا ہو رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، دوپہر کو ہی چل دیئے تھے، شام ہوئی، رات ہوئی، صبح ہوئی یہاں تک کہ دھوپ میں تیزی آ گئی تب آپ نے پڑاؤ کیا تاکہ لوگ اس بات میں پھر نہ الجھ جائیں، چونکہ تمام لوگ تھکے ہارے اور رات کے جاگے ہوئے تھے اترتے ہی سب سو گئے ادھر یہ سورت نازل ہوئی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:4/52-53:مرسل]
بیہقی میں ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک مہاجر نے ایک انصار کو پتھر مار دیا اس پر بات بڑھ گئی اور دونوں نے اپنی اپنی جماعت سے فریاد کی اور انہیں پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کیا جاہلیت کی ہانک لگانے لگے اس فضول خراب عادت کو چھوڑو“، عبداللہ بن ابی بن سلول کہنے لگا: اب مہاجر یہ کرنے لگ گئے، اللہ کی قسم! مدینہ پہنچتے ہی ہم ذی عزت ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، اس وقت مدینہ شریف میں انصار کی تعداد مہاجرین سے بہت زیادہ تھی گو بعد میں مہاجرین بہت زیادہ ہو گئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب ابن ابی سلول کے اس قول کا علم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کرنے کی اجازت چاہی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4904] مسند احمد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { غزوہ تبوک میں میں نے جب اس منافق کا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا اور اس نے آ کر انکار کیا اور قسمیں کھا گیا اس وقت میری قوم نے مجھے بہت کچھ برا کہا اور ہر طرح ملامت کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہایت غمگین دل ہو کر وہاں سے چل دیا اور سخت رنج و غم میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرا عذر نازل فرمایا ہے اور تیری سچائی ظاہر کی ہے اور یہ آیت اتری «هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:7] “ } یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:902] مسند احمد میں ہے { زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان اس طرح ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ ایک غزوے میں تھا اور میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ دونوں باتیں سنیں میں نے اپنے چچا سے بیان کیں اور میرے چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اس نے انکار کیا اور قسمیں کھا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا اور مجھے جھوٹا جانا، میرے چچا نے بھی مجھے برا بھلا کہا، مجھے اس قدر غم اور ندامت ہوئی کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ یہ سورت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی اور مجھے یہ پڑھ سنائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4091] مسند کی اور روایت میں ہے کہ { ایک سفر کے موقعہ پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنگی پہنچی تو اس نے انہیں کچھ دینے کی ممانعت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس لیے بلوایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اس سے بھی منہ پھیر لیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/4:صحیح]
{ قرآن کریم نے انہیں ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں اس لیے کہا ہے کہ یہ لوگ اچھے جمیل جسم والے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4900] ترمذی وغیرہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ کچھ اعراب لوگ بھی تھے، پانی کی جگہ وہ پہلے پہنچنا چاہتے تھے، اسی طرح ہم بھی اسی کی کوشش میں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک اعرابی نے جا کر پانی پر قبضہ کر کے حوض پر کر لیا اور اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اوپر سے چمڑا پھیلا دیا ایک انصاری نے آ کر اس حوض میں سے اپنے اونٹ کو پانی پلانا چاہا اس نے روکا انصاری نے پلانے پر زور دیا اس نے ایک لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ یہ چونکہ عبداللہ بن ابی کا ساتھی تھا سیدھا اس کے پاس آیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا، عبداللہ بہت بگڑا اور کہنے لگا ان اعرابیوں کو کچھ نہ دو یہ خود بھوکے مرتے بھاگ جائیں گے، یہ اعرابی کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے اور کھا لیا کرتے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا لے کر ایسے وقت جاؤ جب یہ لوگ نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھا لیں گے یہ رہ جائیں گے یونہی بھوکوں مرتے بھاگ جائیں گے اور اب ہم مدینہ جا کر ان کمینوں کو نکال باہر کریں گے۔ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا اور میں نے یہ سب سنا اپنے چچا سے ذکر کیا چچا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا یہ انکار کر گیا اور حلف اٹھا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا تم نے یہ کیا حرکت کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ناراض ہو گئے اور تجھے جھوٹا جانا اور دیگر مسلمانوں نے بھی تجھے جھوٹا سمجھا مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا سخت غم و اندوہ کی حالت میں سر جھکائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرا کان پکڑا، جب میں نے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چل دیئے، اللہ کی قسم مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اگر دنیا کی ابدی زندگی مجھے مل جاتی جب بھی میں اتنا خوش نہ ہو سکتا تھا۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا؟ فرمایا تو کچھ بھی نہیں مسکراتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس پھر خوش ہو، آپ کے بعد ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہی سوال مجھ سے کیا اور میں نے یہی جواب دیا صبح کو سورۃ المنافقون نازل ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3313،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری روایت میں اس سورت کا «يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ» ۱؎ [63-المنافقون:8] تک پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:488/2:حسن] عبداللہ بن لہیعہ اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی حدیث کو مغازی میں بیان کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت میں خبر پہنچانے والے کا نام اوس بن اقرم ہے جو قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھے، ممکن ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی خبر پہنچائی ہو اور اوس رضی اللہ عنہ نے بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی سے نام میں غلطی ہو گئی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خالد رضی اللہ عنہ ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع کا ہے یہ وہ غزوہ ہے جس میں خالد رضی اللہ عنہ کو بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ بت کو تڑوایا تھا جو قفا مثلل اور سمندر کے درمیان تھا، اسی غزوہ میں دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا ایک مہاجر تھا دوسرا قبیلہ بہز کا تھا اور قبیل بہز انصاریوں کا حلیف تھا، بہزی نے انصاریوں کو اور مہاجر نے مہاجرین کو آواز دی، کچھ لوگ دونوں طرف کھڑے ہو گئے اور جھگڑا ہونے لگا، جب ختم ہوا تو منافق اور بیمار دل لوگ عبداللہ بن ابی کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے، ہمیں تو تم سے بہت کچھ امیدیں تھیں، تم ہمارے دشمنوں سے ہمارا بچاؤ تھے، اب تو بے کار ہوگئے ہو، نفع کا خیال، نہ نقصان کا، تم نے ہی ان جلالیب کو اتنا چڑھا دیا کہ بات بات پر یہ ہم پر چڑھ دوڑیں، نئے مہاجرین کو یہ لوگ جلالیب کہتے تھے۔ اس دشمن اللہ نے جواب دیا کہ اب مدینے پہنچتے ہی ان سب کو وہاں سے دیس نکالا دیں گے، مالک بن وخشن جو منافق تھا اس نے کہا: میں تو تمہیں پہلے ہی سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا چھوڑ دو خودبخود منتشر ہو جائیں گے، یہ باتیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سن لیں اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر عرض کرنے لگے کہ اس بانی فتنہ عبداللہ بن ابی کا قصہ پاک کرنے کی مجھے اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر اجازت دوں تو کیا تم اسے قتل کر ڈالو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ابھی اپنے ہاتھ سے اس کی گردن ماروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھ جاؤ۔“ اتنے میں اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی پوچھا اور انہیں نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بٹھا لیا، پھر تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وقت سے پہلے ہی لشکر نے کوچ کیا۔ وہ دن رات دوسری صبح برابر چلتے ہی رہے جب دھوپ میں تیزی آ گئی، اترنے کو فرمایا، پھر دوپہر ڈھلتے ہی جلدی سے کوچ کیا اور اسی طرح چلتے رہے تیسرے دن صبح کو قفا مثلل سے مدینہ شریف پہنچ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے پوچھا کہ کیا میں اس کے قتل کا تجھے حکم دیتا تو تو اسے مار ڈالتا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یقیناً، میں اس کا سر تن سے جدا کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے اس دن قتل کر ڈالتا تو بہت سے لوگوں کے ناک خاک آلودہ ہو جاتے۔ میں اگر انہیں کہتا تو وہ بھی اسے مار ڈالنے میں تامل نہ کرتے پھر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ ملتا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی بیدردی کے ساتھ مار ڈالتا ہے۔“ اسی واقعہ کا بیان ان آیتوں میں ہے، یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سی ایسی عمدہ باتیں ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ جو پکے سچے مسلمان تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اللہ! میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے جو بکواس کی ہے اس کے بدلے آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اگر یونہی ہے تو اس کے قتل کا حکم آپ کسی اور کو نہ کیجئے میں خود جاتا ہوں اور ابھی اس کا سر آپ کے قدموں تلے ڈالتا ہوں، قسم اللہ کی! قبیلہ خزرج کا ایک ایک شخص جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بیٹا اپنے باپ سے احسان و سلوک اور محبت و عزت کرنے والا نہیں (لیکن میں نے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے پیارے باپ کی گردن مارنے کو تیار ہوں)۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو یہ حکم دیا اور اس نے اسے مارا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں جوش انتقام میں، میں اسے نہ مار بیٹھوں اور ظاہر ہے کہ اگر یہ حرکت مجھ سے ہو گئی تو میں ایک کافر کے بدلے ایک مسلمان کو مار کر جہنمی بن جاؤں گا آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں میں اسے قتل کرنا نہیں چاہتا ہم تو اس سے اور نرمی برتیں گے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کریں گے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34179:مرسل]
مسلمان بیٹے کا منافق باپ کا راستہ روکنا ٭٭
عکرمہ اور ابن زید رحمہا اللہ کا بیان ہے کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکروں سمیت مدینے پہنچے تو اس منافق عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ مدینہ شریف کے دروازے پر کھڑے ہو گئے تلوار کھینچ لی، لوگ مدینہ میں داخل ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا باپ آیا تو یہ فرمانے لگے پرے رہو، مدینہ میں نہ جاؤ، اس نے کہا: کیا بات ہے؟ مجھے کیوں روک رہا ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مدینہ میں نہیں جا سکتا، جب تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے اجازت نہ دیں، عزت والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور تو ذلیل ہے۔ یہ رک کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لشکر کے آخری حصہ میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس مناق نے اپنے بیٹے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! جب تک آپ کی اجازت نہ ہو یہ اندر نہیں جا سکتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اب عبداللہ نے اپنے باپ کو شہر میں داخل ہونے دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34171:مرسل] مسند حمیدی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا جب تک تو اپنی زبان سے یہ نہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے اور میں ذلیل تو مدینہ میں نہیں جا سکتا اور اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں نے آج تک نگاہ اونچی کر کے ان کے چہرے کو بھی نہیں دیکھا، لیکن آپ اگر اس پر ناراض ہیں تو مجھے حکم دیجئیے ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں کسی اور کو اس کے قتل کا حکم نہ دیجئیے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو اپنی آنکھوں سے چلتا پھرتا نہ دیکھ سکوں۔ ۱؎ [مسند حمیدی:520/2]
6۔ 1 اپنے نفاق پر اصرار اور کفر پر قائم رہنے کی وجہ سے وہ ایسے مقام پر پہنچ گئے جہاں استغفار اور عدم استغفار ان کے حق میں برابر ہے۔ 6۔ 2 اگر اسی حالت میں نفاق میں مرگئے۔ ہاں اگر وہ زندگی میں کفر و نفاق سے تائب ہوجائیں تو بات اور ہے، پھر ان کی مغفرت ممکن ہے۔
(آیت 6) {سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ اَسْتَغْفَرْتَ لَهُمْ اَمْ لَمْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ …: ” اَسْتَغْفَرْتَ “} اصل میں {”ءَ اِسْتَغْفَرْتَ “} ہے، ہمزۂ تسویہ آنے کے بعد ہمزۂ وصل کی ضرورت نہ رہی، اس لیے وہ گر گیا۔ اس میں ہمزہ استفہام کا نہیں ہے، بلکہ اسے ہمزۂ تسویہ کہتے ہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۶) آیت کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ توبہ (۸۰) کی تفسیر۔ اس سے مقصود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان کے لیے معافی کی امید کو ختم کرنا ہے، کیونکہ منافقوں کی تمام شرارتوں اور بے ادبیوں کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طبعی رحمت و شفقت کی بنا پر چاہتے تھے کہ ان کے لیے معافی کی دعا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کے لیے معافی کی دعا سے منع فرما دیا، کیونکہ ان کا فسق حد سے بڑھ چکا تھا۔
یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسول کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کر دو تاکہ یہ منتشر ہو جائیں حالانکہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہی ہے، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی وه ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسول اللہ کے پاس ہیں ان پر کچھ خرچ نہ کرو یہاں تک کہ وه ادھر ادھر ہو جائیں اور آسمان وزمین کے کل خزانے اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں لیکن یہ منافق بے سمجھ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان پر خرچ نہ کرو جو رسول اللہ کے پاس ہیں یہاں تک کہ پریشان ہوجائیں، اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے خزانے مگر منافقوں کو سمجھ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
یہی وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ جو لوگ رسولِ خدا(ص) کے پاس ہیں ان پر (اپنا مال) خرچ نہ کرو تاکہ وہ منتشر ہو جائیں حالانکہ آسمان اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں مگر منافق لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
یہ وہی ہیں جو کہتے ہیں کہ ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں ، یہاں تک کہ وہ منتشر ہو جائیں، حالانکہ آسمانوں کے اور زمین کے خزانے اللہ ہی کے ہیں اور لیکن منافق نہیں سمجھتے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبداللہ بن ابی۔رئیس المنافقین ٭٭
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنی قوم کا بڑا اور شریف شخص تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتے تھے تو یہ کھڑا ہو جاتا تھا اور کہتا، تھا لوگو! یہ ہیں اللہ کے رسول جو تم میں موجود ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارا کرام کیا اور تمہیں عزت دی اب تم پر فرض ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرو اور آپ کی عزت و تکریم کرو آپ کا فرمان سنو اور جو فرمائیں بجا لاؤ یہ کہہ کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ احد کے میدان میں اس کا نفاق کھل گیا اور یہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی نافرمانی کر کے تہائی لشکر کو لے کر مدینہ کو واپس لوٹ آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے اور مدینہ میں مع الخیر تشریف لائے جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو حسب عادت یہ آج بھی کھڑا ہوا اور کہنا چاہتا ہی تھا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ادھر ادھر سے کھڑے ہو گئے اور اس کے کپڑے پکڑ کر کہنے لگے، دشمن اللہ بیٹھ جا، تو اب یہ کہنے کا منہ نہیں رکھتا، تو نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں، اب تو اس کا اہل نہیں کہ زبان سے جو جی میں آئے بک دے۔ یہ ناراض ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر نکل گیا اور کہتا جاتا تھا کہ گویا میں کسی بدیات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا میں تو اس کا کام اور مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا جو چند اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین مجھ پر اچھل کر آ گئے مجھے گھسیٹنے لگے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے گویا کہ میں کسی بڑی بات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا حالانکہ میری نیت یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تائید کروں انہوں نے کہا خیر اب تم واپس چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اللہ سے بخشش چاہیں گے اس نے کہا مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:69/3:مرسل]
قتادہ رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے واقعہ یہ تھا کہ اسی کی قوم کے ایک نوجوان مسلمان نے اس کی ایسی ہی چند بری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا تو یہ صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھا گیا، انصاریوں نے صحابی کو ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جھوٹا سمجھا اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس منافق کی جھوٹی قسموں اور اس نوجوان صحابی کی سچائی کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اب اس سے کہا گیا کہ تو چل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرا تو اس نے انکار کے لہجے میں سر ہلا دیا اور نہ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34160:مرسل]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جس منزل میں اترتے وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک نماز نہ پڑھ لیں، غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عبداللہ بن ابی کہہ رہا ہے کہ ہم عزت والے ان ذلت والوں کو مدینہ پہنچ کر نکال دیں گے پس آپ نے آخری دن میں اترنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔ اسے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنی خطا کی معافی اللہ سے طلب کر اس کا بیان اس آیت میں ہے، اس کی اسناد سعید بن جبیر تک صحیح ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے اس میں نظر ہے بلکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول تو اس غزوہ میں تھا ہی نہیں بلکہ لشکر کی ایک جماعت کو لے کر یہ تو لوٹ گیا تھا۔ کتب سیر و مغازی کے مصنفین میں تو یہ مشہور ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے چنانچہ اس قصہ میں محمد بن حییٰ بن حبان اور عبداللہ بن ابوبکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جگہ قیام تھا، وہاں جھجاہ بن سعید غفاری اور سنان بن یزید کا پانی کے ازدہام پر کچھ جھگڑا ہو گیا، جھجاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کارندے تھے، جھگڑے نے طول پکڑا سنان نے انصاریوں کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور جھجاہ نے مہاجرین کو اس وقت زید بن ارقم وغیرہ انصاری کی ایک جماعت عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا، لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اللہ کی قسم! ہماری اور ان قریشویں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کرتا کہ تجھے ہی کاٹے، اللہ کی قسم! اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بے مقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال آدھوں آدھ حصہ دیا اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آ کر مدینہ سے نکل بھاگیں گے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ تمام باتیں سنیں آپ اس وقت بہت کم عمر تھے سیدھے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کل واقعہ بیان فرمایا اس وقت آپ کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے غضبناک ہو کر فرمانے لگے یا رسول اللہ! عباد بن بشیر کو حکم فرمایئے کہ اس کی گردن الگ کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو لوگوں میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کی گردنیں مارتے ہیں یہ ٹھیک نہیں جاؤ لوگوں میں کوچ کی منادی کر دو۔“ عبداللہ بن ابی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی گفتگو کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گیا تو بہت سٹ پٹایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر معذرت اور حیلے حوالے تاویل اور تحریف کرنے لگا اور قسمیں کھا گیا کہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا، چونکہ یہ شخص اپنی قوم میں ذی عزت اور باوقعت تھا اور لوگ بھی کہنے لگے اے اللہ کے رسول! شاید اس بچے نے ہی غلطی کی ہو اسے وہم ہو گیا ہو واقعہ ثابت تو ہوتا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے جلدی ہی کوچ کے وقت سے پہلے ہی تشریف لے چلے راستے میں اسید بن نضیر رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے آپ کی شان نبوت کے قابل با ادب سلام کیا پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آج کیا بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی آپ نے کوچ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ساتھی ابن ابی نے کیا کہا، وہ کہتا ہے کہ مدینہ جا کر ہم عزیز ان ذلیلوں کو نکال دیں گے“، اسید نے کہا یا رسول اللہ! عزت والے آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے یا رسول اللہ! آپ اس کی ان باتوں کا خیال بھی نہ فرمایئے، دراصل یہ بہت جلا ہوا ہے سنئیے، اہل مدینہ نے اسے سردار بنانے پر اتفاق کر لیا تھا تاج تیار ہو رہا تھا کہ اللہ رب العزت آپ کو لایا اس کے ہاتھ سے ملک نکل گیا پس یہ چراغ پا ہو رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، دوپہر کو ہی چل دیئے تھے، شام ہوئی، رات ہوئی، صبح ہوئی یہاں تک کہ دھوپ میں تیزی آ گئی تب آپ نے پڑاؤ کیا تاکہ لوگ اس بات میں پھر نہ الجھ جائیں، چونکہ تمام لوگ تھکے ہارے اور رات کے جاگے ہوئے تھے اترتے ہی سب سو گئے ادھر یہ سورت نازل ہوئی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:4/52-53:مرسل]
بیہقی میں ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک مہاجر نے ایک انصار کو پتھر مار دیا اس پر بات بڑھ گئی اور دونوں نے اپنی اپنی جماعت سے فریاد کی اور انہیں پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کیا جاہلیت کی ہانک لگانے لگے اس فضول خراب عادت کو چھوڑو“، عبداللہ بن ابی بن سلول کہنے لگا: اب مہاجر یہ کرنے لگ گئے، اللہ کی قسم! مدینہ پہنچتے ہی ہم ذی عزت ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، اس وقت مدینہ شریف میں انصار کی تعداد مہاجرین سے بہت زیادہ تھی گو بعد میں مہاجرین بہت زیادہ ہو گئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب ابن ابی سلول کے اس قول کا علم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کرنے کی اجازت چاہی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4904] مسند احمد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { غزوہ تبوک میں میں نے جب اس منافق کا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا اور اس نے آ کر انکار کیا اور قسمیں کھا گیا اس وقت میری قوم نے مجھے بہت کچھ برا کہا اور ہر طرح ملامت کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہایت غمگین دل ہو کر وہاں سے چل دیا اور سخت رنج و غم میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرا عذر نازل فرمایا ہے اور تیری سچائی ظاہر کی ہے اور یہ آیت اتری «هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:7] “ } یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:902] مسند احمد میں ہے { زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان اس طرح ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ ایک غزوے میں تھا اور میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ دونوں باتیں سنیں میں نے اپنے چچا سے بیان کیں اور میرے چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اس نے انکار کیا اور قسمیں کھا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا اور مجھے جھوٹا جانا، میرے چچا نے بھی مجھے برا بھلا کہا، مجھے اس قدر غم اور ندامت ہوئی کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ یہ سورت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی اور مجھے یہ پڑھ سنائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4091] مسند کی اور روایت میں ہے کہ { ایک سفر کے موقعہ پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنگی پہنچی تو اس نے انہیں کچھ دینے کی ممانعت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس لیے بلوایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اس سے بھی منہ پھیر لیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/4:صحیح]
{ قرآن کریم نے انہیں ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں اس لیے کہا ہے کہ یہ لوگ اچھے جمیل جسم والے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4900] ترمذی وغیرہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ کچھ اعراب لوگ بھی تھے، پانی کی جگہ وہ پہلے پہنچنا چاہتے تھے، اسی طرح ہم بھی اسی کی کوشش میں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک اعرابی نے جا کر پانی پر قبضہ کر کے حوض پر کر لیا اور اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اوپر سے چمڑا پھیلا دیا ایک انصاری نے آ کر اس حوض میں سے اپنے اونٹ کو پانی پلانا چاہا اس نے روکا انصاری نے پلانے پر زور دیا اس نے ایک لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ یہ چونکہ عبداللہ بن ابی کا ساتھی تھا سیدھا اس کے پاس آیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا، عبداللہ بہت بگڑا اور کہنے لگا ان اعرابیوں کو کچھ نہ دو یہ خود بھوکے مرتے بھاگ جائیں گے، یہ اعرابی کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے اور کھا لیا کرتے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا لے کر ایسے وقت جاؤ جب یہ لوگ نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھا لیں گے یہ رہ جائیں گے یونہی بھوکوں مرتے بھاگ جائیں گے اور اب ہم مدینہ جا کر ان کمینوں کو نکال باہر کریں گے۔ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا اور میں نے یہ سب سنا اپنے چچا سے ذکر کیا چچا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا یہ انکار کر گیا اور حلف اٹھا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا تم نے یہ کیا حرکت کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ناراض ہو گئے اور تجھے جھوٹا جانا اور دیگر مسلمانوں نے بھی تجھے جھوٹا سمجھا مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا سخت غم و اندوہ کی حالت میں سر جھکائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرا کان پکڑا، جب میں نے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چل دیئے، اللہ کی قسم مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اگر دنیا کی ابدی زندگی مجھے مل جاتی جب بھی میں اتنا خوش نہ ہو سکتا تھا۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا؟ فرمایا تو کچھ بھی نہیں مسکراتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس پھر خوش ہو، آپ کے بعد ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہی سوال مجھ سے کیا اور میں نے یہی جواب دیا صبح کو سورۃ المنافقون نازل ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3313،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری روایت میں اس سورت کا «يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ» ۱؎ [63-المنافقون:8] تک پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:488/2:حسن] عبداللہ بن لہیعہ اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی حدیث کو مغازی میں بیان کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت میں خبر پہنچانے والے کا نام اوس بن اقرم ہے جو قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھے، ممکن ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی خبر پہنچائی ہو اور اوس رضی اللہ عنہ نے بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی سے نام میں غلطی ہو گئی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خالد رضی اللہ عنہ ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع کا ہے یہ وہ غزوہ ہے جس میں خالد رضی اللہ عنہ کو بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ بت کو تڑوایا تھا جو قفا مثلل اور سمندر کے درمیان تھا، اسی غزوہ میں دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا ایک مہاجر تھا دوسرا قبیلہ بہز کا تھا اور قبیل بہز انصاریوں کا حلیف تھا، بہزی نے انصاریوں کو اور مہاجر نے مہاجرین کو آواز دی، کچھ لوگ دونوں طرف کھڑے ہو گئے اور جھگڑا ہونے لگا، جب ختم ہوا تو منافق اور بیمار دل لوگ عبداللہ بن ابی کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے، ہمیں تو تم سے بہت کچھ امیدیں تھیں، تم ہمارے دشمنوں سے ہمارا بچاؤ تھے، اب تو بے کار ہوگئے ہو، نفع کا خیال، نہ نقصان کا، تم نے ہی ان جلالیب کو اتنا چڑھا دیا کہ بات بات پر یہ ہم پر چڑھ دوڑیں، نئے مہاجرین کو یہ لوگ جلالیب کہتے تھے۔ اس دشمن اللہ نے جواب دیا کہ اب مدینے پہنچتے ہی ان سب کو وہاں سے دیس نکالا دیں گے، مالک بن وخشن جو منافق تھا اس نے کہا: میں تو تمہیں پہلے ہی سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا چھوڑ دو خودبخود منتشر ہو جائیں گے، یہ باتیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سن لیں اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر عرض کرنے لگے کہ اس بانی فتنہ عبداللہ بن ابی کا قصہ پاک کرنے کی مجھے اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر اجازت دوں تو کیا تم اسے قتل کر ڈالو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ابھی اپنے ہاتھ سے اس کی گردن ماروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھ جاؤ۔“ اتنے میں اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی پوچھا اور انہیں نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بٹھا لیا، پھر تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وقت سے پہلے ہی لشکر نے کوچ کیا۔ وہ دن رات دوسری صبح برابر چلتے ہی رہے جب دھوپ میں تیزی آ گئی، اترنے کو فرمایا، پھر دوپہر ڈھلتے ہی جلدی سے کوچ کیا اور اسی طرح چلتے رہے تیسرے دن صبح کو قفا مثلل سے مدینہ شریف پہنچ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے پوچھا کہ کیا میں اس کے قتل کا تجھے حکم دیتا تو تو اسے مار ڈالتا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یقیناً، میں اس کا سر تن سے جدا کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے اس دن قتل کر ڈالتا تو بہت سے لوگوں کے ناک خاک آلودہ ہو جاتے۔ میں اگر انہیں کہتا تو وہ بھی اسے مار ڈالنے میں تامل نہ کرتے پھر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ ملتا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی بیدردی کے ساتھ مار ڈالتا ہے۔“ اسی واقعہ کا بیان ان آیتوں میں ہے، یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سی ایسی عمدہ باتیں ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ جو پکے سچے مسلمان تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اللہ! میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے جو بکواس کی ہے اس کے بدلے آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اگر یونہی ہے تو اس کے قتل کا حکم آپ کسی اور کو نہ کیجئے میں خود جاتا ہوں اور ابھی اس کا سر آپ کے قدموں تلے ڈالتا ہوں، قسم اللہ کی! قبیلہ خزرج کا ایک ایک شخص جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بیٹا اپنے باپ سے احسان و سلوک اور محبت و عزت کرنے والا نہیں (لیکن میں نے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے پیارے باپ کی گردن مارنے کو تیار ہوں)۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو یہ حکم دیا اور اس نے اسے مارا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں جوش انتقام میں، میں اسے نہ مار بیٹھوں اور ظاہر ہے کہ اگر یہ حرکت مجھ سے ہو گئی تو میں ایک کافر کے بدلے ایک مسلمان کو مار کر جہنمی بن جاؤں گا آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں میں اسے قتل کرنا نہیں چاہتا ہم تو اس سے اور نرمی برتیں گے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کریں گے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34179:مرسل]
مسلمان بیٹے کا منافق باپ کا راستہ روکنا ٭٭
عکرمہ اور ابن زید رحمہا اللہ کا بیان ہے کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکروں سمیت مدینے پہنچے تو اس منافق عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ مدینہ شریف کے دروازے پر کھڑے ہو گئے تلوار کھینچ لی، لوگ مدینہ میں داخل ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا باپ آیا تو یہ فرمانے لگے پرے رہو، مدینہ میں نہ جاؤ، اس نے کہا: کیا بات ہے؟ مجھے کیوں روک رہا ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مدینہ میں نہیں جا سکتا، جب تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے اجازت نہ دیں، عزت والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور تو ذلیل ہے۔ یہ رک کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لشکر کے آخری حصہ میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس مناق نے اپنے بیٹے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! جب تک آپ کی اجازت نہ ہو یہ اندر نہیں جا سکتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اب عبداللہ نے اپنے باپ کو شہر میں داخل ہونے دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34171:مرسل] مسند حمیدی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا جب تک تو اپنی زبان سے یہ نہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے اور میں ذلیل تو مدینہ میں نہیں جا سکتا اور اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں نے آج تک نگاہ اونچی کر کے ان کے چہرے کو بھی نہیں دیکھا، لیکن آپ اگر اس پر ناراض ہیں تو مجھے حکم دیجئیے ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں کسی اور کو اس کے قتل کا حکم نہ دیجئیے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو اپنی آنکھوں سے چلتا پھرتا نہ دیکھ سکوں۔ ۱؎ [مسند حمیدی:520/2]
7۔ 1 مطلب یہ کہ مہاجرین کا رازق اللہ تعالیٰ ہے اس لئے رزق کے خزانے اسی کے پاس ہیں، وہ جس کو جتنا چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے۔ 7۔ 2 منافق اس حقیقت کو نہیں جانتے، اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ انصار اگر مہاجرین کی طرف دست تعاون دراز نہ کریں تو وہ بھوکے مرجائیں گے۔
(آیت 7) ➊ {هُمُ الَّذِيْنَ يَقُوْلُوْنَ لَا تُنْفِقُوْا عَلٰى مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ …:} اس آیت میں اور اس سے اگلی آیت میں ان منافقین کے فسق کے نمونے کے طور پر ان کے کچھ گستاخانہ جملے ذکر فرمائے ہیں، جن سے ان کی اسلام اور مسلمانوں سے شدید نفرت اور دلی بغض کا اظہار ہو رہا ہے۔ گویا بتایا جا رہا ہے کہ یہ ہے ان کا بدترین فسق جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انھیں ہدایت نہیں دیتا اور جس کی وجہ سے ان کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استغفار کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: [ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ سَفَرٍ أَصَابَ النَّاسَ فِيْهِ شِدَّةٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ لِأَصْحَابِهِ لاَ تُنْفِقُوْا عَلٰی مَنْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ حَتّٰی يَنْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِهِ وَقَالَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَرْسَلَ إِلٰی عَبْدِ اللّٰهِ بْنِ أُبَيٍّ فَسَأَلَهُ، فَاجْتَهَدَ يَمِيْنَهُ مَا فَعَلَ، قَالُوْا كَذَبَ زَيْدٌ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَقَعَ فِيْ نَفْسِيْ مِمَّا قَالُوْا شِدَّةٌ، حَتّٰی أَنْزَلَ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيْقِيْ فِيْ: «اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ» فَدَعَاهُمُ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَسْتَغْفِرَ لَهُمْ فَلَوَّوْا رُؤُوْسَهُمْ وَقَوْلُهُ: «خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ» قَالَ كَانُوْا رِجَالاً أَجْمَلَ شَيْءٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «و إذا رأیتہم تعجبک أجسامہم…» : ۴۹۰۳ ] ”ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اس سفر میں لوگوں کو بہت سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا تو عبداللہ بن اُبی نے اپنے ساتھیوں سے کہا: ”ان لوگوں پر خرچ نہ کرو جو اللہ کے رسول کے پاس ہیں، یہاں تک کہ وہ اس کے گرد سے منتشر ہو جائیں۔“ اور اس نے کہا: ”اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس میں سے ضرور نکال باہر کرے گا۔“ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ بات بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن اُبی کی طرف پیغام بھیج کر اسے بلایا اور اس سے یہ بات پوچھی تو اس نے بہت پکی قسم کھا کر کہا کہ اس نے ایسا نہیں کیا۔ لوگوں نے کہا: ”زید نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ کہا ہے۔“ تو میرے دل میں ان کی بات سے بہت تکلیف پہنچی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے {” اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ “} میں میری تصدیق نازل فرما دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بلایا، تاکہ ان کے لیے استغفار کریں تو انھوں نے اپنے سر پھیر لیے۔“ اور (زید رضی اللہ عنہ نے) اللہ کے فرمان {” خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ “} کے متعلق فرمایا: ”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔“ ➋ { وَ لِلّٰهِ خَزَآىِٕنُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ …: ” لِلّٰهِ “} کو پہلے لانے کا مطلب یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین کے خزانوں کا مالک صرف اللہ تعالیٰ ہے، اور کوئی نہیں۔ منافقین نے خود تو کیا خرچ کرنا تھا، وہ تو پرلے درجے کے حریص اور بخیل تھے، وہ مخلص مسلمانوں کو بھی مہاجرین پر خرچ کرنے سے روک رہے تھے اور سمجھ رہے تھے کہ اگر وہ ان پر خرچ نہیں کریں گے تو وہ بھوک سے مر جائیں گے۔ حالانکہ سارے خزانوں کا مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، وہ جس طرح چاہے انھیں رزق دے سکتا ہے، مگر یہ منافقین کی بے سمجھی ہے کہ وہ مہاجرین کا رزق اپنے ہاتھ میں سمجھ رہے ہیں، اس لیے یہاں {” لَا يَفْقَهُوْنَ “} کا لفظ فرمایا کہ ایسا سمجھنے والا بے سمجھ ہے۔
یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینے واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا حالانکہ عزت تو اللہ اور اس کے رسولؐ اور مومنین کے لیے ہے، مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ کہتے ہیں کہ اگر ہم اب لوٹ کر مدینہ جائیں گے تو عزت واﻻ وہاں سے ذلت والے کو نکال دے گا۔ سنو! عزت تو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اور ایمان داروں کے لیے ہے لیکن یہ منافق جانتے نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کہتے ہیں ہم مدینہ پھر کر گئے تو ضرور جو بڑی عزت والا ہے وہ اس میں سے نکال دے گا اسے جو نہایت ذلت والا ہے اور عزت تو اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں ہی کے لیے ہے مگر منافقوں کو خبر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم لَوٹ کرمدینہ گئے تو عزت والے لوگ وہاں سے ذلیل لوگوں کو نکال دیں گے حالانکہ ساری عزت تو صرف اللہ، اس کے رسول(ص) اور مؤمنین کیلئے ہے لیکن منافق لوگ (یہ حقیقت) جانتے نہیں ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
وہ کہتے ہیں یقینا اگر ہم مدینہ واپس گئے توجو زیادہ عزت والا ہے وہ اس میں سے ذلیل تر کو ضرور ہی نکال باہر کرے گا، حالانکہ عزت تو صرف اللہ کے لیے اور اس کے رسول کے لیے اورایمان والوںکے لیے ہے اور لیکن منافق نہیں جانتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
عبداللہ بن ابی۔رئیس المنافقین ٭٭
سیرت محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول اپنی قوم کا بڑا اور شریف شخص تھا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ کے لیے منبر پر بیٹھتے تھے تو یہ کھڑا ہو جاتا تھا اور کہتا، تھا لوگو! یہ ہیں اللہ کے رسول جو تم میں موجود ہیں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تمہارا کرام کیا اور تمہیں عزت دی اب تم پر فرض ہے کہ تم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد کرو اور آپ کی عزت و تکریم کرو آپ کا فرمان سنو اور جو فرمائیں بجا لاؤ یہ کہہ کر بیٹھ جایا کرتا تھا۔ احد کے میدان میں اس کا نفاق کھل گیا اور یہ وہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کھلی نافرمانی کر کے تہائی لشکر کو لے کر مدینہ کو واپس لوٹ آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ احد سے فارغ ہوئے اور مدینہ میں مع الخیر تشریف لائے جمعہ کا دن آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے تو حسب عادت یہ آج بھی کھڑا ہوا اور کہنا چاہتا ہی تھا کہ بعض صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ادھر ادھر سے کھڑے ہو گئے اور اس کے کپڑے پکڑ کر کہنے لگے، دشمن اللہ بیٹھ جا، تو اب یہ کہنے کا منہ نہیں رکھتا، تو نے جو کچھ کیا وہ کسی سے مخفی نہیں، اب تو اس کا اہل نہیں کہ زبان سے جو جی میں آئے بک دے۔ یہ ناراض ہو کر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا باہر نکل گیا اور کہتا جاتا تھا کہ گویا میں کسی بدیات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا میں تو اس کا کام اور مضبوط کرنے کے لیے کھڑا ہوا تھا جو چند اصحاب رضی اللہ عنہم اجمعین مجھ پر اچھل کر آ گئے مجھے گھسیٹنے لگے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگے گویا کہ میں کسی بڑی بات کے کہنے کے لیے کھڑا ہوا تھا حالانکہ میری نیت یہ تھی کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کی تائید کروں انہوں نے کہا خیر اب تم واپس چلو ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کریں گے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے اللہ سے بخشش چاہیں گے اس نے کہا مجھے کوئی ضرورت نہیں۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ہشام:69/3:مرسل]
قتادہ رحمہ اللہ اور سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”یہ آیت عبداللہ بن ابی کے بارے میں اتری ہے واقعہ یہ تھا کہ اسی کی قوم کے ایک نوجوان مسلمان نے اس کی ایسی ہی چند بری باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلوایا تو یہ صاف انکار کر گیا اور قسمیں کھا گیا، انصاریوں نے صحابی کو ملامت اور ڈانٹ ڈپٹ کی اور اسے جھوٹا سمجھا اس پر یہ آیتیں اتریں اور اس منافق کی جھوٹی قسموں اور اس نوجوان صحابی کی سچائی کا اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا۔ اب اس سے کہا گیا کہ تو چل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استغفار کرا تو اس نے انکار کے لہجے میں سر ہلا دیا اور نہ گیا۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34160:مرسل]
ابن ابی حاتم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جس منزل میں اترتے وہاں سے کوچ نہ کرتے جب تک نماز نہ پڑھ لیں، غزوہ تبوک میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ عبداللہ بن ابی کہہ رہا ہے کہ ہم عزت والے ان ذلت والوں کو مدینہ پہنچ کر نکال دیں گے پس آپ نے آخری دن میں اترنے سے پہلے ہی کوچ کر دیا۔ اسے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر اپنی خطا کی معافی اللہ سے طلب کر اس کا بیان اس آیت میں ہے، اس کی اسناد سعید بن جبیر تک صحیح ہے لیکن یہ کہنا کہ یہ واقعہ غزوہ تبوک کا ہے اس میں نظر ہے بلکہ یہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے کہ عبداللہ بن ابی بن سلول تو اس غزوہ میں تھا ہی نہیں بلکہ لشکر کی ایک جماعت کو لے کر یہ تو لوٹ گیا تھا۔ کتب سیر و مغازی کے مصنفین میں تو یہ مشہور ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع یعنی غزوہ بنو المصطلق کا ہے چنانچہ اس قصہ میں محمد بن حییٰ بن حبان اور عبداللہ بن ابوبکر اور عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ اس لڑائی کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جگہ قیام تھا، وہاں جھجاہ بن سعید غفاری اور سنان بن یزید کا پانی کے ازدہام پر کچھ جھگڑا ہو گیا، جھجاہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے کارندے تھے، جھگڑے نے طول پکڑا سنان نے انصاریوں کو اپنی مدد کے لیے آواز دی اور جھجاہ نے مہاجرین کو اس وقت زید بن ارقم وغیرہ انصاری کی ایک جماعت عبداللہ بن ابی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی، اس نے جب یہ فریاد سنی تو کہنے لگا، لو ہمارے ہی شہروں میں ان لوگوں نے ہم پر حملے شروع کر دیئے، اللہ کی قسم! ہماری اور ان قریشویں کی مثال وہی ہے جو کسی نے کہا ہے کہ اپنے کتے کو موٹا تازہ کرتا کہ تجھے ہی کاٹے، اللہ کی قسم! اگر ہم لوٹ کر مدینہ گئے تو ہم ذی مقدور لوگ ان بے مقدروں کو وہاں سے نکال دیں گے پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے پاس بیٹھے تھے ان سے کہنے لگا یہ سب آفت تم نے خود اپنے ہاتھوں اپنے اوپر لی ہے تم نے انہیں اپنے شہر میں بسایا تم نے انہیں اپنے مال آدھوں آدھ حصہ دیا اب بھی اگر تم ان کی مالی امداد نہ کرو تو یہ خود تنگ آ کر مدینہ سے نکل بھاگیں گے۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے یہ تمام باتیں سنیں آپ اس وقت بہت کم عمر تھے سیدھے سرکار نبوت صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئے اور کل واقعہ بیان فرمایا اس وقت آپ کے پاس سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی بیٹھے ہوئے تھے غضبناک ہو کر فرمانے لگے یا رسول اللہ! عباد بن بشیر کو حکم فرمایئے کہ اس کی گردن الگ کر دے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو لوگوں میں یہ مشہور ہو جائے گا کہ محمد اپنے ساتھیوں کی گردنیں مارتے ہیں یہ ٹھیک نہیں جاؤ لوگوں میں کوچ کی منادی کر دو۔“ عبداللہ بن ابی کو جب یہ معلوم ہوا کہ اس کی گفتگو کا علم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہو گیا تو بہت سٹ پٹایا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عذر معذرت اور حیلے حوالے تاویل اور تحریف کرنے لگا اور قسمیں کھا گیا کہ میں نے ایسا ہرگز نہیں کہا، چونکہ یہ شخص اپنی قوم میں ذی عزت اور باوقعت تھا اور لوگ بھی کہنے لگے اے اللہ کے رسول! شاید اس بچے نے ہی غلطی کی ہو اسے وہم ہو گیا ہو واقعہ ثابت تو ہوتا نہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں سے جلدی ہی کوچ کے وقت سے پہلے ہی تشریف لے چلے راستے میں اسید بن نضیر رضی اللہ عنہ ملے انہوں نے آپ کی شان نبوت کے قابل با ادب سلام کیا پھر عرض کی کہ یا رسول اللہ! آج کیا بات ہے کہ وقت سے پہلے ہی آپ نے کوچ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے ساتھی ابن ابی نے کیا کہا، وہ کہتا ہے کہ مدینہ جا کر ہم عزیز ان ذلیلوں کو نکال دیں گے“، اسید نے کہا یا رسول اللہ! عزت والے آپ ہیں اور ذلیل وہ ہے یا رسول اللہ! آپ اس کی ان باتوں کا خیال بھی نہ فرمایئے، دراصل یہ بہت جلا ہوا ہے سنئیے، اہل مدینہ نے اسے سردار بنانے پر اتفاق کر لیا تھا تاج تیار ہو رہا تھا کہ اللہ رب العزت آپ کو لایا اس کے ہاتھ سے ملک نکل گیا پس یہ چراغ پا ہو رہا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم چلتے رہے، دوپہر کو ہی چل دیئے تھے، شام ہوئی، رات ہوئی، صبح ہوئی یہاں تک کہ دھوپ میں تیزی آ گئی تب آپ نے پڑاؤ کیا تاکہ لوگ اس بات میں پھر نہ الجھ جائیں، چونکہ تمام لوگ تھکے ہارے اور رات کے جاگے ہوئے تھے اترتے ہی سب سو گئے ادھر یہ سورت نازل ہوئی۔ ۱؎ [دلائل النبوۃ للبیھقی:4/52-53:مرسل]
بیہقی میں ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ایک مہاجر نے ایک انصار کو پتھر مار دیا اس پر بات بڑھ گئی اور دونوں نے اپنی اپنی جماعت سے فریاد کی اور انہیں پکارا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سخت ناراض ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کیا جاہلیت کی ہانک لگانے لگے اس فضول خراب عادت کو چھوڑو“، عبداللہ بن ابی بن سلول کہنے لگا: اب مہاجر یہ کرنے لگ گئے، اللہ کی قسم! مدینہ پہنچتے ہی ہم ذی عزت ان ذلیلوں کو وہاں سے نکال باہر کریں گے، اس وقت مدینہ شریف میں انصار کی تعداد مہاجرین سے بہت زیادہ تھی گو بعد میں مہاجرین بہت زیادہ ہو گئے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو جب ابن ابی سلول کے اس قول کا علم ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے قتل کرنے کی اجازت چاہی مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روک دیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4904] مسند احمد میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { غزوہ تبوک میں میں نے جب اس منافق کا یہ قول نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیان کیا اور اس نے آ کر انکار کیا اور قسمیں کھا گیا اس وقت میری قوم نے مجھے بہت کچھ برا کہا اور ہر طرح ملامت کی کہ میں نے ایسا کیوں کیا؟ میں نہایت غمگین دل ہو کر وہاں سے چل دیا اور سخت رنج و غم میں تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یاد فرمایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تیرا عذر نازل فرمایا ہے اور تیری سچائی ظاہر کی ہے اور یہ آیت اتری «هُمُ الَّذِينَ يَقُولُونَ لَا تُنفِقُوا عَلَىٰ مَنْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ حَتَّىٰ يَنفَضُّوا وَلِلَّهِ خَزَائِنُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلَٰكِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَا يَفْقَهُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:7] “ } یہ حدیث اور بھی بہت سی کتابوں میں ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:902] مسند احمد میں ہے { زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کا یہ بیان اس طرح ہے کہ میں اپنے چچا کے ساتھ ایک غزوے میں تھا اور میں نے عبداللہ بن ابی کی یہ دونوں باتیں سنیں میں نے اپنے چچا سے بیان کیں اور میرے چچا نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اس نے انکار کیا اور قسمیں کھا گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا اور مجھے جھوٹا جانا، میرے چچا نے بھی مجھے برا بھلا کہا، مجھے اس قدر غم اور ندامت ہوئی کہ میں نے گھر سے باہر نکلنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ یہ سورت اتری اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تصدیق کی اور مجھے یہ پڑھ سنائی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4091] مسند کی اور روایت میں ہے کہ { ایک سفر کے موقعہ پر جب صحابہ رضی اللہ عنہم کو تنگی پہنچی تو اس نے انہیں کچھ دینے کی ممانعت کر دی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انہیں اس لیے بلوایا کہ آپ ان کے لیے استغفار کریں تو انہوں نے اس سے بھی منہ پھیر لیا }۔ ۱؎ [مسند احمد:373/4:صحیح]
{ قرآن کریم نے انہیں ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں اس لیے کہا ہے کہ یہ لوگ اچھے جمیل جسم والے تھے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4900] ترمذی وغیرہ میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { ہم ایک غزوے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے ساتھ کچھ اعراب لوگ بھی تھے، پانی کی جگہ وہ پہلے پہنچنا چاہتے تھے، اسی طرح ہم بھی اسی کی کوشش میں رہتے تھے ایک مرتبہ ایک اعرابی نے جا کر پانی پر قبضہ کر کے حوض پر کر لیا اور اس کے ارد گرد پتھر رکھ دیئے اور اوپر سے چمڑا پھیلا دیا ایک انصاری نے آ کر اس حوض میں سے اپنے اونٹ کو پانی پلانا چاہا اس نے روکا انصاری نے پلانے پر زور دیا اس نے ایک لکڑی اٹھا کر انصاری کے سر پر ماری جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ یہ چونکہ عبداللہ بن ابی کا ساتھی تھا سیدھا اس کے پاس آیا اور تمام ماجرا کہہ سنایا، عبداللہ بہت بگڑا اور کہنے لگا ان اعرابیوں کو کچھ نہ دو یہ خود بھوکے مرتے بھاگ جائیں گے، یہ اعرابی کھانے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ جاتے تھے اور کھا لیا کرتے تھے، تو عبداللہ بن ابی نے کہا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کھانا لے کر ایسے وقت جاؤ جب یہ لوگ نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھا لیں گے یہ رہ جائیں گے یونہی بھوکوں مرتے بھاگ جائیں گے اور اب ہم مدینہ جا کر ان کمینوں کو نکال باہر کریں گے۔ میں اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ردیف تھا اور میں نے یہ سب سنا اپنے چچا سے ذکر کیا چچا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ذکر کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلوایا یہ انکار کر گیا اور حلف اٹھا لیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سچا سمجھا اور مجھے جھوٹا قرار دیا، میرے چچا میرے پاس آئے اور کہا تم نے یہ کیا حرکت کی؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تجھ پر ناراض ہو گئے اور تجھے جھوٹا جانا اور دیگر مسلمانوں نے بھی تجھے جھوٹا سمجھا مجھ پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا سخت غم و اندوہ کی حالت میں سر جھکائے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہا تھا تھوڑی ہی دیر گزری ہو گی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، میرا کان پکڑا، جب میں نے سر اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور چل دیئے، اللہ کی قسم مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ بیان سے باہر ہے اگر دنیا کی ابدی زندگی مجھے مل جاتی جب بھی میں اتنا خوش نہ ہو سکتا تھا۔ پھر صدیق اکبر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے اور پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے کیا کہا؟ میں نے کہا؟ فرمایا تو کچھ بھی نہیں مسکراتے ہوئے تشریف لے گئے، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا بس پھر خوش ہو، آپ کے بعد ہی سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تشریف لائے وہی سوال مجھ سے کیا اور میں نے یہی جواب دیا صبح کو سورۃ المنافقون نازل ہوئی }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3313،قال الشيخ الألباني:صحیح] دوسری روایت میں اس سورت کا «يَقُولُونَ لَئِن رَّجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ» ۱؎ [63-المنافقون:8] تک پڑھنا بھی مروی ہے۔ ۱؎ [مستدرک حاکم:488/2:حسن] عبداللہ بن لہیعہ اور موسیٰ بن عقبہ نے بھی اسی حدیث کو مغازی میں بیان کیا ہے لیکن ان دونوں کی روایت میں خبر پہنچانے والے کا نام اوس بن اقرم ہے جو قبیلہ بنو حارث بن خزرج میں سے تھے، ممکن ہے کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بھی خبر پہنچائی ہو اور اوس رضی اللہ عنہ نے بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ راوی سے نام میں غلطی ہو گئی ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
خالد رضی اللہ عنہ ٭٭
ابن ابی حاتم میں ہے کہ یہ واقعہ غزوہ مریسیع کا ہے یہ وہ غزوہ ہے جس میں خالد رضی اللہ عنہ کو بھیج کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مناۃ بت کو تڑوایا تھا جو قفا مثلل اور سمندر کے درمیان تھا، اسی غزوہ میں دو شخصوں کے درمیان جھگڑا ہو گیا تھا ایک مہاجر تھا دوسرا قبیلہ بہز کا تھا اور قبیل بہز انصاریوں کا حلیف تھا، بہزی نے انصاریوں کو اور مہاجر نے مہاجرین کو آواز دی، کچھ لوگ دونوں طرف کھڑے ہو گئے اور جھگڑا ہونے لگا، جب ختم ہوا تو منافق اور بیمار دل لوگ عبداللہ بن ابی کے پاس جمع ہوئے اور کہنے لگے، ہمیں تو تم سے بہت کچھ امیدیں تھیں، تم ہمارے دشمنوں سے ہمارا بچاؤ تھے، اب تو بے کار ہوگئے ہو، نفع کا خیال، نہ نقصان کا، تم نے ہی ان جلالیب کو اتنا چڑھا دیا کہ بات بات پر یہ ہم پر چڑھ دوڑیں، نئے مہاجرین کو یہ لوگ جلالیب کہتے تھے۔ اس دشمن اللہ نے جواب دیا کہ اب مدینے پہنچتے ہی ان سب کو وہاں سے دیس نکالا دیں گے، مالک بن وخشن جو منافق تھا اس نے کہا: میں تو تمہیں پہلے ہی سے کہتا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ سلوک کرنا چھوڑ دو خودبخود منتشر ہو جائیں گے، یہ باتیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سن لیں اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آ کر عرض کرنے لگے کہ اس بانی فتنہ عبداللہ بن ابی کا قصہ پاک کرنے کی مجھے اجازت دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اگر اجازت دوں تو کیا تم اسے قتل کر ڈالو گے؟“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم ابھی اپنے ہاتھ سے اس کی گردن ماروں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا بیٹھ جاؤ۔“ اتنے میں اسید بن حفیر رضی اللہ عنہ بھی یہی کہتے ہوئے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بھی یہی پوچھا اور انہیں نے بھی یہی جواب دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی بٹھا لیا، پھر تھوڑی دیر گزری ہو گی کہ کوچ کرنے کا حکم دیا اور وقت سے پہلے ہی لشکر نے کوچ کیا۔ وہ دن رات دوسری صبح برابر چلتے ہی رہے جب دھوپ میں تیزی آ گئی، اترنے کو فرمایا، پھر دوپہر ڈھلتے ہی جلدی سے کوچ کیا اور اسی طرح چلتے رہے تیسرے دن صبح کو قفا مثلل سے مدینہ شریف پہنچ گئے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا ان سے پوچھا کہ کیا میں اس کے قتل کا تجھے حکم دیتا تو تو اسے مار ڈالتا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یقیناً، میں اس کا سر تن سے جدا کر دیتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تو اسے اس دن قتل کر ڈالتا تو بہت سے لوگوں کے ناک خاک آلودہ ہو جاتے۔ میں اگر انہیں کہتا تو وہ بھی اسے مار ڈالنے میں تامل نہ کرتے پھر لوگوں کو باتیں بنانے کا موقعہ ملتا کہ محمد اپنے ساتھیوں کو بھی بیدردی کے ساتھ مار ڈالتا ہے۔“ اسی واقعہ کا بیان ان آیتوں میں ہے، یہ سیاق بہت غریب ہے اور اس میں بہت سی ایسی عمدہ باتیں ہیں جو دوسری روایتوں میں نہیں۔
سیرۃ محمد بن اسحاق میں ہے کہ عبداللہ بن ابی منافق کے بیٹے عبداللہ رضی اللہ عنہ جو پکے سچے مسلمان تھے، اس واقعہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور گزارش کی کہ یا رسول اللہ! میں نے سنا ہے کہ میرے باپ نے جو بکواس کی ہے اس کے بدلے آپ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں اگر یونہی ہے تو اس کے قتل کا حکم آپ کسی اور کو نہ کیجئے میں خود جاتا ہوں اور ابھی اس کا سر آپ کے قدموں تلے ڈالتا ہوں، قسم اللہ کی! قبیلہ خزرج کا ایک ایک شخص جانتا ہے کہ مجھ سے زیادہ کوئی بیٹا اپنے باپ سے احسان و سلوک اور محبت و عزت کرنے والا نہیں (لیکن میں نے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے پیارے باپ کی گردن مارنے کو تیار ہوں)۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور کو یہ حکم دیا اور اس نے اسے مارا تو مجھے ڈر ہے کہ کہیں جوش انتقام میں، میں اسے نہ مار بیٹھوں اور ظاہر ہے کہ اگر یہ حرکت مجھ سے ہو گئی تو میں ایک کافر کے بدلے ایک مسلمان کو مار کر جہنمی بن جاؤں گا آپ میرے باپ کے قتل کا حکم دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں میں اسے قتل کرنا نہیں چاہتا ہم تو اس سے اور نرمی برتیں گے اور اس کے ساتھ حسن سلوک کریں گے جب تک وہ ہمارے ساتھ ہے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34179:مرسل]
مسلمان بیٹے کا منافق باپ کا راستہ روکنا ٭٭
عکرمہ اور ابن زید رحمہا اللہ کا بیان ہے کہ ”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لشکروں سمیت مدینے پہنچے تو اس منافق عبداللہ بن ابی کے لڑکے عبداللہ رضی اللہ عنہ مدینہ شریف کے دروازے پر کھڑے ہو گئے تلوار کھینچ لی، لوگ مدینہ میں داخل ہونے لگے یہاں تک کہ ان کا باپ آیا تو یہ فرمانے لگے پرے رہو، مدینہ میں نہ جاؤ، اس نے کہا: کیا بات ہے؟ مجھے کیوں روک رہا ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تو مدینہ میں نہیں جا سکتا، جب تک کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تیرے لیے اجازت نہ دیں، عزت والے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں اور تو ذلیل ہے۔ یہ رک کر کھڑا ہو گیا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لشکر کے آخری حصہ میں ہوتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ کر اس مناق نے اپنے بیٹے کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ اسے کیوں روک رکھا ہے؟ انہوں نے کہا: قسم ہے اللہ کی! جب تک آپ کی اجازت نہ ہو یہ اندر نہیں جا سکتا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی اب عبداللہ نے اپنے باپ کو شہر میں داخل ہونے دیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:34171:مرسل] مسند حمیدی میں ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے والد سے کہا جب تک تو اپنی زبان سے یہ نہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عزت والے اور میں ذلیل تو مدینہ میں نہیں جا سکتا اور اس سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! اپنے باپ کی ہیبت کی وجہ سے میں نے آج تک نگاہ اونچی کر کے ان کے چہرے کو بھی نہیں دیکھا، لیکن آپ اگر اس پر ناراض ہیں تو مجھے حکم دیجئیے ابھی اس کی گردن حاضر کرتا ہوں کسی اور کو اس کے قتل کا حکم نہ دیجئیے ایسا نہ ہو کہ میں اپنے باپ کے قاتل کو اپنی آنکھوں سے چلتا پھرتا نہ دیکھ سکوں۔ ۱؎ [مسند حمیدی:520/2]
8۔ 1 اس کا کہنے والا رئیس المنافق عبد اللہ بن ابی تھا، عزت والے سے اس کی مراد تھی، وہ خود اور اس کے رفقاء اور ذلت والے سے (نعوذ باللہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان۔ 8۔ 2 یعنی عزت اور غلبہ صرف ایک اللہ کے لیے ہے اور پھر وہ اپنی طرف سے جس کو چاہے عزت و غلبہ عطا فرمادے۔ 8۔ 3 اس لیے ایسے کام نہیں کرتے جو ان کے لیے مفید ہیں اور ان چیزوں سے نہیں بچتے جو اس کے لیے نقصان دہ ہیں۔
(آیت 8) ➊ {يَقُوْلُوْنَ لَىِٕنْ رَّجَعْنَاۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْاَعَزُّ مِنْهَا الْاَذَلَّ:} جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں: [كُنَّا فِيْ غَزَاةٍ قَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً فِيْ جَيْشٍ فَكَسَعَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُهَاجِرِيْنَ رَجُلاً مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ يَا لَلْأَنْصَارِ وَقَالَ الْمُهَاجِرِيُّ يَا لَلْمُهَاجِرِيْنَ فَسَمِعَ ذٰلِكَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ دَعْوٰی جَاهِلِيَّةٍ؟ قَالُوْا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! كَسَعَ رَجُلٌ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ رَجُلاً مِّنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ دَعُوْهَا فَإِنَّهَا مُنْتِنَةٌ، فَسَمِعَ بِذٰلِكَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ أُبَيٍّ فَقَالَ فَعَلُوْهَا؟ أَمَا وَاللّٰهِ! لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَی الْمَدِيْنَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ فَبَلَغَ النَّبِيَّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَامَ عُمَرُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! دَعْنِيْ أَضْرِبْ عُنُقَ هٰذَا الْمُنَافِقِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعْهُ لاَ يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ وَكَانَتِ الْأَنْصَارُ أَكْثَرَ مِنَ الْمُهَاجِرِيْنَ حِيْنَ قَدِمُوا الْمَدِيْنَةَ، ثُمَّ إِنَّ الْمُهَاجِرِيْنَ كَثُرُوْا بَعْدُ ] [بخاري، التفسیر، باب قولہ: «سواء علیھم أستغفرت لھم» : ۴۹۰۵ ] ”ایک بار ہم ایک لشکر میں تھے تو ایک مہاجر آدمی نے ایک انصاری کو اس کے پیچھے کی جانب لات مار دی۔“ تو انصاری نے کہا: ”او انصاریو!“ اور مہاجر نے کہا: ”او مہاجرو!“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا تو فرمایا: ”جاہلیت کی اس پکار کا کیا معاملہ ہے؟“ لوگوں نے بتایا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کے پیچھے کی جانب لات مار دی ہے، تو آپ نے فرمایا: ”اس (جاہلیت کی پکار) کو چھوڑ دو، کیونکہ یہ بہت بدبو دار ہے۔“ یہ بات عبداللہ بن اُبی نے سنی تو کہنے لگا: ”انھوں نے ایسا کیا ہے؟ یاد رکھو! اگر ہم مدینہ واپس پہنچے تو جو زیادہ عزت والا ہے وہ ذلیل تر کو اس سے ضرور نکال باہر کرے گا۔“ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا: ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیں کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے رہنے دو، لوگ یہ بات نہ کریں کہ محمد اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔“ اور انصار مہاجرین سے زیادہ تھے جب وہ مدینہ میں آئے، پھر بعد میں مہاجرین زیادہ ہوگئے۔“ ➋ { وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِيْنَ۠ وَ لٰكِنَّ الْمُنٰفِقِيْنَ لَا يَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ منافقین جو کہہ رہے ہیں کہ زیادہ عزت والا ذلیل تر کو نکال باہر کرے گا، تو انھیں معلوم نہیں کہ زیادہ عزت والا بلکہ ساری عزت کا مالک کون ہے۔ سو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ عزت کا اصل مالک تو اللہ تعالیٰ ہے، پھر وہ ہے جسے وہ عزت عطا فرمائے۔ (دیکھیے نساء: ۱۳۹۔ آل عمران: ۲۶) اور اس نے عزت اپنے رسول اور مومن بندوں کے لیے مقرر فرمائی ہے۔ سو یہ سوچ لیں کہ اگر عزت والے نے ذلیل تر کو مدینہ سے نکالنے کا ارادہ کر لیا تو اس فیصلے کی زد بھی انھی منافقین پر پڑے گی، مگر ان جاہلوں کو علم ہی نہیں۔ ➌ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما سے جو حدیث اوپر نقل کی گئی ہے، ترمذی میں اس کے آخر میں یہ الفاظ ہیں: [ فَقَالَ لَهُ ابْنُهُ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ عَبْدِ اللّٰهِ: وَاللّٰهِ! لاَ تَنْقَلِبُ حَتّٰی تُقِرَّ أَنَّكَ الذَّلِيْلُ وَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ الْعَزِيْزُ فَفَعَلَ ] [ترمذي، تفسیر القرآن، سورۃ المنافقون: ۳۳۱۵، وقال الألباني صحیح ] ”تو اس (عبداللہ بن اُبی) کے بیٹے عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: ”اللہ کی قسم! تم واپس نہیں جاؤ گے حتیٰ کہ اقرار کرو کہ تم ہی ذلیل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی عزیز ہیں۔“ چنانچہ اس نے ایسے ہی کیا۔“
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! تمہارے مال اور تمہاری اوﻻد تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کر دیں۔ اور جو ایسا کریں وه بڑے ہی زیاں کار لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو تمہارے مال نہ تمہاری اولاد کوئی چیز تمہیں اللہ کے ذکر سے غافل نہ کرے اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ نقصان میں ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہیں خدا کی یاد سے غافل نہ کردے اور جو ایسا کرے گا وہی لوگ گھاٹا اٹھانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمھارے مال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں اور جو ایسا کرے تو وہی لوگ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مال و دولت کی خود سپردگی خرابی کی جڑ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ ’ وہ بکثرت ذکر اللہ کیا کریں اور تنبیہ کرتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ مال و اولاد کی محبت میں پھنس کر ذکر اللہ سے غافل ہو جاؤ ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ جو ذکر اللہ سے غافل ہو جائے اور دنیا کی زینت ہی کو سب کچھ سمجھ بیٹھے، اپنے رب کی اطاعت میں سست پڑ جائے، وہ اپنا نقصان آپ کرنے والا ہے ‘۔ پھر اپنی اطاعت میں مال خرچ کرنے کا حکم دے رہا ہے کہ ’ اپنی موت سے پہلے خرچ کر لو، موت کے وقت کی بے بس دیکھ کر نادم ہونا اور امیدیں باندھنا کچھ نفع نہ دے گا، اس وقت انسان چاہے گا کہ تھوڑی سی دیر کے لیے بھی اگر چھوڑ دیا جائے تو جو کچھ نیک عمل ہو سکے کر لے اور اپنا مال بھی دل کھول کر راہ اللہ دے لے، لیکن آہ اب وقت کہاں، آنے والی مصیبت آن پڑی اور نہ ٹلنے والی آفت سر پر کھڑی ہو گئی ‘۔ اور جگہ فرمان ہے «وَأَنْذِرْ النَّاسَ يَوْمَ يَأْتِيهِمْ الْعَذَاب فَيَقُول الَّذِينَ ظَلَمُوا رَبَّنَا أَخِّرْنَا إِلَى أَجَل قَرِيب نُجِبْ دَعْوَتَك وَنَتَّبِعْ الرُّسُل أَوَلَمْ تَكُونُوا أَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْل مَا لَكُمْ مِنْ زَوَال» ۱؎ [14-ابراھیم:44] الخ، یعنی ’ لوگوں کو ہوشیار کر دے جس دن ان کے پاس عذاب آئے گا تو یہ ظالم کہنے لگیں گے، اے ہمارے رب ہمیں تھوڑی سی مہلت مل جائے تاکہ ہم تیری دعوت قبول کر لیں اور تیرے رسولوں کی اتباع کریں ‘۔
9۔ 1 یعنی مال اور اولاد کی محبت تم پر غالب آجائے کہ تم اللہ کے بتلائے ہوئے احکام و فرائض سے غافل ہوجاؤ اور اللہ کی قائم کردہ حلال وحرام کی حدوں کی پروا نہ کرو۔
(آیت 9) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِكُمْ اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ: ”لاَ تُلْهِ“ ”لَهْوٌ“} میں سے باب افعال {”أَلْهٰي يُلْهِيْ“} کا نہی مؤنث غائب کا صیغہ ہے، {”كُمْ“} اس کا مفعول بہ اور {” اَمْوَالُكُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُكُمْ “} فاعل ہے۔ فاعل جمع مکسر ہونے کی وجہ سے فعل واحد مؤنث کا صیغہ لایا گیا ہے۔ ➋ منافقین کے برے اعمال کا حال بیان کرنے کے بعد تمام ایمان لانے والوں کو خواہ وہ مخلص ہیں یا منافق، ان دو چیزوں سے ہوشیار رہنے کی نصیحت فرمائی جو انسان کے لیے فتنہ ہیں اور نفاق کا باعث بنتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اَنَّمَااَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ» [ التغابن: ۱۵ ] ”تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں۔“ اور فرمایا، دیکھنا! تمھارے اموال اور تمھاری اولاد تمھیں اللہ کی یاد سے غافل نہ کر دیں کہ ان کی وجہ سے نماز چھوڑ دو، یا اللہ کی راہ میں خرچ کرنا یا جہاد کے لیے نکلنا چھوڑ دو، یا ان کی وجہ سے جھوٹ اور خیانت کا ارتکاب کرنے لگو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر آدمی کو اس کے اموال و اولاد اللہ کے ذکر سے غافل نہ کریں تو وہ قابل مذمت نہیں ہیں اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اموال و اولاد کے علاوہ کوئی اور چیز اللہ کے ذکر سے غافل کرتی ہے تو وہ بھی مذموم ہے، مثلاً کھیل تماشے، دوستوں کی مجلس اور نام و نمود کی خواہش وغیرہ۔ کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: [ إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَإِنَّ فِتْنَةَ أُمَّتِي الْمَالُ ] [ مسند أحمد: 160/4، ح: ۱۷۴۷۱، قال المحقق حدیث صحیح ] ”ہر امت کے لیے کوئی نہ کوئی فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے۔“ یعلیٰ عامری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حسن اور حسین رضی اللہ عنھما دوڑتے ہوئے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف آئے، آپ نے انھیں اپنے ساتھ چمٹا لیا اور فرمایا: [ إِنَّ الْوَلَدَ مَبْخَلَةٌ مَجْبَنَةٌ ] [ ابن ماجہ، الأدب، باب بر الوالد و الإحسان إلی البنات: ۳۶۶۶ ] ”بے شک اولاد بخیل بننے اور بزدل بننے کا باعث ہے۔“ مزید دیکھیے سورۂ کہف کی آیت (۴۶): «اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» کی تفسیر۔ ➌ { عَنْ ذِكْرِ اللّٰهِ: ” ذِكْرِ اللّٰهِ “} سے صرف نماز، روزہ اور زبانی ذکر مراد نہیں، بلکہ ہر کام کے وقت اپنے رب کو یاد رکھنا مراد ہے کہ اگر مالک کی اجازت ہے تو وہ کام کرے، اگر نہیں تو نہ کرے۔ اسی طرح ہر وہ کام کرنے کی حتی الوسع کوشش کرے جس کا اس نے حکم دیا ہے اور اس سے رک جائے جس سے اس نے منع فرمایا ہے۔ ➍ {وَ مَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ: ” الْخٰسِرُوْنَ “} پر الف لام لانے اور اس سے پہلے ضمیر فصل سے تاکید اور حصر کا مفہوم پیدا ہوگیا کہ اصل خسارے والے صرف وہ لوگ ہیں جنھیں ان کے اموال و اولاد اللہ کی یاد سے غافل کر دیں۔ اگر اللہ کی یاد پر قائم رہنے کی وجہ سے اموال و اولاد کا نقصان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ نے اسے خسارہ تسلیم ہی نہیں فرمایا، کیونکہ اموال و اولاد فانی ہیں اور اللہ کی یاد باقی ہے۔ جو باقی کو چھوڑ کر فانی میں مشغول ہو جائے اصل خسارے میں پڑنے والا وہ ہے۔
جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے اور اُس وقت وہ کہے کہ "اے میرے رب، کیوں نہ تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہو جاتا"
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جو کچھ ہم نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے (ہماری راه میں) اس سے پہلے خرچ کرو کہ تم میں سے کسی کو موت آ جائے تو کہنے لگے اے میرے پروردگار! مجھے تو تھوڑی دیر کی مہلت کیوں نہیں دیتا؟ کہ میں صدقہ کروں اور نیک لوگوں میں سے ہو جاؤں
احمد رضا خان بریلوی
اور ہمارے دیے میں سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں کسی کو موت آئے پھر کہنے لگے، اے میرے رب تو نے مجھے تھوڑی مدت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوں میں ہوتا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو کچھ ہم نے تمہیں رزق دیا ہے اس سے (میری راہ میں) خرچ کرو قبل اس سے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے اور پھر وہ کہے کہ میرے پروردگار! تونے مجھے کیوں نہ تھوڑی سی مدت تک مہلت دی کہ میں صدقہ دیتا اور نیکوکار بندوں میں سے ہو جاتا۔
عبدالسلام بن محمد
اور اس میں سے خرچ کرو جو ہم نے تمھیں دیا ہے، اس سے پہلے کہ تم میں سے کسی کو موت آجائے، پھر وہ کہے اے میرے رب! تونے مجھے قریب مدت تک مہلت کیوں نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہو جاتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭
اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] یعنی ’ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں ‘۔ یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
10۔ 1 خرچ کرنے سے مراد زکوٰۃ کی ادائیگی اور دیگر امور خیر میں خرچ کرنا ہے۔ 10۔ 2 اس سے معلوم ہوا کہ زکواۃ کی ادائیگی اور انفاق فی سبیل اللہ میں اور اسی طرح اگر حج کی استطاعت ہو تو اس کی ادائیگی میں قطعا تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ موت کا کوئی پتہ نہیں کس وقت آجائے؟ اور یہ فرائض اس کے ذمے رہ جائیں۔
(آیت 10) ➊ {وَ اَنْفِقُوْا مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ …: ” مِنْ مَّا رَزَقْنٰكُمْ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ کی تیسری آیت کی تفسیر۔ نفاق سے محفوظ رہنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں میں سے جتنا ہو سکے مرنے سے پہلے خرچ کرنے کا حکم دیا۔ ➋ { مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّاْتِيَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ فَيَقُوْلَ …:} یعنی مرتے وقت یہ دعا اور تمنا کرنا بے کار ہے، عقل مند کا کام یہ ہے کہ مہلت سے فائدہ اٹھائے اور مرنے سے پہلے آخرت کا سامان تیار کرے۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم (۴۴) اور سورۂ مومنون (۹۹، ۱۰۰)۔ ➌ {فَاَصَّدَّقَ وَ اَكُنْ مِّنَ الصّٰلِحِيْنَ:” فَاَصَّدَّقَ “} اصل میں {”فَأَتَصَدَّقُ“} ہے، اس پر نصب اس لیے آیا ہے کہ یہ{” لَوْ لَاۤ “} کے جواب میں ہے جو تحضیض کے لیے ہے اور اس میں طلب اور شرط کا مفہوم پایا جاتا ہے اور اس پر ”فاء“ آ رہی ہے جس کے بعد {”أَنْ“} ناصبہ مقدر ہے اور {” اَكُنْ “} مجزوم اس لیے ہے کہ اس کا عطف جواب شرط کے محل پر ہے اور اس پر ”فاء“ نہیں آ رہی، گویا اصل کلام اس طرح ہے: {”رَبِّ أَخِّرْنِيْ إِلٰی أَجَلٍ قَرِيْبٍ فَإِنْ أَخَّرْتَنِيْ أَتَصَدَّقْ وَ أَكُنْ مِّنَ الصَّالِحِيْنَ۔“}
حالانکہ جب کسی کی مہلت عمل پوری ہونے کا وقت آ جاتا ہے تو اللہ اُس کو ہرگز مزید مہلت نہیں دیتا، اور جو کچھ تم کرتے ہو، اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جب کسی کا مقرره وقت آجاتا ہے پھر اسے اللہ تعالیٰ ہر گز مہلت نہیں دیتا اور جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ تعالیٰ بخوبی باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور ہرگز اللہ کسی جان کو مہلت نہ دے گا جب اس کا وعدہ آجائے اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اورجب کسی شخص کی مدت پوری ہو جائے توخدا مزید مہلت نہیں دیتا اور اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کسی جان کو ہرگز مہلت نہیں دے گا جب اس کا وقت آگیا اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کر رہے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
موت کے وقت خواہش اعمال ٭٭
اس آیت میں تو کافروں کی مذمت کا ذکر ہے، دوسری آیت میں نیک عمل میں کمی کرنے والوں کے افسوس کا بیان اس طرح ہوا ہے، «حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدهمْ الْمَوْت قَالَ رَبّ اِرْجِعُونِ لَعَلِّي أَعْمَلُ صَالِحًا فِيمَا تَرَكْت كَلَّا إِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَائِلُهَا وَمِنْ وَرَائِهِمْ بَرْزَخٌ إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:99-100] یعنی ’ جب ان میں سے کسی کو موت آنے لگتی ہے، تو کہتا ہے، میرے رب! مجھے لوٹا دے، تو میں نیک اعمال کر لوں ‘۔ یہاں فرماتا ہے ’ موت کا وقت آگے پیچھے نہیں ہوتا، اللہ خود خبر رکھنے والا ہے کہ کون اپنے قول میں صادق ہے اور اپنے سوال میں حق بجانب ہے یہ لوگ تو اگر لوٹائے جائیں تو پھر ان باتوں کو بھول جائیں گے اور وہی کچھ کرنے لگ جائیں گے جو اس سے پہلے کرتے رہے ‘۔ ترمذی میں { سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ شخص جو مالدار ہو اور اس نے حج نہ کیا ہو یا زکوٰۃ نہ دی ہو وہ موت کے وقت دنیا میں واپس لوٹنے کی آرزو کرتا ہے، ایک شخص نے کہا: اللہ کا خوف کیجئے واپسی کی آرزو تو کافر کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: جلدی کیوں کرتے ہو؟ سنو! قرآن فرماتا ہے: پھر آپ نے یہ پورا رکوع تلاوت کر سنایا اس نے پوچھا: زکوٰۃ کتنے میں واجب ہے فرمایا: دو سو اور اس سے زیادہ میں، پوچھا: حج کب فرض ہو جاتا ہے، فرمایا: جب راہ خرچ اور سواری خرچ کی طاقت ہو۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3316،قال الشيخ الألباني:-ضعیف] ایک مرفوع روایت بھی اسی طرح مروی ہے لیکن موقوف ہی زیادہ صحیح ہے، ضحاک رحمہ اللہ کی روایت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما والی بھی منقطع ہے، دسری سند میں ایک راوی ابوجناب کلبی ہے وہ بھی ضعیف ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین نے زیادتی عمر کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اجل آ جائے پھر مؤخر نہیں ہوتی، زیادتی عمر صرف اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی بندے کو نیک صالح اولاد دے، جو اس کے لیے اس کے مرنے کے بعد دعا کرتی رہے اور دعا اسے اس کی قبر میں پہنچتی رہے“ }۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:اسنادہ موضوع] اللہ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ المنافقون کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فَالْحَمْدُ لِلَّـهِ»
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 11) ➊ {وَ لَنْ يُّؤَخِّرَ اللّٰهُ نَفْسًا اِذَا جَآءَ اَجَلُهَا:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اللّٰهُ خَبِيْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ:} اس میں تنبیہ ہے کہ ہر کام کرتے وقت یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ کو تمھارے ہر عمل کی پوری خبر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں نیک عمل والوں کے لیے وعدہ ہے اور برے عمل والوں کے لیے وعید ہے۔