بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المنافقون — Surah Munafiqun
آیت نمبر 3
کل آیات: 11
قرآن کریم المنافقون آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ المنافقون islamicurdubooks.com ↗
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ اٰمَنُوۡا ثُمَّ کَفَرُوۡا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۳﴾
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے
یہ اس سبب سے ہے کہ یہ ایمان ﻻکر پھر کافر ہوگئے پس ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی۔ اب یہ نہیں سمجھتے
یہ اس لیے کہ وہ زبان سے ایمان لائے پھر دل سے کافر ہوئے تو ان کے دلوں پر مہر کردی گئی تو اب وہ کچھ نہیں سمجھتے،
یہ اس لئے ہے کہ یہ پہلے (بظاہر) ایمان لائے پھر کفر کیا تو ان کے دلوں پر (گویا) مہر لگا دی گئی ہے لہذا وہ کچھ نہیں سمجھتے ہیں۔
یہ اس لیے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی، سو وہ نہیں سمجھتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منافقین کی قسمیں کھانا ٭٭

اللہ تعالیٰ منافقوں کے نفاق کو ظاہر کرتا ہے کہ ’ گو یہ تیرے پاس آ کر قسمیں کھا کھا کر اپنے اسلام کا اظہار کرتے ہیں تیری رسالت کا اقرار کرتے ہیں مگر دراصل دل کے کھوٹے ہیں، فی الواقع آپ رسول اللہ بھی ہیں، ان کا یہ قول بھی ہے مگر چونکہ دل میں اس کا کوئی اثر نہیں، لہٰذا یہ جھوٹے ہیں۔ یہ تجھے رسول اللہ مانتے ہیں، اس بارے میں اگر یہ سچے ہونے کے لیے قسمیں بھی کھائیں لیکن آپ یقین نہ کیجئے۔ یہ قسمیں تو ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے یہ تو اپنے جھوٹ کو سچ بنانے کا ایک ذریعہ ہیں ‘۔ مقصد یہ ہے کہ مسلمان ان سے ہوشیار رہیں کہیں انہیں سچا ایماندار سمجھ کر کسی بات میں ان کی تقلید نہ کرنے لگیں کہ یہ اسلام کے رنگ میں تم کو کفر کا ارتکاب کرا دیں، یہ بداعمال لوگ اللہ کی راہ سے دور ہیں۔ ضحاک رحمہ الله کی قرأت میں «أَيْمَانَهُمْ» ‏‏‏‏الف کی زیر کے ساتھ ہے تو مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے اپنی ظاہری تصدیق کو اپنے لیے تقیہ بنا لیا ہے کہ قتل سے اور حکم کفر سے دنیا میں بچ جائیں۔ یہ نفاق ان کے دلوں میں اس گناہ کی شومی کے باعث رچ گیا ہے کہ ایمان سے پھر کر کفر کی طرف اور ہدایت سے ہٹ کر ضلالت کی جانب آ گئے ہیں، اب دلوں پر مہر الٰہی لگ چکی ہے اور بات کی تہہ کو پہنچنے کی قابلیت سلب ہو چکی ہے، بظاہر تو خوش رو، خوش گو ہیں اس فصاحت اور بلاغت سے گفتگو کرتے ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کے دل کو مائل کر لیں، لیکن باطن میں بڑے کھوٹے بڑے کمزور دل والے نامرد اور بدنیت ہیں، جہاں کوئی بھی واقعہ رونما ہوا اور سمجھ بیٹھے کہ ہائے مرے۔ اور جگہ ہے «‏‏‏‏أَشِحَّةً عَلَيْكُمْ فَإِذَا جَاءَ الْخَوْفُ رَأَيْتَهُمْ يَنظُرُونَ إِلَيْكَ تَدُورُ أَعْيُنُهُمْ كَالَّذِي يُغْشَىٰ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ» ۱؎ [33-الأحزاب:19] ‏‏‏‏ الخ، ’ تمہارے مقابلہ میں بخل کرتے ہیں، پھر جس وقت خوف ہوتا ہے تو تمہاری طرف اس طرح آنکھیں پھیر پھیر کر دیکھتے ہیں گویا کسی شخص پر موت کی بیہوشی طاری ہے، پھر جب خوف چلا جاتا ہے تو تمہیں اپنی بدکلامی سے ایذاء دیتے ہیں اور مال غنیمت کی حرص میں نہ کہنے کی باتیں کہہ گزرتے ہیں یہ بے ایمان ہیں، ان کے اعمال غارت ہیں، اللہ پر یہ امر نہایت ہی آسان ہے ‘۔ پس ان کی یہ آوازیں خالی پیٹ کے ڈھول کی بلند بانگ سے زیادہ وقعت نہیں رکھتیں یہی تمہارے دشمن ہیں ان کی چکنی چپڑی باتوں اور ثقہ اور مسکین صورتوں کے دھوکے میں نہ آ جانا، اللہ انہیں برباد کرے ذرا سوچیں تو کیوں ہدایت کو چھوڑ کر بے راہی پر چل رہے ہیں؟

📖 احسن البیان

3۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ منافقین بھی صریح کافر ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا:” ذٰلِكَ “} کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں کا مومن ہونے کی جھوٹی قسمیں کھانا اور اللہ کی راہ سے روکنا وغیرہ اس لیے ہے کہ وہ ایمان لائے، پھر انھوں نے کفر کیا۔ ایمان لا کر کفر تین طرح سے ہے، ایک یہ کہ وہ ظاہر میں ایمان لائے اور مسلمان ہوگئے مگر دل میں کافر ہی رہے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کے پاس آئے تو ایمان کی شہادت دی، پھر کفار کے پاس گئے تو انھیں اپنے کفر کا یقین دلایا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَيٰطِيْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ» [ البقرۃ: ۱۴ ] ”اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب اپنے شیطانوں کی طرف اکیلے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں بے شک ہم تمھارے ساتھ ہیں۔“ منافقین کی اکثریت ایسی ہی تھی اور ایک یہ کہ ان میں سے بعض شروع میں تو صحیح ایمان لائے، پھر دنیوی اغراض کی وجہ سے کافر ہوگئے۔ معلوم ہوتا ہے کہ منافقین میں سے جو لوگ تائب ہوئے اور ان کا اسلام خالص ہوا وہ اس گروہ سے تھے۔ ➋ {فَطُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَفْقَهُوْنَ:} یعنی ان کے ایمان لانے کے بعد کفر کرنے کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی تو وہ نہ دنیا اور آخرت میں نفاق کے نقصان کو سمجھتے ہیں نہ انھیں اس پر کوئی شرمندگی ہوتی ہے اور نہ ہی توبہ کی توفیق ملتی ہے۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →