بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المنافقون — Surah Munafiqun
آیت نمبر 4
کل آیات: 11
قرآن کریم المنافقون آیت 4
آیت نمبر: 4 — سورۃ المنافقون islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا رَاَیۡتَہُمۡ تُعۡجِبُکَ اَجۡسَامُہُمۡ ؕ وَ اِنۡ یَّقُوۡلُوۡا تَسۡمَعۡ لِقَوۡلِہِمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ ؕ یَحۡسَبُوۡنَ کُلَّ صَیۡحَۃٍ عَلَیۡہِمۡ ؕ ہُمُ الۡعَدُوُّ فَاحۡذَرۡہُمۡ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۴﴾
اِنہیں دیکھو تو اِن کے جثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہ پکے دشمن ہیں، ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں
جب آپ انہیں دیکھ لیں تو ان کے جسم آپ کو خوشنما معلوم ہوں، یہ جب باتیں کرنے لگیں تو آپ ان کی باتوں پر (اپنا) کان لگائیں، گویا کہ یہ لکڑیاں ہیں دیوار کے سہارے سے لگائی ہوئیں، ہر (سخت) آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہی حقیقی دشمن ہیں ان سے بچو اللہ انہیں غارت کرے کہاں سے پھرے جاتے ہیں
اور جب تو انہیں دیکھے ان کے جسم تجھے بھلے معلوم ہوں، اور اگر بات کریں تو تُو ان کی بات غور سے سنے گویا وہ کڑیاں ہیں دیوار سے ٹکائی ہوئی ہر بلند آواز اپنے ہی اوپر لے جاتے ہیں وہ دشمن ہیں تو ان سے بچتے رہو اللہ انہیں مارے کہاں اوندھے جاتے ہیں
اور جب آپ(ص) انہیں دیکھیں گے تو ان کے جسم (اور ان کے قد و قا مت) آپ(ص) کو اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں گے تو آپ(ص) ان کی بات (توجہ) سے سنیں گے (مگر وہ عقل و ایمان سے خالی ہیں) گویا (کھوکھلی) لکڑیاں ہیں جو (دیوار وغیرہ سے) ٹیک لگا دی گئی ہیں وہ ہر چیخ کی آواز کو اپنے خلاف سمجھتے ہیں یہی (اصلی) دشمن ہیں ان سے بچ کے رہو اللہ ان کو غارت کرے یہ کہاں الٹے پھرائے جا رہے ہیں۔
اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گویا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں۔ یہی اصل دشمن ہیں، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کرے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

علامات منافقین ٭٭

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”منافقوں کی بہت سی علامتیں ہیں جن سے وہ پہچان لیے جاتے ہیں ان کا سلام لعنت ہے، ان کی خوراک لوٹ مار ہے، ان کی غنیمت حرام اور خیانت ہے، وہ مسجدوں کی نزدیکی ناپسند کرتے ہیں، وہ نمازوں کے لیے آخری وقت آتے ہیں، تکبر اور نحوت والے ہوتے ہیں، نرمی اور سلوک تواضع اور انکساری سے محروم ہوتے ہیں، نہ خود ان کاموں کو کریں، نہ دوسروں کے ان کاموں کو وقعت کی نگاہ سے دیکھیں رات کی لکڑیاں اور دن کے شور و غل کرنے والے اور روایت میں ہے دن کو خوب کھانے پینے والے اور رات کو خشک لکڑیوں کی طرح پڑ رہنے والے“ }۔ ۱؎ [مسند احمد:293/2:ضعیف] ‏‏‏‏

📖 احسن البیان

4۔ 1 یعنی ان کے حسن و جمال اور رونق و شادابی کی وجہ سے۔ 4۔ 2 یعنی زبان کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے۔ 4۔ 3 یعنی اپنی درازئی قد اور حسن ورعنائی، عدم فہم اور قلت خیر میں ایسے ہیں گویا کہ دیوار پر لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں جو دیکھنے والوں کو تو بھلی لگتی ہے لیکن کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔ 4۔ 4 یعنی بزدل ایسے ہیں کہ کوئی زوردار آواز سن لیں تو سمجھتے ہیں کہ ہم پر کوئی آفت نازل ہوگئی یا گھبرا اٹھتے ہیں کہ ہمارے خلاف کسی کاروائی کا آغاز تو نہیں ہو رہا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 4) ➊ {وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ:} اکثر منافقین خوش حال، صاحب حیثیت، تیز طرار اور ہوشیار لوگ تھے، ان کی خوش حالی اور مال کی حرص ہی ان کے نفاق کا باعث تھی۔ ان کا سردار عبداللہ بن اُبی معاشی لحاظ سے بھی رئیس تھا اور دیکھنے میں بھی بڑا خوب صورت، لمبے قد والا اور جسیم تھا۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے اس کے اور اس کے ساتھیوں کے متعلق فرمایا: [ كَانُوْا رِجَالاً أَجْمَلَ شَيْءٍ ] [ بخاري: ۴۹۰۳ ] ”وہ بہت خوبصورت آدمی تھے۔“ مزید تفصیل آگے آیت (۷) کی تفسیر میں دیکھیے۔ جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (بدر کے قیدیوں میں سے) عباس مدینہ میں تھے، انصار نے انھیں پہنانے کے لیے کپڑا تلاش کیا مگر انھیں عبداللہ بن اُبی کی قمیص کے علاوہ کوئی قمیص نہ ملی جو ان کے جسم پر پوری آتی ہو، چنانچہ انھوں نے وہی ان کو پہنا دی۔ [ نسائي، الجنائز، باب القمیص في الکفن: ۱۹۰۳، وقال الألباني صحیح ] اہل علم فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن اُبی کی وفات پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنی قمیص جو پہنائی اس پر دوسری مصلحتوں کے علاوہ اس احسان کا بدلا اتارنا بھی مقصود تھا۔ اللہ تعالیٰ نے پچھلی آیت میں {” فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ “} کے الفاظ کے ساتھ منافقین کی ناسمجھی بیان کرنے کے ساتھ ہی فرمایا کہ اے مخاطب! جب تو انھیں دیکھے تو ڈیل ڈول اور خوبصورتی کی وجہ سے ان کے جسم تجھے بہت اچھے دکھائی دیں گے اور اگر وہ بات کریں تو ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ تو ان کی بات سنتا ہی رہ جائے۔ ان کی چرب زبانی کا ذکر سورۂ بقرہ (۲۰۴) میں بھی آیا ہے۔ یہاں بعض مفسرین نے{” وَ اِذَا رَاَيْتَهُمْ تُعْجِبُكَ اَجْسَامُهُمْ “} میں مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا ہے، مگر بہتر ہے کہ اسے ہر مخاطب کے لیے عام رکھا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو شروع سے انھیں دیکھتے آ رہے تھے۔ ➋ ظاہر ہے کہ {” اِذَا رَاَيْتَهُمْ “} (جب تو انھیں دیکھے) سے عبداللہ بن اُبی اور اس جیسے منافق مراد ہیں، کیونکہ تمام منافق تو حسین و جمیل نہیں تھے اور نہ ہی ایسے فصیح و بلیغ تھے۔ (التسہیل) ➌ {كَاَنَّهُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَةٌ:خُشُبٌ”خَشَبَةٌ “} کی جمع ہے، لکڑیاں۔ اس وزن کی یہ جمع بہت کم آتی ہے۔ مفسرین نے اس کی نظیر {” ثَمَرَةٌ “} کی جمع {” ثُمُرٌ “} لکھی ہے۔ {” مُسَنَّدَةٌ “} باب تفعیل سے اسم مفعول ہے، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھی ہوئی۔ یعنی جیسے لکڑیوں میں طول و عرض اور خوبصورتی کے باوجود عقل اور سمجھ نہیں ہوتی اسی طرح یہ بھی عقل اور سمجھ سے عاری ہیں۔ جب یہ آپ کی مجلس میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوں تو یہ مت سمجھیں کہ یہ آدمی ہیں، بلکہ یوں سمجھیں کہ لکڑیاں ہیں جو ٹیک لگا کر دیوار کے ساتھ رکھی ہوئی ہیں، گو بظاہر خوبصورت نظر آتے ہیں۔ زمخشری نے فرمایا کہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ حسین و جمیل اور جسیم و عریض ہونے کے باوجود ان سے کسی نفع کی امید نہیں، جس طرح کار آمد لکڑی چھت، دروازے یا کھڑکیوں میں یا کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے، مگر بے کار لکڑیوں کو دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھ دیا جاتا ہے۔ ➍ { يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ:} اس میں ان کی بزدلی کا نقشہ کھینچا ہے کہ جوں ہی کوئی آواز بلند ہوتی ہے یا شور اٹھتا ہے تو وہ اسے اپنے آپ پر پڑنے والی اُفتاد ہی سمجھتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کفار کا حملہ ہو گیا ہو جس میں ہمیں لڑنا پڑے اور اس میں ہماری موت ہو۔ (دیکھیے احزاب: ۱۹) یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو ہمارے خبث باطن کا پتا چل گیا ہو اور ہمارے خلاف کارروائی کا حکم آگیا ہو، یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں رسوا کرنے والی یا ہمارے قتل کے حکم والی کوئی آیت یا سورت اتری ہو۔ (دیکھیے توبہ: ۶۴) ➎ { هُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ:الْعَدُوُّ “} خبر پر الف لام لانے سے کلام میں حصر پیدا ہو رہا ہے کہ تمھارے اصل دشمن یہی ہیں، کیونکہ کھلم کھلا کفار کی عداوت ظاہر ہے جس سے بچاؤ آسان ہے، یہ گھر کے بھیدی اور آستین کے سانپ ہیں جو مسلمان بن کر ہر وقت تمھارے ساتھ ہیں۔ ان کی عداوت زیادہ خطر ناک ہے اور اس سے بچنا بہت مشکل ہے، اس لیے ان سے ہوشیار رہیں۔ ➏ {قٰتَلَهُمُ اللّٰهُ:} یہ بد دعا کا کلمہ ہے، اللہ انھیں ہلاک کرے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ کو دعا یا بددعا کی کیا ضرورت ہے، وہ تو جو چاہے کر سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں ان کے حق میں لوگوں کی زبان پر آنے والی بد دعا نقل کی گئی ہے۔ مراد ان کی مذمت ہے۔ ➐ {اَنّٰى يُؤْفَكُوْنَ:} یعنی اتنے واضح دلائل کے باوجود ایمان چھوڑ کر یہ لوگ کہاں بہکائے جا رہے ہیں۔
← پچھلی آیت (3) پوری سورۃ اگلی آیت (5) →